• title-pages-basant-tareekh-aur-mazhab-k-aine-main
    محمد عطاء اللہ صدیقی

    بسنت ایک ایسے طرزِ معاشرت کو پروان چڑھانے کاباعث بن رہا ہے جس میں کردار کی پاکیزگی کی بجائے لہوو لعب سے شغف، اوباشی اور بے حیائی کا عنصر بے حد نمایاں ہےہمارے ہاں دانشوروں کا ایک مخصوص طبقہ بسنت کو 'ثقافتی تہوار' کا نام دیتا ہےبسنت کے موقع پر جس طر ح کی 'ثقافت' کا بھرپور مظاہرہ کیا جاتا ہے، کوئی بھی سلیم الطبع انسان اسے 'بہترین اذہان کی تخلیق' نہیں کہہ سکتا۔تاریخی طور پر بسنت ایک ہندووٴانہ تہوار ہی تھامگر جو رنگ رلیاں، ہلڑ بازی، ، لچرپن، بے ہودگی، ہوسناکی، نمودونمائش اور مادّہ پرستانہ صارفیت بسنت کے نام نہاد تہوار میں شامل کردی گئی ہے اس کا تاریخ سے کوئی تعلق نہیں ۔بسنت نائٹ کو بازار ی عورتیں جسم فروشی سے چاندی بناتی ہیں اور بہت سے لوگ ملٹی نیشنل کمپنیوں اور بڑے تاجروں کو اپنے مکانات کی چھتیں کرائے پر دے کر ایک ہی رات میں لاکھوں کی کمائی کرتے ہیں۔ ہوٹلوں کی چھتیں ہی نہیں، کمرے بھی بسنتی ذوق کے مطابق آراستہ کئے جاتے ہیں۔ شہروں میں جنسی بے راہ روی کتنی ہے، اور بازاری عورتوں کے لاوٴ لشکر کس قدر زیادہ ہیں، اس کا اندازہ اگر کوئی کرنا چاہے تو بسنت نائٹ سے زیادہ موزوں شاید کوئی دوسرا موقع نہ ہو۔زیر نظر کتابچہ اسی موضوع پر عطاء اللہ صدیقی ﷫کی ۱4 سال قبل لکھی جانےوالی ایک فکر انگیز جامع تحریر ہےجس میں انہوں نے بسنت کی تاریخ اور مذہب کے آئینے میں اس كی حقیقت کو پیش کیا ہےموصوف فکرِ اسلامی کے بے باک ترجمان اور غیور پاسبان اور بے حد شفیق ہر دلعزیز صاحب بصیرت کالم نگار تھے جو ستمبر۲۰۱۱ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اللہ تعالی مرحو م کے درجات بلند فرمائے اوران کی مرقد پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-ahde-islami-k-hindustan-main-muashrat-mueshat-aur-hakomat-k-masail
    ظفر الاسلام اصلاحی

    یہ ایک مسلمہ حقیقت کہ اسلامی ریاست فلاحی ریاست ہوتی ہے اوراس کے سربراہ کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ریاست کے وسائل کوبلا تفریق جملہ عوام کی فلاح وبہبود اور بھلائی کےلیے استعمال کرےاور اورخاص طور سے غریبوں،ضرروت مندوں اور سماج کے کمزرو طبقات کے لوگوں کی ضرورت کاخیال رکھے اور انہیں مالی مدد فراہم کرے ۔زیرنظر کتاب '' عہدِاسلامی کے ہندوستان میں معاشرت،معیشت اور حکومت کےمسائل ''میں ظفر الاسلا م اصلاحی صاحب نے عہد اسلامی کے ہندوستا ن میں سماجی واقتصادی وسیاسی زندگی میں جو نئے مسائل ابھرے تھے ان کے متعلق علماء کی فقہی تشریحات اور حکمرانوں کے اقدامات کو درج ذیل چھ ابواب میں بیان کیا ہے ۔ 1۔عہد سلطنت کے علماء اور سماجی،معاشی وسیاسی مسائل2۔عہد سلطنت کی فقہی کتب اور غیر مسلموں سے تعلقات ومعاملات کے مسائل3۔سندھ میں غیر مسلموں کے ساتھ محمد بن قاسم کابرتاؤ اسلامی اصول وضوابط کی روشنی میں4۔عہد اسلامی کے ہندوستان میں بیت المال کا تصور او راس کی کارکردگی5۔آراضی ہند کی شرعی حیثیت عہد مغلیہ کے علماء کی نظر میں 6۔ شیخ احمد سرہندی او راہل حکومت میں شریعت کی ترویج۔(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2458 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں