• pages-from-al-ahadees-ul-mukhtar-minassaheehain
    محمد مظہر شیرازی

    خدمت ِحدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے کہ جس کے لیے ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے ،تاکہ   اس کا شمار کل قیامت کےدن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے ۔احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ان ضخیم مجموعہ جات سے     استفتادہ عامۃ الناس کےلیے انتہائی دشوار ہے ۔عامۃ الناس کی ضرورت کے پیش نظر کئی اہل علم نے مختصر مجموعات حدیث تیار کیے ہیں جن میں ایک 100 احادیث پر مشتمل ایک مجموعہ عارف با اللہ مولانا سید محمد داؤد غزنوی ﷫ نے ا نتہائی مختصراور جامع رسالہ ’’نخبۃ الاحادیث‘‘ کے نام سے مرتب کیا جس میں عبادات معاملات ،اخلاق وآداب وغیرہ سے متعلق کامل رااہنمائی موجود ہے۔ زیر نظر کتاب ’’الاحادیث المختارہ من الصحیحین‘‘ محترم محمد مظفر شیرازی ﷾ کی کاوش ہے جس میں انہوں نے دینی جامعات ومدارس کے ابتدائی طلباء کےلیے   صحیح بخاری وصحیح مسلم سے 100 احادیث کا انتخاب کرکے   یکجا کردیا ہے اور ہر حدیث کے اوپر اس سے واضح طور پر سمجھ آنے والا مسئلہ بطور عنوان کے بیان کردیا ہے تاکہ جھوٹی عمر کے طلبہ کوسمجھنے میں آسانی رہے ۔اللہ تعالیٰ شیرازی صاحب کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ آمین( م۔ا)

  • pages-from-anwaar-e-hadees
    حافظ عبد الستار حماد

    اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن وحدیث ہیں جن کی تعلیمات وہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ان ضخیم مجموعہ جات سے استفتادہ عامۃ الناس کےلیے انتہائی دشوار ہے ۔عامۃ الناس کی ضرورت کے پیش نظر کئی اہل علم نے مختصر مجموعات حدیث تیار کیے ہیں ۔اربعین کے نام سے کئی علماء نے حدیث کے مجموعے مرتب کیے۔ اور اسی طرح 100 احادیث پر مشتمل ایک مجموعہ عارف با اللہ مولانا سید محمد داؤد غزنوی ﷫ نے ا نتہائی مختصراور جامع رسالہ ’’نخبۃ الاحادیث‘‘ کے نام سے مرتب کیا جس میں عبادات معاملات، اخلاق وآداب وغیرہ سے متعلق کامل رااہنمائی موجود ہے۔ موصوف کے کمال حسنِ انتخاب کی وجہ سے یہ کتاب اکثر دینی مدارس کے نصاب میں شامل ہے۔عصر حاضر میں بھی کئی مزید مجموعات ِحدیث منظر عام پر آئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’انوار حدیث ‘‘بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ یہ کتاب پاکستان کے جید عالم دین مفتی جماعت شارح بخاری شیخ الحدیث ابو محمد حافظ عبد الستار حماد﷾(فاضل مدینہ یونیورسٹی )کی کاوش ہے۔ جسے انہوں نے   ہفت روزہ اہل حدیث،لاہور کے مدیر مولانا محمدبشیر انصاری﷾ کی کاوش پر بڑے عمدہ انداز سے مرتب کیا ہے ۔موصوف نے صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے 100 احادیث کا انتخاب کرکے پانچ حصوں (عقائد وعبادات، حقوق ومعامالات، اخلاق وکردار، احکام ومسائل ، دعوات اذکار) میں تقسیم کیا ہے اور پھر اختصار کے ساتھ ان کی تشریح میں صحیح احادیث کو پیش کیا ہے۔ ابتدائی طلباء وطالبات کے لیے یہ کتاب بیش قیمت خزانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ محترم حافظ کی اس کاوش کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور قبول عام کا درجہ عطا فرمائے۔ آمین( م۔ا)

  • title-pages-bastan-al-arbaen-copy
    محمد صادق سیالکوٹی

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی ﷺ سے ہوا صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم نے ان مجموعات کے اختصار اور شروح ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔مجموعاتِ حدیث میں اربعین نویسی، علوم حدیث کی علمی دلچسپیوں کا ایک مستقل باب ہے ۔عبداللہ بن مبارک﷫ وہ پہلے محدث ہیں جنہوں نے اس فن پر پہلی اربعین مرتب کرنے کی سعادت حاصل کی ۔بعد ازاں علم حدیث ،حفاظت حدیث، حفظ حدیث اورعمل بالحدیث کی علمی او رعملی ترغیبات نے اربعین نویسی کو ایک مستقل شعبۂ حدیث بنادیا۔ اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں اربعین کے سینکڑوں مجموعے اصول دین، عبادات، آداب زندگی، زہد وتقویٰ او رخطبات و جہاد جیسے موضوعات پر مرتب ہوتے رہے ۔ برضعیر پاک وہند کے علماء بھی مختلف موضوعات پر چالیس احادیث جمع کرنے میں پیش پیش رہے۔ زیر نظر کتاب ’’بستان الاربعین ‘‘پاکستان کے معروف عالم دین مصنف کتب کثیرہ مولانا محمد صادق سیالکوٹی ﷫ کی کاوش ہے جس میں انہوں نے مختلف موضوعا ت پر چالیس احادیث جمع کیں۔یہ احادیث دین اسلام کے متعدد تقاضے پورے کرنے والی ہیں ۔ان احادیث پر عمل کرنے سے مسلمانوں کی زندگی کے کئی تاریک پہلو نور کے سانچے میں ڈھل سکتے ہیں۔ان حادیث کو ہمیں اپنے بچوں اور مدارس وسکولوں کےطلبہ وطالبات کویاد کروانی چاہییں ۔ اللہ تعالیٰ مصنف موصوف کی تمام مساعی حسنہ کو قبول فرمائے اور اس کتابچہ کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

  • untitled-1
    ابن حجر العسقلانی
    علم حدیث  ایک عظمت ورفعت پر مبنی موضوع ہے کیونکہ اس  کا تعلق براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات سے ہے۔جتنا یہ بلند عظمت ہے اتنا ہی اس کے عروج میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور اس کو مشکوک بنانے کی  سعی ناکام کی گئی۔علمائے حدیث نے دفاع حدیث کے لیے ہر موضوع پر گرانقدر تصنیفات لکھیں۔اسی سلسلے کی ایک کڑی عظمت حدیث کے نام سے عبدالرشید عراقی صاحب کی تصنیف ہے  جس میں انہوں نے عظمت حدیث کےساتھ ساتھ حجیت حدیث ،مقام حدیث،تدوین حدیث،اقسام کتب حدیث،اصطلاحات حدیث،مختلف محدثین ائمہ کرام جو کہ صحاح ستہ کے مصنفین ہیں ان کے حالات اور علمی خدمات،مختلف صحابہ کا تذکرہ  کرتے ہوئے مختلف شروحات حدیث کو اپنی اس کتاب میں موضوع بنایا ہے۔

  • title-page-biyaz-ul-arabaien
    محمد ابو الحسن سیالکوٹی
    قرآن وحدیث کی تعلیمات کو مدنظر رکھتے ہوئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فريضہ بعض علماء کے نزدیک فرض عین او ربعض کےنزدیک فرض کفایہ قرار پایا  لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی مسلمان کےلیے اس فريضہ سے مفر نہیں ہے اور نہیں تو کم ازکم اپنی اولاد کی تربیت کےلیے ہرمسلمان پر لازم ہے کہ وہ قرآ ن وحدیث سے اتنا علم ضرور حاصل کرے کہ اسلام کے بنیادی عقائد اور اسلامی معاشرہ سے متعلق احادیث کا ایک ذخیرہ ہرمسلمان کےدل ودماغ میں محفوظ ہو تاکہ کتاب وسنت کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے ہم ایک اسلامی معاشرہ کی تشکیل دے سکیں اسی مقصد کے پیش نظر مولانا حکیم محمد صادق سیالکوٹی نے معاشرے میں روز مرہ زندگی سے تعلق رکھنے والی چالیس احادیث کا مجموعہ ’’بیاض اربعین‘‘ کے عنوان سے ترتیب دیاہے جسے قبول عام کا درجہ حاصل ہے ۔
  • untitled-1
    امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسی ٰ ترمذی
    امام ترمذی کی جامع ترمذی کو جو مقام ملا وہ محتاج بیان نہیں ہے۔ جامع ترمذی کو بہت سے محاسن کی بنا پر انفرادیت حاصل ہے۔ جرح و تعدیل کا بیان، معمول بہا اورمتروکہ روایات کی وضاحت اور قبول و تاویل میں اختلاف اور علما کی تشریحات ایسی خصوصیات ہیں جو صرف جامع ترمذی سے مخصوص ہیں۔ جامع ترمذی کی اسی اہمیت کے پیش نظر متقدمین اور متاخرین نے اس کی بہت سی شروحات لکھی ہیں۔ اس وقت آپ کےسامنے اسی مہتم بالشان کتاب کا اردو ترجمہ موجود ہےجو کہ علامہ بدیع الزمان نے کیا ہے۔ انہوں نے بعض احادیث کے تحت تشریحی نوٹ لکھ کر اس کی افادیت میں اضافہ کر دیا ہے۔ احادیث کے اردو تراجم والی کتب میں یہ بات محسوس کی گئی ہے کہ احادیث کی نمبرنگ کا خاص اہتمام نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے کوئی حدیث تلاش کرنے میں کافی مشکل پیش آتی ہے۔ اس کتاب کی بھی یہی صورتحال ہے۔ اس کے علاوہ احادیث کی تحقیق پیش کر دی جاتی تو کتاب کی افادیت میں اضافہ کیا جا سکتا تھا۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • untitled-1
    امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسی ٰ ترمذی
    امام ترمذی کی جامع ترمذی کو جو مقام ملا وہ محتاج بیان نہیں ہے۔ جامع ترمذی کو بہت سے محاسن کی بنا پر انفرادیت حاصل ہے۔ جرح و تعدیل کا بیان، معمول بہا اورمتروکہ روایات کی وضاحت اور قبول و تاویل میں اختلاف اور علما کی تشریحات ایسی خصوصیات ہیں جو صرف جامع ترمذی سے مخصوص ہیں۔ جامع ترمذی کی اسی اہمیت کے پیش نظر متقدمین اور متاخرین نے اس کی بہت سی شروحات لکھی ہیں۔ اس وقت آپ کےسامنے اسی مہتم بالشان کتاب کا اردو ترجمہ موجود ہےجو کہ علامہ بدیع الزمان نے کیا ہے۔ انہوں نے بعض احادیث کے تحت تشریحی نوٹ لکھ کر اس کی افادیت میں اضافہ کر دیا ہے۔ احادیث کے اردو تراجم والی کتب میں یہ بات محسوس کی گئی ہے کہ احادیث کی نمبرنگ کا خاص اہتمام نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے کوئی حدیث تلاش کرنے میں کافی مشکل پیش آتی ہے۔ اس کتاب کی بھی یہی صورتحال ہے۔ اس کے علاوہ احادیث کی تحقیق پیش کر دی جاتی تو کتاب کی افادیت میں اضافہ کیا جا سکتا تھا۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • pages-from-hadees-ki-mash-hoor-kitabain-urdu-tarjama-al-mustarfah
    ابو عبد اللہ محمد بن جعفر الکتانی

    ابو عبداللہ محمد بن جعفر بن ادریس معروف الکتانی1857ء کو فاس شہر میں پیدا ہوئے۔ تما م علوم وفنون کی تعلیم اپنے خاندان میں ہی حاصل کی ۔ 18 سال کی عمر میں تحصیل علم کے بعد مشائخ اور بڑے علماء کے امتحان اور جانچ پرکھ کےبعد خانقاہ کتانیہ میں تدریس شروع کی اور بیس سال کی عمر میں فاس کی سب سے بڑی مسجد جامع قرویین میں تدریس کی ابتداء کی جہاں اپنے والد صاحب کی نگرانی میں تقریباً سب ہی علوم وفنون کی متعددکتابیں پڑھائیں۔تدریس کے ساتھ ساتھ تصنیف وتالیف کا کام بھی کیا ۔فقہ) حدیث ،تاریخ، تصوف، تفسیر، سیرت اور انساب وغیرہ جیسے موضوعات پر ساٹھ سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ان کی اہم کتب میں سے زیر تبصرہ اہم کتاب ’’رسالہ المستطرفہ ‘‘ ہے۔ یہ کتاب علم حدیث اور کتب حدیث کے تعارف کے متعلق ہے۔ اس کتاب کا علوم حدیث اور تعارف محدثین کے حوالے سے کتابوں میں وہی مقام ہے جو عام علوم کی نسبت ابن ندیم کی مشہور کتاب الفہرست لابن الندیم کا ہے۔ یہ کتاب حدیث اور علوم حدیث کے 1400 کتابوں کے تذکرے اور چھ صد کے قریب مشہور محدثین کے تراجم اور تعارف پرمشتمل ہے۔ اس میں ہر کتاب صاحب کتاب کا مختصر جامع تعارف ،نقد اور تبصرہ علامہ کتانی نے بڑی جامعیت کےساتھ پیش کیاہے۔ کتاب ہذا اسی کتاب کاترجمہ ہے۔ترجمہ کی سعادت مولانا مفتی شعیب احمد نے حاصل کی ہے۔ مکتبہ رحمانیہ نے اسے حسن ِطباعت سےآراستہ کیا ہے۔ (م۔ا)

  • pages-from-rubaaiyaat-e-quran-o-hadees
    انجینئر عبد المجید انصاری

    یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ اس پر ہر دور میں الگ الگ انداز میں کام ہوا ۔تقریبا ڈیڑھ ہزارسال قرآن مجید نازل ہونے کوہیں لیکن قرآن مجیدکے نکتے اور رموزامڈے ہی چلے آرہے ہیں۔نئے سے نئے انداز میں اس پر کام سامنے آرہےہیں اور ان شاء اللہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ زیرنظر کتاب ’’رباعیات قرآن وحدیث‘‘محترم انجینئر عبدالمجید انصاری صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے قرآن وحدیث کے ذخیرے میں ان آیات واحادیث کوجمع کردیا ہے جن میں ان چیزوں کابیان ہے کہ جو قرآن وحدیث میں چار چار مرتبہ یا چار کی تعداد کے حوالے مذکور ہیں۔اس قبل مصنف موصوف کی ’’ثلاثیات قرآن وحدیث ‘‘کے نام سے   بھی   کتاب منظر عام پر چکی ہے جس میں انہوں نے قرآن کریم کی وہ آیات اور نبی کریم ﷺًکی وہ احادیث جمع کی تھیں جن میں 3؍3 چیزوں کا ذکر ہے۔اللہ تعالی ٰ ان کی تما م مساعی حسنہ کو قبول فرمائے۔ آمین(م۔ا)

  • untitled-1
    ابو زکریّا یحیٰ بن شرف النووی الدمشقی

    "ریاض الصالحین" ساتویں صدی ہجری کے امام نووی ؒ کی ایسی تالیف ہے جسے حسن قبول حاصل ہے۔ عبادات سے لے کر معاملات تک اور معاشرت سے لے کر سیاسیات تک، زندگی کے تمام اہم شعبوں کے لیے قرآن و حدیث سے جس طرح رہنمائی  مہیا فرمائی گئی ہے، اس نے اسے اسلامی لٹریچر میں ایک نمایاں اور ممتاز مقام عطا کیا ہے اور اسی وجہ سے اسے ہر طبقے میں یکساں مقبولیت حاصل ہے۔ یہ ایک بہترین تبلیغی نصاب ہے جو قرآنی آیات اور صحیح احادیث سے مزین ہے اور ضعیف و موضوع روایات اور من گھڑت قصے کہانیوں سے پاک، جو اس لائق ہے کہ عوام اسے حرز جاں اور آویزۂ گوش بنائیں۔ یہ ایک ضابطہ حیات ہے جس کی روشنی میں ایک مسلمان اپنے شب و روز کے معمولات مرتب کر سکتا ہے اور ایک ایسا آئینہ ہے جس کو سامنے رکھ کر اپنے اخلاق و کردار کی کوتاہیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔

    اس کتاب کی اسی اہمیت کی وجہ سے اردو میں اس کے متعدد تراجم ہوئے ہیں۔ لیکن عوام ان سے پوری طرح فیض یاب نہیں ہو سکتے کیوں کہ محدود علم اور غور و فہم کی کم استعداد  کی بناء پر بہت سے مقامات ان کے لئے الجھن کا سبب بنتے ہیں۔ لہٰذا اس عظیم الشان کتاب میں ترجمے کے ساتھ مختصر تشریح اور فوائد کا بھی اضافہ کیا گیا ہے، تاکہ ایک تو حدیث کا صحیح مفہوم واضح ہو جائے۔ دوسرے، پیدا ہو سکنے والے اشکالات کا ازالہ ہو جائے اور تیسرے حدیث سے جو اسباق اور فوائد حاصل ہوتے ہیں، وہ نمایاں اور اجاگر ہو کر سامنے آجائیں۔ چنانچہ ہر حدیث کے بعد فوائد کا اس میں اضافہ ہے اور اسی طرح بہت سے مقامات پر فوائد آیات بھی۔ دوسری امتیازی خوبی یہ ہے کہ اس میں تخریج کے عنوان سے ہر حدیث کا مکمل حوالہ نقل کر دیا گیا ہے۔

    اس کتاب کی اکثر احادیث صحیح بخاری و صحیح مسلم کی ہیں، اس لیے صحت کے اعتبار سے وہ مستند ترین ہیں۔ تاہم کچھ روایات سنن اربعہ (ابو داؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ) اور کچھ مؤطا امام مالک ، مستدرک حاکم اور بیہقی وغیرہ کی بھی ہیں۔ ان میں بعض روایات سنداً ضیف ہیں ۔ اس کتاب میں ایسی روایات کے ضعف کو واضح کر دیا گیا ہے۔ ضعف کے علل و اسباب تو بیان نہیں کئے گئے ہیں تاہم اس کا حکم بیان کر دیا گیا ہے اور اس میں زیادہ تر اعتماد شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی تحقیق پر کیا گیا ہے۔

  • Title Page---Riaz us Saliheen Jild 1
    ابو زکریّا یحیٰ بن شرف النووی الدمشقی

    "ریاض الصالحین" ساتویں صدی ہجری کے امام نووی ؒ کی ایسی تالیف ہے جسے حسن قبول حاصل ہے۔ عبادات سے لے کر معاملات تک اور معاشرت سے لے کر سیاسیات تک، زندگی کے تمام اہم شعبوں کے لیے قرآن و حدیث سے جس طرح رہنمائی  مہیا فرمائی گئی ہے، اس نے اسے اسلامی لٹریچر میں ایک نمایاں اور ممتاز مقام عطا کیا ہے اور اسی وجہ سے اسے ہر طبقے میں یکساں مقبولیت حاصل ہے۔ یہ ایک بہترین تبلیغی نصاب ہے جو قرآنی آیات اور صحیح احادیث سے مزین ہے اور ضعیف و موضوع روایات اور من گھڑت قصے کہانیوں سے پاک، جو اس لائق ہے کہ عوام اسے حرز جاں اور آویزۂ گوش بنائیں۔ یہ ایک ضابطہ حیات ہے جس کی روشنی میں ایک مسلمان اپنے شب و روز کے معمولات مرتب کر سکتا ہے اور ایک ایسا آئینہ ہے جس کو سامنے رکھ کر اپنے اخلاق و کردار کی کوتاہیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔

    اس کتاب کی اسی اہمیت کی وجہ سے اردو میں اس کے متعدد تراجم ہوئے ہیں۔ لیکن عوام ان سے پوری طرح فیض یاب نہیں ہو سکتے کیوں کہ محدود علم اور غور و فہم کی کم استعداد  کی بناء پر بہت سے مقامات ان کے لئے الجھن کا سبب بنتے ہیں۔ لہٰذا اس عظیم الشان کتاب میں ترجمے کے ساتھ مختصر تشریح اور فوائد کا بھی اضافہ کیا گیا ہے، تاکہ ایک تو حدیث کا صحیح مفہوم واضح ہو جائے۔ دوسرے، پیدا ہو سکنے والے اشکالات کا ازالہ ہو جائے اور تیسرے حدیث سے جو اسباق اور فوائد حاصل ہوتے ہیں، وہ نمایاں اور اجاگر ہو کر سامنے آجائیں۔ چنانچہ ہر حدیث کے بعد فوائد کا اس میں اضافہ ہے اور اسی طرح بہت سے مقامات پر فوائد آیات بھی۔ دوسری امتیازی خوبی یہ ہے کہ اس میں تخریج کے عنوان سے ہر حدیث کا مکمل حوالہ نقل کر دیا گیا ہے۔

    اس کتاب کی اکثر احادیث صحیح بخاری و صحیح مسلم کی ہیں، اس لیے صحت کے اعتبار سے وہ مستند ترین ہیں۔ تاہم کچھ روایات سنن اربعہ (ابو داؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ) اور کچھ مؤطا امام مالک ، مستدرک حاکم اور بیہقی وغیرہ کی بھی ہیں۔ ان میں بعض روایات سنداً ضیف ہیں ۔ اس کتاب میں ایسی روایات کے ضعف کو واضح کر دیا گیا ہے۔ ضعف کے علل و اسباب تو بیان نہیں کئے گئے ہیں تاہم اس کا حکم بیان کر دیا گیا ہے اور اس میں زیادہ تر اعتماد شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی تحقیق پر کیا گیا ہے۔

  • title-pages-sunan-abu-dawood-1-copy
    امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث سجستانی

    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن کریم ہے  اور اس متن کی شرح وتفصیل کانام حدیثِ رسول ہے  اور رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے  رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام  نے  احادیث  نبویہ  کو  آگے  پہنچا کر  اور پھر  ان  کے  بعد ائمہ محدثین  نے  احادیث کومدون  او ر  علماء امت  نے کتب  احادیث  کے تراجم وشروح  کے ذریعے  حدیثِ رسول کی  عظیم خدمت  کی  ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے  ۔اس سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے کا عظیم کام سرانجام دیا۔تقریبا ایک صدی سے یہ تراجم متداول ہیں لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں  نئے  سرے سے یہ ترجمے کرکے شائع کیے جائیں۔ماشاء  اللہ یہ سعادت او رشرف دار السلام کو حاصل ہوا کہ انہوں نے  مذکوروہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے ایک صدی کے بعد نئےسرے سےکتب  ستہ کے  تراجم وفوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں کراکر  ان کو طباعت کے اعلی معیارپر شائع کرنے کا  پروگرام بنایا تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے اور یوں ان کا حلقۂ قارئین بھی زیادہ سے  زیادہ وسیع ہوسکے  کیونکہ ان تمام کاوشوں کا مقصد احادیث رسول کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے ۔کتب احادیث بالخصوص  صحاح ستہ کے نئے تراجم کے سلسلے میں مکتبہ سلفیہ ،پاکستان ، مجلس علمی دار الدعوۃ (نئی دہلی)اور ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائیاستاذ حدیث امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی (ریاض) کاوشیں بھی  لائق تحسین  ہیں ۔زیر نظر ’’کتاب سنن ابو داؤد‘‘ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائیاستاذ حدیث امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی (ریاض) کے  ترجمہ کے ساتھ  چار مجلدات پر مشتمل ہے ۔ جس میں  مراجعت  وتخریج کا کام  مجلس علمی دار الدعوۃ (نئی دہلی) نے سرانجام  دیا ہے ۔ یونیکوڈ  اور پی ڈی  ایف فارمیٹ میں محترم ابوطلحہ عبدالوحید بابر ،محترم محمد عامر عبدالوحید انصاری ،محمد آصف مغل حفظہم  اللہ نے  بڑی محنت شاقہ سے اسے دعوتی  مقاصد کے لیے  تیا رکیا ہے  ۔کہ  جسے  سنن ابوداؤد  مترجم سے  استفاد ہ کرنے کا تیز ترین سوفٹ وئیر کا درجہ حاصل ہے  ۔ اس پروگرام  میں  سنن ابوداؤد کے ابواب کی فہرست اور حدیث  نمبر پر کلک کرنے سے ایک  لمحہ میں  مطلوبہ باب  ،متن حدیث ، تک  پہنچ  کر  استفادہ کیا جاسکتاہے  ۔اور یونیکوڈ  فائل سے  کسی  بھی  مطلوبہ  حدیث کا  متن او راس کا ترجمہ کاپی کیا جاسکتا ہے ۔ اس  نسخے کی ایک  امتیازی خوبی یہ  ہے  کہ اس میں تمام  ابواب واحادیث کا انگریزی ترجمہ بھی  کردیا ہے گیا ہے  جس  سے قارئین کے لیے  ایک ہی  جگہ پر حدیث کا عربی متن، اردو  اور انگریزی ترجمہ میسر ہوگیا ہے ۔۔قارئین کی آسانی کی  کےپیش  نظر  حدیث کوتلاش کرنے کےلیے  سنن ابوداؤد کی احادیث کو چار جلدوں میں تقسیم  کر کے  فہارسِ  ابواب  اور حدیث نمبرز  پر لنک لگا  دئیے گئے  ہیں ۔ اللہ تعالی ٰ  کتاب ہذا کو تیار کرنے والوں کی تمام مساعی جمیلہ کو شرف  قبولیت سے  نوازے اور  اسے اہل اسلام کے  لیے نفع بخش بنائے ۔ (آمین) (م۔ا)

     

  • title-pages-sunan-abu-dawood-2-copy
    امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث سجستانی

    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن کریم ہے  اور اس متن کی شرح وتفصیل کانام حدیثِ رسول ہے  اور رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے  رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام  نے  احادیث  نبویہ  کو  آگے  پہنچا کر  اور پھر  ان  کے  بعد ائمہ محدثین  نے  احادیث کومدون  او ر  علماء امت  نے کتب  احادیث  کے تراجم وشروح  کے ذریعے  حدیثِ رسول کی  عظیم خدمت  کی  ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے  ۔اس سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے کا عظیم کام سرانجام دیا۔تقریبا ایک صدی سے یہ تراجم متداول ہیں لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں  نئے  سرے سے یہ ترجمے کرکے شائع کیے جائیں۔ماشاء  اللہ یہ سعادت او رشرف دار السلام کو حاصل ہوا کہ انہوں نے  مذکوروہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے ایک صدی کے بعد نئےسرے سےکتب  ستہ کے  تراجم وفوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں کراکر  ان کو طباعت کے اعلی معیارپر شائع کرنے کا  پروگرام بنایا تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے اور یوں ان کا حلقۂ قارئین بھی زیادہ سے  زیادہ وسیع ہوسکے  کیونکہ ان تمام کاوشوں کا مقصد احادیث رسول کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے ۔کتب احادیث بالخصوص  صحاح ستہ کے نئے تراجم کے سلسلے میں مکتبہ سلفیہ ،پاکستان ، مجلس علمی دار الدعوۃ (نئی دہلی)اور ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائیاستاذ حدیث امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی (ریاض) کاوشیں بھی  لائق تحسین  ہیں ۔زیر نظر ’’کتاب سنن ابو داؤد‘‘ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائیاستاذ حدیث امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی (ریاض) کے  ترجمہ کے ساتھ  چار مجلدات پر مشتمل ہے ۔ جس میں  مراجعت  وتخریج کا کام  مجلس علمی دار الدعوۃ (نئی دہلی) نے سرانجام  دیا ہے ۔ یونیکوڈ  اور پی ڈی  ایف فارمیٹ میں محترم ابوطلحہ عبدالوحید بابر ،محترم محمد عامر عبدالوحید انصاری ،محمد آصف مغل حفظہم  اللہ نے  بڑی محنت شاقہ سے اسے دعوتی  مقاصد کے لیے  تیا رکیا ہے  ۔کہ  جسے  سنن ابوداؤد  مترجم سے  استفاد ہ کرنے کا تیز ترین سوفٹ وئیر کا درجہ حاصل ہے  ۔ اس پروگرام  میں  سنن ابوداؤد کے ابواب کی فہرست اور حدیث  نمبر پر کلک کرنے سے ایک  لمحہ میں  مطلوبہ باب  ،متن حدیث ، تک  پہنچ  کر  استفادہ کیا جاسکتاہے  ۔اور یونیکوڈ  فائل سے  کسی  بھی  مطلوبہ  حدیث کا  متن او راس کا ترجمہ کاپی کیا جاسکتا ہے ۔ اس  نسخے کی ایک  امتیازی خوبی یہ  ہے  کہ اس میں تمام  ابواب واحادیث کا انگریزی ترجمہ بھی  کردیا ہے گیا ہے  جس  سے قارئین کے لیے  ایک ہی  جگہ پر حدیث کا عربی متن، اردو  اور انگریزی ترجمہ میسر ہوگیا ہے ۔۔قارئین کی آسانی کی  کےپیش  نظر  حدیث کوتلاش کرنے کےلیے  سنن ابوداؤد کی احادیث کو چار جلدوں میں تقسیم  کر کے  فہارسِ  ابواب  اور حدیث نمبرز  پر لنک لگا  دئیے گئے  ہیں ۔ اللہ تعالی ٰ  کتاب ہذا کو تیار کرنے والوں کی تمام مساعی جمیلہ کو شرف  قبولیت سے  نوازے اور  اسے اہل اسلام کے  لیے نفع بخش بنائے ۔ (آمین) (م۔ا)

     

  • title-pages-sunan-abu-dawood-3-copy
    امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث سجستانی

    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن کریم ہے  اور اس متن کی شرح وتفصیل کانام حدیثِ رسول ہے  اور رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے  رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام  نے  احادیث  نبویہ  کو  آگے  پہنچا کر  اور پھر  ان  کے  بعد ائمہ محدثین  نے  احادیث کومدون  او ر  علماء امت  نے کتب  احادیث  کے تراجم وشروح  کے ذریعے  حدیثِ رسول کی  عظیم خدمت  کی  ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے  ۔اس سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے کا عظیم کام سرانجام دیا۔تقریبا ایک صدی سے یہ تراجم متداول ہیں لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں  نئے  سرے سے یہ ترجمے کرکے شائع کیے جائیں۔ماشاء  اللہ یہ سعادت او رشرف دار السلام کو حاصل ہوا کہ انہوں نے  مذکوروہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے ایک صدی کے بعد نئےسرے سےکتب  ستہ کے  تراجم وفوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں کراکر  ان کو طباعت کے اعلی معیارپر شائع کرنے کا  پروگرام بنایا تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے اور یوں ان کا حلقۂ قارئین بھی زیادہ سے  زیادہ وسیع ہوسکے  کیونکہ ان تمام کاوشوں کا مقصد احادیث رسول کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے ۔کتب احادیث بالخصوص  صحاح ستہ کے نئے تراجم کے سلسلے میں مکتبہ سلفیہ ،پاکستان ، مجلس علمی دار الدعوۃ (نئی دہلی)اور ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائیاستاذ حدیث امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی (ریاض) کاوشیں بھی  لائق تحسین  ہیں ۔زیر نظر ’’کتاب سنن ابو داؤد‘‘ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائیاستاذ حدیث امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی (ریاض) کے  ترجمہ کے ساتھ  چار مجلدات پر مشتمل ہے ۔ جس میں  مراجعت  وتخریج کا کام  مجلس علمی دار الدعوۃ (نئی دہلی) نے سرانجام  دیا ہے ۔ یونیکوڈ  اور پی ڈی  ایف فارمیٹ میں محترم ابوطلحہ عبدالوحید بابر ،محترم محمد عامر عبدالوحید انصاری ،محمد آصف مغل حفظہم  اللہ نے  بڑی محنت شاقہ سے اسے دعوتی  مقاصد کے لیے  تیا رکیا ہے  ۔کہ  جسے  سنن ابوداؤد  مترجم سے  استفاد ہ کرنے کا تیز ترین سوفٹ وئیر کا درجہ حاصل ہے  ۔ اس پروگرام  میں  سنن ابوداؤد کے ابواب کی فہرست اور حدیث  نمبر پر کلک کرنے سے ایک  لمحہ میں  مطلوبہ باب  ،متن حدیث ، تک  پہنچ  کر  استفادہ کیا جاسکتاہے  ۔اور یونیکوڈ  فائل سے  کسی  بھی  مطلوبہ  حدیث کا  متن او راس کا ترجمہ کاپی کیا جاسکتا ہے ۔ اس  نسخے کی ایک  امتیازی خوبی یہ  ہے  کہ اس میں تمام  ابواب واحادیث کا انگریزی ترجمہ بھی  کردیا ہے گیا ہے  جس  سے قارئین کے لیے  ایک ہی  جگہ پر حدیث کا عربی متن، اردو  اور انگریزی ترجمہ میسر ہوگیا ہے ۔۔قارئین کی آسانی کی  کےپیش  نظر  حدیث کوتلاش کرنے کےلیے  سنن ابوداؤد کی احادیث کو چار جلدوں میں تقسیم  کر کے  فہارسِ  ابواب  اور حدیث نمبرز  پر لنک لگا  دئیے گئے  ہیں ۔ اللہ تعالی ٰ  کتاب ہذا کو تیار کرنے والوں کی تمام مساعی جمیلہ کو شرف  قبولیت سے  نوازے اور  اسے اہل اسلام کے  لیے نفع بخش بنائے ۔ (آمین) (م۔ا)

     

  • title-page-sunan-ibne-maja-1
    امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ

    اس وقت آپ کے سامنے صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ  کتاب اپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کےپیش نظر مولانا عطاء اللہ ساجد نے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی نظر ثانی اور تصحیح و اضافات نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔

     

  • title-pages-sunan-ibne-maja-2
    امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ

    اس وقت آپ کے سامنے صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ  کتاب اپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کےپیش نظر مولانا عطاء اللہ ساجد نے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی نظر ثانی اور تصحیح و اضافات نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔

     

  • title-pages-sunan-ebn-e-maja-3
    امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ

    اس وقت آپ کے سامنے صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ  کتاب اپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کےپیش نظر مولانا عطاء اللہ ساجد نے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی نظر ثانی اور تصحیح و اضافات نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔

     

  • title-pages-sunan-ebn-e-maja-4
    امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ

    اس وقت آپ کے سامنے صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ  کتاب اپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کےپیش نظر مولانا عطاء اللہ ساجد نے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی نظر ثانی اور تصحیح و اضافات نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔

     

  • title-pages-sunan-ebn-e-maja-5
    امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ

    اس وقت آپ کے سامنے صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ  کتاب اپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کےپیش نظر مولانا عطاء اللہ ساجد نے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی نظر ثانی اور تصحیح و اضافات نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔

     

  • title-page-abo-dawood-1
    امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث سجستانی

    اس وقت آپ کے سامنے ’سنن ابو داؤد‘ کا اردو قالب ہے۔ ’ سنن ابو داؤد‘  احادیث نبویہ کا وہ عظیم دیوان ہے جسے ایک بندہ مسلم نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اس میں فقہائے امت اور مفتیان شرع متین کے لیے وہ تمام حدیثی دلائل جمع کر دئیے گئے ہیں جو فقہائے اسلام نے اختیار کیے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اس کتاب کا ایک آسان ترجمہ مع فوائد و مسائل کے اردو دان طبقے کے سامنے پیش کی جائے جو ان کی روحانی غذا کا کام دے۔ لہذا اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے ابو عمار عمر فاروق سعیدی کا خدمات حاصل کی گئیں جنہوں نے احادیث کا سلیس اردو ترجمہ کرتے ہوئے ہر حدیث کے ساتھ مناسب فوائد کا تذکرہ کیا ہے۔ اس ترجمہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے فرائض حافظ زبیر زئی نے انجام دئیے ہیں جو لا ریب اس فن کے ماہرو شہسوار ہیں۔

     

  • title-page-abo-dawood2
    امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث سجستانی

    اس وقت آپ کے سامنے ’سنن ابو داؤد‘ کا اردو قالب ہے۔ ’ سنن ابو داؤد‘  احادیث نبویہ کا وہ عظیم دیوان ہے جسے ایک بندہ مسلم نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اس میں فقہائے امت اور مفتیان شرع متین کے لیے وہ تمام حدیثی دلائل جمع کر دئیے گئے ہیں جو فقہائے اسلام نے اختیار کیے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اس کتاب کا ایک آسان ترجمہ مع فوائد و مسائل کے اردو دان طبقے کے سامنے پیش کی جائے جو ان کی روحانی غذا کا کام دے۔ لہذا اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے ابو عمار عمر فاروق سعیدی کا خدمات حاصل کی گئیں جنہوں نے احادیث کا سلیس اردو ترجمہ کرتے ہوئے ہر حدیث کے ساتھ مناسب فوائد کا تذکرہ کیا ہے۔ اس ترجمہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے فرائض حافظ زبیر زئی نے انجام دئیے ہیں جو لا ریب اس فن کے ماہرو شہسوار ہیں۔

     

  • title-page-abo-dawood-jild-3
    امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث سجستانی

    اس وقت آپ کے سامنے ’سنن ابو داؤد‘ کا اردو قالب ہے۔ ’ سنن ابو داؤد‘  احادیث نبویہ کا وہ عظیم دیوان ہے جسے ایک بندہ مسلم نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اس میں فقہائے امت اور مفتیان شرع متین کے لیے وہ تمام حدیثی دلائل جمع کر دئیے گئے ہیں جو فقہائے اسلام نے اختیار کیے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اس کتاب کا ایک آسان ترجمہ مع فوائد و مسائل کے اردو دان طبقے کے سامنے پیش کی جائے جو ان کی روحانی غذا کا کام دے۔ لہذا اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے ابو عمار عمر فاروق سعیدی کا خدمات حاصل کی گئیں جنہوں نے احادیث کا سلیس اردو ترجمہ کرتے ہوئے ہر حدیث کے ساتھ مناسب فوائد کا تذکرہ کیا ہے۔ اس ترجمہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے فرائض حافظ زبیر زئی نے انجام دئیے ہیں جو لا ریب اس فن کے ماہرو شہسوار ہیں۔

     

  • title-pages-sunan-abu-dawood-4-copy
    امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث سجستانی

    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن کریم ہے  اور اس متن کی شرح وتفصیل کانام حدیثِ رسول ہے  اور رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے  رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام  نے  احادیث  نبویہ  کو  آگے  پہنچا کر  اور پھر  ان  کے  بعد ائمہ محدثین  نے  احادیث کومدون  او ر  علماء امت  نے کتب  احادیث  کے تراجم وشروح  کے ذریعے  حدیثِ رسول کی  عظیم خدمت  کی  ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے  ۔اس سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے کا عظیم کام سرانجام دیا۔تقریبا ایک صدی سے یہ تراجم متداول ہیں لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں  نئے  سرے سے یہ ترجمے کرکے شائع کیے جائیں۔ماشاء  اللہ یہ سعادت او رشرف دار السلام کو حاصل ہوا کہ انہوں نے  مذکوروہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے ایک صدی کے بعد نئےسرے سےکتب  ستہ کے  تراجم وفوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں کراکر  ان کو طباعت کے اعلی معیارپر شائع کرنے کا  پروگرام بنایا تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے اور یوں ان کا حلقۂ قارئین بھی زیادہ سے  زیادہ وسیع ہوسکے  کیونکہ ان تمام کاوشوں کا مقصد احادیث رسول کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے ۔کتب احادیث بالخصوص  صحاح ستہ کے نئے تراجم کے سلسلے میں مکتبہ سلفیہ ،پاکستان ، مجلس علمی دار الدعوۃ (نئی دہلی)اور ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائیاستاذ حدیث امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی (ریاض) کاوشیں بھی  لائق تحسین  ہیں ۔زیر نظر ’’کتاب سنن ابو داؤد‘‘ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائیاستاذ حدیث امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی (ریاض) کے  ترجمہ کے ساتھ  چار مجلدات پر مشتمل ہے ۔ جس میں  مراجعت  وتخریج کا کام  مجلس علمی دار الدعوۃ (نئی دہلی) نے سرانجام  دیا ہے ۔ یونیکوڈ  اور پی ڈی  ایف فارمیٹ میں محترم ابوطلحہ عبدالوحید بابر ،محترم محمد عامر عبدالوحید انصاری ،محمد آصف مغل حفظہم  اللہ نے  بڑی محنت شاقہ سے اسے دعوتی  مقاصد کے لیے  تیا رکیا ہے  ۔کہ  جسے  سنن ابوداؤد  مترجم سے  استفاد ہ کرنے کا تیز ترین سوفٹ وئیر کا درجہ حاصل ہے  ۔ اس پروگرام  میں  سنن ابوداؤد کے ابواب کی فہرست اور حدیث  نمبر پر کلک کرنے سے ایک  لمحہ میں  مطلوبہ باب  ،متن حدیث ، تک  پہنچ  کر  استفادہ کیا جاسکتاہے  ۔اور یونیکوڈ  فائل سے  کسی  بھی  مطلوبہ  حدیث کا  متن او راس کا ترجمہ کاپی کیا جاسکتا ہے ۔ اس  نسخے کی ایک  امتیازی خوبی یہ  ہے  کہ اس میں تمام  ابواب واحادیث کا انگریزی ترجمہ بھی  کردیا ہے گیا ہے  جس  سے قارئین کے لیے  ایک ہی  جگہ پر حدیث کا عربی متن، اردو  اور انگریزی ترجمہ میسر ہوگیا ہے ۔۔قارئین کی آسانی کی  کےپیش  نظر  حدیث کوتلاش کرنے کےلیے  سنن ابوداؤد کی احادیث کو چار جلدوں میں تقسیم  کر کے  فہارسِ  ابواب  اور حدیث نمبرز  پر لنک لگا  دئیے گئے  ہیں ۔ اللہ تعالی ٰ  کتاب ہذا کو تیار کرنے والوں کی تمام مساعی جمیلہ کو شرف  قبولیت سے  نوازے اور  اسے اہل اسلام کے  لیے نفع بخش بنائے ۔ (آمین) (م۔ا)

     

  • title-pages-abo-dawood-jilad-4
    امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث سجستانی

    اس وقت آپ کے سامنے ’سنن ابو داؤد‘ کا اردو قالب ہے۔ ’ سنن ابو داؤد‘  احادیث نبویہ کا وہ عظیم دیوان ہے جسے ایک بندہ مسلم نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اس میں فقہائے امت اور مفتیان شرع متین کے لیے وہ تمام حدیثی دلائل جمع کر دئیے گئے ہیں جو فقہائے اسلام نے اختیار کیے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اس کتاب کا ایک آسان ترجمہ مع فوائد و مسائل کے اردو دان طبقے کے سامنے پیش کی جائے جو ان کی روحانی غذا کا کام دے۔ لہذا اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے ابو عمار عمر فاروق سعیدی کا خدمات حاصل کی گئیں جنہوں نے احادیث کا سلیس اردو ترجمہ کرتے ہوئے ہر حدیث کے ساتھ مناسب فوائد کا تذکرہ کیا ہے۔ اس ترجمہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے فرائض حافظ زبیر زئی نے انجام دئیے ہیں جو لا ریب اس فن کے ماہرو شہسوار ہیں۔

     

  • title-pages-sunan-darmi-urdu-1
    ابو محمد عبد اللہ بن عبد الرحمٰن التمیمی الدارمی
    اللہ رب العزت نے انسانوں کے لیے زندگی گزارنے کا جو طریق و عمل مقرر  فرمایا ہے ،اسے ’دین اسلام‘کا عنوان دیا گیا ہے۔دین اسلام کی بنیاد وحی الہیٰ پر ہے ۔وحی کی دو صورتیں ہیں :اول ،وجی جلی یا وحی متلو یہ قرآن کریم کی صورت میں ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے ۔دوم ،حدیث و سنت جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال اور تقریرات سے عبارت ہے ۔وحی کے یہ دونوں حصے لازم و ملزوم ہیں اور ایک کو نظر انداز کر کے دوسرے کو سمجھنا ممکن نہیں ہے ۔چنانچہ حدیث و سنت کی اہمیت کے پیش نظر محدثین کرام نے اس کی تدوین و ترتیب اور جمع و حفاظت کا کام بے حد لگن اور محنت سے سر انجام دیا۔اخذ و روایت حدیث میں ایسی احتیاط و اہتمام کا ثبوت دیا کہ امت مسلمہ سے قبل اس کی مثال نہیں ملتی ۔اس کے نتیجے میں بے شمار کتب حدیث منظر عام پر آئیں ،جن میں سے ایک سنن دارمی بھی ہے جو کہ امام ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمن ابن الفضل  بن بہرام الدارمی کی تالیف ہے ۔امام صاحب کی جلالت قدر کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ امام مسلم،امام ترمذی،امام ابو داؤد،بقی بن مخلد اور حافظ ابو زرعہ رازی ایسے اساطین فن آپ کے تلامذہ میں شامل ہیں ۔آپ کی سنن ،علم حدیث کا شان دار مجموعہ ہے ،جسے تحقیق و تخریج کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے ۔


  • title-pages-sunan-darmi-urdu-2
    ابو محمد عبد اللہ بن عبد الرحمٰن التمیمی الدارمی
    اللہ رب العزت نے انسانوں کے لیے زندگی گزارنے کا جو طریق و عمل مقرر  فرمایا ہے ،اسے ’دین اسلام‘کا عنوان دیا گیا ہے۔دین اسلام کی بنیاد وحی الہیٰ پر ہے ۔وحی کی دو صورتیں ہیں :اول ،وجی جلی یا وحی متلو یہ قرآن کریم کی صورت میں ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے ۔دوم ،حدیث و سنت جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال اور تقریرات سے عبارت ہے ۔وحی کے یہ دونوں حصے لازم و ملزوم ہیں اور ایک کو نظر انداز کر کے دوسرے کو سمجھنا ممکن نہیں ہے ۔چنانچہ حدیث و سنت کی اہمیت کے پیش نظر محدثین کرام نے اس کی تدوین و ترتیب اور جمع و حفاظت کا کام بے حد لگن اور محنت سے سر انجام دیا۔اخذ و روایت حدیث میں ایسی احتیاط و اہتمام کا ثبوت دیا کہ امت مسلمہ سے قبل اس کی مثال نہیں ملتی ۔اس کے نتیجے میں بے شمار کتب حدیث منظر عام پر آئیں ،جن میں سے ایک سنن دارمی بھی ہے جو کہ امام ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمن ابن الفضل  بن بہرام الدارمی کی تالیف ہے ۔امام صاحب کی جلالت قدر کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ امام مسلم،امام ترمذی،امام ابو داؤد،بقی بن مخلد اور حافظ ابو زرعہ رازی ایسے اساطین فن آپ کے تلامذہ میں شامل ہیں ۔آپ کی سنن ،علم حدیث کا شان دار مجموعہ ہے ،جسے تحقیق و تخریج کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے یہ اس کی دوسری جلد ہے۔

  • title-1
    امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی
    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن مجید ہے،  اور اس کی شرح وتفصیل کانام حدیث رسول ہے۔آپ ﷺ کی  زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے ۔ رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام    نے  احادیث  نبویہ   کو  آگے  پہنچا یا، پھر  ان  کے   بعد ائمہ محدثین  نے  ان کومدون کیا او ر  علماء امت  نے ان  کے تراجم وشروح  کے ذریعے   حدیث رسول کی  عظیم خدمت  کی   ۔خدمت حدیث کے سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں۔  عہد قریب میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریسی خدمات سےہندوستا ن میں حدیث نبویہ کو بڑا فروغ ملا، پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے  عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔ یہ تراجم تقریبا ایک صدی سے ہندوستان میں متداول ہیں۔ لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی  تھی، اور ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کہ ان کتب کو اردو زبان کے جدید اسلوب میں  دوبارہ ترجمہ کروا کر شائع کیا جائے۔نیز سننِ اربعہ میں ضعیف روایات کی نشاندہی کردی جائے۔مکتبہ دار السلام کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے  مذکورہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے کتب  ستہ کے  تراجم  مع فوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں شائع کرنے کا  پروگرام بنایا، تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے ۔  دوکتابیں (سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ)  کافی عرصہ پہلے ہی منظر عام  آچکی تھیں، اوراب  زیر تبصرہ تیسری کتاب سنن نسائی بھی چھپ کر منظر عام پر آ گئی  ہے۔اس  میں تخریج وتحقیق کاکام مولانا حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ،جبکہ ترجمہ وفوائد  شیخ الحدیث مولانا حافظ محمدامین حفظہ اللہ کی محنت وکاوش کانتیجہ ہے۔اللہ ان سب کے محنتوں کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-2
    امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی
    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن مجید ہے،  اور اس کی شرح وتفصیل کانام حدیث رسول ہے۔آپ ﷺ کی  زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے ۔ رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام    نے  احادیث  نبویہ   کو  آگے  پہنچا یا، پھر  ان  کے   بعد ائمہ محدثین  نے  ان کومدون کیا او ر  علماء امت  نے ان  کے تراجم وشروح  کے ذریعے   حدیث رسول کی  عظیم خدمت  کی   ۔خدمت حدیث کے سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں۔  عہد قریب میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریسی خدمات سےہندوستا ن میں حدیث نبویہ کو بڑا فروغ ملا، پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے  عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔ یہ تراجم تقریبا ایک صدی سے ہندوستان میں متداول ہیں۔ لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی  تھی، اور ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کہ ان کتب کو اردو زبان کے جدید اسلوب میں  دوبارہ ترجمہ کروا کر شائع کیا جائے۔نیز سننِ اربعہ میں ضعیف روایات کی نشاندہی کردی جائے۔مکتبہ دار السلام کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے  مذکورہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے کتب  ستہ کے  تراجم  مع فوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں شائع کرنے کا  پروگرام بنایا، تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے ۔  دوکتابیں (سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ)  کافی عرصہ پہلے ہی منظر عام  آچکی تھیں، اوراب  زیر تبصرہ تیسری کتاب سنن نسائی بھی چھپ کر منظر عام پر آ گئی  ہے۔اس  میں تخریج وتحقیق کاکام مولانا حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ،جبکہ ترجمہ وفوائد  شیخ الحدیث مولانا حافظ محمدامین حفظہ اللہ کی محنت وکاوش کانتیجہ ہے۔اللہ ان سب کے محنتوں کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-3
    امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی
    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن مجید ہے،  اور اس کی شرح وتفصیل کانام حدیث رسول ہے۔آپ ﷺ کی  زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے ۔ رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام    نے  احادیث  نبویہ   کو  آگے  پہنچا یا، پھر  ان  کے   بعد ائمہ محدثین  نے  ان کومدون کیا او ر  علماء امت  نے ان  کے تراجم وشروح  کے ذریعے   حدیث رسول کی  عظیم خدمت  کی   ۔خدمت حدیث کے سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں۔  عہد قریب میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریسی خدمات سےہندوستا ن میں حدیث نبویہ کو بڑا فروغ ملا، پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے  عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔ یہ تراجم تقریبا ایک صدی سے ہندوستان میں متداول ہیں۔ لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی  تھی، اور ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کہ ان کتب کو اردو زبان کے جدید اسلوب میں  دوبارہ ترجمہ کروا کر شائع کیا جائے۔نیز سننِ اربعہ میں ضعیف روایات کی نشاندہی کردی جائے۔مکتبہ دار السلام کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے  مذکورہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے کتب  ستہ کے  تراجم  مع فوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں شائع کرنے کا  پروگرام بنایا، تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے ۔  دوکتابیں (سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ)  کافی عرصہ پہلے ہی منظر عام  آچکی تھیں، اوراب  زیر تبصرہ تیسری کتاب سنن نسائی بھی چھپ کر منظر عام پر آ گئی  ہے۔اس  میں تخریج وتحقیق کاکام مولانا حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ،جبکہ ترجمہ وفوائد  شیخ الحدیث مولانا حافظ محمدامین حفظہ اللہ کی محنت وکاوش کانتیجہ ہے۔اللہ ان سب کے محنتوں کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-6
    امام ابو عبد الرحمٰن احمد بن شعیب النسائی
    احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن مجید ہے،  اور اس کی شرح وتفصیل کانام حدیث رسول ہے۔آپ ﷺ کی  زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے ۔ رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام    نے  احادیث  نبویہ   کو  آگے  پہنچا یا، پھر  ان  کے   بعد ائمہ محدثین  نے  ان کومدون کیا او ر  علماء امت  نے ان  کے تراجم وشروح  کے ذریعے   حدیث رسول کی  عظیم خدمت  کی   ۔خدمت حدیث کے سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں۔  عہد قریب میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریسی خدمات سےہندوستا ن میں حدیث نبویہ کو بڑا فروغ ملا، پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے  عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔ یہ تراجم تقریبا ایک صدی سے ہندوستان میں متداول ہیں۔ لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی  تھی، اور ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کہ ان کتب کو اردو زبان کے جدید اسلوب میں  دوبارہ ترجمہ کروا کر شائع کیا جائے۔نیز سننِ اربعہ میں ضعیف روایات کی نشاندہی کردی جائے۔مکتبہ دار السلام کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے  مذکورہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے کتب  ستہ کے  تراجم  مع فوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں شائع کرنے کا  پروگرام بنایا، تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے ۔  دوکتابیں (سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ)  کافی عرصہ پہلے ہی منظر عام  آچکی تھیں، اوراب  زیر تبصرہ تیسری کتاب سنن نسائی بھی چھپ کر منظر عام پر آ گئی  ہے۔اس  میں تخریج وتحقیق کاکام مولانا حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ،جبکہ ترجمہ وفوائد  شیخ الحدیث مولانا حافظ محمدامین حفظہ اللہ کی محنت وکاوش کانتیجہ ہے۔اللہ ان سب کے محنتوں کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1658 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں