• title-2
    شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب

    ہر مسلمان کو اس بات سے بخوبی آگاہ ہونا چاہئے کہ مومن اور مشرک کے درمیان حد فاصل کلمہ توحید لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔شریعت اسلامیہ اسی کلمہ توحید کی تشریح اور تفسیر ہے۔اللہ تعالی نے جہاں کچھ اعمال کو بجا لانے کا حکم دیا ہے ،وہاں کچھ ایسے افعال اور عقائد کا بھی تذکرہ فرمایا ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی بھی عمل بارگاہ الہی میں قبول نہیں ہوتا ہے۔اللہ تعالی نے جن امور سے منع فرمایا ہے ،ان کی تفصیلات قرآن مجید میں ،اور نبی کریم نے جن امور سے منع فرمایا ہے ان کی تفصیلات احادیث نبویہ میں موجود ہیں۔124 مسائل ایسے تھے جو نبی کریم اور مشرکین مکہ کے درمیان متنازعہ فیہ تھے۔اور یہ ایسے اصولی مسائل ہیں جن کا ہر مسلمان کے علم میں آنا انتہائی ضروری ہے ،کیونکہ ان میں اور اسلامی تعلیمات میں مشرق ومغرب کی دوری ہے۔ان کا اسلام کے ساتھ دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔مجدد الدعوہ شیخ الاسلام امام محمد بن عبد الوھاب نے ان تمام مسائل کو اس کتابچے میں جمع فرما دیا ہے،تاکہ ہر مسلمان ان سے آگاہ ہوجائے اور اپنے ایمان کو محفوظ رکھ سکے۔موضوع کی افادیت کو سامنے رکھتے معروف عالم دین مولانا عطاء الرحمن ثاقب نے اس کا اردو ترجمہ کر کے اردو خواں طبقہ کے آسانی پیدا کردی ہے۔اللہ تعالی ان تمام حضرات کی محنتوں کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-allah-ki-qasam-jashne-eid-melad-al-nabi-quran-w-hadith-se-sabit-nahi-copy
    محمد طیب محمدی

    مسلمان کی اصل کامیابی قرآن مجیداور احادیث نبویہ میں اللہ اور رسول اکرم ﷺ کی جو تعلیمات ہیں ان کی پیروی کرنے اوران کی خلاف ورزی یا نافرمانی نہ کرنے میں ہے اللہ اور رسولﷺکی اطاعت عقائد ،عبادات ،معاملات ، اخلاق کردار ہر الغرض ہر میدان میں قرآن واحادیث کو پڑھنے پڑھانے سیکھنے سکھانے اور اس پر عمل پیرا ہونےکی صورت میں ہوسکتی ہے مسلمانوں کوعملی زندگی میں اپنے سامنے قرآن وحدیث ہی کو سامنے رکھنا چاہیے اور سلسلے میں صحابہ کرام کے طرزِ عمل سے راہنمائی لینے چاہیے کہ انہوں نے قرآن وحدیث پر کیسے عمل کیا کیونکہ انہی شخصیات کو اللہ تعالی نے معیار حق قرار دیا ہے۔ اورنبی ﷺنے بھی اختلافات کی صورت میں سنتِ نبویہ اور سنت خلفائے راشدین کو تھام نے کی تلقین کی ہے جب مسلمان سنت ِنبویہ اور خلفائے راشدین کے طرز ِعمل کوچھوڑ دیں گے تو وہ دین میں نئے نئے کام ایجاد کرکے بدعات میں ڈوب جائیں گے اور سیدھے راستے سے بھٹک جائیں گے یہی حال اس وقت مسلمانوں کا ہے ۔متازعہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ بارہ ربیع الاول کو میلاد النبی ﷺ منانےکاہے بہت سارے مسلمان ہرسال بارہ ربیع الاول کو عید میلادالنبی ﷺ او رجشن مناتے ہیں ۔عمارتوں پر چراغاں کیا جاتا ہے ، جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں، نعت خوانی کےلیے محفلیں منعقدکی جاتی ہیں اور بعض ملکوں میں سرکاری طور پر چھٹی کی جاتی ہے۔ لیکن اگر قرآن وحدیث اور قرون اولیٰ کی تاریخ کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہےکہ قرآن وحدیث میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ نبی کریم ﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ ہی اسکی ترغیب دلائی ، قرونِ اولیٰ یعنی صحابہ کرام ﷺ ،تابعین،تبع تابعین﷭ کا زمانہ جنھیں نبی کریم ﷺ نے بہترین لوگ قرار دیا ان کے ہاں بھی اس عید کوئی تصور نہ تھا اورنہ وہ جشن مناتے تھے اور اسی طرح بعد میں معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید کا کو ئی تصور تھا اور نہ وہ اسے مناتے تھے او ر نہ ہی وہ اپنے شاگردوں کو اس کی تلقین کرتےتھے بلکہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز نبی ﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا گیا ۔ زیر نظر کتاب’’اللہ کی قسم جشن عیلاد نبی قرآن وحدیث سے ثابت نہیں ‘‘ محدث العصر مجتہد وفقیہ مولانا عبد المنان نورپوری ﷫ کےتلمیذ رشید مولاناطیب محمدی ﷾ کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے عید میلاد کی تاریخ ،اس کی شرعی حیثیت ،عیدِ میلاد منانے والوں کے دلائل کا کتاب وسنت کی روشنی میں جائزہ لیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ عہد نبوی ،عہد صحابہ اوربعدکے ادوار میں اس مروجہ جشن میلا النبی ﷺ کو ئی ثبوت نہیں ملتا او راس کو منانا بدعت ہے ۔مصنف موصوف اس کتاب کے علاوہ بھی متعدد کتب کے مصنف ہیں ۔مولانا عبدالمنان نوری پوری ﷫ کی حیات وخدمات پر مشتمل کتاب کےمرتب بھی آپ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی حسنہ کو شرف قبولیت بخشے اور اس کتاب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)

  • pages-from-bidaat-se-garaiz-keejiye-tarjama-al-tahzeer-minal-bada
    عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

    اللہ تعالی نے جن وانس کو صر ف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات:56) ’’میں نے  جنوں اور انسانوں کو محض اس لیے پیدا کیا وہ  صرف میری عبادت کریں‘‘ او ر عبادت کے لیے اللہ تعالیٰ نے زندگی کا کو ئی خاص زمانہ یا سال کا کوئی مہینہ  یا ہفتے کا کو ئی خاص دن یا کوئی خاص رات متعین  نہیں کی کہ بس اسی میں اللہ تعالیٰ کی  عبادت کی جائے اور باقی زمانہ عبادت سے  غفلت میں گزار دیا جائے بلکہ انسان کی تخلیق  کا اصل  مقصد ہی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے۔ سنِ بلوغ سے لے کر زندگی کے آخری دم تک اسے ہر لمحہ عبادت  میں  گزارنا چاہیے۔ لیکن اس وقت مسلمانوں کی اکثریت اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل ہے  اور بعض مسلمانوں  نے سال  کے مختلف مہینوں میں صرف مخصوص دنوں کو ہی عبادت کے لیے خاص کررکھا ہے اور ان میں  طرح طرح کی عبادات کو دین میں شامل کر رکھا ہے جن کا کتاب وسنت سے کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اور جس کا ثبوت کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ سے نہ ملتا ہو وہ بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی  ہے بدعت اور شرک ایسے جرم ہیں جو توبہ کے  بغیر معاف نہیں ہوتے۔ شرک تواس لیے کہ مشرک اللہ کے علاوہ کسی اور کو مالک الملک کی وحدانیت کے برابر لانے کی ناکام کوشش کرتا ہے اور بدعت اس لیے کہ بدعتی اپنے عمل سے یہ تاثر دیتا ہے کہ دین نامکمل تھا اور اس نے دین میں یہ اضافہ کر کے اسے مکمل کیا ہے۔ یعنی شریعت سازی کی مساعی ناتمام کادوسرا نام بدعت ہے۔ اس  وقت بدعات وخرافات اور علماء سوء نے پورے دین کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ وقت کے راہبوں ،صوفیوں، نفس پرستوں اور نام نہاد دعوتِ اسلامی کے دعوے داروں نے قال اللہ و قال الرسول کے مقابلے میں اپنے خود ساختہ افکار و خیالات اور طرح طرح کی بدعات وخرافات نے اسلام کے صاف وشفاف چہرے کو داغدار بنا دیا ہے جس سے اسلام کی اصل  شکل گم ہوتی جارہی ہے۔ اور مسلمانوں کی اکثریت ان بدعات کو عین اسلام سمجھتی ہے۔ دن کی بدعات الگ ہیں، ہفتے کی بدعات الگ، مہینے کی بدعات الگ، عبادات کی بدعات الگ، ولادت اور فوتگی کے موقع پر بدعات الگ غرض کہ ہر ہر موقع کی بدعات الگ الگ ایجاد کررکھی ہیں۔ انہی بدعات میں سے معراج  کی رات کی بدعات، ربیع الاول میں ودلات رسولﷺ کے سلسلے میں کی جانے بدعات اور ماہ شعبان میں شب برات کے سلسلے میں من گھڑت موضوع احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے کی  جانے والی بدعات ہیں۔ بدعات وخرافات کی تردید اور اتباع سنت کو اجاگر کرنے کے لیے ہر دور میں اہل علم نے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’’بدعات سے گریز کیجئے‘‘  مفتی دیارسعودی عرب ورئیس ادارہ بحوث علمیہ شیخ ابن باز﷫ کےرد بدعات کے موضوع پر ایک عربی رسالے التحذیر من البدع کا اردو ترجمہ ہے شیخ﷫ نے اس کتابچہ میں جشن عید میلاد النبی، جشن شب معراج، جشن شب برات(ماہ شعبان کی پندرہویں رات، خادم مسجدنبوی شیخ احمد کےخواب کی حقیقت کا آیات قرآنی اوراحادیث نبویہ کی روشنی میں  جائزہ  لیا ہے اور ثابت کیا کہ ان کا  قرآن وحدیث سے کوئی ثبوت نہیں  یہ ساری بدعات ہیں جو گمراہی و ضلالت پر مبنی ہیں۔ اللہ تعالیٰ شیخ مرحوم  اور مترجم کی کاوش کو قبول فرمائے اور اس کتابچہ کو عوام الناس کی اصلاح  کا ذریعہ بنائے۔ آمین( م۔ا)  

  • pages-from-bidaat-ka-incyclopedia
    ناصر الدین البانی

    دینِ اسلام ایک سیدھا اور مکمل دستورِ حیات ہے جس کو اختیار کرنے میں دنیا وآخرت کی کامرانیاں پنہاں ہیں ۔ یہ ایک ایسی روشن شاہراہ ہے جہاں رات دن کا کوئی فرق نہیں اور نہ ہی اس میں کہیں پیچ خم ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس دین کو انسانیت کے لیے پسند فرمایا اوررسول پاکﷺ کی زندگی ہی میں اس کی تکمیل فرمادی۔عقائد،عبادات ، معاملات، اخلاقیات ، غرضیکہ جملہ شبہائے زندگی میں کتاب وسنت ہی دلیل ورہنما ہے ۔ہر میدان میں کتاب   وسنت کی ہی پابندی ضروری ہے ۔صحابہ کرام ﷢ نے کتاب وسنت کو جان سے لگائے رکھا ۔ا ن کے معاشرے میں کتاب وسنت کو قیادی حیثیت حاصل رہی اور وہ اسی شاہراہ پر گامزن رہ کر دنیا وآخرت کی کامرانیوں سے ہمکنار ہوئے ۔ لیکن جو ں جوں زمانہ گزرتا گیا لوگ کتاب وسنت سے دور ہوتے گئے اور بدعات وخرافات نے ہر شعبہ میں اپنے پیر جمانے شروع کردیئے ۔ اور اس وقت بدعات وخرافات اور علماء سوء نے پورے دین کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔وقت کے راہبوں ،صوفیوں، نفس پرستوں او رنام نہاد دعوتِ اسلامی کے دعوے داروں نے قال اللہ وقال الرسول کے مقابلے میں اپنے خود ساختہ افکار وخیالات اور   طرح طرح کی بدعات وخرافات نے اسلام کے صاف وشفاف چہرے کو داغدار بنا دیا ہے جس سے اسلام کی اصل شکل گم ہوتی جارہی ہے ۔اور مسلمانوں کی اکثریت ان بدعات کو عین اسلام سمجھتی ہے۔دن کی بدعات الگ ہیں ، ہفتے کی بدعات الگ ،مہینے کی بدعات الگ،عبادات کی بدعات الگ ،ولادت اور فوتگی کے موقع پر بدعات الگ غرض کہ ہر ہر موقع کی بدعات الگ الگ ایجاد کررکھی ہیں۔جید اہل علم نے   بدعات اور اس کے نقصانات سے روشناس کروانے کے لیے   اردو وعربی زبان میں متعدد چھوٹی بڑی کتب   لکھیں ہیں جن کے مطالعہ سے اہل اسلام اپنے دامن کو   بدعات سے خرافات سے بچا سکتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’بدعات کا انسکائیکلوپیڈیا‘‘ ابو عبیدہ مشہور بن حسن آل سلمان اور ابو عبداللہ احمد بن اسماعیل شکوکانی کی مرتب شدہ عربی کتاب ’’قاموس البدع‘‘ کا ترجمہ ہے ۔یہ کتاب محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی﷫ کی تصنیفات سے ماخوذ شدہ ہے۔ کتا ب کے ترجمہ اور اس پر استدراکات کا فریضہ جناب ڈاکٹر حافظ محمد شبہاز حسن﷾ نے بڑی محنت ولگن سے انجام دیاہے۔ مرتبین نےاس کتاب میں ان تمام بدعات کو یکجا کر دیا ہے جنہیں علمائے سوء بڑی کوشش سے روز بروز، ہفتہ بہ ہفتہ وار سبق کی طرح سکھاتے اور رٹاتے ہیں، مسلمانوں کی اکثریت اسے اسلام سمجھ کر بڑے انہماک سےیاد کرتی اور خوبصورتی کے ساتھ ادا کرتی ہے اور ان بدعات کی ادائیگی پر بے شمار دولت بھی خرچ کرتی ہے ۔مؤلفین نے بہت سےمقامات پر علامہ البانی﷫ کا موقف حاشیے میں انہی کے الفاظ سے پیش کیا ہے ۔ ایسے مقامات پر انہوں نے (منہ) کی رمز استعمال کی ہے ۔ دیگر حواشی مؤلفین کی طرف سے ہیں ۔ان دیگر حواشی میں بھی علامہ البانی کے موقف کی وضاحت کی گئی ہے ۔ یا انہی کے موقف کو اپنے الفاظ میں پیش کردیا گیا ہے ۔کتاب چونکہ علمی نوعیت کی ہے ۔اس لیے بعض دقیق علمی مسائل میں اختلاف رائے کابھی امکان ہوتا ہے اور انسانی کوشش میں غلطی کے احتمال کونظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔لہذا مترجم کتاب ڈاکٹر حافظ شہباز حسن صاحب نے بعض مواقع پر علامہ البانی ﷫ کے نکتہ نظر کے برعکس دوسرے علماء کا موقف حاشیہ میں پیش کردیا ہے تاکہ قارئین میں کسی قسم کی غلط فہمی یا بے چینی پیدا نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ مرتبین، مترجم وناشرین کی اس عظیم کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے اور مسلمانوں کو بدعات وخرافات سے محفوظ فرمائے۔آمین( م۔ا)

  • Title Page---Bida'at say Daman Bachain-2
    شاہ اسماعیل شہید
    امت مسلمہ کے ہر فرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ بغیر کسی مسلکی تفریق کے اپنے دامن کو بدعتی خرافات سے پاک رکھے- لیکن بدقسمتی سے مسلکی جکڑبندیوں کی وجہ سے بہت سے مسلمان بدعات کو سنت کا نام دے کر ان پر عمل پیرا ہیں-زیر نظر کتاب میں  بدعت کیاہے ؟  اور یہ سنت سے کس طرح مختلف ہے؟ جیسے سوالات کا تفصیلی جواب دیا گیاہے- مصنف نے ہمارے ہاں  پائی جانے والی معاشرتی بدعات کا تفصیلی تذکرہ کرتے  ہوئے بدعات سے دامن بچا کر سنت کو اختیار کرنے کی انتہائی آسان راہ دکھائی ہے-کتاب کے آخر میں صوفیاء کی نظر میں بدعات کیا مقام رکھتی ہیں کا حقائق کی روشنی میں تجزیہ کیا گیا ہے-

  • bidatikpeechaynamazkahukm2-copy
    حافظ زبیر علی زئی
    دين اسلام میں اس بات کاتصور بھی نہیں کہ ایک شخص مسلمان ہونے کے باوجود نماز ادا نہ کرے- نماز کی اس اہمیت کے پیش نظر اس کے لوازمات کویقنینی بنانا انتہائی ضروری ہے- انہی لوازمات سے ایک امام كا بدعتی خرافات سے محفوظ ہوناہے- زيرنظر کتاب میں ملک کی نامور شخصیت حافظ زبیر علی زئی نے بدعتی امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ پر سیر حاصل گفتگو کی ہے- مصنف نے قرآن وسنت،اقوال صحابہ اورتبع تابعین کی روشنی میں ثابت کیاہے کہ ایک مسلمان کے لیے کسی طرح بھی روانہیں کہ وہ ایک بدعتی امام کے پیچھے نماز ادا کرے- مصنف نے مختلف موضوعات پر بڑی اچھی گفتگو کی ہے مثال کے طور پر بدعت کی تعریف،اس کی اقسام اور بدعت کے بارے میں آئمہ اربعہ کےساتھ ساتھ دیگر آئمہ کے اقوال اور بدعت کا حکم بیان کیا ہے-اور اسی طرح مختلف گروہوں میں مختلف ناموں سے جو بدعتیں رائج ہیں ان کی نشاندہی کی ہے-

  • jashan-e-eid-milaad-2
    محمد رفیق طاہر

    مسلمان کی اصل کامیابی قرآن مجیداور احادیث نبویہ میں اللہ اور رسول اکرمﷺ کی جو تعلیمات ہیں ان کی پیروی کرنے اوران کی خلاف ورزی یا نافرمانی نہ کرنے میں ہے اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت عقائد، عبادات، معاملات، اخلاق کردار ہر الغرض ہر میدان میں قرآن واحادیث کو پڑھنے پڑھانے سیکھنے سکھانے اور اس پر عمل پیرا ہونےکی صورت میں ہوسکتی ہے مسلمانوں کو عملی زندگی میں اپنے سامنے قرآن وحدیث ہی کو سامنے رکھنا چاہیے اور سلسلے میں صحابہ کرام﷢ کے طرزِ عمل سے راہنمائی لینے چاہیے کہ انہوں نے قرآن وحدیث پر کیسے عمل کیا کیونکہ انہی شخصیات کو اللہ تعالی نے معیار حق قرار دیا ہے۔ اورنبیﷺ نے بھی اختلافات کی صورت میں سنت نبویہ اور سنت خلفائے راشدین کو تھامنے کی تلقین کی ہے جب مسلمان سنت نبویہ اور خلفائے راشدین کے طرز ِعمل کو چھوڑ دیں گے تو وہ دین میں نئے نئے کام ایجاد کرکے بدعات میں ڈوب جائیں گے اور سیدھے راستے سے بھٹک جائیں گے یہی حال اس وقت مسلمانوں کا ہے۔ متازعہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ بارہ ربیع الاول کو میلاد النبیﷺ منانےکاہے بہت سارے مسلمان ہرسال بارہ ربیع الاول کو عید میلادالنبیﷺ اور جشن مناتے ہیں۔ عمارتوں پر چراغاں کیا جاتا ہے، جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں، نعت خوانی کے لیے محفلیں منعقدکی جاتی ہیں اور بعض ملکوں میں سرکاری طور پر چھٹی کی جاتی ہے۔ لیکن اگر قرآن وحدیث اور قرون اولی کی تاریخ کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہےکہ قرآن وحدیث میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ نبی کریمﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ ہی اسکی ترغیب دلائی، قرونِ اولیٰ یعنی صحابہ کرامﷺ ،تابعین،تبع تابعین﷭ کا زمانہ جنھیں نبی کریمﷺ نے بہترین لوگ قرار دیا ان کے ہاں بھی اس عید وجشن کا کوئی تصور نہ تھا اورنہ وہ جشن مناتے تھے اور اسی طرح بعد میں معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید کا کو ئی تصور تھا اور نہ وہ اسے مناتے تھے او ر نہ ہی وہ اپنے شاگردوں کو اس کی تلقین کرتے تھے بلکہ نبی کریمﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز نبیﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا گیا ۔اس بدعت میلاد کے بارے میں کافی کچھ لکھا جاچکا ہے لیکن پھربھی برصغیر پاک وہندکے نام نہاد مسلمان اور یورپین ممالک بالخصوص انگلینڈ کے اہل بدعت مولوی اس رسم کے احیا ء و ترویج کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ وہ سادہ لوح عوام کواصل دین تو کیا بتاتے، یہود ونصاریٰ کی نقل میں انہیں چند بےاصل رسومات کا خوگر بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کازور لگائے ہوئے ہیں۔ان کے نزدیک نماز، روزہ، زکوۃ، حج اور حلال وحرام کی تمیز اتنی اہم نہیں جتنی ان بدعات کی آبیاری اور پاسداری۔ زیرتبصرہ کتابچہ ’’جشن عیدمیلاد ‘‘محترم جنا ب ابو عبد الرحمن محمد رفیق طاہر صاحب کی کاوش ہے جس میں انہو ں نے تاریخی اعتبار اور دلائل ریاضی اور شمسی و قمری تقویم سے ثابت کیا ہے کہ نبی کریمﷺ کی تاریخ ولات 12 ربیع الاول نہیں بلکہ 9 ربیع الاول ہی ہے۔ اور دلائل سے ثابت کیا ہے کہ اس میلاد النبی یا جشن میلاد کا قرون اولیٰ میں کوئی ثبوت نہیں بلکہ یہ بعد کی ایجاد ہے۔ نیراخبار جرائد کے حوالہ جات سے واضح کیا ہے کہ برصغیر پاک وہند میں اس بدعت کا آغاز بھی چو دہوی صدی ہجری 1352ھ بمطابق بیسویں صدی عیسوی 1933ء میں ہوا۔ اور فاضل مرتب نے اس کتابچہ میں میلاد کے موقع پر شریعت کی کی جانے والی خلاف ورزیوں کی بھی نشاندہی کی ہے اور آخر میں چند میلادی شبہات کاازالہ بھی پیش کیا ہے۔ اس کتابچہ میں صفحات نمبرنگ کا مسئلہ ہے کہ ایک ہی نمبر باربار لگا ہوا ہے۔ یہ کتابچہ انڈیاکی ایک اسلامی ویب سائٹ منہاج السنۃ سے ڈاؤن لوڈ کیا ہے اپنے موضوع میں مختصر اور مفید ہونے کی وجہ سے اسے کتاب و سنت ویب سائٹ پر پبلش کردیا گیاہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو بدعات وخرافات میں گھرے مسلمانوں اصلاح کا ذریعہ بنائے۔ ( آمین) (م۔ا)

  • pages-from-sunnat-o-biddat-ki-kashmakash-mahir-ul-qadri
    ماہر القادری

    اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں انسان کے لیے بے شمار اور بیش بہا نعمتیں پیداکی گئی ہیں۔ پس انسان کے لیے لازم ہے کہ وہ ان سے نہ صرف بھرپور فائدہ اٹھائے بلکہ اس پر اللہ رب العزت کا شکریہ بھی ادا کرے۔ اب اگر یہ مسئلہ پیدا ہو کہ سب سے عظیم ترین اور اعلیٰ ترین نعمت کونسی ہےتو اس کا قطعی اور دو ٹوک جواب یہ ہے کہ صراط مستقیم ہی ایک ایسی منفرد نعمت ہےجس کا درجہ دیگر سب اشیاء سے بلند تر ہے۔ ہر انسان یہ خواہش رکھتا ہے کہ دنیا میں اس کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے اور آخرت میں بھی جنت اس کا مقدر بنے۔ دنیا وآخرت میں کامیابی کا حصول صرف تعلیمات اسلام میں ہے یہ واحد دین ہے جو انسان کی ہر ضرورت کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اللہ رب العزت نے انسان کی کامیابی کا راز اتباع رسول اللہ ﷺ میں مضمر کیا ہے۔ موجودہ دور میں سنت کے مقابلے میں بدعت اس قدر اشاعت ہو رہی ہے کہ عام آدمی دین حنیف کے متعلق متزلزل اور شکوک و شبہات کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔ ایک عام آدمی کے لیے سنت کو پہچاننا انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے جبکہ خوشی ہو یا غمی اسلام نے ہر موڑ پر بنی آدم کی راہنمائی فرمائی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"سنت و بدعت کی کشمش" ماہر القادری مرحوم کی بے مثال تصنیف ہے۔ موصوف برصغیر کے مشہور ادیب و صف اول کے تبصرہ نگاروں میں سے تھے۔ موصوف نے کتاب ہذا میں مشرکانہ عقائد، خانقاہی، متصوفانہ نظریات اور مروّجہ بدعات کا قرآن و سنت کی روشنی میں تقابلی جائزہ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ موصوف مرحوم کو غریق رحمت فرمائے اور ان کے درجات میں بلندی کا سبب بنائے۔ آمین(عمیر)

  • pages-from-shab-e-baraat-haqiqat-key-aainey-azim-hasilpuri
    محمد عظیم حاصلپوری

    اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے انبیاء کرام اور رسولوں کو مبعوث فرمایا جو شرک و بدعت میں ڈوبی ہوئی انسانیت کو صراط مستقیم سے ہمکنار کرتے، اللہ تعالیٰ کے احکامات کو بندوں تک پہنچاتے۔ اس سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ختم الانبیاء حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپﷺ ایک داعئ انقلاب، معلم، محسن و مربی بن کر آئے۔ جس طرح آپﷺ کے فضائل و مناقب سب سے اعلیٰ اور اولیٰ ہیں اسی طرح آپ ﷺ کی امت کو بھی اللہ رب العزت نے اپنی کلام پاک میں"امت وسط" کے لقب سے نوازہ ہے۔ اسلام نے اپنی دعوت و تبلیغ اور امت کے قیام و بقاء کے لیے اساس اولین ایک اصول کو قرار دیا ہے جو"امر بالمعروف و نہی عن المنکر" کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ دعوت الی الخیر، برائی سے روکنا اس امت کا خاصہ اور دینی فریضہ ہے۔ اسلام تو نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ میں مکمل ہو گیا تھااورانسان کی راہنمائی کے لیے اس میں تشنگی کا کوئی ایسا پہلو نہیں جس میں انسان کے لیے راہنمائی نہ ہو۔ شب و روز کی زندگی کے معمولات و عبادات سب موجود ہیں مگر مسلمانوں نے نعوذ با للہ عبادت کے نام پر ایسے کام شروع کر دیئے جیسے وہ اسلام کو ادھورہ اور شریعت محمدیہ ﷺ کو ناقص قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ زیر نظر کتاب"شب برات حقیقت کے آئینے میں"جو کہ فضیلۃ الشیخ محمد عظیم حاصلپوری کا ایک تحقیقی رسالہ ہے۔ محترم موصوف جو کہ علمی و ادبی حوالے میں ایک معتبر حیثیت کے حامل ہیں۔ فاضل مصنف نے کتاب ہذا میں شب برات کی حقیقت کا قرآن سنت کی روشنی میں تحقیقی جائزہ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی محنت کو شرف قبولیت سے نوازے اور محترم موصوف کو ہمت واستقامت سے نوازے۔ آمین(عمیر)

  • pages-from-jashan-e-milaad-yaum-e-wafaat-par-aik-tahqeeq-aik-jaezah
    ابو عدنان محمد منیر قمر

    مسلمان کی اصل کامیابی قرآن مجیداور احادیث نبویہ میں اللہ اور رسول اکرم ﷺ کی جو تعلیمات ہیں ان کی پیروی کرنے اوران کی خلاف ورزی یا نافرمانی نہ کرنے میں ہے مسلمانوں کوعملی زندگی میں اپنے سامنے قرآن وحدیث ہی کو سامنے رکھنا چاہیے اس سلسلے میں صحابہ کرام ﷢ کے طرزِ عمل سے راہنمائی لینے چاہیے کہ انہوں نے قرآن وحدیث پر کیسے عمل کیا کیونکہ انہی شخصیات کو اللہ تعالی نے معیار حق قرار دیا ہے۔ اورنبی ﷺنے بھی اختلافات کی صورت میں سنتِ نبویہ اور سنت خلفائے راشدین کو تھام نے کی تلقین کی ہےمتازعہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ بارہ ربیع الاول کو میلاد النبی ﷺ منانےکاہے بہت سارے مسلمان ہرسال بارہ ربیع الاول کو عید میلادالنبی ﷺ او رجشن مناتے ہیں ۔عمارتوں پر چراغاں کیا جاتا ہے، جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں، نعت خوانی کےلیے محفلیں منعقدکی جاتی ہیں اور بعض ملکوں میں سرکاری طور پر چھٹی کی جاتی ہے۔ لیکن اگر قرآن وحدیث اور قرون اولیٰ کی تاریخ کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہےکہ قرآن وحدیث میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ نبی کریم ﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ ہی اسکی ترغیب دلائی، قرونِ اولیٰ یعنی صحابہ کرام ﷺ ،تابعین، تبع تابعین﷭ کا زمانہ جنھیں نبی کریم ﷺ نے بہترین لوگ قرار دیا ان کے ہاں بھی اس عید کا کوئی تصور نہ تھا اورنہ وہ جشن مناتے تھے اور اسی طرح بعد میں معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید کا کو ئی تصور تھا اور نہ وہ اسے مناتے تھے او ر نہ ہی وہ اپنے شاگردوں کو اس کی تلقین کرتےتھے بلکہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز نبی ﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا گیا ۔ہمارے ہاں ہر سال ماہ ربیع الاول کی آمد یہ بحث چھڑ جاتی ہے کہ عیدِ میلاد النبی ﷺ پر جشن وغیرہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ او ر نبی اکرم ﷺکی ولادت باسعادت کس تاریخ کو ہوئی۔ زیرنظر کتابچہ ’’صحیح تاریخ ولادت مصطفیٰ جشن میلاد، یوم وفات پر ایک تحقیق ایک جائزہ‘‘ میں مولانا محمدمنیر قمر﷾ (مترجم ومصنف کتب کثیرہ)نے انہی دونوں سوالوں کے جوابات کو تحقیقی اور مدلل صورت میں پیش کیا ہے۔در اصل یہ کتابچہ فاضل مصنف کے ان چند ریڈیائی تقاریرکا مجموعہ ہےجو متحدہ عرب امارات ام القیوین کی اردو سروس سے کئی مرتبہ نشر ہوئیں۔بعد ازاں ان تقاریر کو حافظ ارشاد الحق (فاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے تحریر کی شکل میں منتقل کیا۔ اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو عامۃ الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے (آمین)

  • title-pages-ibadaat-main-bidat-aur-sunnat-e-nabwi-say-unn-ka-radd
    عمرو بن عبد المنعم بن سلیم
    اللہ رب العزت کا ہم پر احسان عظیم ہے کہ اس نے ہمارے دین کو مکمل کر دیا ہے ۔اس کا شکر یوں ادا ہو سکتا ہے کہ اس پر عمل کیا جائے اور ہر معاملے میں اس کی پیروی (اتباع) کی جائے ۔لیکن شیطان انسان کو ہر طریقے سے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔چنانچہ اس نے بعض لوگوں کے ذہن میں یہ خیال ڈالا کہ نیک کام زیادہ سے زیادہ ہونے چائییں،لہذا عبادات کی نت نئی صورتیں ایجاد ہوئیں اور دین سمجھ کر انہیں بھی اپنایا جانے لگا۔اسی شئے کو شریعت میں بدعت کہا گیا ہے ۔بدعت در حقیقت بہت بڑا جرم ہے کہ ’تکمیل دین‘ کے الہیٰ انعام کی تکذیب ونا شکری ہے ۔زیر نظر کتاب میں عبادات میں رائج بدعات کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ کتاب و سنت سے ان کی تردید کی گئی ہے ۔اصل کتاب عربی میں تھی،جس کا ترجمہ مولف سلفی عالم حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ نے کیا ہے ،جس سے کتاب کی ثقاہت پر مہر تصدیق مثبت ہو گئی ہے ۔
  • pages-from-qabron-key-fitney-aur-un-ki-biddatain
    ڈاکٹر صالح بن مقبل

    پیغمبرِ  اسلام  حضرت محمد ﷺ نے اپنی امت کو جتنی تاکید کے ساتھ  شرکیہ امور سے  بچنے کی  ہدایت فرمائی تھی ۔افسوس ہے کہ آپﷺ کی یہ نام لیوا امت  اسی  قدر مشرکانہ  عقائد واعمال میں  مبتلا ہے  اور اپنے  پیغمبر  کی تمام ہدایات کو فراموش کر چکی ہے  ۔آپ  ﷺ نے واضح  الفاظ میں اعلان فرمادیا تھا :أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِك۔ ’’لوگو  کان کھول کر سن لو تم سے   پہلی امت کے لوگوں نے اپنے  انبیاء اور نیک لوگوں ،اولیاء  وصالحین کی قبروں کو عبادت گاہ (مساجد) بنالیا تھا ،خبر دار !تم  قبروں کو مساجد نہ  بنالینا۔میں تم کواس سے  روکتا ہوں۔اور آپ ﷺ اپنی مرض الموت میں  یہود ونصاریٰ کے اس مشرکانہ عمل پر لعنت کرتےہوئے  فرما یا: لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى،اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ قبرپرستی شرک اورگناہ کبیرہ  ہے نبی کریم ﷺ نے   سختی سے   اس  سےمنع فرمایا اور اپنی  وفات کے وقت کے بھی اپنے صحابہ کرام کو اس سے  بچنے کی  تلقین  کی ۔ صحابہ کرام  نے اس پر عمل کیا  اور  پھر  ائمہ کرام  اور محدثین نے   لوگوں کو تقریر وتحریر کے  ذریعے  اس   فتنہ  عباد ت ِقبور سے  اگاہ کیا ۔ زیر تبصرہ کتاب’’قبروں کے فتنے اور ان کی بدعات‘‘ کی سعودی عرب ،ریاض کے نوجوان  عالم دین شیخ ابو عبداللہ صالح بن مقبل العصیمی  کی عربی تصنیف’’بدعات القبور‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔فاضل مصنف نے اس کتاب میں قرآن وسنت نیز اجماع علماء امت سے  دلائل کے ساتھ عقیدہ اہل سنت والجماعت کی روشنی میں  قبروں سے متعلقہ بدعات  کا رد کیا ہے  نیز قبرستان اور قبروں میں  عقیدہ  سے متعلق مشہور بدعات کا ائمہ اکرام اور بعض علماء کےاقوال  کی شہادت پیش کر کے ثابت کیا ہے واقعتاً یہ بعدعت ہیں۔فتنہ قبر پرستی پر یہ جامع اور مستند کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ  مصنف اور مترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے۔(آمین)(م۔ا)

  • pages-from-milad-un-nabi-saw-par-tehqeequi-behas
    عبد اللہ بن زید المحمود

    مسلمان کی اصل کامیابی قرآن مجیداور احادیث نبویہ میں اللہ اور رسول اکرم ﷺ کی جو تعلیمات ہیں ان کی پیروی کرنے اوران کی خلاف ورزی یا نافرمانی نہ کرنے میں ہے مسلمانوں کوعملی زندگی میں اپنے سامنے قرآن وحدیث ہی کو سامنے رکھنا چاہیے اس سلسلے میں صحابہ کرام﷢ کے طرزِ عمل سے راہنمائی لینے چاہیے کہ انہوں نے قرآن وحدیث پر کیسے عمل کیا کیونکہ انہی شخصیات کو اللہ تعالی نے معیار حق قرار دیا ہے۔ اورنبیﷺ نے بھی اختلافات کی صورت میں سنتِ نبویہ اور سنت خلفائے راشدین کو تھام نے کی تلقین کی ہےمتازعہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ بارہ ربیع الاول کو میلاد النبی ﷺ منانےکاہے بہت سارے مسلمان ہرسال بارہ ربیع الاول کو عید میلادالنبی ﷺ او رجشن مناتے ہیں ۔عمارتوں پر چراغاں کیا جاتا ہے ، جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں، نعت خوانی کے لیے محفلیں منعقدکی جاتی ہیں اور بعض ملکوں میں سرکاری طور پر چھٹی کی جاتی ہے۔ لیکن اگر قرآن و حدیث اور قرون اولیٰ کی تاریخ کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہےکہ قرآن وحدیث میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ نبی کریم ﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ ہی اسکی ترغیب دلائی، قرونِ اولیٰ یعنی صحابہ کرام ﷺ ،تابعین،تبع تابعین﷭ کا زمانہ جنھیں نبی کریمﷺ نے بہترین لوگ قرار دیا ان کے ہاں بھی اس عید کا کوئی تصور نہ تھا اورنہ وہ جشن مناتے تھے اور اسی طرح بعد میں معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید کا کو ئی تصور تھا اور نہ وہ اسے مناتے تھے او ر نہ ہی وہ اپنے شاگردوں کو اس کی تلقین کرتےتھے بلکہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز نبی ﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا گیا ۔ہمارے ہاں ہر سال ماہ ربیع الاول کی آمد یہ بحث چھڑ جاتی ہے کہ عیدِ میلاد النبیﷺ پر جشن وغیرہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ او ر نبی اکرم ﷺکی ولادت باسعادت کس تاریخ کو ہوئی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’محفل میلاد النبی پر تحقیقی بحث‘‘ علامہ شیخ عبد اللہ بن زید﷫ کا مروجہ جشن عید میلاد النبیﷺ کے متعلق تحریر کئے گئے عربی رسالہ ’’کلمۃ الحق فی الاحتفال بمولد سید الخلق‘‘ کا اردوترجمہ ہے۔ اس رسالہ میں شیخ نے نہایت جامع او رمدلل انداز میں ایک بدعتی شخص السید حامد الحمضار کےرسالہ ’’بنام نعمتوں کے ذکر کے لیے محفل کا انعقاد واجب ہے ‘‘ کے دلائل کا نہایت منہ توڑ جواب دیتے ہوئے ثابت کیا ہےکہ رسو ل اللہﷺ کی میلاد کی خوشی میں محفل میلاد کرنا نہ صرف بدعت ہے بلکہ ایک طرح سے خود رسول اللہ کی توہین ہے کیونکہ نعمت الٰہی کے شکرانے کا طریقہ محفل کا انعقاد نہیں بلکہ اللہ کاشکر ادا کرنے اور اس کی نعمت کا اعتراف کرنے اور اس کی قدر کرنے سے ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کےلیے وہ نعمت بخشی ہے اس کے مقصد کوپورا کیا جائے۔ نیز حضرت شیخ نے اس رسالہ میں صحابہ کرام کی عادت بتائی ہے کہ ان سے بڑھ کر کون نبی کریمﷺ کے فدائی تھے لیکن انہوں نے آپﷺ کے ساتھ محبت کا اظہار آپ ﷺ پر درود بھیج کر اور آپ کی سنتوں پر عمل کر کےادا کیا۔لہذا آج کےمسلمانوں کو بھی نبی کریم ﷺ کی اتباع اسی انداز میں کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو بدعات وخرافات میں گھرے مسلمانوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائے۔ (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-msla-urs-aur-geyaarhvi
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    نبی کریمﷺ دین کامل لے کر آئے اور آپ نے اسے کامل و اکمل ترین حالت میں امت تک پہنچا دیا ۔آپ ﷺنے اس میں نہ تو کوئی کمی کی اور نہ ہی زیادتی کی ،بلکہ اللہ نے جو پیغام دیا تھا اسے امانت داری کے ساتھ اللہ کے بندوں تک پہنچا دیا۔اب اگر کوئی شخص دین میں ایسی نئی چیز لاتا ہے جو آپ سے ثابت نہیں ہے تو وہ بدعت ہوگی ،اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی انسان کو جہنم میں لے جانے والی ہے۔امت مسلمہ آج بے شمارسنتوں کو چھوڑ کر من گھڑت رسوم ورواجات اور بدعات میں پڑی ہوئی ہے۔اور اس امر کی بڑی شدید ضرورت ہے کہ بدعات کی جگہ مردہ ہوجانے والی سنتوں کو زندہ کیا جائے،اور لوگوں کی درست طریقے سے راہنمائی کی جائے۔ہمارے معاشرے میں پھیلی بے شمار بدعات میں سے ایک عرس اور گیارہویں کی بدعت بھی ہے۔جس کا اسلام ،شریعت ،نبی کریمﷺ ،صحابہ کرام،تابعین اور تبع تابعین ومحدثین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ بعد میں گھڑی جانے والی بدعات میں سے ایک بدعت ہے۔ زیر نظر کتاب "مسئلہ عرس اور گیارہویں" ہندوستان کے معروف عالم دین، جامعہ لاہور الاسلامیہ اور مجلس التحقیق الاسلامی کے رئیس حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب﷾ کے تایا جان محترم حافظ عبد اللہ محدث روپڑی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جو مولوی محمد شریف نوری لاہور کے رسالے "مسئلہ گیارہویں" کا جواب ہے۔مولف موصوف﷫ نے اس کتاب میں قرآن وحدیث کی روشنی میں عرسوں اور گیارہویں کے بدعت ہونے پر دلائل پیش کئے ہیں،اور تمام مسلمانوں کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ سنت کی اتباع کریں اور بدعات سے اپنے آپ کو بچا کر رکھیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

  • title-pages-koundon-ki-haqeeqat-copy
    محمود الحسن بدایونی

    رجب کے مہینےمیں کسی نیک عمل کو فضیلت کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا جن بعض اعمال کوفضیلت کےساتھ کے بڑھا چڑہا کر بیان کیاجاتا ہے وہ محض فرضی قصے اور ضعیف و موضوع روایات پر مبنی داستانیں ہیں لہذا جواعمال کتاب وسنت سےثابت ہیں ان پر عمل کرنا چائیے مسلمان اس ماہِ رجب میں کئی قسم کے کام کرتے ہیں مثلا صلاۃ الرغائب، نفلی روزں کا اہتمام ، ثواب کی نیت سے اس ماہ زکاۃ دینا وغیرہ اور 22 رجب کو کونڈوں کی رسم اداکرنا 27 رجب کو شب معراج کی وجہ سے خصوصی عبادت کرنا، مساجد پر چراغاں کرنا جلسے وجلوس کااہتمام کرنا،آتش بازی اور اس جیسی دیگر خرافات پر عمل کرنایہ سب کام بدعات کے دائرے میں آتے ہیں ۔ماہِ رجب کی 22 تاریخ کو خصوصا خواتین امام جعفر صادق ﷫ کے نام پر مٹی کے چھوٹے چھوٹے پیالے (کونڈے) حلوہ وغیرہ سےبھر کر گھروں میں تقسیم کرتیں ہیں اوراس کےفیوض وبرکات پر عجیب وغریب داستانیں سناتیں ہیں جبکہ حقیقت میں شریعت میں ماہِ رجب میں اس قسم کی بدعات کا کوئی تصور نہیں او رنہ ہی اس طرح کی ماہ رجب میں دیگر رسومات جوموجودہ دور میں ہیں ان کا اسلام سے تعلق ہے ۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’کونڈوں کی حقیقت‘‘ اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھنے والے مولانا مفتی محمود الحسن بدایوانی سے 1970ء میں ماہ رجب میں کی جانے مختلف اور کونڈوی کی شرعی حیثیت کے متعلق استفتاء کا جواب پر مشتمل ہے ۔مفتی موصوف نے قرآن وسنت کی روشنی میں اس سوال کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے لکھا کہ کونڈوں کی مروجہ رسم مذہب اہل سنت والجماعت میں محض بے اصل ،خلاف شرع اور بدعت محدثہ ممنوعہ ہے ۔ کیونکہ نہ نبی کریم ﷺسے اس کا ثبوت ہے نہ صحابہ کرام وتابعین عزام﷭ سے اورائمہ اسلام سے منقول ہے۔لہذا برادران اہل سنت والجماعت کو اس لغو رسم سے دور رہنا چاہیے اور اپنے دوسرے بھائیوں کو اس رسم کے پاس پھٹکنے نہ دیں نہ خود اس رسم کو بجا لائیں اور نہ اس میں شرکت کر کے دشمنان حضرت امیر معاویہ کی خوشی میں شریک ہوکر گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوں۔اس فتوے پر اس وقت کے اکابر مفتیان نے دستخط فرمائے ۔جن میں مفتی محمد شفیع، مولانااحتشام الحق تھانوی ، مفتی ولی حسن ٹونکی،سید عبد الجبار، مولانا ابو الفضل عبد الحنان ، مولانا مفتی عبد القہار وغیرہ کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔اس قدیم متفقہ فتویٰ کو قارئین کے استفادہ کے لیے اب کتاب وسنت سائٹ پر پبلش کیا ہے ۔اللہ اسے لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 248 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں