• title-pages-aina-salat-al-nabi-saww-copy
    ابو محمد شفیق احمد کمبوہ

    نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اور سلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ کلمہ توحید کے اقرار کےبعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے ۔اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے ۔ بے نماز ی کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے ۔ قیامت کےدن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ فرد ومعاشرہ کی اصلاح کے لیے نماز ازحد ضروری ہے ۔ نماز فواحش ومنکرات سےانسان کو روکتی ہے ۔بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سےنماز کا پابند بنایا جائے ۔ قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے ۔نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے ۔نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس موضوع پر کتب تالیف کی ہیں ۔ نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی ۔او ر ہمارے لیے نبی اکرم ﷺکی ذات گرامی ہی اسوۂ حسنہ ہے ۔انہیں کے طریقے کےمطابق نماز ادا کی جائے گئی تو اللہ کے ہاں مقبول ہے ۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے۔یہ بات یاد رہے کہ نماز پڑھنے کے بہت فوائد ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ آئینہ صلاۃ النبیﷺ‘‘ محترم جناب الشیخ محمد شفیق کمبوہ ﷾ کی نماز کے جملہ مسائل پر تفصیلی ضخیم کتاب ہے ۔موصوف نے نمازکے مسائل پر سیر حاصل بحث کی ہے۔صاحب کتاب نے اس کتاب میں بعضمسائل(فاتحہ خلف الامام ، رفع الیدین )میں فریقِ ثانی یعنی احناف کے دلائل کو تفصیل کےساتھ بڑے مدلل اوراحسن انداز میں پیش کیا ہے اور اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ نماز کےحوالے سے کوئی ایسا مسئلہ نظر انداز نہ ہو جس سے قارئین کوکوئی تشنگی محسوس ہو ۔ اللہ تعالی ٰ مصنف وناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-aaiye-apni-namaz-ko-sunnat-e-nabvi-key-mutabiq-dhaalain
    عبد العزیز نورستانی

    نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اور سلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ کلمہ توحید کے اقرار کےبعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے ۔اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے۔ بے نماز ی کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ قیامت کےدن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ فرد ومعاشرہ کی اصلاح کے لیے نماز ازحد ضروری ہے۔ نماز فواحش ومنکرات سےانسان کو روکتی ہے ۔بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سےنماز کا پابند بنایا جائے ۔ قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے۔ نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے۔ نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس موضوع پر کتب تالیف کی ہیں۔ نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی ۔او ر ہمارے لیے نبی اکرم ﷺکی ذات گرامی ہی اسوۂ حسنہ ہے۔ انہیں کے طریقے کےمطابق نماز ادا کی جائے گئی تو اللہ کے ہاں مقبول ہے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’آیئے اپنی نماز کو سنت نبویؐ کے مطابق ڈھالیں‘‘ پشاور کے ممتاز عالم دین شیخ عبد العزیز نورستانی ﷫ کی نماز کے موضوع پر مختصر کتاب ہے جس میں انہوں نے اختصار کے ساتھ نماز کا مکمل مسنون طریقہ بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ شیخ کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو عوام الناس کے لیے فائدہ مند بنائے (آمین)

  • title-pages-aadaab-e-namaz
    ڈاکٹر طارق ہمایوں شیخ
    نماز دین اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں دوسرا اور نہایت اہم رکن ہے ۔ جس کی ادئیگی میں ہم عموما کوتاہی برتتے ہیں ۔ عمار بن یاسر بیان کرتے ہیں ، کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : انسان نماز سے فارغ ہوتا ہے اور اس کے لئے اس کی نماز سے صرف دسواں اور نواں ، آٹھواں ، ساتواں ، چھٹا ، پانچواں ، چوتھا ، تیسرا یا آدھا حصہ ہی لکھا جاتا ہے ۔ ابودوؤد : 796
    نماز دراصل اللہ سے گفتگو کرتے ہوئے دن میں پانچ بار اپنے لئے مغفرت اور بھلائی مانگنے کا ذریعہ ہے ۔ نماز ادا کرنے کا طریقہ بھی اللہ رب العزت نے جبرائیل امین کے ذریعہ نبی کریم کو سکھایا ۔ اس لئے صحیح طریقے سے ہم نماز اس وقت تک ادا نہیں کر سکتے جب تک رسول اللہ کے سکھائے ہوے طریقہ نماز کی کیفیات ، واجبات ، اداب ، کیفیات اور ادعیہ و اذکار کے بارے میں  پوری طرح اگاہ نہ ہوں ۔ نماز میں کھڑے ہونے ، رکوع و سجود اور تشہد کے قواعد و ضوابط کا علم ہونا ضروری ہے ۔ یہ کتاب ان تمام پہلووں پر احسن طریقے سے روشنی ڈالتی ہے ۔ اس لئے اس کتاب کو ھئیات الصلوۃ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے یعنی دوران نماز جسمانی کیفیات اور حرکات و سکنات کو آنحضرت ﷺ کے ارشادات کی روشنی میں واضح فرمایا گیا ہے ۔ نیز برآں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ نماز اسی طرح ادا کرو جس طرح تم مجھے ادا کرتے ہوے دیکھتے ہو ۔ چناچہ اس کتاب میں مستند احادیث سے آپ کا طریقہ صلاۃ واضح کیا گیا ہے ۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-aadabe-namaz-aur-khushu-w-khuzu-ki-ahmiyat-w-wajob-copy
    حافظ صلاح الدین یوسف

    نماز دین ِ اسلام کا   دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل  ہے   قرآن  وحدیث میں  نماز کو بر وقت  اور باجماعت  اداکرنے  کی  بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے  نماز کی ادائیگی  اور  اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر  اہم ہے   کہ  سفر وحضر  اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی  نماز ادا کرنا ضروری  ہے نماز کی اہمیت  وفضیلت کے  متعلق بے شمار  احادیث ذخیرۂ  حدیث میں موجود  ہیں او ر  بیسیوں اہل  علم نے  مختلف  انداز میں اس پر  کتب تالیف کی ہیں  نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے  ازحد ضروری ہے  کیونکہ اللہ عزوجل کے  ہاں وہی نماز قابل قبول  ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق  ادا کی جائے گی  اسی لیے آپ ﷺ نے  فرمایا  صلو كما رأيتموني اصلي  لہذا   ہر مسلمان کےلیے  رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری  ہے ۔نماز ایک ایسی اہم عبادت  ہے کہ جس کی ادائیگی اس انداز اورطریقے سے کی جائے  کہ نماز پڑھنے والا  یہ سمجھے کہ وہ نماز میں اللہ تعالیٰ کواپنی  آنکھوں سے دیکھ رہا ہے  اوراگر یہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی توکم از کم یہ خیال ضرور رہے کہ  اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا رہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم  میں سے  کوئی کھڑا نماز پڑھ رہا ہو تو درحقیقت وہ اپنے رب  سے باتیں  کررہا  ہوتاہے۔اسے  خیال رکھنا چاہیے  کہ وہ کس انداز سےباتیں کررہاہے۔‘‘ اس سے واضح ہوتا ہے کہ نماز میں خشوع او رخضوع بہت ضروری ہے ۔زیرتبصرہ کتابچہ آداب نماز اور خشوع  وخضوع کی اہمیت ‘‘  مفسر قرآن  حافظ صلاح الدین یوسف﷾نے   شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫ کےفتاویٰ کی روشنی میں  مرتب کیا ہے ۔ جووقت کی اہم ضرورت ہے۔ امید ہے یہ ان نمازیوں کےلیے جو نماز میں سستی کرتے ہیں  او رنماز کےآداب کاخیال نہیں رکھتے  بہت مفید ہوگا۔( ان شاء اللہ )اللہ تعالیٰ  اس کے مرتب اور ناشر کی اس کاوش   کوقبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-aala-jahaiz-al-sout-wagera-ki-sharie-haisiyat-copy
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    دین اسلام کے فروغ کے لئےجدید ذرائع ابلاغ کو استعمال کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔زیر نظر تحریر" لاوڈ سپیکر اور نماز " آ ج سے پچھتر سال قبل ۱۹۴۰ ء میں اس وقت شائع ہوئی جب لاوڈ سپیکر اور ریڈیو نیا نیا ایجاد ہو کر عام استعمال میں آیا،اور اسے نماز ،جمعہ اور عیدین میں استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئی۔لاوڈ سپیکر ایک جدید ایجاد تھی ،جس کے نماز میں جائز وناجائز اور استعمال یا عدم استعمال  کے بارے میں اہل علم  نے غور وفکر کرنا شروع کیا تو مختلف طبقات میں تقسیم ہو گئے۔بعض اس کے  مطلقا استعما ل کے قائل تھے تو بعض مطلقا حرمت کے علمبردارتھےاور اسے آلہ لہو ولعب قرار دے رہے تھے۔اہل علم کے اس  شدید اختلاف کو دیکھ کر عامۃ الناس  حیران وپریشان ہوگئے کہ اب اس کا کیا حل نکالا جائے۔یہ بحث اس زمانے میں سب سے زیادہ بنگلور میں اٹھی ۔چنانچہ اہل بنگلور نے ایک استفتاء معروف علماء کرام کےنام بھیجا ،اور ان سے فتوی طلب کیا۔جن علماء کی طرف یہ مراسلہ بھیجا گیا ان میں سے ایک مراسلہ مدیر تنظیم محترم مولانا حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ﷫کے نام روپڑ آیا۔آپ نے مکالمے کی شکل میں  اس مراسلے کا ایسا زبر دست اور شاندار جواب دیا کہ اس پرسب  عش عش کر اٹھے۔آپ کا وہ جواب اس وقت آپ کے سامنے ہے،کہ نماز میں لاوڈ سپیکر کا استعمال بالکل جائز اور درست ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-aap-saw-ki-namaz-aur-us-ki-amli-tasveerain
    میاں محمد جمیل ایم ۔اے

    نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اور اسلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ کلمہ توحید کے اقرار کےبعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے۔ اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے۔ بے نماز ی کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے ۔ قیامت کےدن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ فرد ومعاشرہ کی اصلاح کے لیے نماز ازحد ضروری ہے ۔ نماز فواحش ومنکرات سےانسان کو روکتی ہے ۔بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سےنماز کا پابند بنایا جائے۔ قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے۔ نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے۔ نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس موضوع پر کتب تالیف کی ہیں۔ نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی ۔او ر ہمارے لیے نبی اکرم ﷺکی ذات گرامی ہی اسوۂ حسنہ ہے۔ انہیں کے طریقے کےمطابق نماز ادا کی جائے گئی تو اللہ کے ہاں مقبول ہے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے۔جیساکہ اس بات میں شبہ نہیں کہ نماز ارکان ِاسلام سے ایک اہم ترین رکن خیر وبرکات سے معمور ، موجب راحت واطمینان، باعثِ مسرت ولذات اور انسان کے گناہ دھوڈالنے، اس کے درجات بلند کرنے والی ایک بہترین عبادت ہے مگر یہ امر بھی واضح رہے کہ نمازی اس کی خیر وبرکات سے کما حقہ مستفید اور اس کی راحت ولذت سے پوری طرح لطف اندوز تبھی ہوسکتاہے جب وہ اس کے معانی ا ور مطالب سے واقف ہو۔ زیر تبصرہ کتاب’’آپ ﷺ کی نماز اور اس کی عملی تصویریں‘‘محترم میاں محمد جمیل﷾ کی کا وش ہے۔ اس مختصر کتاب میں موصوف نے نماز کےروحانی اور معاشرتی فوائد اور قیام وسجود کی عملی تصاویر کے ذریعے نماز کے جملہ واحکام ومسائل کو آسان فہم انداز میں پیش کیا ہے۔ میاں صاحب اس کتاب کے علاوہ قرآن مجید کی تفسیرسمعیت دیگر کئی کتب کے مصنف ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین( م۔ا)

  • pages-from-wwwkitabosunnatcom-hanfiyon-ki-namaz-par-tabsrah
    طیب شاہین لودھی

    نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔نماز مومن اور کافر میں فرق ہے۔ہر انسان جب کلمہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے ایمان کی شہادت دیتا ہے اور جنت کے بدلے اپنی جان ومال کا سودا کرتا ہے، اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کا غلام ہے اور اس کی جان ومال اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اب اس پر زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے۔ اس معاہدہ کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب وکتاب لیا جائے گا،اگر کوئی شخص اس میں کامیاب ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں کامیاب ہے اور اگر کوئی اس میں ناکام ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں ناکام ہے۔اور اللہ تعالی کے ہاں وہ نماز قابل قبول ہے جو نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ کے مطابق ادا کی گئی ہو۔لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج بہت سارے مسلمان نماز نبوی ﷺ پڑھنے کی بجائے مختلف مسالک اور اپنے علماء کی بتلائی ہوئی نماز پڑھتے ہیں۔ان میں سے ایک حنفی نماز ہے ،جس کے بارے میں مولف کا خیال ہے کہ اگر سیدھے سادھے عوام کے سامنے نماز کی وہ ہیئت اور کم از کم مقدار پیش کی جائے ،جس کے ادا کرنے سے ایک مسلمان امام ابو حنیفہ کے نزدیک فریضہ نماز کی ادائیگی سے عہدہ برآ ہوجاتا ہے تو وہ انکی تقلید کرنا چھوڑ دیں۔ زیر تبصرہ کتاب" حنفیوں کی نماز پر تبصرہ "محترم پروفیسر طیب شاہین لودھی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نےنمازنبوی اور نماز حنفی کا موازنہ کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، اور تمام مسلمانوں کو سنت نبوی کے مطابق نماز پڑھنے کا پابند بنائے۔ آمین(راسخ)

  • title-pages-itmam-al-khushu-be-ahkam-madrak-al-ruku-copy
    مولانا محمد یونس قریشی

    نماز دین اسلام کا ایک اہم رکن ہے۔قیامت کےدن سب سے پہلے اس کے متعلق باز پرس ہوگی اس ذمہ داری سے عہدہ برآہ ہونے کےلئے کچھ لوازمات وارکان اور شرائط ہیں ان میں سے قیام اور قراءت سورۂفاتحہ سر فہرست ہیں ان کی ادائیگی کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔نماز میں بحالت رکوع شامل ہونے والا ان دونوں سے محروم رہتا ہے۔ لہذا اس حالت میں امام کے ساتھ شامل ہونے والے کو رکعت دوبارہ اداکرنا ہوگی چنانچہ حدیث میں ہے۔:'' کہ جس قدر نماز امام کے ساتھ پاؤوہ پڑھ لو اور جو (نماز کا حصہ) رہ جائے اسے بعد میں پورا کرلو۔(صحیح بخاری )اہل  علم کے  ہاں یہ  مسئلہ  مختلف   فیہ ہے  ۔زیر نظر کتابچہ ’’ اتمام الخصوع باحکام مدرک الرکوع ‘‘  شیخ  الحدیث مولانا  محمد یونس  قریشی  کی  کاوش ہے  جس میں انہوں احادیث اور کبار علماء اہل  حدیث کے  فتاویٰ جات  کو پیش  کرتے  ہوئے  ثابت کیا ہے کہ  نماز میں بحالت رکوع شامل ہونے والے شخص کی  رکعت نہیں  ہوتی ۔اللہ تعالی اس کتابچہ کوعوام الناس کے   لیے مفید بنائے  آمین) (م ۔ا )

     

  • title-page-asbaat-rafa-ul-yadain-f-copy
    خالد گھرجاکھی
    ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہر عمل میں سنت رسول کو ملحوظ خاطر رکھے کیونکہ ہر وہ عمل جو سنت رسول سے مخالف ہو نہ صرف ناقابل قبول ہے بلکہ روز قیامت وبال بھی بن جائے گا- بہت سے مسلمان نماز تو ادا کرتے ہیں لیکن  اس میں سنت رسول کا خاص اہتمام نہیں کرتے انہی میں سے ایک اہم سنت رفع الیدین ہے- زیر نظر کتاب میں مولانا ابوخالد نور گھرجاکھی نے احادیث، صحابہ وتابعین، آئمہ اور محدثین کے اقوال کی روشنی میں رفع الیدین کا اثبات پیش کیا ہے اور محکم دلائل کے ساتھ رفع الیدین کے تارکین کا رد بھی کیا ہے-اثبات رفع الیدین کے لیے انہوں نے صحابہ کی ایک بہت بڑی جماعت کا قولی اور فعلی ثبوت پیش کیا ہے –یعنی کہ صحابہ کی ایک بہت بڑی جماعت سے اثبات الیدین سے متعلقہ روایات کو پیش کیا اور اس کے بعد صحابہ کی ہی ایک بہت بڑی جماعت سے عملی طور پر رفع الیدین کا ثبوت پیش کیا ہے کہ وہ سب رفع الیدین کے قائل بھی تھے اور فاعل بھی تھے-

  • title-pages-ahsan-al-jadal-bajawab-rahe-aitidal
    جلال الدین قاسمی
    حیدر آباد شہر(انڈیا)  کے مشہور دیو بندی عالم دین  مولانا خالد سیف اللہ رحمانی  صاحب نے  ’’’راہ  اعتدال‘‘کے  نام سے   ایک  کتاب لکھی،  جس  میں  انہوں نے  چند مشہور مسائل  تقلید ،  اما م ابو حنیفہ کا مقام ،قراءت خلف الامام ،رفع الیدین ،آمین بالجھر ،مصافحہ کا مسنون طریقہ، عورتوں اور مردوں کی نماز میں فرق ،خواتین کا مساجد میں آنا  وغیرہ  جیسے  موضوعات پر خامہ فرسائی فرمائی ،اور انہوں   نے ان مسائل میں اپنے مذہب کے اثبات میں  آیات  قرآنیہ کی تحریف سے بھی گریز نہیں کیا اور اپنے موقف کی تائید میں ہر ہر قدم پر روایات ضعیفہ کاسہارا لیا اور  غیر مقلدیت   کوگمراہی  کا دروازہ کہا جبکہ معاملہ اس کے بر عکس ہے ساری خرابیوں اورگمراہیوں کی جڑ تو تقلید ہے ۔ زیر نظر  کتا ب ’’احسن الجدال بہ جواب راہ اعتدال ‘‘مولانا  حافظ جلال الدین  قاسمی  فاضل  دار العلوم دیو بند﷾ کی اہم تالیف  ہے۔  جس میں   انہوں  نے رحمانی صاحب کی کتاب ’’ راہ اعتدال ‘‘کا تحقیقی جائزہ لیاہے   اوررحمانی  صاحب  کی بے اعتدالیوں کا خوب  محاسبہ کیا ہے۔ فاضل مصنف  ایک وسیع النظر عالم دین اورکئی کتب کے مصنف ہیں ۔آپ  کی کتابوں کو علمی حلقوں میں بڑی قدر کی نگاہوں سے دیکھا جاتاہے اللہ تعالی مصنف کی اس  کاوش کو شرف قبولیت بخشے  اور اس کتاب کومفید عوام وخواص بنائے (آمین)(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-ahkam-al-salat-copy
    جاوید اقبال سیالکوٹی

    نماز  انتہائی اہم ترین فریضہ اور سلام کا   دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل  ہے ۔ کلمہ توحید کے  اقرار کےبعد  سب سے پہلے  جو فریضہ  انسان  پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے ۔اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی  ہے ۔ بے نماز ی کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے ۔ قیامت کےدن  اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال  ہوگا۔ فرد ومعاشرہ کی اصلاح کے لیے  نماز ازحد ضروری ہے ۔ نماز فواحش ومنکرات سےانسان کو روکتی ہے ۔بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سےنماز کا پابند بنایا جائے ۔  قرآن  وحدیث میں  نماز کو بر وقت  اور باجماعت  اداکرنے  کی  بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے  ۔نماز کی ادائیگی  اور  اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر  اہم ہے   کہ  سفر وحضر  اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی  نماز ادا کرنا ضروری  ہے ۔نماز کی اہمیت  وفضیلت کے  متعلق بے شمار  احادیث ذخیرۂ  حدیث میں موجود  ہیں او ر  بیسیوں اہل  علم نے  مختلف  انداز میں اس  موضوع پر  کتب تالیف کی ہیں ۔ نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے  ازحد ضروری ہے  کیونکہ اللہ عزوجل کے  ہاں وہی نماز قابل قبول  ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق  ادا کی جائے گی ۔او ر  ہمارے لیے  نبی اکرم ﷺکی  ذات گرامی  ہی اسوۂ حسنہ   ہے ۔انہیں کے طریقے  کےمطابق نماز ادا کی جائے گئی تو  اللہ  کے ہاں مقبول   ہے  ۔ اسی لیے آپ ﷺ نے  فرمایا  صلو كما رأيتموني اصلي  لہذا   ہر مسلمان کےلیے  رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری  ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’  احکام الصلاۃ ‘‘ ابو عبد لرحمن جاوید اقبال سیالکوٹی ﷾ کے   نماز کے موضوع پر  ان کے  خطباتِ جمعہ کی  کتابی  صورت ہے جسے  انہو ں نے  ساتھیوں کے اصرار پر مرتب کر کے  شائع کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش  کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا )

  • 2
    عبد الہادی عبد الخالق مدنی

    ہم میں کون شخص ہے جس نے آج تک اذان کی صدائے دلنواز نہ سنی ہو۔بلا مبالغہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ایک مسلمان اپنی زندگی میں جو آواز بار بار اور سب سے زیادہ سنتا ہے وہ اذان ہی ہے۔یہ صدائے فلاح وفوز دنیا کی ہر بستی ،ہر نگر ،ہر شہر اور ہر اس علاقے میں جہاں مسلمان بستے ہیں روزانہ پانچ وقت بلند ہوتی ہے اور اللہ کی توحید کا اعلان کرتی ہے۔لیکن بڑے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ وہ اذان جسے ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں ،جس کا ایک ایک حرف ہمارے نہاں خانہ دل میں اپنی پرعظمت شان وشوکت رکھتا ہے،جو دین کی ایک معروف شناخت اور ایک اہم ترین شعار ہے،ہم اس اذان کے پیغام سے کما حقہ واقف نہیں ہیں،اس کے معانی ومفاہیم اور حقائق ومعارف سے دور ہیں۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اذان جن معانی وحقائق کی طرف اشارہ کرتی ہے ،اگر وہ ہمارے دل ودماغ میں پیوست ہو جائیں تو ہماری زندگیوں میں ایک عظیم انقلاب آجائے۔زیر تبصرہ کتابچہ ’’اذان ایک پیغام، ایک دعوت‘‘مولانا عبد الہادی عبد الخالق مدنی کی کاوش ہے جس میں انہوں نے اذان کی اسی معنویت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے،شاید کہ اس کے مطالعہ سے کسی کے دل ودماغ کی دنیا میں مفید ہلچل پیدا ہو اور آخرت کی نجات اور اللہ کی قربت کا ذریعہ بن جائے۔(راسخ)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-izalata-al-aouham-fi-wajob-al-fatiha-khalaf-al-imam-copy
    ابو الوفا عبد الحمید ثاقب

    نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے کلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شبِ معراج کے موقع پر فرض کی گئی ،اور امت کو اس تحفہ خداوندی سے نوازا گیا۔اس کو دن اور رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔لیکن نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ فاتحہ خلف الامام کا ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی سورۃ الفاتحہ پڑھے گا یا نہیں پڑھے گا۔ہمارے علم کے مطابق فرض نفل سمیت ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ پڑھنا فرض اور واجب ہے،نمازی خواہ منفرد ہو،امام ہو یا مقتدی ہو۔کیونکہ سورۃ الفاتحہ نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اور اس کے بغیر نماز نامکمل رہتی ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے اس میں فاتحۃ الکتاب نہیں پڑھی۔دوسری جگہ فرمایا: “جس نے أم القرآن(یعنی سورۃ الفاتحہ)پڑھے بغیرنماز ادا کی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، نا مکمل ہے۔یہ احادیث اور اس معنیٰ پر دلالت کرنے والی دیگر متعدد احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ پڑھنا واجب اور ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ازالۃ الاوہام فی وجوب الفاتحۃ خلف الامام‘‘ ابو الوفا عبد الحمید ثافب کی علمی کاوش ہے یہ رسالہ اگرچہ مختصر تاہم مسئلہ وجوب قرأت خلف الامام کے موضوع پر سیرحاصل اور عمدہ گفتگو فرمائی ہے ۔محتاط اور مضبوط انداز میں دلائل کا تذکرہ فرمایا ہے ۔آخرمیں فریق ثانی کے دلائل کو ذکر کر کے علمی انداز میں ان پر گرفت کی ہے ۔یہ مختصر رسالہ اپنے موضوع پر جامع ومانع ہے۔(م۔ا)

  • title-page-islam-men-tark-e-namaz-ka-hukam
    محمدابوسعیدالیار بوزی

    باجماعت نماز کی اہمیت کا اندازہ لگانے کے لیے دین اسلام کی یہ ہدایات ہی کافی ہیں کہ میدان جہاد میں موت کے مدمقابل بھی نماز ترک نہ کی جائے بلکہ جماعت بھی ترک نہ کی جائے۔ ایمان و اسلام کی سلامتی نماز کے قیام سے ہی مشروط ہے۔ تارک نماز کے گناہ گار ہونے پر تو امت کا اجماع ہے۔ لیکن اس کے مشرک، کافر اور ابدی جہنمی ہونے پر اختلاف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب میں مصنف نے دلائل قطعیہ اور استنباطات فقہیہ سے تارکین نماز کو گناہ کی شدت کا احساس دلایا ہے۔

     

     

  • title-pages-itfa-al-shama-fi-zuhar-al-jummat--abdullah-ropri--copy
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    دیہاتوں میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے حوالے سے علماء احناف ہمیشہ سے تردد کا شکار رہے ہیں اورمختلف شرائط بیان کرتے چلے آئے ہیں۔اسی طرح بعض لوگوں کا یہ طریقہ کار ہے کہ وہ شہروں میں نماز جمعہ کے بعد ظہر احتیاطی پڑھتے ہیں۔ان کی نظر میں اگرچہ جمعہ کی کچھ اہمیت نہیں ہے ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ جیسےجمعہ کے دن کی فضیلت باقی دنوں پر ہے،لیلۃ القدر کی فضیلت باقی راتوں پر ہے،اسی طرح نماز جمعہ کو باقی نمازوں پر فضیلت حاصل ہے۔اس کو اہمیت نہ دینا اور معمولی شبہات کی بناء پر اس میں سستی کرنا یا بالکل ترک کر دینا بلکہ پڑھنے والوں سے چھڑانے کی کوشش کرنا یہ ڈبل غلطی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اطفاء الشمعہ فی ظہر الجمعہ بجواب نور الشمعہ فی ظہر الجمعہ " مجلس التحقیق الاسلامی کے رئیس ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی ﷾کے تایا جان اورہندوستان کے معروف عالم دین حافظ عبداللہ محدث روپڑی﷫ کی تصنیف ہے ،جو مولوی احمد علی صاحب بٹالوی﷫ پروفیسر دینیات اسلامیہ کالج لاہور کی کتاب ""نور الشمعہ فی ظہر الجمعہ"کے جواب میں لکھی ہے۔مولوی احمد علی صاحب﷫ نے اپنی اس کتاب میں ظہر احتیاطی پڑھنے  کی ترغیب دیتے ہوئے فرضیت جمعہ سے خوب ہاتھ صاف کیا ہے اور اس کو اتنا کمزور دکھایا ہے کہ وہ اس میں نفل کی جھلک بھی نظر نہ آئے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں شرائط جمعہ پر بحث کرتے ہوئے علماء احناف کے تمام رسائل جو ہندوستان میں شائع ہو چکے تھے ۔قرآن وسنت کی روشنی میں ان کا مکمل جواب دیا ہے۔اللہ  تعالی سے دعا ہے کہ وہ  ان کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • Title Page---Aitekaaf-- Fazail o Ahkam o Masayal Maa Aurat Aitekaf Kahan Karay Masjid main ya Ghar
    ارشاد الحق اثری
    یہ کتاب دراصل اعتکاف کے موضوع سے متعلقہ دو مقالات کا مجموعہ ہے۔ ایک مقالہ فضیلۃ الشیخ ابو المنیب محمد علی خاصخیلی کی کاوش ہے اور دوسرا فضیلۃ الشیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ کی تحقیق ہے۔ اعتکاف کے مسائل کے حوالے سے عوام میں جو تشنگی پائی جاتی ہے یہ کتاب اس کا کافی حد تک ازالہ کرتی ہے۔ کتاب و سنت کے دلائل سے مزین اس کتاب میں اعتکاف کی تعریف، فضائل و اقسام، مسائل، فضلیت و عظمت کو بیان کیا گیا ہے۔ جبکہ اس کتاب کا ایک اہم مبحث دور حاضر کا ایک اختلافی مسئلہ کہ کیا خواتین گھر میں اعتکاف کر سکتی ہیں؟  بھی ہے۔اعتکاف کے موضوع پر ایک عمدہ کتاب ہے۔

  • pages-from-al-ilaam-bajawab-raf-ul-abhaam-wa-taayeed-ul-daleel-ul-taam
    ابو محمد بدیع الدین راشدی

    نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔ اقرار شہادتین کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔اور نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریمﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنےیا چھوڑنے کا ہے۔بعض اہل علم کے خیال ہے کہ رکوع سے پہلے والے قیام کی طرح رکوع کے بعد والے قیام میں بھی ہاتھ باندھے جائیں گے جبکہ بعض کا خیال ہےکہ رکوع کے بعد ہاتھ نہیں باندھے جائیں گے،بلکہ کھلے چھوڑ دئیے جائیں گے۔ زیر تبصرہ کتاب" الاعلام بجواب رفع الابھام وتایید الدلیل التام " پاکستان کے معروف عالم دین محترم مولانا شاہ بدیع الدین راشدی صاحب ﷫کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کا موقف اختیار کیا ہے اور اس پر متعدد دلائل دئیے ہیں۔ یہ کتاب انہوں نے محترم مولانا حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ﷫کے رسالے "رفع الابھام فی جواب دلیل تام"کے جواب میں لکھی ہے۔ رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنے کے حوالے سے حافظ عبد اللہ بہاولپوری صاحب ﷫ کی ایک کتاب بھی پہلے اپلوڈ کی جا چکی ہے۔ یہ مسئلہ اپنے زمانے میں ایک معرکۃ الآراء مسئلہ رہا ہے ،جس میں حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ﷫ اور محترم مولانا شاہ بدیع الدین راشدی صاحب ﷫اپنے اپنے موقف کو بیان کرتے رہے ہیں۔چونکہ دونوں مصنف ہی اہل حدیث ہیں اور یہ دونوں موقف ہی علمی اور اجتہادی محنت پر مشتمل ہیں،لہذا ہم نے دونوں مواقف پر مبنی کتابیں ہی اپلوڈ کر دی ہیں تاکہ اہل علم دونوں کا مطالعہ کر کے کسی نتیجے پر پہنچ سکیں۔ اللہ تعالی دونوں مولفین کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-al-burhan--bees-traweeh-k-mutaliq--copy
    عبد الرشید انصاری

    نماز تراویح نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے اورصحیح احادیث سے ثابت ہے۔سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ  نے ایک رات مسجد میں نماز اداکی، لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپﷺنے دوسری رات نماز پڑھی اور لوگوں کی بھی کثیر تعداد نے آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر لوگ اسی طرح تیسری یا چوتھی رات میں بھی جمع ہوئے لیکن رسول اللہﷺتشریف نہ لائے اور جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا:’’تم لوگوں نے جو کیا میں نے اسے دیکھا ہے اور گھر سے میں اس لیے نہیں نکلا کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں اس نماز کو تم پر فرض قرار نہ دے دیا جائے۔‘‘(مسلم:761)نماز تراویح کی رکعات کی تعداد گیارہ ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے کہ جب ان سے سوال کیا گیا کہ رمضان میں نبی کریم ﷺ  کی نماز کیسےہواکرتی تھی؟تو انہوں نے جواب دیا:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  رمضان وغیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے۔‘‘(بخاری:1147)اگر کوئی تیرہ رکعت پڑھ لے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ سیدنا  ابن عباس رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ ’’نبی کریم ﷺ  کی نماز تیرہ رکعت تھی۔‘‘زیر تبصرہ کتاب" البرھان"محترم مولانا عبد الرشید انصاری صاحب  کی  تصنیف ہے ۔مولف موصوف نے اس کتاب میں متعدد دلائل کے ساتھ گیارہ تراویح  کو ثابت کیا ہے۔کسی مسئلے کے ثبوت کے لئے مولف کا اپنا ہی ایک نرالا انداز ہے کہ وہ ہر مسئلے میں عدالتوں کا سہارا لیتے ہیں،اور بڑے بڑے انعامات کا اعلان کرتے ہیں۔اگرچہ ان کے اس طریقہ کار سے کوئی بھی متفق نہیں ہے لیکن اس کتاب میں انہوں نے چونکہ نماز تراویح کے  حوالے سے دلائل کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے ،لہذا اسے  فائدے کی غرض سے اسےقارئین کی  خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-al-burhan-fi-qayam-e-ramazan-copy
    محمد رفیق سلفی

    صحیح احادیث کے مطابق رکعاتِ تراویح کی مسنون تعداد آٹھ ہے ۔مسنون تعداد کا مطلب وہ تعداد ہےجو اللہ کے نبی ﷺ سے بسند صحیح ثابت ہے ۔ رکعات ِتراویح کی مسنون تعداد اوررکعات تراویح کی اختیاری تعداد میں فرق ہے ۔ مسنون تعداد کا مطلب یہ ہے کہ جو تعداد اللہ کےنبی ﷺ سے ثابت ہے او راختیاری تعداد کا مطلب یہ ہے کہ وہ تعداد جو بعض امتیوں نے اپنی طرف سے اپنے لیے منتخب کی ہے یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ ایک نفل نماز ہے اس لیے جتنی رکعات چاہیں پڑھ سکتے ہیں۔اورصحیح احادیث کے مطابق نبی کریم ﷺ کا رمضان او رغیر رمضان میں رات کا قیام بالعموم گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں ہوتا تھااور حضرت جابر کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کوتین رات جو نماز پڑہائی وہ گیارہ رکعات ہی تھیں او ر حضرت عمر نے بھی مدینے کے قاریوں کو گیارہ رکعات پڑہانے کا حکم دیاتھا اور گیارہ رکعات پڑھنا ہی مسنون عمل ہے ۔امیر المومنین حضر ت عمر بن خطاب ، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت ابی بن کعب اور حضرت عبد اللہ بن مسعود سے 20 رکعات قیام اللیل کی تمام روایات سنداً ضعیف ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ البرہان فی قیام رمضان اعنی ترویح سنت صر ف آٹھ ہیں بجواب تراویج صرف بیس ہیں‘‘ مولانا محمد رفیق سلفی راہوالی کی تصنیف ہے جوانہو ں نے مولوی نور احمد چشتی کی کتاب ’’ نماز تراویح صرف بیس ہیں‘‘ کے جواب میں لکھی ۔ اور چشتی صاحب کی کتاب کا مدلل جواب دیتے ہوئے ثاتب کیا ہےکہ مسنون نمازتراویح کی تعداد صرف آٹھ ہے ۔جبکہ چشتی صاحب پوری کتاب میں کسی صحیح حدیث سے باجماعت بیس تراویح سنت ِ رسول ﷺ تو درکنار خلفاء اربعہ میں سے بھی ثابت نہ کرسکے کہ حضرت ابو بکر صدیق ،حضرت عمرفاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی نے بنفس نفیس بیس رکعات تراویح پڑھی ہیں ۔(م۔ا)

  • title-pages-al-tehqiqu-al-rasikh-copy
    حافظ محمد گوندلوی

    شریعتِ اسلامیہ میں نماز بہت بڑا اور اہم رکن ہے اور اس پر مواظبت لازم قرار دی گئی ہے بلکہ کفر وایمان کے درمیان نماز ایک امتیاز ہے۔عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کےلیے دو چیزوں کاہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقۂ رسول ﷺ ۔لہٰذا نماز کے بارے میں آپ کاﷺ واضح فرمان ہے ’’ نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو‘‘ (بخاری) رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے کھڑا ہوتے وقت ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں تک اٹھانا (یعنی رفع الیدین کرنا) نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس سنت پر عمل کیا ہے۔نماز میں رفع الیدین رسول اللہ ﷺ سے متواتر ثابت ہے۔امام شافعی﷫ فرماتے ہیں کہ رفع الیدین کی حدیث کو صحابہ کرام کی اس قدر کثیر تعداد نے روایت کیا ہے کہ شاید اور کسی حدیث کواس سے زیادہ صحابہ نے روایت نہ کیا ہو۔ او رامام بخاری ﷫ نے جزء رفع الیدین میں لکھا ہے ہے کہ رفع الیدین کی حدیث کوانیس صحابہ نے روایت کیا ہے ۔ لیکن صد افسوس اس مسئلہ کو مختلف فیہ بنا کر دیگر مسائل کی طرح تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔اثبا ت رفع الیدین پر امام بخاری کی جزء رفع الیدین ،حافظ زبیر علی زئی  کی نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین وغیرہ کتب قابل ذکر ہیں۔اثبات رفع الیدین پر کتا ب ہذا کے علاوہ تقریبا 10 کتابیں کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں زیر تبصرہ کتاب ’’التحقیق الراسخ فی ان احادیث رفع الیدین لیس لہا ناسخ‘‘ محدث العصر حافظ محمد گوندلوی ﷫ کی رفع الیدین کے موضوع پر علمی اور تحقیقی کتاب ہے یہ دراصل مولوی محمد اشفاق الرحمن کے ایک رسالہ ’’نور العینین‘‘ کے جواب میں لکھی گئی ہے ۔مولوی اشفاق الرحمن نے اس رسالہ میں رفع الیدین کو منسوخ اور مکروہ کہا تھا ۔تو مولانا احمد اللہ ﷫ (شیخ الحدیث دار الحدیث الرحمانیہ دہلی) نے اولاً کا اس کا جواب تحریر کیا اورمؤلف کےجملہ شکوک وشبہات حل فر مادیئے تھے ۔تو مؤلف رسالہ نور العینین نے اسکا کوئی جواب نہ دیا۔ بعد ازاں حافظ محمد گوندلوی ﷫ نے رفع الیدین کےموضوع پر ایک تفصیلی بحث تحریر کی جس میں مسئلہ رفع الیدین مواضع ثلاثہ کا ثبوت ادلہ صحیحہ سےباطریق احسن دیاگیا ہے اور عموماً جملہ منکرین احناف کےتمام شبہات وخدشات کا ازالہ کیاگیا ہے ۔ نیز مولف نور العینین کے جملہ شبہات وایرادات کابھی نہایت اچھے طریقے سے حل فرمادیا ہے۔ 1349ھ میں پہلی یہ کتا ب شائع ہوئی ۔ زیرتبصرہ ایڈیشن 1985ء میں مکتبہ سلفیہ ،لاہور نےشائع کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ حافظ صاحب کے درجات بلند فرمائے ۔(آمین) (م۔ا) 

  • pages-from-al-taraveeh-bajawab-namaz-e-traveeh-ki-hqeeqat
    فاروق احمد آزاد

    نماز تراویح نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے اورصحیح احادیث سے ثابت ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ  نے ایک رات مسجد میں نماز اداکی، لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپﷺنے دوسری رات نماز پڑھی اور لوگوں کی بھی کثیر تعداد نے آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر لوگ اسی طرح تیسری یا چوتھی رات میں بھی جمع ہوئے لیکن رسول اللہﷺتشریف نہ لائے اور جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا:’’تم لوگوں نے جو کیا میں نے اسے دیکھا ہے اور گھر سے میں اس لیے نہیں نکلا کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں اس نماز کو تم پر فرض قرار نہ دے دیا جائے۔‘‘(مسلم:761)نماز تراویح کی رکعات کی تعداد گیارہ ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے کہ جب ان سے سوال کیا گیا کہ رمضان میں نبی کریم ﷺ  کی نماز کیسےہواکرتی تھی؟تو انہوں نے جواب دیا:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  رمضان وغیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے۔‘‘(بخاری:1147)اگر کوئی تیرہ رکعت پڑھ لے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ ’’نبی کریم ﷺ  کی نماز تیرہ رکعت تھی۔‘‘زیر تبصرہ کتاب" التراویح بجواب نماز تراویح کی حقیقت"محترم فاروق احمد آزاد خطیب جی بلاک ڈیرہ غازیخان کی تصنیف ہے۔ جو دراصل مولوی عبد اللہ نانی والے کے ایک اشتہار "نماز تراویح کی حقیقت" کا جواب ہے۔ مولوی عبد اللہ نے اپنے اس اشتہار میں یہ ثابت کرنے کی پوری کوشش کی ہے کہ قیام رمضان المعروف نماز تراویح کا کوئی وجود نہیں ہے،اس کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہے۔چنانچہ مولف موصوف نے مستند دلائل سے   ان کا رد کیا ہے اور نماز تراویح کا وجود ثابت کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-al-talveeh-bitaozeeh-ul-traveeh
    عزیز بیدی

    صحیح احادیث کے مطابق نبی کریم ﷺ کا رمضان او رغیر رمضان میں رات کا قیام بالعموم گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں ہوتا تھااور حضرت جابر﷜ کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام﷢ کوتین رات جو نماز پڑہائی وہ گیارہ رکعات ہی تھیں او ر حضرت عمر ﷜ نے بھی مدینے کے قاریوں کو گیارہ رکعات پڑہانے کا حکم دیاتھا اور گیارہ رکعات پڑھنا ہی مسنون عمل ہے ۔امیر المومنین حضر ت عمر بن خطاب، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت ابی بن کعب اور حضرت عبد اللہ بن مسعود سے 20 رکعات قیام اللیل کی تمام روایات سنداً ضعیف ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’التلویح بتوضیح الترایح‘‘ معروف عالم دین اورمضمون نگا ر مولاناعزیز زبیدی﷫ کی ایک تحریری کاوش ہے جو انہوں نے منڈی واربرٹن کے ایک بریلوی مولوی صاحب کےجواب میں تحریر کی اور ثابت کیاکہ نماز تراویح کی صحیح تعداد بیس نہیں بلکہ آٹھ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس علمی کاوش کو قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس عطا فرمائے۔ (آمین)

  • pages-from-al-daleel-wal-waazeh
    عبد العزیز نورستانی

    نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے کلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شب معراج کے موقع پر فرض کی گئی، اور امت کو اس تحفہ خداوندی سے نوازا گیا۔اس کو دن اور رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔ نماز دین کا ستون ہے۔ نماز جنت کی کنجی ہے۔ نماز مومن کی معراج ہے۔ نماز نبی کریمﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔ نماز جنت کا راستہ ہے۔ نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔ نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔ نماز برے کاموں سے روکتی ہے۔ نماز مومن اور کافر میں فرق کرتی ہے۔ نماز بندے کو اﷲ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رکھتی ہے۔ لیکن اللہ کے ہاں وہ نماز قابل قبول ہے جو نبی کریم ﷺ کے معروف طریقے کے مطابق پڑھی جائے۔آپ نے فرمایا:تم ایسے نماز پڑھو جس مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ احادیث مبارکہ میں نبی کریم ﷺ سے نماز وتر پڑھنے کے مختلف طریقے ثابت ہیں۔آپ ﷺ ایک، تین،پانچ،سات اور نو تک وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔ اور یہ سب عدد ہی آپ ﷺ کی سنت اور طریقہ ہیں۔آپ ان میں جس طریقے پر بھی عمل کریں گے وہ سنت کے مطابق ہوگا۔لیکن بعض احباب ایک وتر پڑھنے کو ناجائز خیال کرتے ہیں اور لوگوں کو ایک وتر پڑھنے سے منع کرتے ہیں۔ زیر نظر کتاب "الدلیل الواضح علی ان الایتار شرعۃ الرسول الناصحﷺ" محترم مولانا عبد العزیز نورستانی واماوی کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے احادیث مبارکہ کی روشنی میں ایک وتر پڑھنے کی احادیث کو بیان کیا ہے، اور یہ ثابت کیا ہے کہ جس طرح تین وتر پڑھنا نبی کریم ﷺ کی سنت ہے اسی طرح ایک وتر پڑھنا بھی آپ ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین۔(راسخ)

  • pages-from-al-rasael-fi-tehqeeq-ul-masael
    عبد الرشید انصاری

    رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے کھڑا ہوتے وقت ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں تک اٹھانا (یعنی رفع الیدین کرنا) نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس سنت پر عمل کیا ہے۔ اس کا ثبوت بکثرت اور تواتر کی حد کو پہنچی ہوئی احادیث سے ملتا ہے، جنہیں صحابہ کرام ﷢کی ایک بڑی جماعت نے روایت کیا ہے۔اور اس کا ترک یا نسخ کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔سیدنا وائل بن حجر﷜آخری ایام میں مسلمان ہونے صحابہ میں سے ہیں۔صحیح مسلم میں ان سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ انہوں نے نماز شروع کرتے وقت ہاتھ اٹھائے اور تکبیر کہی، پھر رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے ہاتھ چادر سے نکالے اور انہیں بلند کیا اور تکبیر کہی اور رکوع کیا، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے وقت بھی دونوں ہاتھ اٹھائے۔ زیر تبصرہ کتاب " الرسائل فی تحقیق المسائل "مولانا عبد الرشید انصاری کی رفع الیدین جیسے معرکۃ الآراء مسئلے کی تحقیق پر ایک عظیم الشان تصنیف ہے،جو انہوں نے انتہائی محنت اور شوق سے جمع فرمائی ہے۔ اس کتاب میں مولف نے پہلے اثبات رفع الیدین پر 22 بائیس کتب حدیث سے 44 چوالیس صحابہ کرام ﷢سے مروی 339 تین سو انتالیس احادیث جمع کی ہیں،پھر عدم رفع الیدین کے قائلین کے 38 اڑتیس دلائل بیان کر کے ان میں سے ایک ایک دلیل کا مستند اور بڑے احسن انداز میں رد کیا ہے ۔یہ اپنے موضوع پر ایک اہم ترین اوربڑی شاندار کتاب ہے،اور طلباء وعلماء دونوں کے مفید ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس خدمت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-al-qanoot-w-ilyas-al-arsal-min-nail-al-amani-w-hasool-copy
    ابو محمد بدیع الدین راشدی

    نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن  کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔نماز مومن اور کافر میں فرق ہے۔ہر انسان جب کلمہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے ایمان کی شہادت دیتا ہے اور جنت کے بدلے اپنی جان ومال کا سودا کرتا ہے، اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کا غلام ہے اور اس کی جان ومال اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اب اس پر زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے۔ اس معاہدہ کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔اور نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کا ہے۔بعض اہل علم کے خیال ہے کہ رکوع سے پہلے والے قیام کی طرح رکوع کے بعد والے قیام میں بھی ہاتھ باندھے جائیں گے جبکہ بعض کا خیال ہےکہ رکوع کے بعد ہاتھ نہیں باندھے جائیں گے۔ زیر تبصرہ کتاب" القنوط والیأس لأھل الارسال من نیل الامانی وحصول الآمال " پاکستان کے معروف عالم دین علامہ سید ابو محمد بدیع الدین شاہ راشدی ﷫صدر جمعیت اہل حدیث سندھ کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کا موقف اختیار کیا ہے اور اس پر متعدد دلائل دئیے ہیں۔آپ کے اس موقف سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ،لیکن چونکہ یہ بھی ایک علمی وتحقیقی موقف ہے اس لئے قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے ،اس کے مخالف موقف پر بھی ایک دو کتب اپلوڈ کر دی ہیں تاکہ محققین دونوں کا موازنہ کرتے ہوئے کسی اجتہادی نتیجے پر پہنچ سکیں۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-page-alqaulussadeedfeemayataalqbitakbiraatuleid-copy
    عبد الرحمن مبارکپوری
    یہ کتاب دو ابواب پر مشتمل ہے جس میں سے پہلے باب میں صحیح اور مرفوع احادیث کو پیش کر کے عیدین کی بارہ تکبیرات کو ثابت کیا ہے اور دوسرے باب میں مصنف نے مسلک احناف کے موقف پر چند ایک اعتراضات کے ساتھ اس چیز کا ثبوت مانگا ہے کہ کیا عیدین کی چھ تکبیریں مرفوع اور صحیح احادیث سے ثابت ہیں- اور پھر آخر میں عیدین کی تکبیروں کے ساتھ رفع الیدین کیا جائے گا یا نہیں؟ اس کو وضاحت سے بیان کیا ہے-





  • title-pages-al-qoul-al-maqbol-fi-sharha-w-taleek-salatu-al-rasool
    عبد الروؤف بن عبد الحنان بن حکیم محمد اشرف سندھو
    نماز اسلام کےبنیادی ارکان میں سے ہے ۔یہ مسلمانوں کی اجتماعیت اور مرکزیت کی علامت  ہے۔آنحضرتﷺ نے اس رکن عظیم کی بنیاد پر کفر و اسلام کی حدود کھینچی  ہیں ۔اسے  مؤمن کی معنوی و روحانی معراج قرار دیاگیا ہے۔روز محشر اس فریضہ کی ادائیگی کی سب سے پہلے باز پرس کی جائےگی۔اس میں کوتاہی موجب ہلاکت  ہوگی۔اسی وجہ سے اس اہم ترین فریضہ کی ادائیگی پر آنحضرتﷺ نے پرزور تاکید فرمائی ہے۔اس حوالے سے ایک جامع اور آسان ترین طریقے سے رہنمائی کی ضرورت تھی ۔چنانچہ مولانا صادق سیالکوٹی صاحب  نے ایک عظیم کوشش کرتے ہوئے ’’ صلوۃ الرسول ‘‘ نامی کتاب تصنیف کی لیکن اس میں متعدد کوتاہیاں موجود تھیں اور اس کی تخریج موجود نہیں تھی ۔چناچہ اس کتاب  کی مزید تحقیق کرتے ہوئے  مولانا عبدالرؤف بن عبدالحنا ن نے  ’’ القول المقبول فی شرح وتعلیق صلوۃ الرسول ﷺ‘‘ نامی کتاب لکھ کر اس کی احادیث کی تخریج اور بعض مقامات پر علمی تعلیق پیش کر دی ہے ۔اللہ تعالی مؤلف محترم اور محقق صاحب کو اجر جزیل سے نوازے۔اور ان کی اس سعی جمیل کو توشہ آخرت بنائے۔آمین۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-al-kalima-al-kafia-fi-qirat-sorah-al-fatiha-copy
    قاری محمد اسماعیل اسد حافظ آبادی

    نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے کلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شبِ معراج کے موقع پر فرض کی گئی ،اور امت کو اس تحفہ خداوندی سے نوازا گیا۔اس کو دن اور رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔لیکن نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ فاتحہ خلف الامام کا ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی سورۃ الفاتحہ پڑھے گا یا نہیں پڑھے گا۔ہمارے علم کے مطابق فرض نفل سمیت ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ پڑھنا فرض اور واجب ہے،نمازی خواہ منفرد ہو،امام ہو یا مقتدی ہو۔کیونکہ سورۃ الفاتحہ نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اور اس کے بغیر نماز نامکمل رہتی ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے اس میں فاتحۃ الکتاب نہیں پڑھی۔دوسری جگہ فرمایا: “جس نے أم القرآن(یعنی سورۃ الفاتحہ)پڑھے بغیرنماز ادا کی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، نا مکمل ہے۔یہ احادیث اور اس معنی پر دلالت کرنے والی دیگر متعدد احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ پڑھنا واجب اور ضروری ہے۔ زیر نظر کتابچہ ’’ الکلمۃ الکافیۃ فی قراءۃسورۃ الفاتحۃ‘‘ مولانا حافظ قاری محمد اسماعیل اسد حافظ آبادی ﷫ کی کاوش ہے اس میں انہوں نے اختصار کےساتھ کتاب وسنت کی روشنی میں مسئلہ سورۃ فاتحہ خلف الامام کو ٹھوس دلائل کےساتھ پیش کیا ہے۔موصوف نے یہ کتابچہ ایک حنفی مولوی صاحب کے دعووں کے جواب میں تحریر فرمایا تھا جوانہوں نے عدم قر أت کے متعلق کیے تھے ۔ مقلدین کے طرف سے جو اعتراضات کیے جاتے ہیں ان اعتراضات وشکوک کے موصوف نے باحسن طریق جوابات دئیے ہیں ۔ اور مقلدین کے دلائل کو کتا ب وسنت ،تعاملِ صحابہ اور اقوال آئمہ کی روشنی میں تارِعنکبوت سے زیادہ کمزو ر ثابت کیا ہے ۔ الغرض یہ رسالہ مختصر ہونے کے باوجود مضمون کےلحاظ سے ایک بہت بڑی اہمیت کاحامل ہے ۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • title-page-anwarulmasabeehbajwabrakatetaraweeh-copy
    نذیر احمد رحمانی

    اس کتاب میں نہایت پرزور دلائل سے اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ تراویح کی آٹھ رکعتیں بلاشبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت اور محقق ہیں اور اس کے مقابلے میں بیس رکعت تراویح بسند صحیح نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور نہ خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم سے اور نہ اجماع امت سے۔ مؤلف "رکعات تراویح" نے اہل حدیث کے دلائل پر جتنے شبہات وارد کئے ہیں اور اپنے مزعومہ دعاوی کے ثبوت میں جتنی بھی دلیلیں پیش کی ہیں ان میں سے ایک بھی اصولِ حدیث اور فنِ رجال کی تحقیق کی رو سے قبولیت و استناد کے قابل نہیں۔

     

  • title-pages-ahmiyat-e-namaz-copy
    محمد علی جانباز

    نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن  کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔نماز مومن اور کافر میں فرق ہے۔ہر انسان جب کلمہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے ایمان کی شہادت دیتا ہے اور جنت کے بدلے اپنی جان ومال کا سودا کرتا ہے، اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کا غلام ہے اور اس کی جان ومال اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اب اس پر زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے۔ اس معاہدہ کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب وکتاب لیا جائے گا،اگر کوئی شخص اس میں کامیاب ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں کامیاب ہے اور اگر کوئی اس میں ناکام ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں ناکام ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" اہمیت نماز " پاکستان کے معروف اہل حدیث عالم دین مولانا محمد علی جانباز صاحب ﷫ کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نےنماز کی اہمیت وفضیلت اور مقام ومرتبے کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کرتے ہوئے بے نماز کے انجام اور عقاب کو بیان کیا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،اور تمام مسلمانوں کو نماز کا پابند بنائے۔آمین(راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 3686 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں