• pages-from-ikhtilaaf-e-rae-adaab-o-ahkam
    ڈاکٹر سلمان فہد عودہ

    امت محمدیہ آج جن چیزوں سے دوچار ہے ،اور آج سے پہلے بھی دو چار تھی ،ان میں اہم ترین چیز بظاہر اختلاف کا معا ملہ ہے جو امت کے افراد وجماعتوں، مذاہب وحکومتوں سب کے درمیان پایا جاتا رہا اور پایا جاتا ہے یہ اختلاف کبھی بڑھ کر ایسا ہوجاتا ہے کہ گروہ بندی تک پہنچ جاتا ہے اور یہ گروہ بندی باہمی دشمنی تک اور پھر جنگ وجدال تک ذریعہ بنتی ہے ۔اور یہ چیزیں اکثر دینی رنگ وعنوان بھی اختیار کر لیتی ہیں جس کے لیے نصوصِ وحی میں توجیہ وتاویل سے کام لیا جاتا ہے ، یا امت کے سلف صالح صحابہ وعلماء واصحاب مذاہب کے معاملات وحالات سے استناد حاصل کیا جاتا ہے ۔اور اختلاف اساسی طورپر دین کی رو سے کوئی منکر چیز نہیں ہے ،بلکہ وہ ایک مشروع چیز ہے جس پر کتاب وسنت کے بے شمار دلائل موجود ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ اختلاف رائے احکام وآدا ب‘‘ فضلیۃ الشیخ دکتور سلمان فہد عودہ کی عربی تصنیف ’’ فقہ الاختلاف ولا یزالون مختلفین‘‘ کا   اردو ترجمہ ہے ۔مؤلف موصوف نے اس کتاب میں اساسی حیثیت سے اختلاف کی شرعی نوعیت کا تذکرہ کیا ہے ، اور اس کو کتاب وسنت ،نیز صحابہ وعلماء مجتہدین کی سیرت وکردار کی روشنی مین واضح کیا ہے ۔اور اس مشروعیت کےپیچھے نظری وعملی طور پر جو صالح نتائج وثمرات ہیں ان کی طرف اشارہ کیا ہے ۔اور ان آداب کوبھی بیان کیا ہے جن کی رعایت اس غرض سے کی جانی چاہئے تاکہ اختلاف سے وہ صالح فائدہ وثمرہ حاصل کیا جا سکے جواس کی مشروعیت سے مقصود ہے خواہ یہ اس سلسلے کے اخلاقی آداب ہوں یا عملی وانتطامی۔اس کتاب کو اپنی پوری تفصیل میں اس انداز پر مرتب کیا گیا ہے کہ اس میں علمی وبنیادی انداز میں اختلاف کے قضیہ کوپیش کیا گیا ہے اور بنیادی دلائل کو تاریخ کےعلمی واقعات کے ساتھ مرتبط کیا گیا ہے اور موقع بموقع بہت سی مناسب مثالیں بھی ہر قبیل کی ذکر کی گئی ہیں۔اور اپنی اس علمی وبنیادی خوبی کے ساتھ اس کاایک بڑا امتیاز یہ بھی ہے کہ اس کا اسلوب نرم ،انداز سہل کہ جس کو امت کے عام پڑھے لکھے لوگ قبول کریں اور پسند بھی کریں۔اللہ تعالی ٰ مصنف ومترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے اہل علم کے لیے نفع بخش بنائے ۔آمین(م۔ ا )

  • pages-from-islam-aur-fiqhi-makatab-e-fikar
    محمد سلطان المعصومی

    انسان کی طبیعت اور اس کا مزاج ہے کہ وہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا ہے،اور اس کا یہ طرز عمل زندگی کے تمام معاملات میں ہوتا ہے۔اسی طرح اس کے دین کا مسئلہ ہے کہ وہ اپنے دین کے معاملے میں بھی خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہےاور پھر دین اسلام سے بھلا اور کونسا دین خوب تر ہوگا۔تو بہر کیف کسی مسلمان کا مقلد بب جانا ایک ایسی سائیکل پر سوار ہونے کے مترادف ہے کہ جس کے پہیے تو گھومتے ہیں مگر وہ ایک جگہ پر ہی کھڑی رہتی ہے،جس سے ورزش کاکام تو لیا جا سکتا ہے مگر سفر طے نہیں کیا جاسکتا ہے۔لہذا تقلید کو اختیار کرنا انسان کے فطری مزاج اور طبیعت کے خلاف ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں غیر مسلم ملت اسلامیہ سے ہر میدان میں پیش پیش نظر آ رہے ہیں۔کاش کی ہم بھی دل کی آنکھیں کھول لیتے اور کتاب وسنت سے حقیقی راہنمائی حاصل کر کے ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتے۔زیر تبصرہ کتاب(اسلام اور فقہی مکاتب فکر)جناب محمد سلطان المعصومی الخجندی المکی ﷫کی عربی تالیف "ھل المسلم ملزم باتباع مذھب من المذاھب الاربعۃ"یعنی کیا مسلمان مذاہب اربعہ میں سے کسی خاص مذہب کا پابند ہے،کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ کرنے کی سعادت محمد یوسف نعیم نے حاصل کی ہے۔کتاب اگرچہ کچھ نو مسلم جاپانیوں نے چند سوالات کے جوابات اور رد تقلید کے موضوع پر لکھی گئی ہے،مگر مجموعی طور پر اس کی افادیت عمومی اہمیت کی حامل ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائےاور امت مسلمہ کو تقلید کے جمود سے نکال کر اجتہاد کے مقام پر فائز کر دے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-islamiyat
    محمد ریحان

    ارکانِ اسلام پرعمل پیراہونا او راس کی جزئیات وتفیلات کی تعلیم و معرفت حاصل کرنا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے بحیثیت مسلمان ہمارا سب سے پہلا فرض یہ ہے کہ ہم اپنے دین کوسیکھیں اس پر عمل کریں اور جامع ونافع دین کو ساری دنیا تک پہنچا دیں۔ایک داعی اور مبلغ کے لیےاسلام کی تبلیغ نشرواشاعت سے قبل قرآن واحادیث کی روشنی میں اسلام کی تفہیم وتعلیم او ر اس کی معرفت بہت ضروری ہے تاکہ ایک داعی صحیح منہج پر اسلام کی دعوت وتبلیغ کرسکے ۔اور اس میں صحیح رسوخ تو قرآن مجید کا ترجمہ وتفسیر سمجھنے اوراسی طرح فقہ وحدیث اور عقائد کی کتب کو درسا پڑھنے سے ہوتا ہے ۔لیکن اسلام کی بنیادی تعلیمات سے شناسائی کے حوالے سے کئی اہل علم نے مختلف انداز میں آسان فہم کتب مرتب کی ہیں ۔جنہیں پڑھ ایک عام مسلمان اسلام کی تعلیمات سے اگاہی حاصل سکتا ہے ۔زیرتبصرہ کتاب ''اسلامیات'' بھی اس سلسلے میں مولانا محمد ریحان ومولانا محمد فرحان حفظہما اللہ کی ایک اہم کاوش ہے ۔ جس میں انہوں نے تمام مسائل ومعاملات کو آیات قرآنی او راحادیث صحیحہ کی روشنی میں سوال وجواب کے اسلوب میں پیش کیا ہے کہ جس سے بات زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ میں آتی اور واضح ہوجاتی ہے۔ یہ کتا ب اپنے اس منفرد اسلوب کے لحاظ سے قرآن اور احادیث صحیحہ کی روشنی میں اسلام کی بنیادی معلومات و تعلیمات کے حوالے سے تقریبا 900 سوال وجواب پرمشتمل ایک آسان اور مکمل انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے جوکہ اسلامی احکامات کو سمجھنے کے لیے انتہائی مفید اور ہر گھر اور لائبریری میں رکھنے کے لائق ہے اللہ تعالی اس کے مرتبین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-1-copy
    ڈاکٹر وہبہ الزحیلی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ عالم عرب کے  معروف عالم دین استاذ  ڈاکٹر وھبہ زحیلی﷫رکن مجمع الفقہ الاسلامی کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "الفقہ الاسلامی وادلتہ" اسی انسائیکلو پیڈیا کی ایک جلد ہے۔یہ کتاب چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا مفتی ارشاد احمد اعجاز﷾ اور محترم مفتی ابرار حسین صاحب﷾ سمیت دیگر  تین چار حضرات نے کیا ہے۔یہ کتاب دور حاضر کے فقہی مسائل، ادلہ شرعیہ، مسالک اربعہ  کے فقہاء کی آراء اور اھم فقہی نظریات پر مشتمل دور جدید کے عین مطابق مرتب کردہ ایک علمی ذخیرہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-1-copy
    ڈاکٹر وہبہ الزحیلی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ عالم عرب کے  معروف عالم دین استاذ  ڈاکٹر وھبہ زحیلی﷫رکن مجمع الفقہ الاسلامی کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "الفقہ الاسلامی وادلتہ" اسی انسائیکلو پیڈیا کی ایک جلد ہے۔یہ کتاب چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا مفتی ارشاد احمد اعجاز﷾ اور محترم مفتی ابرار حسین صاحب﷾ سمیت دیگر  تین چار حضرات نے کیا ہے۔یہ کتاب دور حاضر کے فقہی مسائل، ادلہ شرعیہ، مسالک اربعہ  کے فقہاء کی آراء اور اھم فقہی نظریات پر مشتمل دور جدید کے عین مطابق مرتب کردہ ایک علمی ذخیرہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-1-copy
    ڈاکٹر وہبہ الزحیلی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ عالم عرب کے  معروف عالم دین استاذ  ڈاکٹر وھبہ زحیلی﷫رکن مجمع الفقہ الاسلامی کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "الفقہ الاسلامی وادلتہ" اسی انسائیکلو پیڈیا کی ایک جلد ہے۔یہ کتاب چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا مفتی ارشاد احمد اعجاز﷾ اور محترم مفتی ابرار حسین صاحب﷾ سمیت دیگر  تین چار حضرات نے کیا ہے۔یہ کتاب دور حاضر کے فقہی مسائل، ادلہ شرعیہ، مسالک اربعہ  کے فقہاء کی آراء اور اھم فقہی نظریات پر مشتمل دور جدید کے عین مطابق مرتب کردہ ایک علمی ذخیرہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-1-copy
    ڈاکٹر وہبہ الزحیلی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ عالم عرب کے  معروف عالم دین استاذ  ڈاکٹر وھبہ زحیلی﷫رکن مجمع الفقہ الاسلامی کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "الفقہ الاسلامی وادلتہ" اسی انسائیکلو پیڈیا کی ایک جلد ہے۔یہ کتاب چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا مفتی ارشاد احمد اعجاز﷾ اور محترم مفتی ابرار حسین صاحب﷾ سمیت دیگر  تین چار حضرات نے کیا ہے۔یہ کتاب دور حاضر کے فقہی مسائل، ادلہ شرعیہ، مسالک اربعہ  کے فقہاء کی آراء اور اھم فقہی نظریات پر مشتمل دور جدید کے عین مطابق مرتب کردہ ایک علمی ذخیرہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-1-copy
    ڈاکٹر وہبہ الزحیلی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ عالم عرب کے  معروف عالم دین استاذ  ڈاکٹر وھبہ زحیلی﷫رکن مجمع الفقہ الاسلامی کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "الفقہ الاسلامی وادلتہ" اسی انسائیکلو پیڈیا کی ایک جلد ہے۔یہ کتاب چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا مفتی ارشاد احمد اعجاز﷾ اور محترم مفتی ابرار حسین صاحب﷾ سمیت دیگر  تین چار حضرات نے کیا ہے۔یہ کتاب دور حاضر کے فقہی مسائل، ادلہ شرعیہ، مسالک اربعہ  کے فقہاء کی آراء اور اھم فقہی نظریات پر مشتمل دور جدید کے عین مطابق مرتب کردہ ایک علمی ذخیرہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-1-copy
    ڈاکٹر وہبہ الزحیلی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ عالم عرب کے  معروف عالم دین استاذ  ڈاکٹر وھبہ زحیلی﷫رکن مجمع الفقہ الاسلامی کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "الفقہ الاسلامی وادلتہ" اسی انسائیکلو پیڈیا کی ایک جلد ہے۔یہ کتاب چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا مفتی ارشاد احمد اعجاز﷾ اور محترم مفتی ابرار حسین صاحب﷾ سمیت دیگر  تین چار حضرات نے کیا ہے۔یہ کتاب دور حاضر کے فقہی مسائل، ادلہ شرعیہ، مسالک اربعہ  کے فقہاء کی آراء اور اھم فقہی نظریات پر مشتمل دور جدید کے عین مطابق مرتب کردہ ایک علمی ذخیرہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-1-copy
    ڈاکٹر وہبہ الزحیلی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ عالم عرب کے  معروف عالم دین استاذ  ڈاکٹر وھبہ زحیلی﷫رکن مجمع الفقہ الاسلامی کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "الفقہ الاسلامی وادلتہ" اسی انسائیکلو پیڈیا کی ایک جلد ہے۔یہ کتاب چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا مفتی ارشاد احمد اعجاز﷾ اور محترم مفتی ابرار حسین صاحب﷾ سمیت دیگر  تین چار حضرات نے کیا ہے۔یہ کتاب دور حاضر کے فقہی مسائل، ادلہ شرعیہ، مسالک اربعہ  کے فقہاء کی آراء اور اھم فقہی نظریات پر مشتمل دور جدید کے عین مطابق مرتب کردہ ایک علمی ذخیرہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-1-copy
    ڈاکٹر وہبہ الزحیلی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ عالم عرب کے  معروف عالم دین استاذ  ڈاکٹر وھبہ زحیلی﷫رکن مجمع الفقہ الاسلامی کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "الفقہ الاسلامی وادلتہ" اسی انسائیکلو پیڈیا کی ایک جلد ہے۔یہ کتاب چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا مفتی ارشاد احمد اعجاز﷾ اور محترم مفتی ابرار حسین صاحب﷾ سمیت دیگر  تین چار حضرات نے کیا ہے۔یہ کتاب دور حاضر کے فقہی مسائل، ادلہ شرعیہ، مسالک اربعہ  کے فقہاء کی آراء اور اھم فقہی نظریات پر مشتمل دور جدید کے عین مطابق مرتب کردہ ایک علمی ذخیرہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-1-copy
    ڈاکٹر وہبہ الزحیلی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ عالم عرب کے  معروف عالم دین استاذ  ڈاکٹر وھبہ زحیلی﷫رکن مجمع الفقہ الاسلامی کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "الفقہ الاسلامی وادلتہ" اسی انسائیکلو پیڈیا کی ایک جلد ہے۔یہ کتاب چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا مفتی ارشاد احمد اعجاز﷾ اور محترم مفتی ابرار حسین صاحب﷾ سمیت دیگر  تین چار حضرات نے کیا ہے۔یہ کتاب دور حاضر کے فقہی مسائل، ادلہ شرعیہ، مسالک اربعہ  کے فقہاء کی آراء اور اھم فقہی نظریات پر مشتمل دور جدید کے عین مطابق مرتب کردہ ایک علمی ذخیرہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-1-copy
    ڈاکٹر وہبہ الزحیلی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ عالم عرب کے  معروف عالم دین استاذ  ڈاکٹر وھبہ زحیلی﷫رکن مجمع الفقہ الاسلامی کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "الفقہ الاسلامی وادلتہ" اسی انسائیکلو پیڈیا کی ایک جلد ہے۔یہ کتاب چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا مفتی ارشاد احمد اعجاز﷾ اور محترم مفتی ابرار حسین صاحب﷾ سمیت دیگر  تین چار حضرات نے کیا ہے۔یہ کتاب دور حاضر کے فقہی مسائل، ادلہ شرعیہ، مسالک اربعہ  کے فقہاء کی آراء اور اھم فقہی نظریات پر مشتمل دور جدید کے عین مطابق مرتب کردہ ایک علمی ذخیرہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-1-copy
    ڈاکٹر وہبہ الزحیلی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ عالم عرب کے  معروف عالم دین استاذ  ڈاکٹر وھبہ زحیلی﷫رکن مجمع الفقہ الاسلامی کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "الفقہ الاسلامی وادلتہ" اسی انسائیکلو پیڈیا کی ایک جلد ہے۔یہ کتاب چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا مفتی ارشاد احمد اعجاز﷾ اور محترم مفتی ابرار حسین صاحب﷾ سمیت دیگر  تین چار حضرات نے کیا ہے۔یہ کتاب دور حاضر کے فقہی مسائل، ادلہ شرعیہ، مسالک اربعہ  کے فقہاء کی آراء اور اھم فقہی نظریات پر مشتمل دور جدید کے عین مطابق مرتب کردہ ایک علمی ذخیرہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-al-qisaas-fil-fiqha-ul-islami
    ڈاکٹر احمد فتحی بہنسی

    اسلام شریعت میں قصاص سے مراد برابر بدلہ ہے۔ یعنی جان کے بدلے جان، مال کے بدلے مال، آنکھ کے بدلے آنکھ، دانت کے بدلے دانت۔ یعنی جیسا کوئی کسی پر جرم کرے اسے ویسی ہی سزا دی جائے۔اور اسلام نے انسانی جان کو جو احترام دیا ہے وہ سورۃ مائدۃ کی اس آیت کریمہ سے ہی واضح ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا(المائدۃ:32) اسلام کا عطا کردہ نظام ِقصاص ودیت دیگر قوانینِ عالم کے مقابلے میں نہایت سیدھا سادہ ہے۔مثلاً قصاص لینا امام یا حاکم کا فرض ہے بشرطیکہ اولیائے مقتول قصاص کے طالب ہوں۔قاتل کو بھی بلاعذر تسلیم نفس کردینا چاہیے کیونکہ یہ حق العبد ہے۔ اور تیسری بات یہ کہ مقدمے کافیصلہ کرتے وقت ازروئے قرآن حاکم پر یہ واجب ہے کہ وہ فریقین کےمابین کامل تسویہ برتے ۔اسلام سے قبل قصاص کے معاملے میں بہت زیادتی کی جاتی تھی یعنی بعض معاملات میں قصاص میں قتل کر کے او ربعض میں دیت لےکر چھوڑ دیا جاتا تھا اوراس کا کوئی ضابطہ نہ تھا۔ کبھی ایک آدمی کےعوض قبیلے کے سینکڑوں معصوم افراد کوموت کےگھاٹ اتاردیتے ایسا بھی ہوتا کہ اگر کسی بڑے نے کسی قبیلے کے ایک فرد کو قتل کردیا تو اس قاتل سےکہا جاتا کہ ہم تجھے اس وقت چھوڑسکتے ہیں جب تو اجازت دے کہ ہم تیرے سوغلاموں کو قتل کردیں۔ اگر وہ اجازت دے دیتا تو اس کے سو غلاموں کے بے دریغ تہہ تیغ کردیا جاتا ۔تو نبیﷺ نے انسانی جان کی قدروقیمت کے تحفظ کی خاطر قصاص ودیت کے رہنما اصول بیان کیے۔ علامہ ڈاکٹر احمد فتحی بہنسی برصغیر کے نامور عالم دین ہیں ۔علامہ کو اسلام کے قانون جنائی کے سلسلے میں مہارت تامہ حاصل تھی ۔انہوں نےاس موضوع پر متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں۔ زیرنظر کتاب ’’ القصاص فی الفقہ الاسلامی‘‘ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس کتاب کی سب بڑی خوبی یہ ہےکہ یہ جامع او ر مختصر ہے اور اپنے موضوع کو متعارف کرانے کے سلسلے میں یہ نہایت ہی مفید کوشش ہے۔ اردو دان طبقہ کے استفادہ کےلیے مولانا سید عبد الرحمنٰ بخاری ریسرچ آفیسر قائداعظم لائبریری نےاسے اردو میں منتقل کیا اور ابتداء میں مولانا نے ایک نہایت ہی فاضلانہ مقدمہ تحریر فرمایا ہے ا ورانگریزی داں طبقہ کی آسانی کےلیے کتاب کے آخر میں فرہنگ اصطلاحات فقہیہ کو شامل کیا ہے تاکہ غیر عربی داں حضرات بھی   کتاب سے استفادہ کرسکیں۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ آمین(م۔ا)

  • pages-from-al-wajeez-fi-asoolil-fiqha
    عبد الکریم زیدان

    وہ علم جس میں احکام کے مصادر ،ان کے دلائل کے، استدلال کے مراتب اور استدلال کی شرائط سے بحث کی جائے او راستنباط کے طریقوں کووضع کر کے معین قواعد کا استخراج کیا جائے کہ جن قواعد کی پابندی کرتے ہوئے مجتہد تفصیلی دلائل سے احکام معلوم کرے، اس علم کا نام اصول فقہ ہے۔ علامہ ابن خلدون کے بقول اس وجہ سے یہ علم علوم شریعت میں سے سب سے عظیم، مرتبے میں سب سے بلند اور فائدے کے اعتبار سے سب سے زیادہ معتبرہے (مقدمہ ابن خلدون ص: 452) جس طرح کسی بھی زبان کو جاننے کےلیے اس زبان کے قواعد و اصول کو سمجھنا ضروری ہے اسی طر ح فقہ میں مہارت حاصل کرنےکے لیے اصول فقہ میں دسترس اور اس پر عبور حاصل کرناضروری ہے اس علم کی اہمیت کے پیش نظر ائمہ فقہاء و محدثین نے اس موضوع پر کئی کتب تصنیف کی ہیں اولاً امام شافعی نے الرسالہ کے نام سے کتاب تحریرکی پھر اس کی روشنی میں دیگر اہل علم نے کتب مرتب کیں۔ اصول فقہ کی تاریخ میں بیسویں صدی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اس دور میں علم اصول فقہ نےایک نئی اٹھان لی اوراس پر کئی جہتوں سے کام کاآغاز ہوا: مثلاً اصول کاتقابلی مطالعہ، راجح مرجوح کاتعین اور مختلف کتب میں بکھری مباحث کو یک جا پیش کرنےکے ساتھ ساتھ موجودہ قانونی اسلوب اور سہل زبان میں پیش کرناوغیرہ ۔اس میدان میں کام کرنے والے اہل علم میں ایک نمایاں نام ڈاکٹر عبد الکریم زیدان کا بھی ہے۔ اصول فقہ پران کی مایۂ کتاب ’’الوجیز فی اصول الفقہ‘‘ اسی اسلوب کی نمائندہ کتاب ہے اور اکثر مدارس دینیہ میں شامل نصاب ہے۔ زیر نظر کتاب ’’الوجیز فی اصول الفقہ‘‘ سید عبدالکریم زیدا ن کی اصول فقہ کے موضوع پر جامع عربی کتاب کا ترجمہ ہے۔ فاضل مصنف نے اس کتاب کو چارابو اب میں تقسیم کرکے مثالوں کے ساتھ تفصیلی مباحث پیش کی ہیں۔ باب اول :حکم کی مباحث۔ باب دوم: احکام کے دلائل کی بحث میں۔ باب ثالث: احکام کے استنباط کے طریقہ اور قواعد اور ان کے ساتھ ملحق قواعد ترجیح اور ناسخ ومنسوخ۔ باب چہارم: اجتہاد او راس کی شرائط ،مجتہد،تقلید اور اس کے تعریف کے متعلق ہے۔ مصنف نے اس میں ہر مسئلے کے بارے میں بنیادی اوراہم اصول اختصار و جامعیت کے ساتھ بیان کیے ہیں۔ اس کتاب کی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ مؤلف نے کسی ایک مکتب فکر کے اصول پیش نہیں کیے اور نہ کسی خاص مکتب فقہ کی تقلید وحمایت کی ہے۔ اختلافی مسائل میں مصنف نے مختلف آراء کا محاکمہ کیا ہے اور آخر میں اپنی رائے پیش کی ہے۔ عربی کتاب کو اردو قالب میں ڈھالنے کا کام محترم جناب حافظ شعیب مدنی﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی) اور مولانا حافظ اسلم شاہدروی﷾ کی مشترکہ کاوش ہے۔ اس ترجمہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں مصنف کتاب کی طرف سے اضافہ کی گئی فصل کا ترجمہ بھی شامل کردیاگیا ہے۔ جبکہ دیگر تراجم میں یہ اضافہ شامل نہیں ہے نیز مترجمین نے چند مقامات پر توضیحی نوٹ بھی تحریر کیے ہیں۔ امید ہے یہ کاوش اصول فقہ کے طلبہ اور علمائے کرام کے لیے مفید ثابت ہوگی۔ یہ کتاب اپنے موضوع میں افادیت اور جامعیت کے پیش نظر وفاق المدارس سلفیہ اور اکثر مدارس دینیہ کے نصاب میں شامل ہے۔ مترجم کتاب مولانا حافظ محمد اسلم شاہدروی﷾ اس کتاب کے علاوہ بھی کئی کتب کے مصنف و مترجم ہیں۔ اور طویل عرصہ سے مرکزی جمعیت اہل حدیث، پاکستان سے وابستہ ہیں اور دار المعارف مبارک مسجد، لاہور میں ریسرچ کے شعبہ میں بطور مدیر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل اور زورِ قلم میں مزید اضافہ فرمائے اور ان کی تدریسی ، تصنیفی وتحقیقی، تبلیغی خدمات کو شرفِ قبولیت سے نوازے۔ (آمین)

  • title-page-apni-jamhoriyat
    حامد کمال الدین

    ہرمسلمان کی خواہش ہے کہ ملک میں اسلامی شریعت کانفاذ ہو لیکن اس کے لیے کیا طریقہ کار اپنانا چاہیے اس میں اختلاف ہے ایک بڑاطبقہ موجودہ جمہوری نظام کے ذریعے نفاذ اسلام کی کوششوں میں مصروف ہے اگرچہ 60 سال سے اس سے خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا تاہم اسلامی انقلاب اور حکومت الہیہ کے نعروں کی حامل جماعتیں آج بھی اسی میدان میں زو رلگا رہی ہیں اس کےبرعکس ایک حلقے کی رائےہے کہ جمہوریت کے ذریعے اسلام نہیں آسکتا زیرنظر کتابچے میں اسی کی ترجمانی کی گئی ہے مروجہ جمہوریت کےحق میں جودلائل دیئے جاتے ہیں ان کابھي اس میں جائزہ لیا گیا ہے نیز بعض جلیل القدر اہل علم مثلاًمحمد قطب اور علامہ البانی وغیرہ کی رائے بھی شامل ہے

     

  • title-pages-ahle-hadith-aur-ahle-taqleed-copy
    حافظ صلاح الدین یوسف

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل بالحدیث کے مباحث صدیوں پرانے ہیں ۔زمانہ قدیم سے اہل رائے اور ہل الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘ رہی ہے موجودہ دور میں بھی عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چند ہائیوں میں تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ اطاعت کو بھی قدرے فروغ حاصل ہوا ہے ۔ امت کا در د رکھنے والے مصلحین نے اس موضوع پر سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب تصنیف کیں ہیں ۔  زیرتبصرہ کتا ب’’اہل حدیث اوراہل تقلید‘‘ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ کے رد تقلید کے موضوع اگست 1937ء تافروری 1974ء سولہ اقساط میں ہفت روزہ الاعتصام میں شائع ہونے والے مضامین کی کتابی صورت ہے ۔ان مضامین کی افادیت اورکئی اہل علم کےاصرار پر 1976ء میں شارح سنن نسائی شیخ الحدیث مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی ﷫ نے ان مضامین کو مرتب کروا کر کتابی صورت میں شائع کیا ۔اس مختصر سی کتاب میں مصنف کتاب نے اہل حدیث اور اہل تقلید کے نقطۂ نظر کے مابین فرق کی خوب توضیح کی ہے اور جماعت اہل حدیث اور مسلک اہل حدیث پر بے سروپا الزامات کی حقیقت کو بھی خو ب آشکار ا کیا ہے اور اہل حدیث اور مسلک اہل حدیث پر بعض اعتراضات کا دلائل کے ساتھ تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے ۔ ۔(م۔ا)

  • title-pages-barre-sagheer-hind-me-fiqah-islami-ka-irtiqa-copy
    ڈاکٹر ضیاء الدین فلاحی

    اسلامی علوم میں فقہ اسلامی کوخصوصی اہمیت حاصل ہے کیونکہ فقہ کاتعلق ایک طرف کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ ﷺ سے جو جو تمام احکام شرعیہ کاماخذ ہیں۔ جس نے زندہ مسائل کے استدلال، استنباط اور اجتہاد میں قرآن وسنت کواپنایا اور شرعی احکام کی تشریح وتعبیر میں ان دونوں کو ہی ہر حال میں ترجیح دی۔ یہ تعلیمات اللہ تعالیٰ کا ایسا عطیہ ہیں جو اپنے لطف وکرم سے کسی بھی بندے کو خیر کثیر کے طور پر عطا کردیتا ہے۔ اور فقہ اسلامی اس علم کا نام ہے جو کتاب وسنت سے سچی وابستگی کے بعد تقرب الٰہی کی صورت میں حاصل ہوتا ہے ۔ یہ علم دھول وغبار کواڑا کر ماحول کوصاف وشفاف بناتا ہے اور بعض ایسے مبہم خیالات کا صفایا کرتا ہے جہاں بظاہر کچھ ہوتا ہے اور اندرون خانہ کچھ ۔ فقہ اسلامی مختلف شبہ ہائے زندگی کے مباحث پر مشتمل ہے اس کے فہم کے بعض نابغۂ روزگار متخصصین ایسےبھی ہیں جن کے علم وفضل اوراجتہادات سےایک دنیا مستفید ہوئی اور ہورہی ہے ۔ہندوستان میں جب اسلامی علوم کی کرنیں طلوع ہونے لگیں تو شروع میں علم حدیث پرزیادہ توجہ دی گئی خاص کر سندھ اور گجرات کے علاقہ میں لیکن اس کے بعد اہل فقہ اہل علم کی توجہ کا مرکز بن گیا اور فتاوی تاتارخانیہ، فتاوی ہندیہ ، قضا کے موضوع پر صنوان القضاءاوراصول فقہ میں مسلم الثبوت اور اس کی شرح فواتح الرحموت، نورالانوار جیسی اہم تالیفات منظر عام آئیں جس میں بعض کو فقہ اسلامی کا انسائیکلوپیڈیا کہا جاسکتا ہے ۔بر صغیر کے علماء میں فقہ سے تعلق رکھنے والی شخصیتوں کی کثرت کاجناب محمد اسحاق بھٹی ﷫ کی کتاب ’فقہاء ہند‘ کی کئی جلدوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتا ب’’برصغیر ہند میں علوم فقہ اسلامی کاارتقاء‘‘ ڈاکٹر ضیاء الدین فلاحی کی تصنیف ہے جوکہ دار اصل انگریزی زبان میں ایم فل کا مقالہ ہے جسے خود مصنف نے اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔ یہ کتاب ایک مقدمہ اور چھ ابواب پر مشتمل ہے فاضل مصنف نے فقہ اسلامی کی حقیقت اوراس کے ارتقاء پر طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے اپنی اس کاوش کا تعارف کرایا ہے باب اول میں برصغیر میں فقہ اسلامی کے ارتقاء پر گفتگو کرتے ہوئے 1857ء سے قبل کی فقہی خدمات کا سرسری جائزہ لیاکیا ہے۔ نیز 1857ء کےبعد اس میدان میں ہونے والی غیر معمولی علمی ترقی کی طرف اجمالی طور اشارہ کیا ہے۔دوسرے باب میں عربی ، فارسی اورانگریزی زبان کے فقہی لٹریچر کے اردوترجمہ کا ذکرکیاہے۔تیسرے باب میں اردو میں تالیف شدہ کتب فقہ کی فہرست پیش کی ہے۔چوتھے باب میں ہندوستان کے فقہی مدارس و مکاتب پر روشنی ڈالی گئی ہےاس میں ان درسگاہوں کا بھی ذکر ہے جن کی فقہ اسلامی پر خصوصی توجہ رہی ہے اس باب میں اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کی خدمات کوخاص طور پر خرج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ نیز ان اداروں کابھی ذکر کیا ہے جو مسائل کواجتماعی غور وفکر کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔پانچویں باب میں چند اہم فقہی کتابوں کا تعارف اور چھٹےباب میں پاکستان کی سرکاری جامعات اور بعض حکومتی اور پرائیوٹ اداروں کی خدمات کا تعارف ہےبحیثیت مجموعی یہ کتاب برصغیر ہندو پاک کی فقہی خدمات پر ایک عمدہ کاوش ہے ۔(م۔ا)

  • فواد محمد سزگین

    بیسویں صدی مسلمانوں کے سیاسی و علمی عروج و زوال کی صدی رہی ہے۔ اس صدی کے پہلے نصف میں مسلمانانِ عالم جہاں علمی و تحقیقی اور سیاسی و معاشی زوال کی انتہا کو پہنچ رہے تھے، وہیں اس صدی کے نصف ثانی میں انہوں نے علمی و تحقیقی میدان میں عروج وارتقاء کی ایک دوسری داستان لکھی۔ چنانچہ جہاں بہت سارے مسلم ممالک نے استعمار کے چنگل سے نجات پائی، وہیں فکر و تحقیق کے میدان میں بہت سے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے علم و تحقیق، تصنیف وتالیف اور بحث و ریسرچ کی ان تابندہ روایات کو پھر سے زندہ کیاجو کبھی اسلاف کا طرۂ امتیاز ہوا کرتی تھیں۔ ان بڑی اورعظیم محقق شخصیات میں محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی ، ڈاکٹر محمد حمیداللہ(پیرس) ، پروفیسرفوادسیزگین وغیرہ جیسی شخصیات بھی ہیں جن کو علوم اسلامیہ کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے پر فیصل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ فواد سیزگین (Fuat Sezgin) چوبیس اکتوبر1924ء کو ترکی کے مقام بطلس میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے علاقہ میں پانے کے بعد استنبول آگئے، جہاں انہوں نے جامعہ استنبول میں داخلہ لیا اور 1947ء میں اس کی فیکلٹی آف آرٹس سے گریجویشن کیا، یہیں سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور عربی زبان و ادبیات میں 1954ء میں اسی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا، جس کے نگراں جامعہ استنبول میں اسلامی علوم اور عربی ادبیات کے ماہر ایک جرمن مستشرق پروفیسرہیلمٹ رٹر  تھے۔ پی ایچ ڈی کے بعد فواد سیزگین اسی یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہوگئے۔ ان سے قریبی زمانہ میں ایک مشہور جرمن مستشرق کارل بروکلمن نے عربی اور اسلامی ادبیات پر تاریخ آداب اللغۃ العربیہ کے نام سے ایک مبسوط کام کیا تھا۔لیکن اس کتاب میں کافی نقائص تھے ۔ فواد سیزگین  نے کارل بروکلمن کی  کتاب ’’ تاریخ ادبیات عربی‘‘ پر نظرثانی کی اور بروکلمان کی غلطیوں کی اصلاح کی اور بہت سے مفید اضافے کیے اور اس کے نقائص اُن پر اچھی طرح واضح کیا ۔ ان کی مشہور عالم کتاب ’’تاریخ التراث العربی‘‘ اسی طرح منصۂ شہود پر آئی۔ یہ کتاب انہوں نے جرمن میں لکھی اور اسی کی بنیاد پر ان کو فیصل ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا۔اس کتاب کی اہمیت وافادیت کےپیش نظر   جامعہ امام  محمد  بن سعود  نے ڈاکٹر محمود فہمی سے عربی زبان  میں اس کا ترجمہ کروایا اوراسے دس جلدوں میں شائع۔کتاب   ہذا ’’تاریخ  علوم اسلامیہ‘‘ اسی  کتاب کی جلد سوم کا  اردو ترجمہ   ہے یہ ترجمہ شیخ نذیر حسین  نے کیا ہےیہ حصہ علوم فقہ کے متعلق ہے۔(م۔ا)

  • pages-from-tafreeh-o-siyahat-us-key-jaez-wasael-o-shari-zawabit
    اسلامی فقہ اکیڈمی انڈیا

    تفریح فارغ وقت میں دل چسپ سرگرمی اختیار کرنے کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ اردو عربی اور فارسی تینوں زبانوں میں مستعمل ہے۔ دور جدید میں تفریح انسانی زندگی کے   معمولات کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ تیز مشینی دو راور مقابلے کی فضا میں کام کرنے سے انسان تھک کر چور ہو جاتا ہے اس کا حل اس نے تفریح میں ڈھونڈا ہے۔ مگر بہت سی تفریحی سرگرمیاں انسان کو دوبارہ کام کے قابل بنانے کے ساتھ ساتھ اس سے دین بھی چھین لیتی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تفریح وسیاحت کا اس کے جائز وسائل و شرعی ضوابط ‘‘ اسلامک فقہ اکیڈمی، انڈیا کے زیر اہتمام مارچ 2011ء میں منعقد کیے گئے بیسویں فقہی سیمنار میں مختلف اصحاب علم و دانش و مفتیان کرام کی کرطرف سے پیش گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کامجموعہ ہے جس میں مزاح، لطیف گوئی، مزاحیہ کہانیاں اور ڈرامے، سیر و سیاحت پر زرِ کثیر خرچ کرنا، مختلف کھیل اس کے اصول، کھلاڑیوں کے لباس و پوشاک کھیلوں پر سٹہ لگانا، تاریخی اور تعلیمی مقاصد کے لیے فلمیں اور کارٹون بنانا وغیرہ جیسی ابحاث شامل ہیں۔ (م۔ا )

  • title-pages-aourat-wafat-se-ghusal-w-takfeen-tak-copy
    ام عبد منیب

    انسان کی زندگی اس دنیا کی ہویا آخرت کی دونوں کےآغاز میں عجیب وغریب مماثلت پائی جاتی ہے ۔اگردنیا   کے سفر کا نقظۂ آغاز 9 ماہ تہ بہ تہ اندھیرے  ہیں تو آخرت کےسفر کا نقطۂ آغازبھی قبر کے تہ بہ تہ اندھیرے ہیں ۔اگر دینا میں  قدم رکھتے ہی انسان کو غسل دیا جاتا ہے تو آخرت کے سفر میں  قبر میں قدم رکھنے سے پہلے غسل  کا اہتمام کیاجاتا ہے۔دنیا کے سفر کےمرحلہ میں اگر انسان کے کانوں میں اذان واقامت  کے ذریعہ اس کی روح کو تسکین پہنچائی جاتی ہے  تو آخرت کے اس مرحلہ میں صلاۃ جنازہ اور مغفرت کی دعاؤں سے انسان کی روح کومسرت پہنچائی جاتی ہے ۔بحر حال  انسان کی فلاح  اسی میں  ہے کہ  دنیا کاسفر ہویا آخرت کا تمام مراحل کو قرآن وسنت کی ہدایات کےمطابق سرانجام  دیا جائے ۔زیرنظر کتابچہ’’عورت وفات سے غسل وتکفین تک‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شدہ ہے ۔جس میں انہوں نے  عورت میت  کانزع سے  لے کر غسل ،تکفین وتدفین  اور تعزیت  وغیرہ کے احکام ومسائل کو  احادیث  رسول ﷺ کی  روشنی میں  پیش کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش  کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

     

  • title-pages-fiqah-islami-aik-taruf-aik-tajzia-copy
    ڈاکٹر محمد ادریس زبیر

    فقہ اسلامی فرقہ واریت سے  پاک ایک ایسی فکر سلیم کا  نام ہے جو قرآن وسنت ِ رسول کی خالص تعلیمات س میں سینچی گئی ۔ جس نے زندہ مسائل کے استدلال، استنباط اور اجتہاد میں قرآن وسنت  کواپنایا اور شرعی احکام کی تشریح وتعبیر میں ان دونوں کو ہی ہر حال میں ترجیح دی۔ یہ  تعلیمات اللہ تعالیٰ کا ایسا عطیہ ہیں جو اپنے لطف وکرم سے کسی بھی بندے کو خیر کثیر  کے طور پر عطا کردیتا  ہے۔ اور فقہ اسلامی اس علم کا نام ہے جو کتاب وسنت  سے  سچی وابستگی  کے بعد تقرب الٰہی  کی صورت میں حاصل ہوتا ہے ۔ یہ علم دھول وغبار کواڑا کر  ماحول کوصاف وشفاف بناتا ہے اور بعض ایسے مبہم خیالات  کا  صفایا کرتا ہے جہاں بظاہر کچھ  ہوتا ہے  اور اندرون خانہ کچھ ۔ فقہ اسلامی مختلف شبہ ہائے زندگی  کے مباحث پر مشتمل ہے اس کے فہم  کے بعض نابغۂ روگار متخصصین ایسےبھی ہیں جن کے علم وفضل اوراجتہادات سےایک دنیا مستفید ہوئی اور ہورہی ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’فقہ اسلامی  ایک تعارف‘‘ محترم ڈاکٹر محمد ادریس زبیر صاحب کی تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے کوشش کی  ہے  کہ فقہ کے   رائج  معنی سے ہٹ کر  فقہ وتاریخ فقہ  کا صحیح معنی ومفہوم متعین کیا جائے اور وہ اثرات زائل کیے جائیں  جو کسی بھی صورت میں فقہ کے معنی محدود کرتے یا مبالغہ آمیزی سے کام لیتے ہیں۔ صاحب کتاب نے  فقہی اصلطلاحات اورفقہی مواد کی ترتیب  وتنظیم کو سہل انداز سے قابل فہم بنانے کی بھر پور کوشش کی ہے اور استدلال  میں قرآنی آیات وصحیح وحسن احادیث یا صحابہ کرام  کے موثوق آثار کو بنیاد بنایا ہے ۔ اللہ  تعالی  مصنف کی  اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے  طلبہ وطالبات کے لیے نفع بخش بنائے  (آمین)یہ   کتاب  فقہ کی  معرفت کےلیے   اردو  میں  لکھی  جانے والی کتب میں اہم اضافہ  ہے ۔مدارس  ویونیورسٹیوں میں  زیر تعلیم  طالبان ِ علم کےلیے   بیش قیمت علمی  تحفہ ہے ۔کتاب ہذا کے مصنف  فہم  قرآن  اور خواتین  کی دینی  تعلیم تربیت کے لیے کوشاں معروف ادارے  ’’ دار الہدیٰ‘‘ کی سربراہ  ڈاکٹر فرہت ہاشمی  صاحبہ کے  شوہر ہیں ۔ موصوف کا ملتان کے ایک علمی خانوادے  سے تعلق ہے  درس ِنظامی کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے ایم عربی کی   ڈگری حاصل کی۔ 1983ءانٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد  کے کلیۃ الدین سے منسلک ہوگئے  ۔1989ء میں  گلاسگو یونیورسٹی سے علم حدیث میں   ڈاکٹریٹ  کیا  عربی،  اردو، انگریزی زبان میں بہت سے آرٹیکلز لکھنے کے علاوہ چند کتب کے مصنف بھی  ہیں اللہ تعالیٰ ان کےعلم وعمل میں برکت فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • title-pages-fiqah-islami-taruf-aur-tarikh-copy
    پروفیسر اختر الواسع

    فقہ اسلامی فرقہ واریت سے پاک ایک ایسی فکر سلیم کا نام ہے جو قرآن وسنت ِ رسول کی خالص تعلیمات میں سینچی گئی ۔ جس نے زندہ مسائل کے استدلال، استنباط اور اجتہاد میں قرآن وسنت کواپنایا اور شرعی احکام کی تشریح وتعبیر میں ان دونوں کو ہی ہر حال میں ترجیح دی۔ یہ تعلیمات اللہ تعالیٰ کا ایسا عطیہ ہیں جو اپنے لطف وکرم سے کسی بھی بندے کو خیر کثیر کے طور پر عطا کردیتا ہے۔ اور فقہ اسلامی قرآن وسنت کے عملی احکام کا نام ہے ۔ کچھ قرآن اور سنت کے متعین کردہ ہیں اورکچھ احکام قرآن وسنت کےاصولوں سےمستنبط کیے ہوئے ہیں ۔ ان دونوں قسم کےاحکام سےمل کرفقہ اسلامی عملی قانون بن کر سامنے آتی ہے۔ اس لحاظ سے فقہ اسلامی ہی دراصل انسانی زندگی سے ہر قدم پر اور ہر لمحہ مربوط رہتی ہے ۔ اور یہ قرآن وسنت کی روشن تعلیمات کو نمایاں کرتی ہے ۔فقہ کا علم کتاب وسنت سے سچی وابستگی کے بعد تقرب الٰہی کی صورت میں حاصل ہوتا ہے ۔ یہ علم دھول وغبار کواڑا کر ماحول کوصاف وشفاف بناتا ہے اور بعض ایسے مبہم خیالات کا صفایا کرتا ہے جہاں بظاہر کچھ ہوتا ہے اور اندرون خانہ کچھ ۔ فقہ اسلامی مختلف شبہ ہائے زندگی کے مباحث پر مشتمل ہے اس کے فہم کے بعض نابغۂ روگار متخصصین ایسےبھی ہیں جن کے علم وفضل اوراجتہادات سےایک دنیا مستفید ہوئی اور ہورہی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ فقہ اسلامی تاریخ اور تعارف ‘‘ اسلامی فقہ کےاجمالی تعارف وتاریخ پر مشتمل پروفیسر اختر الواسع کی گراں قدر تصنیف ہے اس کتاب کو انہوں نے نوابواب میں تقسیم کیا ہے ان ابواب میں انہوں نے فقہ اسلامی کے آغاز سے لے کےموجود دور تک کی عہد بہ عہد تاریخ اور ہر عہد کی خصوصیات وخدمات فقہ اسلامی کی تعریف وتعارف ، فقہ اسلامی کے مصادر ، فقہی مسالک ، فقہی علوم وفنون، فقہی اختلاف کی حیثیت واسباب اور فقہی مسالک میں تطبیق ، اجتہاد وتقلید کی حقیقت وتعارف ، مختلف فقہی مسالک کی معروف فقہی کتابوں کا تعارف پیش کیا ہے اور آخر میں سو سے زائد مروج فقہی اصطلاحات کی فرہنگ بھی پیش کی ہے ۔یہ کتاب موضوع کی متوع ہمہ گیری کے ساتھ ساتھ متوازن ضخامت کی حامل ہے ۔ نہ تو اتنی مفصل ہےکہ مطالعہ کے لیے وقت فرصت مہیا نہ ہوسکے اور نہ اتنی مختصر کہ موضوع پر گفتگو تشنہ رہ جائے ۔کتاب کا موضوع اگرچہ خشک اور اصطلاحات سےگراں بار بھی ۔لیکن فاضل مصنف نے حتی الامکان اسے آسان زبان اور سہل اسلوب میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔اور جدید اسلوب کے مطابق ضروری معلومات کےبعد ان کےحوالے درج کردیے ہیں تاکہ تفصیلی مطالعہ کےشائقین ان کی طرف رجوع کرسکیں۔(م۔ا)

  • title-pages-fiqah-islami-ki-nazriya-sazi-copy
    ڈاکٹر جمال الدین عطیہ

    نظریہ ذہن میں قائم ہونے والا ایک تصور ہے ،خواہ یہ تصور فکر منطقی کے تسلسل سے پیدا ہو یا فرعی وجزئی احکام کے استقراء سے ماخوذ ہو۔یہ تصور تجریدیت سے متصف ہوتا ہےکیونکہ اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ تطبیقی صورتحال سے بلند ہو کر اس تطبیق کے پیچھے کارفرما نظریہ وتصور تک رسائی حاصل کی جائے۔نظریہ ایسا جامع تصور ہوتا ہے جو موضوع کے تمام مراتب ودرجات اور اس کے تمام اثرات سے بحث کرتا ہے۔نظریہ جس جامع تحریری تصور کا نام ہے اسے دریافت کرنے کے لئے اس موضوع سے تعلق رکھنے والے تمام ظواہر واحکام میں پائے جانے والی مشترک صفات کا پتہ لگایا جاتا ہے تاکہ ان کے ذریعہ اس موضوع کے مشترک اور عام قواعد معلوم کئے جائیں۔فقہی نظریہ کی تعریف اس طرح کی جا سکتی ہے کہ فقہی نظریہ اس مجرد تصور کا نام ہے جو جزئی فرعی احکام کو منضبط کرنے والے قواعد عامہ کو یکجا کرے۔ زیر تبصرہ کتاب "فقہ اسلامی کی نظریہ سازی " عالم عرب کے معروف سکالر محترم ڈاکٹر جمال الدین عطیہ صاحب کی عربی تصنیف ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا عتیق احمد قاسمی صاحب نے کیا ہے۔یہ کتاب مولف موصوف کے ان لیکچرز پر مشتمل ہے جو انہوں نے قطر یونیورسٹی کے کلیۃ الشریعہ (شریعت کالج ) کے طلباء وطالبات کے لئے فقہی نظریات کے نصاب کی تمہید اور مقدمہ کے طور پر تیار کئے اور پیش کئے،اور پھر بعد میں ان کی افادیت کے پیش نظر شائع کر دیا گیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-fiqah-hazrat-abu-bakar-ra-copy
    ڈاکٹر محمد رواس قلعہ جی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ شام کے معروف عالم دین  ڈاکٹر محمد رواس قلعہ جی﷾ ظہران یونیورسٹی سعودی عرب کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔اب تک وہ چاروں خلفاءے راشدین  کی فقہ کے علاوہ صحابی رسول سیدنا عبد اللہ بن مسعود   اور جلیل القدر فقیہ سیدنا امام ابراہیم نخعی ﷫کی فقہ پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا مرتب کر چکے ہیں اور شاید ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں وہ اس سلسلے کو دیگر ائمہ و فقہاء تک لے جائیں ۔زیر تبصرہ کتاب " فقہ حضرت ابو بکر  " اسی انسائیکلو پیڈیا کی پہلی جلد اور پہلی کڑی ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا عبد القیوم صاحب﷾ نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-fiqah-hazrat-imam-hasan-basri-ra-copy
    ڈاکٹر محمد رواس قلعہ جی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصیت اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ شام کے معروف عالم دین  ڈاکٹر محمد رواس قلعہ جی﷾ ظہران یونیورسٹی سعودی عرب کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔اب تک وہ چاروں خلفاءے راشدین  کی فقہ کے علاوہ صحابی رسول سیدنا عبد اللہ بن عباس ،سیدنا عبد اللہ بن عمر ، جلیل القدرتابعی فقیہ سیدنا امام ابراہیم نخعی ﷫کی فقہ پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا مرتب کر چکے ہیں اور شاید ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں وہ اس سلسلے کو دیگر ائمہ و فقہاء تک لے جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب " فقہ حضرت امام حسن بصری﷫" اسی انسائیکلو پیڈیا کی آٹھویں جلد اورکڑی ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا عبد القیوم صاحب﷾ نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-fiqah-hazrat-abdullah-bin-umar-ra-copy
    ڈاکٹر محمد رواس قلعہ جی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ شام کے معروف عالم دین  ڈاکٹر محمد رواس قلعہ جی﷾ ظہران یونیورسٹی سعودی عرب کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔اب تک وہ چاروں خلفاءے راشدین  کی فقہ کے علاوہ صحابی رسول سیدنا عبد اللہ بن عباس ،سیدنا عبد اللہ بن مسعود ، جلیل القدرتابعی فقیہ سیدنا امام ابراہیم نخعی ﷫،اور سیدنا امام حسن بصری ﷫کی فقہ پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا مرتب کر چکے ہیں اور شاید ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں وہ اس سلسلے کو دیگر ائمہ و فقہاء تک لے جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب " فقہ عبد اللہ بن عمر " اسی انسائیکلو پیڈیا کی چھٹی جلد اورکڑی ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا عبد القیوم صاحب﷾ نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-fiqah-hazrat-usman-ra-copy
    ڈاکٹر محمد رواس قلعہ جی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ شام کے معروف عالم دین  ڈاکٹر محمد رواس قلعہ جی﷾ ظہران یونیورسٹی سعودی عرب کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔اب تک وہ چاروں خلفاءے راشدین  کی فقہ کے علاوہ صحابی رسول سیدنا عبد اللہ بن مسعود   اور جلیل القدر فقیہ سیدنا امام ابراہیم نخعی ﷫کی فقہ پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا مرتب کر چکے ہیں اور شاید ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں وہ اس سلسلے کو دیگر ائمہ و فقہاء تک لے جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب " فقہ حضرت عثمان  " اسی انسائیکلو پیڈیا کی تیسری جلد اور تیسری کڑی ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا الیف الدین ترابی صاحب﷾ نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-fiqah-hazrat-ali-ra-copy
    ڈاکٹر محمد رواس قلعہ جی

    ہر دور میں اہل علم نے مختلف موضوعات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔فقہ وحدیث اور تاریخ وفلسفہ اورطب وحکمت میں سے کوئی ایسا عنوان نہیں ہے ،جس پر ہمیں قدیم علمی سرمائے میں انفرادی کاوشوں کے حیرت انگیز مجموعے نہ ملتے ہوں۔مثلا امام سرخسی ﷫کی عظیم الشان کتاب المبسوط بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اسلامی فقہ کا ایک مکمل مجموعہ ہے۔اسی طرح امام قلقشندی ﷫کی کتاب صبح الاعشی متعدد علوم ومعارف کا ایک خزانہ ہے۔موجودہ اصطلاح میں آپ اسے انسائیکلوپیڈیا نہ بھی کہیں تو بھی اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے ان سے وہی ضرورت پوری ہوتی ہے جو آج کے د ور میں انسائیکلو پیڈیاز پوری کرتے ہیں۔ عصر حاضر کے  تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے  چند مسلمان مفکرین اور بعض اسلامی اداروں نے اب انسائیکلوپیڈیاز کی تیاری کی طرف بھی اپنی توجہ مبذول کی ہے۔ایک  انسائیکلو پیڈیا وزارت اوقاف کویت کے زیر اہتمام تیار کیا جا رہا ہے اور الموسوعہ الفقہیہ کے نام سے اب تک اس کی متعدد جلدیں چھپ چکی ہیں۔ڈاکٹر عبد الستار ابو غدہ ﷾جیسی فاضل شخصتیں اس کام کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔اسلامی فقہ کا انسائیکلوپیڈیا تیار کرنے کے لئےاب تک جو کاوشیں ہوئی ہیں،ان میں سے ایک کوشش اس وقت آپ کے سامنے ہے۔یہ سلسلہ شام کے معروف عالم دین  ڈاکٹر محمد رواس قلعہ جی﷾ ظہران یونیورسٹی سعودی عرب کی کاوش ہے۔جنہوں نے فقہ اسلامی کو اپنا تدریسی وتحقیقی شعار بنا لیا ہے اور اس  میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے چکے ہیں۔اب تک وہ چاروں خلفاءے راشدین  کی فقہ کے علاوہ صحابی رسول سیدنا عبد اللہ بن مسعود   اور جلیل القدر فقیہ سیدنا امام ابراہیم نخعی ﷫کی فقہ پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا مرتب کر چکے ہیں اور شاید ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں وہ اس سلسلے کو دیگر ائمہ و فقہاء تک لے جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب " فقہ حضرت علی  " اسی انسائیکلو پیڈیا کی چوتھی جلد اور چوتھی کڑی ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا عبد القیوم صاحب﷾ نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1633 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں