• title-page-70-true-islamic-stories
    حافظ عبد الشکور

    فی زمانہ جبکےبچے بڑے جھوٹے اورلغوافسانوں ،ناولوں اورکہانیوں کے قصوں میں گرفتارنظرآتےہیں ،ایسی کتابوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے،جس میں سچےواقعات بیان کئے گئے ہوں ۔جنہیں پڑھ کرعمل کاجذبہ بیدارہو۔زیرنظرکتاب میں سیرت نبوی اورتاریخ اسلام سے ایسے ہی 70واقعات کاانتخاب پیش کیاگیاہے ،جن کےمطالعہ سے ایمان کوتازگی اورروح کوشادابی نصیب ہوتی ہے۔نیزدل میں صحابہ کرام اورسلف صالحین کی عظمت اوران سے محبت کاجذبہ پیداہوتاہے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ اس طرح کالٹریچرعام کیاجائے اورگھروں میں خصوصاً بچوں اورخواتین کوان کےمطالعے کی ترغیب دی جائے تاکہ وہ جھوٹے اور فحش ناولوں میں وقت ضائع کرنےکے بجائے سیرت سلف سے روشناس ہوسکیں۔

  • title-pages-al-sunan-al-kubra-ki-tadween-me-imam-behqi-ka-manhaj-aik-tehqiqi-jaiza
    میمونہ اسلام
    امام بیہقی رحمہ اللہ ایک عظیم محدث تھے،جن کی کتاب ’السنن الکبری‘کتب حدیث میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔یہ کتاب پانچویں صدی ہجری میں مرتب کی گئی اور ارباب علم ونظر کے ہاں انتہائی اعلیٰ مرتبہ کی حامل ہے۔’السنن الکبریٰ‘میں بے شمار علمی نکات وفوائد موجود ہیں اور اس میں نقد کی روح کارفرما نظر آتی ہے۔اس کا مطالعہ ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے  جو تحقیق حدیث میں زیادہ سے زیادہ مسائل کا احاطہ کرنا چاہے یا نقد کے طرق اور باریکیوں سے آگاہی کا متمنی ہو۔زیر نظر مقالہ میں امام بیہقی کے منہج کو اجاگر کیا گیا ہے ،جسے انہوں نے ’السنن الکبریٰ‘کی تدوین وتالیف میں مد نظر رکھا ہے۔آغاز میں  امام بیہقی کا مفصل تعارف کرایا گیا ہے پھر کتب حدیث میں ’السنن الکبریٰ‘کا مقام ومرتبہ اجاگر کیا گیا ہے۔بعد میں ان اصولوں کی وضاحت ہے جنہیں امام صاحب نے پیش نظر رکھا ہے۔روایات کے اخذ وقبول اور جرح ونقد میں جو ضابطے امام بیہقی کے سامنے رہے ہیں ،انہیں بھی بیان کیا گیا ہے۔یہ مقالہ ایم فل کی ڈگری کے حصول کے لیے لکھا گیا ہے ،چنانچہ تحقیق کے باب میں لائق بھروسہ ہے۔(ط۔ا)
  • title-pages-incyclopedia-tareekh-e-aalam-1
    ولیم ایل لینگر
    انسانی معاشرے یا اس کے کسی حصے کے آغاز، ارتقاء ، ترقی اور تنزل کے بارے میں معلومات کا علم تاریخ کہلاتا ہے۔ ماضی کے حالات و واقعات معلوم کرنے اور اس کے مطالعہ کا شوق بہت زیادہ پرانا ہے۔ انسان کو اپنے گردو پیش کے حالات سے اس وقت سے دلچسپی ہے جب کہ وہ جنگلوں اور غاروں میں زندگی بسر کرتا تھا ظاہر ہے کہ یہ شوق گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مزید پروان چڑھتا گیا۔ زیر نظر کتاب اسی شوق کی تکمیل کے لیے بہت حد تک معاون ثابت ہو گی۔ مصنف نے کتاب میں اختصار کے ساتھ تاریخ عالم پر مکمل فروگزاشت پیش کی ہیں جس میں دنیا میں بسنے والے تقریباً تمام ممالک کی تاریخی و واقعاتی حیثیت سامنے آگئی ہے۔ کتاب کو انگریزی سے اردو میں منتقل کیا گیا ہے جس کے مصنف ولیم ایل لینگر ہیں اردو ترجمہ پاکستان کی مشہور شخصیت غلام رسول مہر نے کیا ہے۔ مصنف اگرچہ عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں لیکن پھر بھی تاریخ اسلام پر وافر معلومات فراہم کی ہیں اگرچہ بعض جگہ پر ان کی معلومات سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے۔ لا ریب یہ کتاب قابل تحسین اور ہر فرد کے لیے قابل مطالعہ ہے اور واقعتاً تاریخ عالم کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-incyclopedia-tareekh-e-aalam-1
    ولیم ایل لینگر
    انسانی معاشرے یا اس کے کسی حصے کے آغاز، ارتقاء ، ترقی اور تنزل کے بارے میں معلومات کا علم تاریخ کہلاتا ہے۔ ماضی کے حالات و واقعات معلوم کرنے اور اس کے مطالعہ کا شوق بہت زیادہ پرانا ہے۔ انسان کو اپنے گردو پیش کے حالات سے اس وقت سے دلچسپی ہے جب کہ وہ جنگلوں اور غاروں میں زندگی بسر کرتا تھا ظاہر ہے کہ یہ شوق گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مزید پروان چڑھتا گیا۔ زیر نظر کتاب اسی شوق کی تکمیل کے لیے بہت حد تک معاون ثابت ہو گی۔ مصنف نے کتاب میں اختصار کے ساتھ تاریخ عالم پر مکمل فروگزاشت پیش کی ہیں جس میں دنیا میں بسنے والے تقریباً تمام ممالک کی تاریخی و واقعاتی حیثیت سامنے آگئی ہے۔ کتاب کو انگریزی سے اردو میں منتقل کیا گیا ہے جس کے مصنف ولیم ایل لینگر ہیں اردو ترجمہ پاکستان کی مشہور شخصیت غلام رسول مہر نے کیا ہے۔ مصنف اگرچہ عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں لیکن پھر بھی تاریخ اسلام پر وافر معلومات فراہم کی ہیں اگرچہ بعض جگہ پر ان کی معلومات سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے۔ لا ریب یہ کتاب قابل تحسین اور ہر فرد کے لیے قابل مطالعہ ہے اور واقعتاً تاریخ عالم کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-incyclopedia-tareekh-e-aalam-1
    ولیم ایل لینگر
    انسانی معاشرے یا اس کے کسی حصے کے آغاز، ارتقاء ، ترقی اور تنزل کے بارے میں معلومات کا علم تاریخ کہلاتا ہے۔ ماضی کے حالات و واقعات معلوم کرنے اور اس کے مطالعہ کا شوق بہت زیادہ پرانا ہے۔ انسان کو اپنے گردو پیش کے حالات سے اس وقت سے دلچسپی ہے جب کہ وہ جنگلوں اور غاروں میں زندگی بسر کرتا تھا ظاہر ہے کہ یہ شوق گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مزید پروان چڑھتا گیا۔ زیر نظر کتاب اسی شوق کی تکمیل کے لیے بہت حد تک معاون ثابت ہو گی۔ مصنف نے کتاب میں اختصار کے ساتھ تاریخ عالم پر مکمل فروگزاشت پیش کی ہیں جس میں دنیا میں بسنے والے تقریباً تمام ممالک کی تاریخی و واقعاتی حیثیت سامنے آگئی ہے۔ کتاب کو انگریزی سے اردو میں منتقل کیا گیا ہے جس کے مصنف ولیم ایل لینگر ہیں اردو ترجمہ پاکستان کی مشہور شخصیت غلام رسول مہر نے کیا ہے۔ مصنف اگرچہ عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں لیکن پھر بھی تاریخ اسلام پر وافر معلومات فراہم کی ہیں اگرچہ بعض جگہ پر ان کی معلومات سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے۔ لا ریب یہ کتاب قابل تحسین اور ہر فرد کے لیے قابل مطالعہ ہے اور واقعتاً تاریخ عالم کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-page-ahle-hadees-aur-jannat-ka-rasta-zubair-ali-zai
    حافظ زبیر علی زئی

    علم حدیث  ایک عظمت ورفعت پر مبنی موضوع ہے کیونکہ اس  کا تعلق براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات سے ہے۔جتنا یہ بلند عظمت ہے اتنا ہی اس کے عروج میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور اس کو مشکوک بنانے کی  سعی ناکام کی گئی۔علمائے حدیث نے دفاع حدیث کے لیے ہر موضوع پر گرانقدر تصنیفات لکھیں۔اسی سلسلے کی ایک کڑی عظمت حدیث کے نام سے عبدالرشید عراقی صاحب کی تصنیف ہے  جس میں انہوں نے عظمت حدیث کےساتھ ساتھ حجیت حدیث ،مقام حدیث،تدوین حدیث،اقسام کتب حدیث،اصطلاحات حدیث،مختلف محدثین ائمہ کرام جو کہ صحاح ستہ کے مصنفین ہیں ان کے حالات اور علمی خدمات،مختلف صحابہ کا تذکرہ  کرتے ہوئے مختلف شروحات حدیث کو اپنی اس کتاب میں موضوع بنایا ہے۔

     

     

     

  • copy-of-title-pages-tareekh-e-iraan-1
    پروفیسر مقبول بیگ بد خشانی
    تاریخ ایران   اردو دان طبقہ کے لیے ایک قیمتی دستاویز ہے جو اپنے اندربیش بہا معلومات کا خزینہ لیے ہوئے ہے ۔اس میں ایران کی تاریخ کے حوالے سے  قریبا تمام پہلووں سے بحث کی گئی ہے ۔ مثلا ایران کے حدود اربعہ ، تہذیب و ثقافت ، انداز سیاست ،فنون لطیفہ ،زبان کا ارتقاء اور مذہب کے حوالے سے سیر حاصل بحث کی گئی ہے ۔کتاب کو مختلف آٹھ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے ۔جن میں درج ذیل امور پر بحث کی گئی ہے ۔ ایران کے طبعی حالات، ہمسایہ اقوام، ایران کا دور قبل از تاریخ، قدیم ایران کے آریا او ر آل ماد، ہخامنشی دور، سیلوکی دور، اشکانی دوراور ساسانی دوروغیرہ۔
    مذکورہ تالیف دو ضخیم جلدوں میں ہے۔ اس کے مولف پروفیسر مقبول بیگ بدخشانی ہیں  جو ایرانی تاریخ کے ساتھ ساتھ فارسی زبان کے ادیب بھی ہیں ۔ موصوف متعدد کتب کے مصنف او رفارسی کے پروفیسر ہیں۔(ناصف)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-tareekh-e-wahabiyat-haqaiq-k-aine-me
    ڈاکٹر محمد بن سعد الشویعر
    سلفی تحریک کو ابتداء سے لے کر موجودہ دور تک مختلف قسم کے الزامات و اتہامات اور دشنام طرازیوں کا سامنا ہے ۔ علماء سوء کی تمام تر توانائیاں اس نکتے پر کھپ رہی ہیں کہ اس تحریک کا راستہ کیسے روکا جائے ۔اس لیے کہ اس تحریک کی کامیابی اصل میں ان سیم و زر کے پجاریوں کی ناکامی ہے جنہوں نے دین کو بطور پیشہ کے اپنایا ہوا ہے ۔چنانچہ ان جضرات نے اللہ کے خوف کو بالائے طاق رکھتے ہوئے    تحریک اور بانیان تحریک کے لیے ہر طرح کی گالی کو  جائز قرار دے لیا بلکہ لوگوں کو اس سے متنفر کر نے کے لیے  تحریک کے نام کو ہی گالی  بنادیا اور اس مقدس تحریک کے ڈانڈے  دوسری صدی ہجری کی  ،رستمی وہابیت ،سے جاملائے پھر زور و شور سے یہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ  شیخ محمد کی یہ تحریک در اصل خارجیوں کی اباضی تحریک وہابیت کی صدائے بازگشت ہے ،تاکہ علماء سلف کے فتاوی اور عوام الناس  کی نفرت کا رخ اباضی تحریک سے سلفی تحریک کی جانب موڑ دیا جائے۔اس تاریخی غلطی کی اصلاح اور الزامات و اتہامات کے مسکت جواب کے لیے  ڈاکٹر محمدبن  سعد  الشویعر کی یہ تالیف  نہایت ہی عمدہ کاوش ہے ۔موصوف مفتی اعظم سعودی عرب کے مشیر  اور مستند عالم دین ہیں ۔سلفی تحریک    سے آگاہی اوراس پر اعتراضات کے مسکت  اور شافی جوابات کے لیے شاید اس سے بہتر  کتاب دستیاب نہیں ہے۔  (ناصف)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-tehreek-ahle-hadees-tareekh-k-aine-me
    قاضی محمد اسلم سیف
    مسلک اہل حدیث پر عموماً یہ اعتراض وارد کیا جاتا ہے کہ یہ ایک نو ایجاد مذہب ہے اور اس کے ڈانڈے اسلام دشمن قوتوں سے ملتے ہیں حالانکہ حقیقت میں ’اہل حدیث‘ اس طرز فکر کا نام ہے جس کا سرچشمہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسی مقدس شخصیات ہیں۔ مسلک ’اہل حدیث‘ کے بارے میں وارد کیے جانے والے تمام اعتراضات و شبہات کے ازالے کے لیے قاضی محمد اسلم سیف صاحب فیروز پوری تاریخی حقائق سے لیس ہو کر سامنے آئے ہیں۔ انھوں نے براہین قاطعہ کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ اہل حدیث کسی خاص فرقہ یا گروہ کا نام نہیں ہے اور نہ ہی اصحاب الحدیث کی کوئی فنی اصطلاح ہے بلکہ یہ وہ نظریاتی اور اصلاحی تحریک ہے جس کا نصب العین کتاب و سنت کے ساتھ تمسک ہے۔ مولانا نے بہت سے حقائق کو مسلسل پیرایہ میں نظم کرتے ہوئے ہر دور میں اہل حدیث کے زاویہ نگاہ کو واضح صورت میں پیش کر دیا ہے۔ پھر اسی پر بس نہیں کی بلکہ ہر دور کے اہل حدیث زعماء کے تجدیدی اور اصلاحی کارناموں کو صفحہ قرطاس پر بکھیر دیا ہے۔ کتاب کی خوبی یہی ہے کہ اہل الحدیث کےبارے میں تمام جزئیات و کلیات کے ذکر میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں ہونے دیا گیا۔(ع-م)
  • copy-of-title-pages-jang-e-azeem-awwul-2
    سید فضل اللہ بخاری
    بیسویں صدی کے آغاز میں ایک ایسی عظیم جنگ رو بہ عمل آئی کہ روئے زمین پر ظلم اور خون آشامی کی الم ناک داستانیں رقم ہوئیں۔ اس سے قبل انسانی ادراک و تخیل اس قدر قتل و غارت گری، خونریزی اور درندگی سے آشنا نہ تھا۔ چشم متحیر نے 1914ء سے 1918ء تک انسانوں کے ہاتھوں انسانوں کے تباہی کے ایسے مناظر دیکھے جن کے وقوع کے بعد انسان درندگی اور شیطنت کی انتہا کو پہنچ گیا۔ زیر نظر کتاب اسی خون آشام داستان کو سپرد قلم کیا گیا ہے۔ جس میں کوشش کی گئی ہے کہ جنگ عظیم سے قبل شریکِ جنگ ممالک، یورپ اور باقی دنیا کے حالات و معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے جنگ کے اسباب و علل، احوال، نتائج اور اثرات پر سیر حاصل معلومات یکجا کرتے ہوئے موجودہ دور اور حالات کے تناظر میں بے لاگ اور جامع تبصرہ بھی قارئین کے لئے پیش کیا جائے۔ تاکہ کتاب نہ صرف تاریخ کی ایک اہم کڑی کے بیان پر محیط نہ ہو بلکہ مستقبل کے لیے آئینے اور مشعل کا کام بھی دے سکے۔(ع۔م)

    نوٹ
    جنگ عظیم حصہ دوم کی ڈاؤنلوڈنگ اور آن لائن مطالعہ کےلیے یہاں کلک کریں
  • copy-of-title-pages-jang-e-azeem-doam
    لوئیس ایل۔سنائڈر
    بیسویں صدی اپنی آغوش میں دو عظیم جنگیں لیے روپوش ہو گئی۔ اکیسویں صدی کا آغاز بھی بیسویں صدی کی خون آشامی سے مختلف نہیں ہے۔ عالمی طاقتیں امن عالم کے جاں فزا نعرے لگا کر لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے اور اپنی طاقت کی دھاک بٹھانے میں مصروف ہیں۔ یہی عالمی طاقتیں جنگ عظیم اول میں آمنے سامنے ہوئیں تو ایک کروڑ سے زائد لوگ کام آئے۔ اور جب جنگ عظیم دوم میں ان کی آپس میں مڈبھیڑ ہوئی تو پانچ کروڑ لوگوں کو زندگی کی بازی ہارنا پڑی اور کروڑوں لوگوں کو معذوری کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا۔ امریکہ نے ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرا کر امن کا سب سے بڑا علمبردار ہونے کا ثبوت دیا۔ زیر نظر کتاب جنگ عظیم دوم کے تمام پہلو آپ کے سامنے اس طرح عیاں کر دے گی کہ آپ جنگ کے تمام واقعات اپنے سامنے ہوتے دیکھ رہے ہوں گے۔ کتاب کے مصنف لوئیس ایل۔ سنائیڈر ہیں جس کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ مولانا غلام رسول مہر نے کیا ہے۔ کتاب ایک تاریخی دستاویز کے ساتھ ساتھ مصنف کا غیر جانبدارانہ اور عرق ریزی سے کیا ہوا تجزیہ بھی ہے جس نے موضوع کے تمام پہلوؤں کو بخوبی سمیٹ لیا ہے۔ علاوہ ازیں مصنف نے انسانی تاریخ کا رخ موڑنے والے دو کرداروں ہٹلر اور مسولینی کی زندگیوں اور کارستانیوں سے بھی پردہ اٹھا دیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ
    جنگ عظیم حصہ اول کی ڈاؤنلوڈنگ اور آن لائن مطالعہ کےلیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-hadees-nabvi-key-chand-muhafiz
    ام عبد منیب

    اپنے اسلاف کے حالات او ران کے کارناموں سے واقفیت حاصل کرنا اس لیے ضروری کہ بعد میں آنے والے ان کے نقوشِ قدم پر چل سکیں اور زندگی میں ان سے راہنمائی حاصل کی جاسکے اوراسلاف کے کارناموں کو زندہ رکھا جا سکے ۔ اس سلسلے میں برصغیر کے کئی سیرت نگاروں نے   ائمہ محدثین اور دیگر ائمہ اسلاف کی حیات وخدمات کے حوالے کتب لکھی ہیں۔اور اردو زبان میں عام فہم انداز میں صوفیا کرام اور نام نہادبزرگوں پر تو بہت کچھ لکھا جاتاہے لیکن اسلام کے اصل محسن اور سنت رسولﷺ کے امین اور محافظ ہستیوں کے حالات لکھنے کی روایت نہ ہونے کے برابر ہے۔جس کی وجہ   سے ہماری نئی نسل اور بڑے بھی محدثین کے نام اور ان کے حالات وخدمات سے واقف نہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’’حدیث نبوی کے محافظ‘‘ محترمہ ام منیب صاحبہ کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جو انہوں نے بچوں کے رسالہ نور کے لیے عام فہم انداز میں محدثین کی حیات وخدمات پر لکھے تھے۔ جسے قارئین کے اصرار پر اس سلسلےکو کتابی صورت میں شائع کیا گیاہے۔جس میں گیارہ محدثین کے حالات ِزندگی اور آخر میں فنِ حدیث کی اصطلاحات کااشاریہ بھی شامل ہے ۔اللہ تعالیٰ اس مجموعے کو عوام الناس کےلیےمفید بنائے (آمین)

  • pages-from-hifazat-e-hadeees
    ڈاکٹر خالد علوی

    رسول اکرم ﷺ کے قووعمل اور تقریر کوحدیث کہتے ہیں ۔ یہ وہ الہامی ذخیرہ ہے جو بذریعہ وحی نطق رسالت نے پیش فرمایا۔ یہ وہ دین ہے جس کے بغیر قرآن فہمی ناممکن ،فقہی استدلال فضول اور راست دینی نظریات عنقا ہوجاتے ہیں۔یہ اس شخصیات کے کلماتِ خیر ہیں جنہیں مان کر ایک عام شخص صحابی رسول بنا اور رب ذوالجلال نے اسے﷜ کے خطاب سے نوازا۔ یہ وہ علم ہےجس کاصحیح فہم حاصل کرکے ایک عام مسلمان ،امامت کےدرجے پر فائز ہوجاتاہے ۔ جس طرح کہ قرآن کریم تمام شرعی دلائل کا مآخذ ومنبع ہے۔اجماع وقیاس کی حجیت کے لیے بھی اسی سے استدلال کیا جاتا ہے ،اور اسی نےحدیث نبویہ کو شریعت ِاسلامیہ کا مصدرِ ثانی مقرر کیا ہے مصدر شریعت اور متمم دین کی حیثیت سے قرآن مجید کے ساتھ حدیث نبویہ کوقبول کرنےکی تاکید وتوثیق کے لیے قرآن مجید میں بے شمار قطعی دلائل موجود ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کو حدیث کو محفوظ کرنے کے لیے   احادیث نبویہ کو زبانی یاد کرنے اوراسے لکھنے کی ہدایات فرمائیں ۔ اسی لیے مسلمانوں نے نہ صرف قرآن کی حفاظت کا اہتمام کیا بلکہ حدیث کی حفاظت کے لئے بھی ناقابل فراموش خدمات انجام دیں، ائمہ محدثین نے بھی حفظ احادیث اور کتابت حدیث کےذریعے   حفاظت ِحدیث کا عظیم کارنامہ انجام دیا۔ اللہ کے رسول ﷺکو شروع میں یہ خوف لاحق تھا کہ ایسا نہ ہو کہ لوگ حدیث اور قرآن دونوں کو ایک ساتھ ملا کر لکھ لیں جس سے کچھ لوگوں کے لئے دونوں میں فرق کرنا مشکل ہوجائے، اسی لئے آپ ﷺ نے صحابہ کو احادیث لکھنے سے منع کر دیا تھا، جیسا کہ مسند احمد کی حدیث ہے:لا تكتبوا عني، ومن كتب عني شيئا سوى القرآن فليمحه (مسند أحمد)’’مجھ سے کچھ مت لکھو، اور جس نے قرآن کے علاوہ مجھ سے کچھ بات لکھی ہو اسے چاہیے کہ مٹا دے۔‘‘رسول اللہ ﷺکا یہ حکم سن 7 ہجری تک برقرار رہا، لیکن جب قرآن کی حفاظت کے تئیں اللہ کے رسول ﷺ کو اطمینان حاصل ہو گیا تو اپنے ساتھیوں کو احادیث بھی قلمبند کرنے کی عام اجازت دے دی، صحابہ میں کچھ لوگ ایسے تھے جو آپ کی باتیں سننے کے بعد انہیں باضابطہ لکھ لیا کرتے تھے۔ سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص ﷜ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ سے جو کچھ سنتا اسے یاد کرنے کے لئے لکھ لیا کرتا تھا، لوگوں نے مجھے روکا اور کہا: اللہ کے رسول ﷺایک انسان ہیں، کبھی خوشی کی حالت میں باتیں کرتے ہیں تو کبھی غصہ کی حالت میں، اس پر میں نے لکھنا چھوڑ دیا۔ پھر میں نے نبیﷺسے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اپنی انگلیوں سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:اكتب فوالذي نفسي بيده لا يخرج منه إلا حق (رواه أبو داود والحاكم)“لکھ لیا کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس منہ سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔‘‘اسی طرح سیدنا ابوهریرہ ﷜بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺنے (فتح مکہ کے موقع پر) ایک خطبہ دیا. ابو شاہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسے میرے لئے لکھا دیجئے، آپ نے کہا: أكتبوا لأبي شاة اسے ابوشاہ کے لیے لکھ دو. (بخاری، مسلم)رسول اللہ ﷺکے انتقال کے بعد قرآن جھليوں، ہڈیوں اور کھجور کے پتوں پر لکھا گیا تھا، صحابہ نے اسے جمع کردیا، لیکن حدیث کو جمع کرنے کی طرف صحابہ کا دھیان نہیں گیا لیکن وہ زبانی طور پر ایک دوسرے تک اسے پہنچاتے رہے، اس کے باوجود کچھ صحابہ نے جو حدیثیں لکھی تھیں ان میں سے کچھ صحيفے مشہور ہو گئے تھے. جیسے ’’ صحیفہ صادقہ‘‘ جو ایک ہزار احادیث پر مشتمل عبداللہ بن عمرو بن عاص ﷜عنہ کا صحیفہ تھا، اس کا زیادہ تر حصہ مسند احمد میں پایا جاتا ہے، ’’صحیفہ سمرہ بن جندب ﷜‘‘، ’’صحیفہ سعد بن عبادہ‘‘ ،’’ صحیفہ جابر بن عبداللہ انصاری﷜ ‘‘۔ جب مختلف ممالک میں اسلام کا دائرہ وسیع ہونے لگا اور صحابہ کرام مختلف ملکوں میں پھیل گئے، پھر ان میں سے زیادہ تر لوگ وفات پاگئے اور لوگوں کی یادداشت میں بھی کمی آنے لگی تواب حدیث کو جمع کرنے کی ضرورت کا احساس ہوا، لہذا سن 99 ہجری میں جب عمر بن عبدالعزیز ﷫ مسلمانوں کے خلیفہ بنے اور مسلمانوں کے احوال پر نظر ڈالی  جس سے اس وقت مسلمان گزر رہے تھے تو اس نتیجہ پر پہنچے کہ احادیث کی تدوین کا بندوبست کیا جائے، چنانچہ آپ نے اپنے حکام اور نمائندوں کو اس کا حکم دیتے ہوئے لکھا اور تاکید کی کہ اللہ کے رسول ﷺ کی احادیث کو جمع کرنے کا کام شروع کر دیا جائے، جیساکہ آپ نے مدینہ کے قاضی ابو بکر بن حزم کو لکھا کہ: ’’تم دیکھو، اللہ کے رسول ﷺکی جو حدیثیں تمہیں ملیں انہیں لکھ لو کیوں کہ مجھے علم کے ختم ہونے اور علماء کے چلے جانے کا اندیشہ ہے۔‘‘اسی طرح آپ نے دوسرے شہروں میں بھی ائمہ اور محدثین کو خطاب کیا کہ رسول اکرم ﷺکی حدیثیں جمع کرنے کی طرف توجہ دیں۔جب تیسری صدی آئی تو اس میں احادیث جمع کرنے کا ایک الگ طریقہ مشہورہوا کہ محض اللہ کے رسول ﷺ کی حدیثیں جمع کی گئیں، اور ان میں صحابہ کے قول اورو فعل کو شامل نہیں کیا گیا. اسی طرح مسانيد بھی لکھی گئیں ۔امیر المومنین فی الحدیث امام محمد بن اسماعیل البخاری ﷫نے فقہی ترتيب کے مطابق محض صحیح احادیث کا مجموعہ تیار کیا جسے دنیا آج صحیح بخاری کے نام سے جانتی ہے جو حدیث کی صحیح اور مستند کتابوں میں پہلے نمبر پر آتی ہے، پھر ان کے بعد ان کے ہی شاگرد امام مسلم بن حجاج ﷫نے صحیح حدیث کا ایک مجموعہ تیار کیا جو آج صحیح مسلم کے نام سے مقبول ہے. اور صحیح بخاری کے بعد دوسرے نمبر پر آتا ہے.امام بخاری اور امام مسلم کے طریقے پر ان کے دور میں اور ان کے بعد بھی محدثین نے کتابیں لکھیں، آج حدیث کی بڑی کتابوں میں جو حدیثیں محفوظ ملتی ہیں انہیں جمع کرنے والے محدثین نے راویوں کے حوالے سے روایتیں بیان کی ہیں، صحابہ نے اللہ کے رسول ﷺکو جو کچھ کہتے سنا تھا یا کرتے دیکھا تھا اسے انہوں نے حفظ کیا اور کچھ لوگوں نے اسے لکھا پھر بعد کی نسل تک اسے پہنچایا، جن کی تعداد لاکھوں تک پہنچتی ہے پھر سننے والوں نے دوسروں کو سنایا یہاں تک کہ اسے جمع کر دیا گیا. جیسے فلاں نے فلاں سے کہا اور فلاں نے فلاں سے کہا کہ میں نے اپنے کانوں سے محمد ﷺکو ایسا فرماتے ہوئے سنا ہے. آ ج صرف مسلمانوں کو یہ اعزاز اور فخر حاصل ہے کہ انہوں نے اپنے رسول کی ایک ایک بات کو مکمل طور پر محفوظ کیا، اس کے لئے مسلمانوں نے اسماء الرجال کاعلم ایجاد کیا، جس کی گواہی ایک جرمن مستشرق ڈاکٹر اے سپرگر (Dr A. Springer) نےدی  اور حافظ ابن حجر ﷫کی کتاب الإصابہ (مطبوعہ کلکتہ )کے مقدمہ میں لکھا ہے:’’دنیا کی تاریخ میں نہ پہلے دنیا کی کسی قوم کو یہ شرف حاصل ہوا نہ جدید مہذب دنیا میں کسی کو یہ فخر حاصل ہوا کہ اسماء الرجال کے تیکنک کو مسلمانوں کے انداز پر دنیا کے سامنے پیش کر سکیں. مسلمانوں نے اس علم سے دنیا کو آگاہ کرکے ایک ریکارڈ قائم کر دیا ہے، اس ہمہ گیر اور عظیم علم کے ذریعہ 5 لاکھ لوگوں کی زندگیاں انتہائی باریکی سے محفوظ ہو گئیں ‘‘۔ حفاظت حدیث کےسلسلے   میں تفصیلی مواد متعدد اصول حدیث ودفاع کے موضوع پر لکھی گئی کتب میں موجود ہے اورنامور اہل علم کے مضامین ومقالات بھی علمی رسائل وجرائد میں طبع ہوچکے ہیں۔ اوراسی اس طرح اس موضوع پر مستقل کتب لکھی گئی ہیں زیرتبصرہ کتاب’’ حفاظت حدیث ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔اس کتاب کا پہلا ایڈیشن 1971ء میں شائع شائع ہوا پھر اس کے بعد مصنف کی طرف سے اس کی تصحیح وتنقیح اور اضافوں کے ساتھ کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔مذکورہ کتاب   ڈاکٹر خالد صاحب کی تصنیف ہے ۔اس میں انہوں نے اردو عربی کتابوں سے استفادہ کر کے عہد نبویﷺ سے عہد تدوین تک کی   تمام مساعی کا مختصر جائزہ لیا ہےاور حفاظت حدیث کے مسلسل عمل کو مربوط طریق پر پیش کرکی سعی جمیل کی ہے ۔ مصنف موصوف   نے اس کتاب میں کتابت حدیث اور حجیت حدیث پر کافی شافی بحث کی ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کوقبول فرمائے   اوران کے میزانِ حسنات میں اضافہ فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • title-page-rooz-e-ghazab-zawaal-e-israeelambiya-ki-busharataqin
    ڈاکٹر سفرالحوالی

    اسرائیل ،امت مسلمہ کے لیے انتہائی خطرناک دشمن کی حیثیت رکھتاہے ۔دنیابھرکے صیہونی اسے اپنامرکزسمجھتےہیں۔انتہاپسندصیہونیوں میں یہودی بھی ہیں اورعیسائی بھی جوبائبل کی نصوص کی بنیادپراسرائیل کوپوری دنیاپرغالب دیکھناچاہتے ہیں ۔لیکن خوداہل کتاب کے مخالف اورحقائق وواقعات واضح طورپراس امرکی نشاندہی کررہے ہیں کہ اسرائیل اب روبہ زوال ہے ۔یہ صورت حال امت مسلمہ کے لیے بہت ہی امیدافزاہے ۔زیرنظرکتاب میں اسی پہلوکواجاگرکیاہے۔اس کے ساتھ ساتھ دشمن کامورال نیچالانے کی بےحدمعقول اورحقیقی وجوہات کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے ۔یہاں تک کہ دشمن کے اپنے ہی دینی مصادرسے اس پرشواہدلے کرآتی ہے ۔علاوہ ازیں امت اسلام کےکچھ تاریخی خصائص اوراس کاانبیاء کاوراث ہوناہے ۔بےحدعلمی وتاریخی شواہدسے سامنے لایاگیاہے ۔اس باب میں اہل کتاب کے تناقضات اوران کےبلندبانگ دعووں کابے حقیقت ہوناجووہ اپنی اقوام کوامت خاتم الرسل کےخلاف اس معرکے میں جوش دلانے کے لیے کررہے  ہیں،ان کے سب مزاعم کابے بنیادہونامدلل طورپرواضح کیاگیاہے ،یہاں تک کہ مغرب کے ایک منصف مزاج اہل کتاب کے لیے ان حقائق سے آنکھیں بندرکھنابے حدمشکل ہوجاتاہے۔زیرنظرکتاب میں صیہونیت کے عیسائی عنصرپربھی خصوصی روشنی ڈالی گئی ہے ۔کتاب کااصل موضوع نصرانی صیہونیوں کی کھڑی کی  ہوئی وہ فکری عمارت گراناہے جواس وقت کے اسلام دشمن ،یہودوہنوددوست مغرب کے ذہنی پس منظرمیں بآہنگ بول رہی ہے

  • title-page-saqoot-kabul-0-baghdad
    سیف اللہ خالد
    حدیث نبوی ہے کہ عنقریب تم پرہرطرف سے قومیں ٹوٹ پڑیں گی جیسے کھاناکھانے والے دسترخواں پرٹوٹ پڑتے ہیں۔اس وقت مسلمانوں کی تعدادکم نہیں ہوگی لیکن ان کاعالم یہ ہوگاکہ سمندرکی جھاگ کی طرح ہوں گے ۔مسلمانوں کارعب دشمنوں کے دل سے نکل جائے گا۔اوران کےدلوںمیں وہن یعنی زندگی سے محبت اورموت سے نفرت پیداہوجائے گی ۔سقوط کابل وبغدادرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی پیش گوئی کی منہ بولتی تصویرہے ۔ڈیڑھ ارب مسلم آبادی کی موجودگی میں دومسلم ریاستوں کوکفرکی اتحادی افواج نے جس طرح تہس نہس کیاہے ،یہ محض مسلمانوں کی ایمانی کمزوری کانتیجہ ہے ۔زیرنظرکتاب افغان اورعراق جنگ کے دوران شائع ہونے والے ان مضامین کامجموعہ ہے جن میں کفرکی یلغارکے نتیجہ میں امت مسلمہ کے عروج وزوال کی داستان کتاب وسنت کاتاریخ اورحالات حاضرہ سے دلائل کے ساتھ بیان کی گئی ہے اورساتھ یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کی مددکب کرتاہے اورکب مسلمان اللہ کی مددسے محروم ہوتے ہیں۔



  • title-page-sahyooni-ki-dastavazat
    ابن حسن

    یہودی جوقرآن مقدس کی روسے مغضوب علیہم ہیں ،پوری دنیاکواپنے زیرتسلط لاناچاہتے ہیں ۔اس مقصدکے لیے وہ بہت عرصے سے جدوجہدمیں مصروف ہیں۔اس ضمن میں انہوں نے فری میسن کے نام سے ایک صیہونی تنظیم قائم کی ہے جوانتہائی خفیہ طریقے سے ان کےمفادات کےلیے کام  کرتی ہے ۔اس  کے اراکین بڑے بڑے افرادوامراوحکام ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے ذریعے بھی صیہونی اپنااثرورسوخ بڑھارہے ہیں۔اس کااندازہ اس سے لگایاجاسکتاہے کہ اقوام متحدہ کے دس انتہائی اہم اداروں میں ان کے اہم ترین عہدوں پر73یہودی فائزہیں۔اقوام متحدہ کے صرف نیویارک کے دفترمیں بائیس شعبوں کے سربراہ یہودی  ہیں۔دنیاکی معیشت پربھی یہودیوں کامضبوط کنٹرول ہے ۔یہ سب کچھ دراصل ان دستاویزات کی بنیادپرہے جویہودیوں کے دانابزرگوں نے تحریرکی ہیں۔ان میں وہ تمام اصول وتصورات درج کردیے گئے ہیں جن کی ورشنی میں پوری دنیاپریہودی اقتدارقائم ہوگا۔واضح رہے کہ یہودی انہیں جعلی دستاویزات قراردیتے ہیں،لیکن یہ محظ دھوکہ ہے ۔زیرنظرکتاب میں یہودیوں کے ان اصولوں کواردوزبان میں پیش کیاگیاہے ،جن کامطالعہ چشم کشاثابت ہوگا۔ان شاء اللہ ۔

     

     

  • pages-from-kitabat-o-tadveen-e-hadees-sahabah-kram-key-qalam-se
    ڈاکٹر ساجد الرحمٰن صدیقی

    دورِجدید میں بعض تعلیم یافتہ حضرات کے ذہنوں میں یہ غلط خیال پایا جاتا ہے کہ رسول اللہﷺ کی احادیثِ مبارکہ اپنے اولین دور میں ضبطِ تحریر میں نہیں لائیں گئیں بلکہ صرف زبانی نقل وروایت پر اکتفاء کیاگیا۔اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دروخلافت میں کم از کم ایک صدی گزرجانے کے بعد احادیث کے لکھے جانے اور ان کو مدون کئے جانے کے کام کا آغاز ہوا۔ یہ خیال بالکل غلط ہے اورعلمی وتاریخی حقائق کے خلاف ہے ۔ صحابہ کرام ﷢ کے نزدیک علم سے مراد علم ِنبوت تھا (یعنی قرآن وحدیث) انہوں اپنی تمام زندگیاں قرآن وحدیث کے علم کے حصول میں لگا دیں۔ حضرت ابو ھریرہ ﷜نےزندگی میں کوئی مشغلہ اختیارنہیں کیا سوائے احادیث رسول اللہ ﷺ کے حفظ کرنے اوران کی تعلیم دینے کے ۔حضرت عبد اللہ بن عمر و العاص، حضرت انس ، حضرت علی ﷢ کے پاس احادیث کے تحریر ی مجموعے موجود تھے ۔ زیر نظر کتاب ’’کتابتِ وتدوین حدیث صحابہ کرام﷢ کے قلم سے ‘‘ مصر سے طبع شدہ ایک عربی کتاب ’’کتابۃ الحدیث بالاقلام الصحابۃ‘‘ کا ترجمہ ہے محترم ڈاکر ساجدالرحمن صدیقی صاحب نے اسے بعض جزوی تبدیلیوں اور چند اضافوں کے ساتھ اردو کےقالب میں ڈھالا ہے۔ جس   میں فاضل مصنف نے مستند حوالوں کے ساتھ اس حقیقت کو ثابت کیا ہے کہ صحابہ کرام﷢ نے احادیث کےمحموعے اور صحائف مدون اور مرتب کئے اور احادیث مبارکہ کو خود زمانۂ نبوت میں نبی کریم ﷺ کی اجازت اور آپ کے حکم سےضبط تحریر میں لاتے رہے۔ پہلی صدی ہجری میں کتابت وتدوین حدیث کا بہت عظیم الشان کام ہوا او رپھر اس کام کو حضرت عمر بن عبد العزیز نےباقاعدہ سرکاری سرپرستی میں آگے بڑھایا۔اللہ تعالی ٰ مصنف ومترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 421 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :