• pages-from-300-sawal-o-jawab-brae-miyaan-bevi
    مختلف اہل علم

    اسلام دینِ فطرت اور ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس طرح اس میں دیگر شعبہ ہائے حیات کی راہنمائی اور سعادت کے لیے واضح احکامات او رروشن تعلیمات موجود ہیں اسی طرح ازدواجی زندگی اور مرد وعورت کے باہمی تعلقات کےمتعلق بھی اس میں نہایت صریح اورمنصفانہ ہدایات بیان کی گئی ہیں۔ جن پر عمل پیرا ہوکر ایک شادی شدہ جوڑا خوش کن اورپُر لطف زندگی کا آغاز کر سکتاہے۔ کیونکہ یہ تعلیمات کسی انسانی فکر وارتقاء اورجدوجہد کانتیجہ نہیں بلکہ خالق کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہیں۔ جس نے مرد وعورت کے پیدا کیا اور ان کی فلاح و کامرانی کے لیے یہ ہدایات بیان فرمائیں۔ اکثر لوگ ازدواجی راحت و سکون کے حریص او رخواہشمند ہوتے ہیں لیکن اپنے خود ساختہ غلط طرزِ عمل اور قوانینِ شرعیہ سے غفلت کی بنا پر طرح طرح کی مشکلات اور مصائب کاشکار ہو کر اپنا سکون واطمینان غارت کرلیتے ہیں جس سے نہ صرف بذات خود وہ بلکہ ان کےاہل عیال اور کئی ایک خاندان پریشانیوں کا شکار ہوتے جاتے ہیں۔ ان ازدواجی مصائب اور خانگی مشکلات کے کئی اسباب و وسائل ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’300 سوال وجواب برائےمیاں بیوی‘‘ میں قرآن مجید اورصحیح احادیث کے پیش ِ نظر عالم ِ اسلام کے جید علماء اور نامور مفتیان کرام کے فتاویٰ کو جمع کیاگیا ہے۔ جس میں ازدواجی زندگی کے متعلقہ مسائل کاشافی حل اور ہرمشکل کا علاج موجود ہے۔ اس مجموعہ کی خصیوصیت یہ ہے کہ اس میں خالصتاً کتاب وسنت کی نصوص کو محل استدلال بنایا گیا ہے اور انہی کی روشنی میں پیش آمدہ مسائل کاجواب دیا گیا ہے۔ نیز اس مجموعے میں ازدواجی زندگی کےہر گوشے سے متعلقہ مختلف اور متنوع احکام ومسائل کو یکجا کردیا گیا ہے۔ لہٰذا ہر کوئی خواہ مرد ہو یا عورت اس سے استفادہ کرسکتاہے۔ ان اہم فتاویٰ جات کو عربی زبان سے اردو میں منتقل کافریضہ حافظ عبد اللہ سلیم ﷾ نے انجام دیا ہے۔ تاکہ اردو خواں حضرات بھی اس کتاب سے مستفید ہوسکیں۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کےناشر اورجملہ معاونین کی اس خدمت کو قبول فرمائے اوران کےلیے توشۂ آخرت بنائے۔ (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-477-sawal-o-jawab-brae-nikah-o-tlaaq
    محمد بن صالح العثیمین

    اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے   پور ی انسانیت کے لیے اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی مکمل راہنمائی فراہم کرتاہے انسانی زندگی میں پیش   آنے والے تمام معاملات ، عقائد وعبادات ، اخلاق وعادات کے   لیے نبی ﷺ کی ذات مبارکہ اسوۂ حسنہ کی صورت میں موجود ہے ۔مسلمانانِ عالم کو اپنےمعاملات کو نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق سرانجام دینے چاہیے ۔لیکن موجود دور میں مسلمان رسم ورواج اور خرافات میں   گھیرے ہوئے ہیں لوگوں کی اکثریت دیگر احکام ومسائل کی طرح فریضہ نکاح کے متعلقہ مسائل سے بھی اتنی غافل ہے کہ میاں   کو بیو ی کے حقوق علم نہیں ، بیوی   میاں کے حقوق سے ناواقف ہے ،ماں باپ تربیتِ اولاد سے نا آشنا اور اولاد مقامِ والدین سے نابلد ہے ۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ ودینی مسائل کی معرفت وففاہت حاصل کرے تاکہ وہ اپنی عبادات ومعاملات کوشریعت کے مطابق انجام دے سکے   ۔لیکن اگر اسے کسی مسئلے کی بابت شرعی حکم سے واقفیت نہیں ہے تو ایسے علماء سےدینی مسائل پوچھے جو کتاب وسنت کی نصوص پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی راہنمائی کر سکیں۔ زیر نظرکتاب ’’477 سوال وجواب برائے نکاح وطلاق‘‘ عالمِ اسلام کے نامور اور سربرآوردہ علماء کے   نکاح وطلاق کے حوالے سے جوابات پر مشتمل مجموعہ ہے ۔اس میں نکاح وطلاق کے موضوع پر فتاویٰ جات جمع کیے گئے ہیں ،جواس موضوع کی تمام جزئیات او ر نواحی کا احاطہ کیے ہوئے ہیں ۔اس مجموعے کو   محترم مولانا محمدیاسر﷾ نےاردو زبان ی میں منتقل کیا ہے۔ شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر﷫ کے برادرِخور محترم عابد الٰہی ﷾ نے اپنے ادارے (مکتبہ بیت السلام ) کی طرف سے طباعت کے اعلی معیار پر شائع کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو تیار کرنے والے اور ناشرین کے لیے ان کی دنیوی واخروی فوز وفلاح کاضامن اور جنت میں بلندیِ درجات کا باعث بنائے (آمین) (م۔ا)

  • untitled-1
    زیر تبصرہ کتاب زندگی کے اہم ترین گوشے شادی سے متعلق ترتیب دی گئی ہے۔ محترمہ ام منیب نے نہایت سادہ انداز میں منگنی ، نکاح و رخصتی کے تمام تر معاملات کا کتاب و سنت کی روشنی میں جائزہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے نکاح کی شرائط کا تذکرہ کرتے ہوئے نکاح میں کی جانے والی بعض رسومات بد کا شدو مد کے ساتھ رد کیا ہے۔ کچھ صفحات مثالی گھرانے کی صفات کے لیے مختص ہیں۔ اس کے علاوہ طلاق کے بعض مسائل پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-ahkaam-e-bai
    ڈاکٹر محمد طاہر منصوری

    اسلام کی نگاہ میں انسان کا مال اسی طرح محترم ومقدس ہے جس طرح اس کی جان اور عزت وآبرومقدس ہیں۔اسلام دوسروں کا مال ناجائز طریقے سےکھانے کی سختی سے ممانعت کرتا ہے اور باہمی رضا مندی سے طے پانے والے معاہدۂ خریدوفروخت کو حصولِ مال کا ایک جائز وسیلہ قرار دیتا ہے۔قرآن وسنت سےمستنبط فقہ اسلامی کے ذخیرے میں جائز وناجائز مالی معاملات پر تفصیلی گفتگو ملتی ہے ۔ فقہائے کرام نے کسب مال کے جو جائز ذرائع بیان کیے ہیں ، ان میں معاہدۂ بیع وشراء ،ہبہ ،وصیت اور وراثت وغیرہ شامل ہیں۔ زیر نظر کتاب’’ احکام بیع ‘‘ جناب طاہر منصور ی صاحب کی کاوش ہے ۔اس کتاب میں انہو ں نے   بیع سے متعلق اہم احکام فقہائے کرام کے اقوال کی روشنی میں بیان کیے ہیں ۔مصنف نے کتاب کا مواد فقہ کی بنیادی اورمستند کتابوں سے لیا ہے۔ عربی اقتباسات کواردو میں منتقل کرتے ہوئےکوش کی گئی ہے کہ ترجمہ کی زبان رواں، سادہ، سہل او رعام فہم ہو اور اس کے ساتھ ہی مختلف مسائل پر فقہاء کا نقطۂ نظر ممکنہ صحت واحتیاط کے ساتھ نقل کیا جائے ۔ابواب کی ترتیب میں اسلامی قانون معاہدہ کی معاصر کتابوں کامنہج سامنے رکھا گیا ہے اورمعاہدۂ بیع کی اقسام اور اس کےارکان وشرائط ایک منطقی ترتیب کےساتھ بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔نیزکتاب کے آخر میں ان تمام فقہی اصطلاحات کی تشریح کی گئی ہے جوکتاب میں استعمال ہوئی ہیں۔یہ کتاب اسلامی قانون تجارت سے دلچسپی رکھنے والے افراد کےلیے ایک مفید علمی کوشش ہے۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔ آمین(م۔ ا)

  • title-pages-ahkam-e-waqaf-copy
    غلام عبد الحق محمد

    اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جس نے انسانوں کے سامنے ''فلاح دارین'' یعنی دونوں جہانوں کی کامیابی و کامرانی کا نظریہ بھرپور اور جامع طریقہ سے پیش کیا ہے ، اسی لئے اسلام میں جہاں عاقبت سنوارنے اور اس میں کامیابی حاصل کرنے کے طریقے سکھائے گئے ہیں وہاں موجودہ زندگی میں بھی کامیابی و ترقی حاصل کرنے کے زریں اُصول بیان کئے گئے ہیں۔اوقاف کا نظام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے ذریعہ معاشرے کی کمزوریوں کی اصلاح کرکے اسے توانائی بہم پہنچائی گئی ہے اور یوں ایک سبق دیا گیا ہے کہ ''چلو تو زمانے کو ساتھ لے کے چلو'' نظام اوقاف سے جس طرح انسانوں کی دینی اور مذہبی ضروریات پوری ہوتی ہیں(مثلاً مساجد، مدارس اور خانقاہیں وغیرہ تعمیر ہوتی ہیں) اسی طرح اوقاف سے انسانوں کی طبعی و معاشی ضروریات کی بھی کفالت ہوتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " احکام وقف"محترم غلام عبد الحق محمد صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے وقف کے حوالے سے اسلامی احکام کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے مختلف مسالک کے موقف کی وضاحت کی ہے۔یہ اپنے موضوع پر ایک منفر داور شاندار تصنیف ہے اور وقف سے متعلقہ تمام امور پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-islam-aur-nasli-imtiaz
    ڈاکٹر خالد علوی

    نسلی و قومی امتیاز کے تصورات دنیا کی ہر قوم میں پائے جاتے ہیں۔ ہر کوئی اپنی قوم، اپنے رنگ، اپنی نسل اور اپنے نظریے کو دوسروں سے برتر سمجھتا ہے۔ وہ یہ خیال کرتا ہے کہ برتری صرف اس کے ہاں پائی جاتی ہے اور باقی سب کمتر ہیں۔ یہی تفاخر اور غرورآگے چل کر نفرتوں، چپقلشوں ، مقابلوں اور جنگوں کی صورت اختیار کر جاتا ہے جن کے نتیجے میں دنیا کا امن برباد ہوتا ہے۔ زیادہ دور کیوں جائیے، ابھی پچاس سال پہلے ہی اسی نسلی غرور کے نتیجے میں ہونے والی جنگ کو یاد کیجئے جس کے نتیجے میں کروڑوں انسان لقمہ اجل بن گئے تھے۔ صرف یہ خیال نہ کیجئے کہ یہ غرور صرف غیرمسلموں کے ہاں ہی پایا جاتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ مسلمان بھی اس باطل تصور کا اتنا ہی شکار ہوئے ہیں جتنا کہ دوسری اقوام۔ ایسا کیوں ہے؟حالانکہ اسلام نے ان امتیازات کا خاتمہ کیا ہے اور تمام مسلمانوں کو مساوات کا درس دیا ہے۔ نبی کریمﷺ نے اپنے مشہور خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا: ’’تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا تھا۔ اے لوگو! سنو تمہارا رب ایک رب ہے، کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں اور نہ ہی کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت ہے۔ نہ کوئی کالا کسی گورے سے بہتر ہے اور نہ گورا کالے سے۔ فضیلت صرف اور صرف تقویٰ کے سبب ہے۔‘‘ زیر تبصرہ کتاب "اسلام اور نسلی امتیاز" پروفیسر ڈاکٹر خالد علوی صاحب کی تصنیف ہے، جسے انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی دعوہ اکیڈمی نے شائع کیا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے نسلی امتیاز کو فروغ اسلام کی راہ میں ایک رکاوٹ قرار دیا ہے اور اسے خلاف اسلام ثابت کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس عظیم خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • title-pages-islam-ka-qanone-talaq
    ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد
    اسلامی  خاندان کی ابتداء ’نکاح ‘ سے ہوتی ہے ۔ جس میں منسلک ہوجانے کے بعدایک مسلمان مرد اور عورت ایک دوسرے کے زندگی بھر کے ساتھی بن جاتےہیں ۔ ان کا باہمی تعلق اِس قدر لطیف ہوتا ہے کہ قرآن مجید نے دونوں کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے ۔’نکاح ‘ کے ذریعے ان دونوں کے درمیان ایک مقدس رشتہ قائم ہو جاتا ہے ۔ ان کے مابین پاکیزہ محبت اور حقیقی الفت پر مبنی ایک عظیم رشتہ معرضِ وجود میں آجاتا ہے ۔ اور  وہ مفادات سے بالا تر ہوکر ایک دوسرے کے دکھ درد کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک کی خوشی دوسرے کی خوشی اور ایک کی تکلیف دوسرے کی تکلیف شمار  ہوتی ہے ۔ وہ ایک دوسرے کے ہمدرد وغم گساربن کر باہم مل کر زندگی کی گاڑی کو کھینچتے رہتے ہیں ۔ مرد اپنی جدوجہد کے ذریعے پیسہ کما کراپنی ، اپنی شریک حیات اور اپنے بچوں کی ضرورتوں کا کفیل ہوتا ہے ۔ اور بیوی گھریلو امور کی ذمہ دار ، اپنے خاوند کی خدمت گذار اور اسے سکون فراہم کرنے اور بچوں کی پرورش کرنے جیسے اہم فرائض ادا  کرتی ہے ۔تاہم بعض اوقات یہ عظیم رشتہ مکدر ہو جاتاہے ، اس میں دراڑیں پڑجاتی ہیں، اور الفت ومحبت کی جگہ نفرت وکدورت آجاتی ہے ۔اور معاملات اس قدر بگڑ جاتے ہیں کہ طلاق تک کی نوبت آجاتی ہے۔ اس کتاب میں ’طلاق ‘ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے اسباب کو تلاش کرنے اور ان کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ اسلام کے قانونِ طلاق کو قرآن وحدیث کی روشنی میں واضح کرنے کی سعی بھی کی گئی ہے تاکہ اس کا ناجائز استعمال روکا جا سکے اوراسے اس کی شرعی حدود میں ہی استعمال کیا جاسکے ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں پاکیزہ اورخوشگوار ازدواجی زندگی نصیب کرے اور ہم سب کو دنیا وآخرت کی ہر بھلائی عطا کرے ۔ آمین(ک۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-islam-main-hijrat-ka-maqam-copy
    سید نصیب علی شاہ الہاشمی

    دین اسلام خلوص اور وفا داری کا نام ہے۔اور معاشرتی زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت وتعاون کا درس دیتا ہے۔تاکہ ایک دوسرے کے خیر اور غمخواری میں شرکت ہو سکے۔اس کے بغیر ایمان کو نامکمل قرار دیا گیا ہے۔نبی کریم ﷺ کے ارشادات مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے لئے بھی وہی پسند کرے جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے،ورنہ اس کا ایمان مکمل نہیں ہے۔یہ خصوصیات اسلام کے علاوہ کسی دوسرے مذہب میں موجود نہیں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلام میں ہجرت کا مقام "سید نصیب علی شاہ ہاشمی صاحب  کی تصنیف ہے۔جو  افغان روس جنگ کے زمانے میں لکھی گئی۔جب روس نے ظالمانہ طریقے سے افغانستان پر قبضہ کر لیا اور وہاں کے مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ دئیے۔مسلمانوں نے اپنی عزت وآبرو اور جان ومال کو بچانے کی خاطر افغانستان سے ملحقہ ممالک کی طرف ہجرت کرنا شروع کردی۔تاکہ روس کے ظلم وستم سے بچ سکیں۔جب مہاجرین کی تعداد بڑھنے لگی تو اس سے مختلف مسائل پیدا ہونا شروع ہوگئے اور بعض لوگوں نے ان بے بس  مہاجرین کی واپسی کی رٹ لگانا شروع کر دی۔چنانچہ اہل علم نے لوگوں کو سمجھانا شروع کیا کہ وہ بھی آپ کے مسلمان بھائی ہیں جن کی مدد کرنا آپ پر فرض ہے۔ یہ کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-islam-ka-qanoon-e-arazi-copy
    نصرت علی اثیر

    زراعت اور انسان کا رشتہ آفرینش انسانی سے شروع ہو جاتا ہے۔اگر غور کیا جائے تو لا تقربا من ھذہ الشجرۃ کا اشارہ اس طرف ہے کہ زراعت کی طرف رغبت انسانی فطرت میں شدت کے ساتھ موجود ہے اور مطلوب یہ ہے کہ زراعت کی یہ شدید رغبت دائرہ رضا الہی کے اندر محدود رہے۔یہ آیت انسانی تاریخ میں زراعت اور شجر کاری کا تعین بھی کرتی ہے۔یعنی انسان کے وجود میں آنے سے پہلے درخت موجود تھا۔گویا انسان نے جو سب سے پہلا مشاہدہ کیا وہ زمین کے روئیدگی کے عمل کا مشاہدہ تھا۔انسان کی جسمانی بقاء کا دارومدار بھی کلی طور پر زراعت پر ہے۔کیونکہ جسمانی بقاء کے لئے نباتات از بس ضروری ہیں۔انسان آج کے دور کا ہو یا قبل از تاریخ کا کسی نہ کسی طرح زراعت سے وابستہ ضرور رہتا ہے۔انبیاء کرام علیھم السلام کی تعلیمات میں زراعت کے بارے میں واضح تعلیمات موجود ہیں۔پاکستان بننے کے بعد زراعت میں بھی کچھ نئے مسائل پیدا ہوئے ،مثلا متحدہ ہندوستان میں مسلم ملکیت کی زمینوں کے بارے میں الجھن تھی کہ یہ خراجی ہیں یا عشری؟ زیر تبصرہ کتاب " اسلام کا قانون اراضی "محترم نصرت علی اثیر صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے عشر کے انہی مسائل کااسلامی  حل بیان کیا ہے۔یہ کتاب مرکز تحقیق دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری کے زیر اہتمام تیار کی گئی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-islami-mashiyaat
    عبد الحمید ڈار

    اسلامی معاشیات ایک ایسا مضمون ہے جس میں معاشیات کے اصولوں اور نظریات کا اسلامی نقطہ نظر سے مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک اسلامی معاشرہ میں معیشت کس طرح چل سکتی ہے۔ موجودہ زمانے میں اس مضمون کے بنیادی موضوعات میں یہ بات شامل ہے کہ موجودہ معاشی قوتوں اور اداروں کو اسلامی اصولوں کے مطابق کس طرح چلایا جا سکتا ہے مثلاً بینکاری کو اسلامی بنیادوں میں کیسے ڈھالا جاسکتا ہے یا موجودہ نظامِ سود کو کیسے تبدیل کیا جائے جس سے سود کے بغیر ادارے، کاروبار اور معیشت چلتی رہے۔ اسلامی معیشت کے بنیادی ستونوں میں زکوٰۃ، خمس، جزیہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس میں یہ تصور بھی موجود ہے کہ اگر صارف (Consumer) یا پیداکار(Producer) اسلامی ذہن رکھتے ہوں تو ان کا بنیادی مقصد صرف اس دنیا میں منافع کمانا نہیں ہوگا بلکہ وہ اپنے فیصلوں اور رویوں میں آخرت کو بھی مدنظر رکھیں گے۔ اس سے صارف اور پیداکار کا رویہ ایک مادی مغربی معاشرہ کے رویوں سے مختلف ہوگا اور معاشی امکانات کے مختلف نتائج برامد ہوں گے۔ اسلامی معاشی اصولوں پر مبنی بےشمار بنک آج کے دور میں بہترین منافع کے ساتھ مختلف ممالک میں کامیابی سے چل رہے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلامی معاشیات" پروفیسر عبد الحمید ڈار اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور،پروفیسر محمد عظمت گورنمنٹ کالج لاہور اور پروفیسر میاں محمد اکرم صاحب گورنمنٹ سائنس کالج وحدت روڈ لاہور کی مشترکہ کاوش ہے۔ جو ان حضرات نے ایم اے اسلامیات کے طلباء کی ضروریات کو سامنے رکھ کر مرتب کی ہے۔ اور اسلامی معاشیات کے اصول وضوابط بیان کئے ہیں۔اسلامی معاشیات کے میدان میں یہ ابتدائی مرحلے کاکام ہے، اس لئے فطری طور پر اس کے مباحث میں تنقید وتنقیح کا وسیع امکان موجود ہے۔جس کے لئے اہل علم کو آگے بڑھنا ہو گا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولفین کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • pages-from-al-aawaan-ul-najiah-fi-sharha-ul-faraiz-ul-siraajiah-urdu
    محمد محفوظ اعوان

    فوت ہونے والا شخص اپنےپیچھے جو اپنا مال، زمین،زیور وغیرہ چھوڑ جاتاہے اسے ترکہ ،وراثت یا ورثہ کہتے ہیں۔ کسی مرنے والے مرد یا عورت کی اشیاء اور وسائلِ آمدن وغیرہ کےبارے یہ بحث کہ کب ،کس حالت میں کس وارث کو کتنا ملتا ہے شرعی اصلاح میں اسے علم الفرائض کہتے ہیں۔ علم الفرائض (اسلامی قانون وراثت) اسلام میں ایک نہایت اہم مقام رکھتا ہے۔ قرآن مجید نے فرائض کےجاری نہ کرنے پر سخت عذاب سے ڈرایا ہے۔ چونکہ احکام وراثت کاتعلق براہ راست روز مرہ کی عملی زندگی کے نہایت اہم پہلو سے ہے ۔ اس لیے نبی اکرمﷺ نے بھی صحابہ کواس علم کے طرف خصوصاً توجہ دلائی اور اسے دین کا نہایت ضروری جزء قرار دیا۔ صحابہ کرام میں سیدنا علی ابن ابی طالب، سیدنا عبد اللہ بن عباس، سیدنا عبد اللہ بن مسعود، سیدنا زید بن ثابت ﷢ کا علم الفراض کے ماہرین میں شمار ہوتا ہے۔ صحابہ کے بعد زمانےکی ضروریات نے دیگر علوم شرعیہ کی طرح اس علم کی تدوین پر بھی فقہاء کومتوجہ کیا۔ انہوں نے اسے فن کی حیثیت دی اس کے لیے خاص زبان اور اصلاحات وضع کیں اور اس کے ایک ایک شعبہ پر قرآن وسنت کی روشنی میں غورو فکر کر کے تفصیلی و جزئی قواعد مستخرج کیے۔ اہل علم نے اس علم کے متعلق مستقل کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’الاعوان الناجیۃ فی شرح الفرائض السراجیۃ‘‘ مولانا ابو میمون محمدمحفوظ اعوان کی تصنیف ہے ۔مصنف نے موصوف نے اس کتاب میں مدارس دینیہ کے نصاب میں وراثت کے موضوع پر شامل معروف کتاب ’’سراجی ‘‘ کی تسہیل وتشریح اور تمام مسائل کو مثالوں سے عملی طور پر حل کرکے اردودان علم وراثت میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے انتہائی آسان کر دیا ہے۔ یہ کتاب علم میراث پڑہنے والے طلباء کےلیے انتہائی عمدہ کاوش ہے۔ اللہ تعالیٰ مؤلف کے علم وعمل میں برکت فرمائے اور ان کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے۔ (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-al-bayan-ul-muhkam-bajawaab-ek-majlis-ki-teen-tlaaq-shari-hukam
    حافظ عبد الغفور

    خاندان اسلامی معاشرے کی ایک بنیادی اکائی شمار ہوتا ہے۔ اگر خاندان کا ادارہ مضبوط ہو گا تو اس پر قائم اسلامی معاشرہ بھی قوی اورمستحکم ہو گا اور اگر خاندان کا ادارہ ہی کمزور ہو تو اس پر قائم معاشرہ بھی کمزور ہو گا۔نکاح وطلاق خاندان کے قیام و انتشار کے دو پہلو ہیں۔ شریعت اسلامیہ میں نکاح وطلاق کے مسائل کو تفصیل سے بیان کیا گیاہے۔ پاکستان میں فقہ حنفی اور اہل الحدیث کے نام سے دو مکاتب فکر پائے جاتے ہیں۔ یہ ایک امر واقعہ ہے کہ فقہ حنفی میں نکاح وطلاق کے اکثر مسائل شریعتِ اسلامیہ کی صریح نصوص کے خلاف تو ہیں ہی، علاوہ ازیں عقل ومنطق سے بھی بالاتر ہیں جیسا کہ بغیر ولی کے نکاح کو جائز قرار دینا، پہلے سے طے شدہ حلالہ کو جائز قرار دینا، مفقود الخبر کی بیوی کا تقریبا ایک صدی تک اپنے شوہر کا انتظار کرنا، عورت کا خاوند کے طلاق دیے بغیر خلع حاصل نہ کر سکنا اورایک مجلس کی تین طلاقوں کوتین شمار کرنا وغیرہ۔ ایک مجلس کی تین طلاقوں کا مسئلہ ایک معرکۃ الآراء مسئلہ ہے۔احناف کے نزدیک مجلس واحد میں تين مرتبہ کہا گیا لفظ طلاق موثر سمجھا جاتا ہے جس کے بعد زوجین کے درمیان مستقل علیحدگی کرا دی جاتی ہے اور پھر اس کے بعد ان کو اکٹھا ہونے کے لیے ایک حل دیا جاتا ہے جس کا نام حلالہ ہے۔ ایک شرعی چیز کو غیر شرعی چیز کے ذریعے حلال کرنے کا ایک غیر شرعی اور ناجائز طریقہ ہے جس کو اب احناف بھی تسلیم کرنے سے عاری ہیں اور ایسے مسائل کے لیے پھر ایسے لوگوں کی طرف رجو ع کیا جاتا ہے جو اس غیر شرعی امر کو حرام سمجھتے ہیں۔اب تو اسلامی نظریاتی کونسل ، اور دعوہ اکیڈمی اسلام آباد نےبھی ایک مجلس میں تین طلاقوں کو ایک طلاق قراردینے کا فتویٰ صادر کیا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ البیان المحکم بجواب ایک مجلس کی تین طلاق کی شرعی حیثیت‘‘ مولانا ابو معاویہ حافظ عبد الغفور کی کاوش ہے جو دراصل ایک حنفی عالم دین کی کتاب ’’ایک مجلس کی تین طلاق کا شرعی حکم کے جواب میں تحریر کی گئی ہے۔کتاب کا انداز عام فہم اور محققانہ ہے۔ طوالت وتفصیل کی بجائے اختصار وجامعیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے زیر بحث مسئلے پر اساسی دلائل پیش کیے ہیں۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاو ش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • title-al-zawaaj
    رضیہ مدنی

    اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے پور ی انسانیت کے لیے اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی مکمل راہنمائی فراہم کرتاہے انسانی زندگی میں پیش آنے والے تمام معاملات، عقائد وعبادات ، اخلاق وعادات کے لیے نبی ﷺ کی ذات مبارکہ اسوۂ حسنہ کی صورت میں موجود ہے ۔مسلمانانِ عالم کو اپنےمعاملات کو نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق سرانجام دینے چاہیے۔ لیکن موجود دور میں مسلمان رسم ورواج اور خرافات میں گھیرے ہوئے ہیں بالخصوص برصغیر پاک وہند میں شادی بیاہ کے موقع پر بہت سے رسمیں اداکی جاتی ہیں جن کاشریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور ان رسومات میں بہت زیادہ فضول خرچی اور اسراف سے کا م لیا جاتا ہے جوکہ صریحاً اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ ان مواقع پر تمام رسوم تو ادا کی جاتی ہیں۔ لیکن لوگوں کی اکثریت فریضہ نکاح کے متعلقہ مسائل سے اتنی غافل ہے کہ میاں کو بیو ی کے حقوق کا علم نہیں، بیوی میاں کے حقوق سے ناواقف ہے ،ماں باپ تربیتِ اولاد سے نا آشنا اور اولاد مقامِ والدین سے نابلد ہے۔ اسلام نے شادی کو فریقین کے درمیان محبت اور رحمت قرار دیا ہے اور شادی بیاہ کے معاملات کو اس قدر آسان بنایا ہے کہ اگر ان پر عمل کیاجائے تو والدین کو اپنی جوان بچیوں اور بچوں کی شادی کے معاملے پریشانی ومسائل کا سامنانہ کرنا پڑے۔ لیکن موجو دہ رسم ورواج نے شادی کے آسان کام کو مشکل ترین بنادیا ہے۔ جس کی وجہ سے نہ جانے کتنے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں غلط راستہ اختیار کرتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’الزواج‘‘ محترمہ رضیہ مدنی صاحبہ کے شادی بیاہ اور حقوق الزوجین کے موضو ع پراسلامک انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام   طالبات وخواتین کو دئیے گئے لیکچرز کی کتابی صورت ہے۔ خواتین کے شدید مطالبہ پر محترمہ کے ان لیکچرز کو اسلامک انسٹی کی ایک استاد عفیفہ بٹ صاحبہ نے بڑی محنت سے مرتب کیا ہے ۔مصنفہ نے اس میں نکاح کی اہمیت، رشتے کا انتخاب، شروطِ نکاح، مسنون نکاح،نکاح کے موقع پر رسم ورواج کی حقیقت، زوجین کے حقوق وفرائض وغیرہ جیسے موضوعات کو آیات قرآنی اوراحادیث صحیحہ کی روشنی میں عام فہم انداز میں میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب خواتین کے لیے بیش قیمت تحفہ ہے اورشادی کے موقعہ پر دوست احباب کو دینے کے لیے بہترین گفٹ ہے۔ کتاب ہذا کی مصنفہ مفسر ِقرآن مولانا عبدالرحمن کیلانی ﷫ کی دختر اور معروف عالم دین مولانا حافظ عبدالرحمن مدنی﷾(مدیر اعلیٰ ماہنامہ محدث مدیر جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور ) کی زوجہ اور ڈاکٹر حافظ حسن مدنی ،ڈاکٹر حافظ حسین ازہر ،ڈاکٹر حافظ انس نضر، ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی حفظہم اللہ کی والدہ محترمہ ہیں۔موصوفہ طویل عرصہ سے ’’اسلامک انسٹی ٹیوٹ ‘‘ کی سرپرستی کےفرائض انجام دے رہی ہیں۔ اسلامک انسٹی ٹیوٹ محترمہ کی زیرنگرانی   لاہور میں تقرییا پچیس سال سے خواتین وطالبات کی تعلیم وتربیت کا اہتمام کر رہا ہے ۔لاہور اور اس کےگرد ونواح میں اس کی متعددشاخیں موجود ہیں۔ اب تک سیکڑوں خواتین وطالبات اس سے اسناد فراغت حاصل کرکے دعوت دین کے کاموں میں مصروف عمل ہیں۔ اللہ تعالیٰ محترمہ کےعمل وعمل میں اضافہ فرمائے اور ان کی دعوتی وتدریسی خدمات کو شرف ِقبولیت سے نوازے اور اس کتاب کو خواتینِ اسلام کے لیے نفع بخش بنائے (آمین)

  • teentalaqmajmooamaqalatilmiaconference1-copy
    عطاء اللہ حنیف بھوجیانی
    یہ مجموعہ مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی نے تیار کیا ہے جو اصل میں ایک سیمینار کی روداد ہے جو کہ ہندوستان کے مشہور شہر احمد آباد میں نومبر1973میں طلاق ثلاثہ کے حوالے سے ہی منعقد کیا گیا تھا جس میں مختلف مکاتب فکر کے جید علمائے کرام نے شرکت کی اور اس حساس موضوع پر اپنے اپنے خیالات کا مقالہ جات کی روشنی میں اظہار کیا ہے-جس کو بعد میں کتابی شکل دے کر مزید اضافہ جات کے ساتھ پیش کیا گیا ہے-اس میں طلاق ثلاثہ کے حوالے سے مفصل بحث کی گئی ہے اورطلاق ثلاثہ سے متعلق بعد میں علماء کی ایک متفقہ رائے کو بھی پیش کیا گیا ہے-ایک سوالنامہ بنا کر علماء کی خدمت میں پیش کیا گیا جس پر انہوں نے اپنے اپنے مقالے تصنیف کیے-زیر بحث چیزیں طلاق کا طریقہ،مسنون طلاق،طلاق ثلاثہ کا طریقہ،اور غیر شرعی طلاق ثلاثہ کا طریقہ،غصے کی حالت میں دی گئی طلاق کا واقع ہونایا نہ ہونا اور اس کے علاوہ طلاق سے متعلقہ بے شمار مسائل کو بیان کیا گیا ہے-

  • aikmajliskiteentalaqkishareehaisiat2-copy
    عبد الرحمن کیلانی
    ایک مجلس کی تین طلاقوں کا مسئلہ ایک معرکۃ الآراء مسئلہ ہے –احناف  کے نزدیک مجلس واحد میں تين مرتبه کہا گیا  لفظ طلاق موثر سمجھا جاتا ہے جس کے بعد زوجین کے درمیان مستقل علیحدگی کرا دی جاتی ہے اور پھر اس کے بعد ان کو اکٹھا ہونے کے لیے ایک حل دیا جاتا ہے جس کا نام حلالہ ہے-ایک شرعی چیز کو غیر شرعی چیز کے ذریعے حلال کرنے کا ایک غیر شرعی اور ناجائز طریقہ ہے جس کو اب احناف بھی تسلیم کرنے سے عاری ہیں اور ایسے مسائل کے لیے پھر ایسے لوگوں کی طرف رجو ع کیا جاتا ہے جو اس غیر شرعی امر کو حرام سمجھتے ہیں-مصنف نے اس کتاب میں طلاق کے حوالے سے تمام مسائل کو بالدلائل واضح کر دیا ہے جس پر کوئی عالم بھی قدغن نہیں لگا سکتا-جس میں رسول اللہﷺکے دور میں طلاق کی صورت،مجلس واحد میںتین طلاقوں کا حکم، بعد میں صحابہ کرام کا عمل اور حضرت عمر کے بارے میں بیان کیے جانے والے مختلف واقعات کی اصلیت کی نشاندہی اور مجلس واحد کی تین طلاقوں کے موثر ہونے کے دلائل کی وضاحت کرتے ہوئے قرآن وسنت کی روشنی میں ان کا جواب تحریر کیا گیا ہے-تطلیق ثلاثہ کے بارے میں پائے جانے والے چار گروہوں کا تذکرہ،انکار اور تسلیم کرنے والے علماء کے دلائل کا تذکرہ،تطلیق ثلاثہ سے متعلق  ایک سوال کی وضاحت،مسائل میں باہمی اختلاف کی شدت کی وجہ تقلید کو بھی بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے-

  • title-pages-bank-ka-sood-iqtasadi-aur-sharie-nukta-nazar-copy
    ڈاکٹر محمد علی القری

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے،جس میں تجارت سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے حوالے سے مکمل راہنمائی موجود ہے۔اسلام   تجارت کے ان طور طریقوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ،جس میں بائع اور مشتری دونوں میں سے کسی کو بھی دھوکہ نہ ہو ،اور ایسے طریقوں سے منع کرتا ہے جن میں کسی کے دھوکہ ،فریب یا فراڈ ہونے کا اندیشہ ہو۔یہی وجہ ہے اسلام نے تجارت کے جن جن طریقوں سے منع کیا ہے ،ان میں خسارہ ،دھوکہ اور فراڈ کا خدشہ پایا جاتا ہے۔اسلام کے یہ عظیم الشان تجارتی اصول درحقیقت ہمارے ہی فائدے کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔سود کو عربی زبان میں ”ربا“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنی زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ : ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دین اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت اسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔" جولوگ سود کھاتے ہیں وہ یوں کھڑے ہوں گے جیسے شیطان نے کسی شخص کو چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو ۔اس کی وجہ ان کا یہ قول ہے کہ تجارت بھی تو آخر سود کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام۔ اب جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچ گئی اور وہ سود سے رک جائے تو پہلے جو سود کھا چکا اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے مگر جو پھر بھی سود کھائے تو یہی لوگ دوزخی ہیں ، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کی پرورش کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے بندے کو پسند نہیں کرتا ۔ زیر تبصرہ کتاب'' بنک کا سود،اقتصادی اور شرعی نقطہ نظر "جامعہ ملک عبد العزیز سعودی عرب  کے معاشیات کے پروفیسر محترم ڈاکٹر محمد علی القری کی عربی تصنیف  ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم عتیق الظفر صاحب نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو سود جیسی لعنت سے چھٹکارا عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-bahu-aur-damaad-par-susraal-key-haqooq
    ام عبد منیب

    اسلام کے معاشرتی نظام میں خاندان کواساسی حیثیت حاصل ہے ۔خاندان کااستحکام ہی تمدن کے کےاستحکام کی علامت ہے ۔ یہی وجہ ہےکہ اسلام کے نصابِ حیات قرآن وحدیث میں خاندان کی تشکیل وتعمیر کے لیے واضح احکام وہدایات ملتی ہیں۔ قرآنِ پاک میں سورۃ النساء اسی موضوع کی نمائندگی کرتی ہے ۔ نکاح وہ تقریب ِ باوقار ہے جس سےخاندان کےاساسی ارکان مرد وعورت کےسسرال کارشتہ ظہور میں آتاہے۔اسلام انسانی رشتوں میں باہمی محبت،احترام،وفا،خلوص،ہمدردی، ایثار ،عدل،احسان، اور باہمی تعاون کادرس دیتا ہے میکے ہوں یا سسرال دونوں اپنی جگہ محترم ہیں دونوں اانسان کی بنیادی ضرورت نکاح کےاظہار کا نام ہیں ۔دونوں ہر گھر کی تنظیمی عمارت کابنیادی ستون ہیں۔مرد وعورت پر سسرال کے حقوق کی ادائیگی اسی طرح یکساں فرض ہے جس طرح ان دونوں کی اپنی ذات کے حقوق ایک دوسرے پر یکساں فرض ہیں اگر دونوں میں سے کوئی ایک چاہتا ہے کہ اس کاشریکِ زندگی اس کے اقربا سے اچھا سلوک کرے تو اپنے زوج کے اقرباء سےاچھا سلوک کرنا اس کا اپنا بھی فرض ہے۔ زیر نظر کتابچہ’’بہو اور دماد پر سسرال کے حقوق‘‘محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تحریر ہے۔اس میں انہوں نے قرآن وحدیث سےسسرال کے حقوق وفرائض کے بارے میں جو تفصیلات یا اشارات ملتے ہیں ان کو یک جا کرنے کی کوشش ہے۔ تاکہ وہ مربو شکل میں سامننے آجائیں ۔قرآن وحدیث وہ پیمانہ ہےجس پر ہم اپنی زندگی کی عمارت استوار کرنے کے پاپند ہیں۔اللہ تعالیٰ مصنفہ کی کاوش کو قبول فرمائے اور عوام الناس کے لیے فائدہ مند بنائے۔آمین (م۔ا)

  • title-pages-tuhfa-nikah-sawalan-jawaban-quran-w-hadith-ki-roshni-main-copy
    ابو عبیدہ ولید بن محمد

    اسلام  ایک مکمل  ضابطۂ حیات  ہے  پور ی انسانیت کے لیے  اسلامی تعلیمات کے  مطابق  زندگی  بسر کرنے کی  مکمل راہنمائی فراہم کرتاہے  انسانی  زندگی میں  پیش  آنے  والے تمام معاملات ، عقائد وعبادات ، اخلاق وعادات  کے  لیے  نبی ﷺ کی  ذات مبارکہ  اسوۂ حسنہ کی صورت میں موجود ہے  ۔مسلمانانِ عالم کو اپنےمعاملات کو  نبی کریم ﷺ کے بتائے  ہوئے طریقے  کے مطابق سرانجام  دینے چاہیے ۔لیکن موجود دور میں  مسلمان رسم ورواج اور خرافات میں  گھیرے  ہوئے  ہیں  بالخصوص  برصغیر پاک وہند میں  شادی  بیاہ کے  موقع پر  بہت سے رسمیں اداکی جاتی ہیں جن کاشریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں  اور ان  رسومات میں بہت  زیادہ  فضول خرچی اور اسراف  سے  کا م لیا  جاتا ہے  جوکہ صریحاً اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔ ان  مواقع پر  تمام  رسوم تو ادا کی جاتی  ہیں  ۔لیکن  لوگوں کی اکثریت  فریضہ  نکاح کے  متعلقہ مسائل  سے  اتنی غافل ہے  کہ میاں  کو بیو ی کے حقوق  علم نہیں ،  بیوی  میاں  کے حقوق  سے ناواقف ہے ،ماں باپ تربیتِ اولاد سے نا آشنا اور اولاد مقامِ والدین سے  نابلد ہے ۔ زیر نظر کتابچہ ’’تحفہ نکاح سوالاً جواباً‘‘  فضیلۃ الشیخ  ابو عبیدہ  ولید بن  محمد  ﷾ عربی رسالہ هدية العروسين كا  اردو ترجمہ  ہے  ۔ یہ  رسالہ  مسائل نکاح پر مشتمل ہے س میں  منگنی سے لے کر شبِ زفاف کے آداب اور ولیمہ تک کے مسائل سوالاً جواباً  مختصر اور عام فہم انداز میں خوش اسلوبی سے  قرآن واحادیث کی  روشنی  بیان کیے گئے  ہیں ۔نکاح سے  قبل  اس کتاب کا مطالعہ  انتہائی مفید ہے  عزیزواقارب کے لیے شادی کے  تحائف میں  شامل کرنے  کےلائق  ہے ۔اللہ تعالی ٰ  اس کتاب کے  مولف،مترجم ،ناشر اور دیگر معاونین کو جزائے خیر عطا فرمائے  اور  عوام الناس  کے لیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • pages-from-tanveer-ul-afaaq-fi-masala-al-talaaq-urdu
    محمد رئیس ندوی

    دین اسلام ہی وہ واحد فطری اور عالمگیر مذہب ہے جو انسان کی تمام ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، خواہ ان کا تعلق معیشت سے ہو یا سیاست سے، معاشرے سے ہو یا خاندان سے، انفرادی ہو یا اجتماعی غرضیکہ دین اسلام ہر موڑ پر انسان کی راہنمائی کرنے کی کمال صلاحیت رکھتا ہے۔ جبکہ دور حاضر کے نام نہاد جدید مفکرین سکالر حضرات جو مغربی تہذیب سے متاثر ہو کر اسلامی تعلیمات و تاریخ کی ایسی تشریح و تعبیر بیان کرتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ ثابت کرنے کی نا کام کوشش کی جاتی ہے کہ اسلام اور مغرب میں ہم آہنگی پیدا ہوجائے، اس کے ساتھ ساتھ حقوق نسواں کا نام لے کر عورت کو مارکیٹ کی زینت بنایا جارہا ہے۔ زیر نظر مضمون دو پہلوؤں پر مشتمل ہے پہلے حصے میں مغربی تہذیب کے افکار و نظریات کا تقابلی جائزہ لیا گیا ہے جبکہ دوسرے حصے میں طلاق ثلاثہ کا مسئلہ جو کہ اہل تقلید اور اہل حدیث کے مابین ایک معرکۃ الآراء مسئلہ کی حیثیت رکھتا ہے اس کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" تنویر الآفاق فی مسئلۃ الطلاق" جس میں فاضل مؤلف مولانا محمد رئیس ندوی صاحب نے فرقہ واریت سے بالا تر ہو کر ٹھوس قرآن و سنت کی روشنی میں مسئلہ طلاق ثلاثہ کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت فاضل مؤلف کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے اور اہل اسلام کو خالص دین حنیف کی دولت سے مالا مال فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • pages-from-teen-talaqain
    خواجہ محمد قاسم

    خاندان اسلامی معاشرے کی ایک بنیادی اکائی شمار ہوتا ہے۔ اگر خاندان کا ادارہ مضبوط ہو گا تو اس پر قائم اسلامی معاشرہ بھی قوی اور مستحکم ہو گا اور اگر خاندان کا ادارہ ہی کمزور ہو تو اس پر قائم معاشرہ بھی کمزور ہو گا۔ نکاح وطلاق خاندان کے قیام و انتشار کے دو پہلو ہیں۔ شریعت اسلامیہ میں نکاح و طلاق کے مسائل کو تفصیل سے بیان کیا گیاہے۔ پاکستان میں فقہ حنفی اور اہل الحدیث کے نام سے دو مکاتب فکر پائے جاتے ہیں۔ یہ ایک امر واقعہ ہے کہ فقہ حنفی میں نکاح وطلاق کے اکثر مسائل شریعتِ اسلامیہ کی صریح نصوص کے خلاف تو ہیں ہی، علاوہ ازیں عقل و منطق سے بھی بالاتر ہیں جیسا کہ بغیر ولی کے نکاح کو جائز قرار دینا، پہلے سے طے شدہ حلالہ کو جائز قرار دینا، مفقود الخبر کی بیوی کا تقریبا ایک صدی تک اپنے شوہر کا انتظار کرنا، عورت کا خاوند کے طلاق دیے بغیر خلع حاصل نہ کر سکنا اورایک مجلس کی تین طلاقوں کوتین شمار کرنا وغیرہ۔ ایک مجلس کی تین طلاقوں کا مسئلہ ایک معرکۃ الآراء مسئلہ ہے۔احناف کے نزدیک مجلس واحد میں تين مرتبہ کہا گیا لفظ طلاق موثر سمجھا جاتا ہے جس کے بعد زوجین کے درمیان مستقل علیحدگی کرا دی جاتی ہے اور پھر اس کے بعد ان کو اکٹھا ہونے کے لیے ایک حل دیا جاتا ہے جس کا نام حلالہ ہے۔ ایک شرعی چیز کو غیر شرعی چیز کے ذریعے حلال کرنے کا ایک غیر شرعی اور ناجائز طریقہ ہے جس کو اب احناف بھی تسلیم کرنے سے عاری ہیں اور ایسے مسائل کے لیے پھر ایسے لوگوں کی طرف رجو ع کیا جاتا ہے جو اس غیر شرعی امر کو حرام سمجھتے ہیں۔ اب تو اسلامی نظریاتی کونسل، اور دعوہ اکیڈمی اسلام آباد نے بھی ایک مجلس میں تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دینے کا فتویٰ صادر کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تین طلاقیں‘‘ خواجہ محمد قاسم کی کاوش ہے ۔جس میں قرآن وحدیث کے ٹھوس دلائل سے ثابت کیا کہ ایک وقت میں دی جانے والی تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار ہوتی ہے اور حلالہ کروانہ حرام و ناجائز اور صریحاً شریعت کی خلاف ورزی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ 1964ء جب شائع ہوئی تو شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی﷫ اس کا پیش لفظ لکھا اور کتاب کی اہمیت وافادیت کوخوب سراہا۔ (م۔ا)

  • title-pages-jabri-shadi-ka-sharie-hukam-copy
    مختلف اہل علم

    اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت نیک اولاد کا ہونا ہے ۔جسے اللہ تعالیٰ نے آنکھوں کی ٹھنڈک کہا ہے اس لئے اولاد کا ہونا خوش بختی تصور کیا جاتا ہے۔جنہیں یہ نعمت میسر آتی ہے ۔وہ بہت خوش و خرم رہتے ہیں ،اور جن کے ہاں اولاد نہیں ہوتی ،وہ ہمیشہ اولاد کی محرومیت کے صدمے میں پڑے رہتے ہیں ۔مگر جب انہیں اولاد مل جاتی ہے تو گویا وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کی ہر نعمت مل گئی  ۔اولاد کا فطری حق ہے کہ اس کی حفاظت کی جائے کیونکہ بچے کی پیدائش کا اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک ذریعہ بنا رکھا ہے اس لیے اس پر یہ فریضہ عائد کیا ہے کہ اپنی اولاد کی حفاظت کرے۔ اسلام سے پہلے اولاد کو جینے کا حق حاصل نہ تھا بلکہ اولاد کی زندگی کو مختلف صورتوں سے ختم کر دیا جاتا تھا ۔اسی طرح اولاد کا یہ بھی حق ہے کہ جب وہ بالغ ہو جائے تو والدین اس کے لئے مناسب رشتے کا بندوبست کریں، اور رشتے کے انتخاب میں ان پر جبر کرنے کی بجائے  ان کی رضامندی کا خیال رکھیں۔ زیر تبصرہ کتاب" جبری شادی کا شرعی حکم" اسلامک فقہ اکیڈمی کے تیرہویں سیمینار منعقدہ 13 تا 16 اپریل 2001ء جامعہ سید احمد شہید کٹولی   میں پیش کئے جانے والے مقالات پر مشتمل ہے۔جن میں  عورتوں کی شادی میں ان کی رضا اور پسند کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-jadeed-tijarti-shaklain-shari-nuqta-e-nazar
    قاضی مجاہد الاسلام قاسمی

    ہرمسلمان کے لیے اپنے دنیوی واخروی تمام معاملات میں شرعی احکام اور دینی تعلیمات کی پابندی از بس ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :َیا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ(سورۃ البقرۃ:208)’’اے اہل ایمان اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو ،یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘‘۔کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ عبادات میں تو کتاب وسنت پر عمل پیرا ہو او رمعاملات او رمعاشرتی مسائل میں اپنی من مانی کرے او راپنے آپ کوشرعی پابندیوں سے آزاد تصور کرے۔ ہمارے دین کی وسعت وجامعیت ہےکہ اس میں ہر طرح کے تعبدی امور اور کاروباری معاملات ومسائل کا مکمل بیان موجود ہے۔ ان میں معاشی زندگی کے مسائل او ران کے حل کو خصوصی اہمیت کے ساتھ بیان کیاگیا ہے ہر مسلمان بہ آسانی انہیں سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہوسکتاہے۔ تجارت، لین ،دین اورباہمی معاہدہ کی مختلف دور میں مختلف صورتیں رائج رہی ہیں ، بہت سے عقود اورمعاملات بنیادی طور پر قدیم زمانہ میں بھی رائج تھے او رعہد جدید میں ان کی ترقی یافتہ صورتیں رائج ہوگئیں ہیں۔ تجارتی مسائل میں ایک اہم مسئلہ یہ ہےکہ کیا خریدی ہوئی چیز پر قبضہ کرنے سے پہلے اس کو فروخت کیا جاسکتاہے یا نہیں اوراس کا منافع حاصل کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟ آج قبضہ کےعنوان سے بہت سارے مسائل پیدا ہورہے ہیں لہذا ان مسائل کے پیش نظر  ’’مجمع الفقہ الاسلامی الہند ‘‘ نے ’’بیع قبل القبض ‘‘کےعنوان پر 14 ؍اکتوبر 1996ء جے پور(انڈیا) نواں فقہی سیمنار میں منعقد کروایا۔ زیر نظر کتاب’’ جدید تجارتی شکلیں شرعی نقطۂ نظر ‘‘مذکورہ سیمینار میں علماء اور ارباب افتاء کی طرف سے پیش گیے علمی مقالات کا مجموعہ ہے۔ مقالہ نگاروں نے قرآن وحدیث کی عبارات واشارات اور مذاہب اربعہ کے اجتہادات کو سامنے رکھ کر اپنا نقظہ نظر پیش کیا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اردو زبان میں اپنے موضوع پر منفرد کتاب ہے۔ موضوع کی اہمیت وضرورت اور افادیت کے پیش نظر اسلامک فقہ اکیڈمی نے اسے کتابی صورت میں شائع کیا ہے۔ (م۔ا)

  • pages-from-jahez-ki-tabaah-kaariyaan
    حافظ مبشر حسین لاہوری

    جہیز بنیادی طور پر ایک معاشرتی رسم ہے جو ہندوؤں کے ہاں پیدا ہوئی اور ان سے مسلمانوں میں آئی۔ خود ان کے ہاں اس کے خلاف مزاحمت پائی جاتی ہے۔اسلام نے نہ تو جہیز کا حکم دیا اور نہ ہی اس سے منع فرمایا کیونکہ عرب میں اس کا رواج نہ تھا۔ جب ہندوستان میں مسلمانوں کا سابقہ اس رسم سے پڑا تو اس کے معاشرتی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے علماء نے اس کے جواز یا عدم جواز کی بات کی۔ہمارے ہاں جہیز کا جو تصور موجود ہے، وہ واقعتاً ایک معاشرتی لعنت ہے کیونکہ اس کی وجہ سے بہت سی لڑکیوں اور ان کے اہل خانہ پر ظلم ہوتا ہے۔اگر کوئی باپ، شادی کے موقع پر اپنی بیٹی کو کچھ دینا چاہے، تو یہ اس کی مرضی ہے اور یہ امر جائز ہے۔ تاہم لڑکے والوں کو مطالبے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جو جہیز دیا گیا، وہ اس وجہ سے تھا کہ سیدنا علی ﷜ نبی کریم ﷺ کے زیر پرورش تھے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ آپ نے اپنے بیٹے اور بیٹی کو کچھ سامان دیا تھا کیونکہ یہ دونوں ہی آپ کے زیر کفالت تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنے دیگر دامادوں سیدنا ابو العاص اور عثمان رضی اللہ عنہما کے ساتھ شادیاں کرتے وقت اپنی بیٹیوں کو جہیز نہیں دیا تھا۔جہیز سے ہرگز وراثت کا حق ختم نہیں ہوتا ہے۔ وراثت کا قانون اللہ تعالی نے دیا ہے اور اس کی خلاف ورزی پر شدید وعید سنائی ہے۔ جہیز اگر لڑکی کا والد اپنی مرضی سے دے تو اس کی حیثیت اس تحفے کی سی ہے جو باپ اپنی اولاد کو دیتا ہے۔لیکن اس میں اسراف وتبذیر سےگریز کرنا چاہیے۔ زیرنظر کتاب ’’جہیز کی تباہ کاریاں‘‘ فاضل نوجوان مصنف کتب کثیرہ ڈاکٹر حافظ مبشرحسین لاہوری ﷾(ریسرچ سکالر ادارہ تحقیقات اسلامی ، اسلام آباد) کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب چار ابواب پر مشتمل ہے ۔ پہلے باب میں چند سچے واقعات پر مشتمل بعض ایسی تحریریں شامل ہیں جن سے مروجہ رسم جہیز کی معاشرتی تباہ کاریوں پر براہ راست روشنی پڑتی ہے ۔ اس کےبعد دوسرے باب میں جہیز کی شر عی حیثیت پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے اور اس کی حدود وقیود واضح کی گئی ہیں جب کہ تیسرے باب میں جہیز کے حوالے سے لوگوں میں پائے جانے والے مختلف شبہات کا ازالہ کیاگیا ہے ۔ بالخصوص ان لوگوں کے نظریات کی بھر پور تردید کی کی گئی ہے جو جہیز کو ’’سنت رسول ‘‘ قرار دینے پر بضد ہیں ۔ چو تھے باب میں جہیز کی شرعی حیثیت کے حوالے سے چند جید علماء کےفتاویٰ جات کوجمع کیاگیا ہے ۔مسئلہ جہیز کے حوالے سے اگرچہ یہ ایک چھوٹی سی کاوش ہے ۔ اگر اسے سنجیدگی سے پڑھا پڑھایا اور عوام میں پھیلایا جائے تو امید ہے کہ یہ لوگوں کی سوچ میں مثبت تبدیلی کا باعث ہوگی۔ بالخصوص اس کتاب کو معاشرے کے ان افراد تک ضرور پہنچایا جانا چاہیے جوجہیز کی تبا کاریوں سےبےخبر ہیں۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو ہمارے معاشرے سے رسم جہیز کے خاتمے کا باعث بنائے اور ہمیں غیر اسلامی رسم ورواج سے اجتناب کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین (م۔ا)

  • title-pages-halte-nasha-ki-talaq-mojuda-halat-k-pase-manzar-main
    مختلف اہل علم

    نکاح دراصل میاں بیوی کے درمیان وفاداری او رمحبت کے ساتھ زندگی گزرانے کا ایک عہدو پیمان ہوتا ہے ۔ نیز نسل نو کی تربیت کی ذمہ داری بھی نکاح کے ذریعہ میاں بیوی دونوں پر عائد ہوتی ہے لیکن اگر نکاح کے بعد میاں بیوی دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں ہی یہ محسوس کریں کہ ان کی ازدواجی زندگی سکون وا طمینان کے ساتھ بسر نہیں ہوسکتی او رایک دوسرے سے جدائی کے بغیر کوئی چارہ نہیں تو اسلام انہیں ایسی بے سکونی وبے ا طمینانی او رنفرت کی زندگی گزارنے پر مجبور نہیں کرتا بلکہ مرد کو طلاق او ر عورت کو خلع کاحق دے کرایک دوسرے سے جدائی اختیار کر لینے کی اجازت دیتا ہے ۔لیکن اس کے لیے بھی اسلام کی حدود قیود اور واضح تعلیمات موجود ہیں۔ طلاق کے مسائل میں سے ایک مسئلہ حالت نشہ کی طلاق ہے ۔طلاق چونکہ ایک نہایت اہم اور نازک معاملہ ہے اس لیے ضروری ہے کہ پوری طرح غور وفکر کے بعد اس کا فیصلہ کیا جائے ،اور غوروفکر کے لیے ضروری ہے کہ انسان کی شعور ی کیفیت بحال ہو اسی لیے جب انسان عقل وشعور کو استعمال کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو تو اس حالت کی طلاق واقع نہیں ۔اسی بنا پر فقہاء کا اتفاق ہے کہ مجنون ،بے ہوش ،محوخواب ،نابالغ اور نشہ میں مبتلا ہونے والے شخص کی دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ۔زیر نظر کتاب ''حالت نشہ کی طلاق موجود حالات کے پس منظر میں ''اسلامک فقہ اکیڈمی کے زیر اہتمام بارہویں فقہی سیمنیار منعقدہ فروری 2000ء میں پیش کئے گئے علمی،فقہی اور تحقیقی مقالات ومقاقشات کا مجموعہ ہے جس میں حالت نشہ میں طلاق کے حوالے سے تقریبا 68 علماء نے مقالات پیش کئے ان میں سے بعض اہل علم حالتِ نشہ میں دی جانے والی طلاق کے واقع ہونے کے قائل ہیں او ربعض قائل نہیں ہیں ۔ لیکن راجح موقف یہ ہے کہ شدید غصے او رسخت نشہ میں جب انسان کی عقل پر پردہ پڑ جائے تو ایسی صورت میں دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ جیسے کہ صحیح بخاری شریف میں ہےکہ حضرت ابن عباس ﷜ فرماتے ہیں کہ حالت نشہ میں موجود انسان او ر مجبور شخص کی طلاق جائز نہیں ہے ایسی طلاق واقع نہیں ہوتی (فتاوی اصحاب الحدیث :2؍307) لیکن ایسی صورت حال میں نشہ کی کیفیت (کم یا زیادہ) کا بغور جائزہ لینا ہوگا ۔ اللہ تمام اہل اسلام کو کتاب وسنت کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق دے (آمین) (م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-hurmat-e-sood-copy
    محمد ابو زہرہ مصری

    سود کو عربی زبان میں ”ربا“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنی زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ : ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دین اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت اسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔" جولوگ سود کھاتے ہیں وہ یوں کھڑے ہوں گے جیسے شیطان نے کسی شخص کو چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو ۔اس کی وجہ ان کا یہ قول ہے کہ تجارت بھی تو آخر سود کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام۔ اب جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچ گئی اور وہ سود سے رک جائے تو پہلے جو سود کھا چکا اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے مگر جو پھر بھی سود کھائے تو یہی لوگ دوزخی ہیں ، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کی پرورش کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے بندے کو پسند نہیں کرتا ۔ زیر تبصرہ کتاب" حرمت سود " مصر کے مشہور فقیہ اور استاذ ابو زہرہ  کی  کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔اور ترجمہ محترم ساجد الرحمن صدیقی کاندھلوی نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو سود جیسی لعنت سے چھٹکارا عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-hurmat-e-mutta-bajawab-jawaz-e-mutta-copy
    محمد علی جانباز

    اسلام عفت و عصمت اور پاکیزگی قلب و نگاہ کا دین ہے ۔ انسان کی عزت وعصمت کے تحفظ کی خاطر اسلام میں نکاح کا حکم دیا گیا ہے تاکہ حصول عفت کے ساتھ ساتھ نسل انسانی کی بقاء و تسلسل بھی جاری رہے۔ ایک گروہ کے ہاں نکاح کی ایک صورت متعہ کے نام پربھی رائج ہے جو اگرچہ صدراسلام میں جائزتھی ، تاہم حضورنبی کریم ﷺ نے اپنی حیات طیبہ ہی میں بڑی وضاحت و صراحت سے اسے ناجائز و ممنوع قراردے دیا ۔اور ابدی طور پر اس کوحرام قرار دے دیا۔اب شریعت اسلامیہ میں متعہ او ر زنا ایک ہی چیز کے دو نام ہیں ۔اب جو شخص متعہ کرتا ہے یا اس کی اجازت دیتا ہے تو وہ گویا ایسے ہے جیسے اس نے زنا کیا یا زنا کی اجازت دی۔مگر ایک گمراہ فرقہ جس کولوگ رافضیہ یا شیعہ کے نام سے جانتے ہیں۔ ان کاعقیدہ ہےکہ زنا متعہ کی صورت میں جائز ہی نہیں بلکہ بڑے درجے اور ثواب کا کام ہے ۔اور جو اس عمل سےمحروم رہا وہ رافضی یاشیعہ جماعت سے خارج ہے ۔ زیرنظرکتاب ’’حرمت متعہ بجواب جواز متعہ‘‘ شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز﷫ کی تصنیف ہے۔جو انہوں نے ایک شیعہ عالم دین سید بشیرحسین کی کتاب جواز متعہ کےجواب میں تحریر کی ۔اس کتاب میں مولانا جانباز ﷫ نے دلائل کی روشنی میں جواز متعہ کےسلسلہ میں صحابہ اورائمہ اہل سنت کی طرف منسوب کی گئی غلط باتوں کی تردید کی ہے۔ اور کتاب وسنت کے ٹھوس دلائل سے ثابت کیا کہ متعہ قطعی حرام اور ممنوع ہے۔اوریہ واضح کیا ہے کہ متعہ ایک ایسا فعل ہے کہ جس کوکوئی باعزت اور دیندار انسان اپنی اولاد کے لیے جائز قرار نہیں دے سکتا۔ نیز ان تمام دلائل وبراہین کا رد کیاگیا ہے جو علمائے مخالفین جو از متعہ میں پیش کرتےہیں۔ کتاب ہذا کے مطالعہ سے اس مسئلہ کی اصل حقیقت بے نقاب ہوکر قارئین کے سامنے آجائے گی۔اللہ تعالیٰ مولانا جانباز ﷫ کی تمام تحقیقی وتصنیفی خدمات کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائے۔ (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-hurmat-nikah-e-shighar-copy
    عبد القادر حصاروی

    اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسان کی پر موڑپر راہنمائی کرتا ہےاسلام ہی کی بدولت ایک پرامن معاشرتی نظام قائم ہو سکتا ہے اسلامی نظام زندگی کی خصوصیات میں سے سب سے بڑی خصوصیت اس کا خاندانی نظام ہے ۔اسلام نے انسان کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام مفاسد،فواحش اور برائیوں کا استیصال ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایک خاندانی نظام بھی متعارف کروایا ۔اور نکاح کی صورت میں ایمان کی حفاظت کا مؤثر ذریعہ امت محمدیہ کو بتایا۔قبل از اسلام زمانہ میں جاہلیت و کفراور دیگر رسومات قبیح رواج عام تھااسی طرح نکاح جاہلیت کی بھی چند قسمیں مروج تھیں جن میں نکاح شغار خاص طور پر قابل ذکر ہے جس کو ہمارے محاورےمیں بٹہ کا نکاح کہا جاتا ہے آپ ﷺنے خاندانی نظام کو ایک مثالی نظام سے ہمکنار کیا جس کی نظیر کسی اور مذہب و تمدن میں نہیں ملتی ۔ زیر نظرکتاب "حرمت نکاح شغار " " مولانا عبدالقادر حصاری﷫ "کی تصنیف ہے جس میں نکاح شغار )(نکاح بٹہ کی حرمت پر مستند دلائل اور عرب و عجم کے مفتیان کے فتاوجات کی روشنی میں نکاح شغار کے مفاسد کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی مصنف کی ا س کاوش کو قبول فرمائے اور امت محمدیہ کے لیے ذریعہ رہنمائی بنائے ۔آمین (عمیر)

  • title-pages-hayat-al-nisa-copy
    میاں مسعود احمد بھٹہ

    عورت اور مرد فطری طور پر ایک دوسرے کے  بہترین محل ہیں،اور ان کے درمیان قربت یا ملاپ کی خواہش فطری عمل ہے۔جسے شرعی نکاح کی حدود میں لا کر مرد وزن کو محصن اور محصنہ کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔نکاح ایک شرعی اور انتظامی سلیقہ ہے،لیکن زوجیت کا اصل مقصد باہمی سکون کا حصول ہے۔اور اگر زوجین کے درمیان سکون حاصل کرنے یا سکون فراہم کرنے کی تگ ودو نہیں کی جاتی تو اللہ تعالی کو ایسی زوجیت ہر گز پسند نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" حیات النساء،عورت کی زندگی " محترم میاں مسعود احمد بھٹہ ایڈوکیٹ کی تصنیف ہےجو تیرہ ابواب پر مشتمل ہے اور زوجیت ومناکحات کے اسلامی نظریات واہلیت زوجیت کے تقاضوں سے ہم آہنگ اہم موضوعات پر محیط ہے۔ان ابواب میں زوجیت کے مقاصد،اہلیت زوجیت،نکاح کی انتظامی حیثیت،اسلامی نکاح کے تقاضے اور طریقہ کار،متعہ کی حرمت ،تعدد ازواج،حق مہر کی شرعی حیثیت ،نان ونفقہ کا مرد پر لزوم،نکاح حلالہ کی لعنت اور عدت کے مسائل وغیرہ تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-khareedain-aur-jeetain
    ام عبد منیب

    خریدیں اور جیتیں آج کل اشتہاری دنیا کا مقبولِ عام بول ہےجس کے اندر اس قدر کشش ہےکہ ہر بچہ اور بوڑھا ، مرد عورت اس کی طرف بے تابانہ کھنچا چلا آتاہے جیسے ہی ٹی وی سے یہ آواز سنائی دیتی ہے تمام ناظرین ہمہ تہ دید ہوجاتے ہیں۔بڑے بڑے عقل مند تعلیم یافتہ صارفین بھی ان اشتہاری بولوں کو سن کر اپنی عقل ودانش سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔روزانہ ہزاروں اشتہار سکرین پر بار بار نمودار ہوتے ہیں ۔ اخبارات ورسائل کےپورے پورے صفحے پر قبضہ کیے صارفین کامال ہتھیانے کےلیے انعامات کی دوڑ میں شامل ہونے کی ترغیب دے رہے ہوتے ہیں ۔مصنوعات تیار رنے والی کمپنیاں انعامات اور جیتنےکے جو اشتہارات دیتی ہیں ۔ انہیں انعامی سکیمیں کہاجاتا ہے۔لیکن اگر غور کیا جائے توانعامات کی اس دوڑ کے بہت سے شرعی ،معاشرتی،معاشی اورنفسیاتی نقصانات ہیں۔ زیر نظر کتابچہ میں محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے مختلف کمپنیوں کی طرف سے اپنی مصنوعات کو فروخت کرنے کے لیے جو ناجائز ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں ان کےنقصانات اور ان کا شرعی دلائل کی روشنی میں جائز ہ پیش کیاہے۔ اللہ تعالیٰ محترمہ کی اس کاوش کو عوام النا س کےلیے نفع بخش بنائے، آمین۔ (م۔ا)

  • img-20141119-wa0011
    ضیاء الحسن محمد سلفی

    امت مسلمہ آج بے شمارسنتوں کو چھوڑ کر من گھڑت رسوم ورواجات اور بدعات میں پڑی ہوئی ہے۔اور اس امر کی بڑی شدید ضرورت ہے کہ ان مردہ ہوجانے والی سنتوں کو زندہ کیا جائے،اور لوگوں کی درست طریقے سے راہنمائی کی جائے۔انہی سنتوں میں سے ایک اہم ترین سنت خطبۃ الحاجۃ ہے،جسے زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔آج صورتحال یہ ہے کہ خطبہ مسنونہ کو چھوڑ کر خانہ ساز اور طبع ساز خطبے پیش کئے جاتے ہیں ۔اور اکثر لوگ خطبہ حاجہ کی مشروعیت اور معنویت سے نا آشنا ہیں،اور اس میں موجود تین آیات مبارکہ کی حکمتوں اور معانی سے ناواقف ہیں۔اس موضوع پر پہلے محدث عصر علامہ ناصر الدین البانی ﷫نے" خطبۃ الحاجۃ" نامی کتاب لکھ کر اس اہم فریضہ کو انجام دیا ،اور پھر ان کی ہم نوائی کرتے ہوئے محترم ضیاء الحسن محمد سلفی ﷾استاذ حدیث وعقیدہ جامعہ عالیہ عربیہ مئو انڈیا نے یہ کتاب" خطبۃ الحاجۃ کی مشروعیت ومعنویت " لکھ کر تمام خطباء،واعظین ومقررین اور مدرسین ومصنفین کو دعوت دی ہے کہ وہ اپنے خطبوں ،وعظوں اور دعوتی تقاریب اور تصنیفات کا آغاز اس مسنون خطبہ سے کیا کریں تاکہ یہ متروک سنت زندہ ہو سکے۔اس کتاب میں فاضل مولف نے پہلے خطبہ مسنونہ کے الفاظ نقل کئے ہیں اور پھر جن جن احادیث میں یہ الفاظ موجود ہیں ،انہیں جمع کرتے ہوئے ان کی استنادی حیثیت اور ان کے معانی ومفاہیم پر روشنی ڈالی ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2109 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں