• title-page-70-true-islamic-stories
    حافظ عبد الشکور

    فی زمانہ جبکےبچے بڑے جھوٹے اورلغوافسانوں ،ناولوں اورکہانیوں کے قصوں میں گرفتارنظرآتےہیں ،ایسی کتابوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے،جس میں سچےواقعات بیان کئے گئے ہوں ۔جنہیں پڑھ کرعمل کاجذبہ بیدارہو۔زیرنظرکتاب میں سیرت نبوی اورتاریخ اسلام سے ایسے ہی 70واقعات کاانتخاب پیش کیاگیاہے ،جن کےمطالعہ سے ایمان کوتازگی اورروح کوشادابی نصیب ہوتی ہے۔نیزدل میں صحابہ کرام اورسلف صالحین کی عظمت اوران سے محبت کاجذبہ پیداہوتاہے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ اس طرح کالٹریچرعام کیاجائے اورگھروں میں خصوصاً بچوں اورخواتین کوان کےمطالعے کی ترغیب دی جائے تاکہ وہ جھوٹے اور فحش ناولوں میں وقت ضائع کرنےکے بجائے سیرت سلف سے روشناس ہوسکیں۔

  • pages-from-iraab-ul-quran-o-tafseer-teeswan-parah
    عثمان علی

    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام او راس کی آخری کتاب ہدایت ہے ۔اس عظیم الشان کتاب نے تاریخ انسانی کا رخ موڑ دیا ہے۔ یہ واحد آسمانی کتاب ہے جو قریبا ڈیڑھ ہزار سال سے اب تک اپنی اصل زبان میں محفوظ ہے۔ اس پر ایمان لانامسلمان ہونے کی ایک ضروری شرط اوراس کا انکار کفر کے مترادف ہے اس کی تلاوت باعث برکت وثواب ہے، اس کا فہم رشد وہدایت اوراس کے مطابق عمل فلاح و کامرانی کی ضمانت ہے۔ کتاب اللہ کی اسی اہمیت کے پیش نظر ضروری ہے ہر مسلمان اسے زیادہ سے زیادہ سمجھنے کی کوشش کرے ۔ اگر چہ آج الحمد للہ اردو میں قرآن مجید کے بہت سے تراجم وتفاسیر ہیں، تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ قرآن کو قرآن کی زبان میں سمجھنے کا جو مقام ومرتبہ ہے وہ محض ترجموں سے حاصل نہیں ہوسکتا ہے۔ عربی زبان اور قرآن مجید کی تعلیم وتفہیم کےلیے مختلف اہل علم نے تعلیم وتدریس اور تصنیف وتالیف کے ذریعے کوششیں کی ہیں۔ جن سے متفید ہوکر قرآن مجیدمیں موجود احکام الٰہی کو سمجھا جاسکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اعراب القرآن وتفسیر (تیسواں پارہ سوالنامہ )‘‘ محترم عثمان علی، حافظ ابو بکر عثمان ، حافظ احسان اللہ نے   شیخ الحدیث حافظ محمد شریف﷾ اور جامعہ سلفیہ ،فیصل آباد کے مایہ ناز مدرس مولانانجیب اللہ طارق﷾ کی زیرنگرانی اہم تفاسیر کوسامنے رکھ کر صرف سوالنامہ مرتب کیا ہے جس میں جدید شکوک وشبہات کا ازالہ ،قرآن کریم کی صرفی ونحوی ابحاث، لغوی، سبب نزول، تظم بین السور، سورت کاموضوع و مضمون نظم بین الآیات، مختلف فیہ مسائل میں تطبیق، اعراب، وجہ اعراب، محل اعراب و اصطلاحی مطالب کے علاوہ اہم تفسیری نکات کوبھی بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ استاد العلماء حافظ عبد العزیز علوی﷾ (شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ ،فیصل آباد) کی نظر ثانی سے اس کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ کتاب طالبان ِعلوم نبوت کے لیے ایک گراں قدر علمی تحفہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کی تیاری میں شامل ہونے والے تمام اہل علم کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور انہیں اس نہج پر قرآن مجید کےباقی پاروں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین) یہ 94 صفحات پر مشتمل صرف سوالنامہ ہے ان سوالات کے جوابات بھی الگ سے شائع کردئیے گئے ہیں۔ جو تین صد سے زائدصفحات پر مشتمل ہے اور وہ بھی کتاب وسنت سائٹ پر موجود ہے۔ (م۔ا)

  • title-pages-adab-e-talawat-ma-tareka-hifaz-e-quran-w-hifze-qirat-copy
    قاری رحیم بخش پانی پتی

    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی مقدس اور محترم کتاب ہے۔ جو جن وانس کی ہدایت ورہنمائی کے لیے  نازل کی گئی ہے ۔ اس کا پڑھنا باعث اجراوثواب ہے اوراس پر عمل کرنا تقرب الی اللہ او رنجاتِ اخروی کا ذریعہ ہے ۔ یہ  قرآن باعث اجروثواب اسی وقت ہوگا  کہ جب اس کی تلاوت آدابِ تلاوت کو ملحوظ ِخاطر رکھ کر کی جائے ۔آداب تلاوِت  میں  سے  یہ ہے کہ قرآ ن مجید کی تعلیم اور تلاوت خالصۃً اللہ کی رضا کیلئے ہو جس میں ریا کاری کا دخل نہ ہو ۔تلاوت قرآن مجیدکی تلاوت پر مداومت (ہمیشگی) کی جائے تا کہ بھولنے نہ پائے ۔تلاوت کئے ہوئے حصہ کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا واجب ہے ۔قرآن مجید طہارت کی حالت میں با وضوء ہو کر پڑھا جائے ۔تلاوت شروع کرنے سے پہلے تعوذ اور بسملہ پڑھنا واجب ہے ۔ دورانِ تلاوت اللہ کے عذاب سے ڈر کر رونا مستحب عمل ہے ۔ ۔اونگھ آجانے پر تلاوت بند کر دینا مستحب ہے ۔عذاب والی آیا ت پر اللہ کی پناہ مانگنا اور رحمت والی آیات پر اللہ سے دعاء کرنا مستحب ہے ۔سجدہ والی آیات کی تلات کرتے وقت سجدہ تلاوت کر نا مسنون ہے ۔جب کوئی تلاوت کررہا ہو  تو  کامل خاموشی او رغور سے سننا چاہیے۔اور جب  خود تلاوت کریں تودل میں خیال ہوکہ اللہ  تعالیٰ سے  ہم  کلام ہیں ۔ اس لیے  نہایت ادب ،سلیقے   اور ترتیل سے  ٹھر ٹھر کر  قرآن مجید کی تلاوت کی جائے تاکہ اللہ تعالیٰ تلاوت کرنے والے پر خوش ہو ۔ زیر تبصرہ کتاب’’آداب ِتلاوت مع طریقۂ حفظ قرآن  وحفظ قراءات‘‘پاک  وہند میں  تجوید وقراءات کو  فروغ دینے والی معروف شخصیت  قاری  المقری  قاری رحیم  بخش پانی پتی کی تصنیف ہے جس میں  انہوں نے  فضائل قرآن ،آداب تلاوت، قرآن مجید اور قراءات  کو حفظ کرنے کےطریقہ کو   بیان کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے  اس کتاب کو نہایت مقبولیت ونافعیت سے  نوازا۔  ہزاروں  طالبانِ قرآن کے علاوہ بےشمار عامۃ المسلمین بھی اس سے مستفید ہوئے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں  قرآن مجید   کی تعلیمات پر عمل کرنے اور اسے  پڑھنے ،سمجھنے کی  توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین)(م۔ا)

  • title-pages-asaan-tarjuma-quran-majeed
    حافظ نذر احمد
    قرآن شریف خداوند کریم کا کلام ہے جس میں انسان کی رشد وہدایت اور دائمی فلاح وکامرانی کے تمام اصول بیان کر دیئے گئے ہیں۔مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس قرآن کو پڑھے اور اس کے مطالب کو فہم کی گرفت میں لانے  کی کوشش کرے۔ہماری مادری زبان چونکہ عربی نہیں ہے ،اس لیے تراجم قرآن کا سہارا لینا ناگزیر ہے اردو زبان میں بے شمار تراجم ہو چکے ہیں اور ہر ترجمے کی اپنی خصوصیات ہیں۔کتاب وسنت ڈاٹ کام پر اس سے پہلے بھی قرآن حکیم کے بعض تراجم پیش کیے جا چکے ہیں ۔اب حافظ نذر احمد صاحب کا ترجمہ پبلش کیا جار ہا ہے اس میں بعض ایسی خصوصیات ہیں جو پہلے تراجم میں نہ تھیں مثلاً پہلے ترجمے صرف لفظی یا محض بامحاورہ تھے۔اس میں لفظی ترجمہ بھی ہے اور بامحاورہ بھی۔پھر اس ترجمے کواہل حدیث،دیوبند اور بریلوی تینوں مکاتب فکر کے علما کی تائید حاصل ہے۔لہذا تمام افراد اس سے بلا جھجک استفادہ کر سکتے ہیں امید ہے اس کے مطالعہ سے قارئین میں قرآن فہمی کا ذوق پیدا ہو گا اور قرآن حکیم کی تعلیمات پر عمل کا جذبہ بیدار ہو گا۔ناظرین سے التجا ہے کہ وہ اس کے مطالعہ کے بعد مترجم،ناشر اور کتاب وسنت ڈاٹ کام کے اراکین کو اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں۔خداوند قدوس ہم سب کو قرآن شریف پر حقیقی معنوں میں عمل پیرا ہونے کی توفیق رحمت فرمائے۔آمین یار ب العالمین(ط۔ا)

  • pages-from-aasan-tarjma-quran-soratul-baqarah
    حافظ نذر احمد

    قرآن کریم کلام ِ الٰہی جس میں انسان کی رشد وہدایت اور دائمی فلاح وکامرانی کے تمام اصول بیان کر دیئے گئے ہیں۔قرآن کریم ہی وہ واحد کتاب ہے جو تاقیامت انسانیت کے لیے ذریعہ ہدایت ہے ۔ اسی پر عمل پیرا ہو کر دنیا میں سربلند ی او ر آخرت میں نجات کا حصول ممکن ہے ۔ لہذا ضروری ہے اس کے معانی ومفاہیم کوسمجھا جائے ،اس تفہیم کے لیے درس وتدریس کا اہتمام کیا جائے او راس کی تعلیم کے مراکز قائم کئے جائیں۔ قرٖآن فہمی کے لیے ترجمہ قرآن اساس کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ہماری مادری زبان چونکہ عربی نہیں ہے، اس لیے تراجم قرآن کا سہارا لینا ناگزیر ہے اردو زبان میں بے شمار تراجم ہو چکے ہیں اور ہر ترجمے کی اپنی خصوصیات ہیں آج دنیاکی کم وبیش 103 زبانوں میں قرآن کریم کے مکمل تراجم شائع ہوچکے ہیں۔جن میں سے ایک اہم زبان اردو بھی ہے ۔اردو زبان میں اولین ترجمہ کرنے والے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ کے دو فرزند شاہ رفیع الدین ﷫اور شاہ عبد القادر﷫ ہیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری وساری ہے۔ زیر نظر کتاب ’’آسان ترجمہ.. سورۃ البقرۃ‘‘ محترم حافظ نذر احمد صاحب کی کاوش ہے۔ جس طرح کہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ قرآن مجید کے معنیٰ اور اس کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لیے عربی زبان کی گرائمر (صرف ونحو) کا جاننا ضروری ہے۔ اس لیے محترم حافظ صاحب نے شروع میں چند ابتدائی ضروری قواعد کوبیان کیا ہے جن کے بغیر صحیح ترجمہ اور صحیح مفہوم سمجھنا ممکن نہیں۔ موصوف نے عربی زبان کے بنیادی قواعد کے 20 سبق پیش کیے ہیں۔ ان میں نحو کے چند اسباق کے علاوہ تمام سبق علم الصرف سے متعلق ہیں۔ اور عربی قواعد کے علاوہ سورۃ البقرہ میں بار بار استعمال ہونے والے حروف اور مشکل الفاظ بھی مع ترجمہ حروف ابجد کی ترتیب سے جمع کردیئے ہیں۔ یہ ترجمہ لفظی ترجمہ بھی ہے اور بامحاورہ بھی۔پھر اس ترجمے کی نظر ثانی کرنے والوں میں دیوبندی ، بریلوی، اور اہل حدیث تینوں مسلک کے جید علماء شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ حافظ نذر احمد ﷫ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے قرآن فہمی کے طلبہ و طالبات کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین ( م۔ا)

  • title-pages-asan-uloome-quran-copy
    پروفیسر محمد رفیق چودھری

    علوم القرآن  سے مراد وہ تمام علوم وفنون ہیں جو قرآن فہمی میں مدد دیتے ہیں  او رجن  کے ذریعے قرآن کو سمجھنا آسان ہوجاتا  ہے ۔ ان علوم میں وحی کی کیفیت ،نزولِ قرآن  کی ابتدا اور تکمیل ، جمع قرآن،تاریخ تدوین قرآن، شانِ نزول ،مکی ومدنی سورتوں کی پہچان ،ناسخ ومنسوخ ، علم قراءات ،محکم ومتشابہ آیات  وغیرہ  ،آعجاز القرآن ، علم تفسیر ،اور اصول  تفسیر  سب شامل ہیں ۔علومِ القرآن  کے مباحث  کی ابتدا عہد نبوی  اور دورِ صحابہ کرام سے  ہو چکی  تھی  تاہم  دوسرے اسلامی علوم کی طرح اس موضوع پربھی مدون کتب لکھنے کا رواج بہت بعد  میں ہوا۔زیر نظر کتاب’’آسان علوم قرآن‘‘ماہنامہ  محدث کے  معروف   کالم نگار  اور  کئی کتب کے مصنف  ومترجم محترم  مولانا محمد رفیق چودھری ﷾ کی  تصنیف ہے۔جو بنیادی طور  پر اسلامیات اور علوم القرآن کےمبتدی  طالب علموں کے لیے  لکھی  گئی ہے  اور اس میں  مبتدی  حضرات او رخواتین کے لیے  ضروری معلومات موجود ہیں ۔اس  کی زبان  سادہ اور آسان ہے ۔انداز ِ بیان صاف،رواں اور عام فہم ہے ۔ اس  میں فنی اصطلاحات  کم سے  کم  استعمال کی گئی ہیں۔ کتاب کے  مصنف  محترم محمد رفیق چودہری ﷾ علمی ادبی حلقوں میں جانی پہچانی  شخصیت ہیں ۔ ان کو بفضلہٖ تعالیٰ عربی زبان وادب  اور علوم  قرآن سے  گہرا  شغف ہے  او ر طالبانِ علم  کو  مستفیض کرنے کے جذبے سےسرشار ہیں۔ قرآن  مجید  کا  لفظی  وبامحاورہ  ترجمہ  کرنے  کے علاوہ  ان دنوں  قرآن  مجید کی  تفسیر     لکھنے  میں  مصروف ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تدریسی وتعلیمی اور تحقیقی وتصنیفی خدمات کو قبول فر ما ئے(آمین)  (م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-aasan-qurani-arbi-copy
    پروفیسر محمد رفیق چودھری

    قرآن مجید  اللہ تعالیٰ کا کلام او راس کی آخری کتاب ہدایت ہے ۔اس عظیم الشان کتاب نے  تاریخ انسانی کا رخ  موڑ دیا ہے ۔ یہ واحد آسمانی  کتاب ہے جو قریبا ڈیڑھ ہزار سال سے اب تک اپنی اصل زبان میں  محفوظ  ہے ۔ اس پر ایمان لانامسلمان ہونے کی ایک ضروری شرط اوراس کا  انکار کفر کے مترادف ہے اس  کی  تلاوت باعث برکت وثواب ہے  ،اس کا فہم رشد وہدایت اوراس کے مطابق عمل  فلاح  وکامرانی کی  ضمانت  ہے ۔کتاب اللہ  کی اسی اہمیت کے پیش نظر ضروری ہے ہر مسلمان اسے زیادہ سے زیادہ  سمجھنے کی کوشش کرے ۔ اگر چہ آج  الحمد للہ  اردو  میں  قرآن مجید کے بہت سے تراجم وتفاسیر ہیں،تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ قرآن کو قرآن کی زبان میں سمجھنے کا  جو مقام ومرتبہ ہےوہ  محض  ترجموں سے حاصل نہیں ہوسکتا ہے ۔عربی زبان اور قرآن مجید کی تعلیم وتفہیم کےلیے  مختلف نے اہل علم  نے  تعلیم وتدریس اور تصنیف وتالیف کے ذریعے  کوششیں کی  ہیں ۔جن سے متفید ہوکر   قرآن مجیدمیں  موجود احکام الٰہی  کو سمجھا جاسکتا ہے ۔زیر  نظر کتاب ’’آسان قرآنی  عربی ‘‘ماہنامہ  محدث کے  معروف   کالم نگار  اور  کئی کتب کے مصنف  ومترجم محترم  مولانا محمد رفیق چودھری ﷾ کی  تصنیف ہے۔یہ  قرآن  مجید  کاترجمہ سکھلانے والے  جدید کتاب ہے ۔ جس کا  بنیادی مقصد براہِ  راست قرآن فہمی ہے  ۔جسے   مصنف  موصوف  نہائت عمدہ اسلوب  سے  مرتب کرتے ہو  قرآنی مثالوں سے مزین  کیا ہے۔ جو  لوگ قرآن حکیم کواس کی زبان میں سمجھنا چاہتے ہیں ۔ ان  شاء اللہ  وہ اس کے ذریعے  صرف دو ماہ کے مختصر عرصے میں اتنی استعداد بہم  پہنچا سکتے ہیں  کہ  قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھ  سکیں ۔ کتاب کے  مصنف  محترم محمد رفیق چودہری ﷾ علمی ادبی حلقوں میں جانی پہچانی  شخصیت ہیں ۔ ان کو بفضلہٖ تعالیٰ عربی زبان وادب سے  گہرا  شغف ہے  او ر طالبانِ علم  کو  مستفیض کرنے کے جذبے سےسرشار ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی تدریسی وتعلیمی اور تحقیقی وتصنیفی خدمات کو قبول فر ما ئے ۔ (آمین) (م۔ا)

     

  • pages-from-aasan-chalees-sabaq-1
    فروغ احمد

    قرآن حکیم ہم مسلمانوں کی مقدس کتاب اور عملی زندگی میں ضابطہ حیات ہے۔ہماری دینی ،دنیوی اور اجتماعی تمام امور کی راہنمائی قرآ ن مجید کے اوراق میں موجود ہے۔یہ ہماری کم ہمتی یا غفلت ہے کہ ہم اس متاع بے  بہا سے محروم ہیں۔اول تو ہم قرآن حکیم کو پڑھتے نہیں،اگر پڑھتے ہیں تو اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔حالانکہ قرآن مجید ہمیں پکار پکار کر دعوت دے رہا ہے کہ ہم اس کو سمجھیں،اس کی آیات میں غور وفکر کریں ا ور اس کے معنی ومفہوم میں تدبر کریں۔اللہ تعالی فرماتے ہیں:"وہ قرآن حکیم میں غور وفکر کیوں نہیں کرتے ،کیا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔"دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: "ہم نے قرآن مجید کو ذکر کے لئے آسان کر دیا ہے ،تو کوئی ہے جو اس میں غور وفکر کرے۔"ہم میں سے کوئی شخص اگر اس کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے قرآن حکیم کو سمجھنے کوشش شروع کرتا ہے تو عربی زبان سے ناآشنائی اس کے راستے میں دیوار بن جاتی ہے۔بد قسمتی سے ہمارے ہاں عربی زبان خصوصا قرآن حکیم کی زبان سیکھنے اور سکھانے کے لئے باقاعدہ جدوجہد نہیں کی گئی اور یہ مشہور کر دیا گیا ہے کہ قرآن مجید بہت مشکل ہے اور عربی زبان دنیا کی مشکل ترین زبان ہے،حالانکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " آسان چالیس سبق" محترم علامہ فروغ احمد صاحب  ناظم اعلی آسان عربی سکیم ،اسلام آباد کی کاوش ہے۔جس میں انہوں نے عربی الفاظ وکلمات ،ان کے مفہوم ومعانی طریقہ ہائے استعمال اور اس کی صرف ونحو کو چالیس آسان ومختصر اسباق میں سمودیا ہے۔ ان اسباق کو مختلف اذہان ،استعداد اور ماحول کے لحاظ سے مختلف صورتوں میں کئی کئی بار شائع کیا جا چکا ہے۔یہ کتاب چار حصوں پر مشتمل ہے،جو قرآن فہمی اور عربی تعلیم کے سلسلے میں انتہائی مفید اور شاندار کتاب ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو مولف کی میزان حسنات میں داخل فرمائے اور ان کے درجات کو بلند  فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-aasan-chalees-sabaq-2
    فروغ احمد

    قرآن حکیم ہم مسلمانوں کی مقدس کتاب اور عملی زندگی میں ضابطہ حیات ہے۔ہماری دینی ،دنیوی اور اجتماعی تمام امور کی راہنمائی قرآ ن مجید کے اوراق میں موجود ہے۔یہ ہماری کم ہمتی یا غفلت ہے کہ ہم اس متاع بے  بہا سے محروم ہیں۔اول تو ہم قرآن حکیم کو پڑھتے نہیں،اگر پڑھتے ہیں تو اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔حالانکہ قرآن مجید ہمیں پکار پکار کر دعوت دے رہا ہے کہ ہم اس کو سمجھیں،اس کی آیات میں غور وفکر کریں ا ور اس کے معنی ومفہوم میں تدبر کریں۔اللہ تعالی فرماتے ہیں:"وہ قرآن حکیم میں غور وفکر کیوں نہیں کرتے ،کیا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔"دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: "ہم نے قرآن مجید کو ذکر کے لئے آسان کر دیا ہے ،تو کوئی ہے جو اس میں غور وفکر کرے۔"ہم میں سے کوئی شخص اگر اس کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے قرآن حکیم کو سمجھنے کوشش شروع کرتا ہے تو عربی زبان سے ناآشنائی اس کے راستے میں دیوار بن جاتی ہے۔بد قسمتی سے ہمارے ہاں عربی زبان خصوصا قرآن حکیم کی زبان سیکھنے اور سکھانے کے لئے باقاعدہ جدوجہد نہیں کی گئی اور یہ مشہور کر دیا گیا ہے کہ قرآن مجید بہت مشکل ہے اور عربی زبان دنیا کی مشکل ترین زبان ہے،حالانکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " آسان چالیس سبق" محترم علامہ فروغ احمد صاحب  ناظم اعلی آسان عربی سکیم ،اسلام آباد کی کاوش ہے۔جس میں انہوں نے عربی الفاظ وکلمات ،ان کے مفہوم ومعانی طریقہ ہائے استعمال اور اس کی صرف ونحو کو چالیس آسان ومختصر اسباق میں سمودیا ہے۔ ان اسباق کو مختلف اذہان ،استعداد اور ماحول کے لحاظ سے مختلف صورتوں میں کئی کئی بار شائع کیا جا چکا ہے۔یہ کتاب چار حصوں پر مشتمل ہے،جو قرآن فہمی اور عربی تعلیم کے سلسلے میں انتہائی مفید اور شاندار کتاب ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو مولف کی میزان حسنات میں داخل فرمائے اور ان کے درجات کو بلند  فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-aasan-chalees-sabaq-3
    فروغ احمد

    قرآن حکیم ہم مسلمانوں کی مقدس کتاب اور عملی زندگی میں ضابطہ حیات ہے۔ہماری دینی ،دنیوی اور اجتماعی تمام امور کی راہنمائی قرآ ن مجید کے اوراق میں موجود ہے۔یہ ہماری کم ہمتی یا غفلت ہے کہ ہم اس متاع بے  بہا سے محروم ہیں۔اول تو ہم قرآن حکیم کو پڑھتے نہیں،اگر پڑھتے ہیں تو اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔حالانکہ قرآن مجید ہمیں پکار پکار کر دعوت دے رہا ہے کہ ہم اس کو سمجھیں،اس کی آیات میں غور وفکر کریں ا ور اس کے معنی ومفہوم میں تدبر کریں۔اللہ تعالی فرماتے ہیں:"وہ قرآن حکیم میں غور وفکر کیوں نہیں کرتے ،کیا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔"دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: "ہم نے قرآن مجید کو ذکر کے لئے آسان کر دیا ہے ،تو کوئی ہے جو اس میں غور وفکر کرے۔"ہم میں سے کوئی شخص اگر اس کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے قرآن حکیم کو سمجھنے کوشش شروع کرتا ہے تو عربی زبان سے ناآشنائی اس کے راستے میں دیوار بن جاتی ہے۔بد قسمتی سے ہمارے ہاں عربی زبان خصوصا قرآن حکیم کی زبان سیکھنے اور سکھانے کے لئے باقاعدہ جدوجہد نہیں کی گئی اور یہ مشہور کر دیا گیا ہے کہ قرآن مجید بہت مشکل ہے اور عربی زبان دنیا کی مشکل ترین زبان ہے،حالانکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " آسان چالیس سبق" محترم علامہ فروغ احمد صاحب  ناظم اعلی آسان عربی سکیم ،اسلام آباد کی کاوش ہے۔جس میں انہوں نے عربی الفاظ وکلمات ،ان کے مفہوم ومعانی طریقہ ہائے استعمال اور اس کی صرف ونحو کو چالیس آسان ومختصر اسباق میں سمودیا ہے۔ ان اسباق کو مختلف اذہان ،استعداد اور ماحول کے لحاظ سے مختلف صورتوں میں کئی کئی بار شائع کیا جا چکا ہے۔یہ کتاب چار حصوں پر مشتمل ہے،جو قرآن فہمی اور عربی تعلیم کے سلسلے میں انتہائی مفید اور شاندار کتاب ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو مولف کی میزان حسنات میں داخل فرمائے اور ان کے درجات کو بلند  فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-aasan-chalees-sabaq-4
    فروغ احمد

    قرآن حکیم ہم مسلمانوں کی مقدس کتاب اور عملی زندگی میں ضابطہ حیات ہے۔ہماری دینی ،دنیوی اور اجتماعی تمام امور کی راہنمائی قرآ ن مجید کے اوراق میں موجود ہے۔یہ ہماری کم ہمتی یا غفلت ہے کہ ہم اس متاع بے  بہا سے محروم ہیں۔اول تو ہم قرآن حکیم کو پڑھتے نہیں،اگر پڑھتے ہیں تو اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔حالانکہ قرآن مجید ہمیں پکار پکار کر دعوت دے رہا ہے کہ ہم اس کو سمجھیں،اس کی آیات میں غور وفکر کریں ا ور اس کے معنی ومفہوم میں تدبر کریں۔اللہ تعالی فرماتے ہیں:"وہ قرآن حکیم میں غور وفکر کیوں نہیں کرتے ،کیا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔"دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: "ہم نے قرآن مجید کو ذکر کے لئے آسان کر دیا ہے ،تو کوئی ہے جو اس میں غور وفکر کرے۔"ہم میں سے کوئی شخص اگر اس کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے قرآن حکیم کو سمجھنے کوشش شروع کرتا ہے تو عربی زبان سے ناآشنائی اس کے راستے میں دیوار بن جاتی ہے۔بد قسمتی سے ہمارے ہاں عربی زبان خصوصا قرآن حکیم کی زبان سیکھنے اور سکھانے کے لئے باقاعدہ جدوجہد نہیں کی گئی اور یہ مشہور کر دیا گیا ہے کہ قرآن مجید بہت مشکل ہے اور عربی زبان دنیا کی مشکل ترین زبان ہے،حالانکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " آسان چالیس سبق" محترم علامہ فروغ احمد صاحب  ناظم اعلی آسان عربی سکیم ،اسلام آباد کی کاوش ہے۔جس میں انہوں نے عربی الفاظ وکلمات ،ان کے مفہوم ومعانی طریقہ ہائے استعمال اور اس کی صرف ونحو کو چالیس آسان ومختصر اسباق میں سمودیا ہے۔ ان اسباق کو مختلف اذہان ،استعداد اور ماحول کے لحاظ سے مختلف صورتوں میں کئی کئی بار شائع کیا جا چکا ہے۔یہ کتاب چار حصوں پر مشتمل ہے،جو قرآن فہمی اور عربی تعلیم کے سلسلے میں انتہائی مفید اور شاندار کتاب ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو مولف کی میزان حسنات میں داخل فرمائے اور ان کے درجات کو بلند  فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-page-ap-k-intakhab
    نصرت اے زبیری
    موجودہ  مادی دور میں جب کہ ہرشخص دنیوی آسائشات کےحصول میں مگن ہے ایسے لٹریچر کی اشد ضرورت ہے جو مختصر ہو اور اس سے فائدہ اٹھانے میں سہولت ہو اسی کے پیش نظر یہ کتاب مرتب کی گئی ہے تاکہ قرآن حکیم کی کم ازکم ان آیات کو جن کاجاننا اور ان پر اپنی روز مرہ زندگی میں عمل کرنا ہرمسلمان کے لیے نہ صرف انتہائی ضروری  ہےبلکہ فرض ہے ہر ایک کے علم میں لایا جاسکے بقول مؤلف یہ کتاب قرآن کے حوالے سے اللہ تعالی کا بتایا ہوا امن وسلامتی کاسیدھا راستہ دکھانے کی ایک عاجزانہ کوشش ہے یہاں یہ پہلو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ دینی تعلیمات کےلیے صرف اسی ایک کتاب پرانحصار کرنا سنگین غلطی ہوگی­­-


  • pages-from-ayaat-e-mutaarza-aur-un-ka-hal
    محمد انور گنگوھی

    قرآن کریم  ہی وہ واحد کتاب ہے جو تاقیامت انسانیت کے لیے ذریعہ رشد وہدایت ہے۔ اسی پر عمل پیرا  ہو کر دنیا  میں سربلند ی او ر آخرت میں نجات کا حصول ممکن ہے  لہذا ضروری ہے اس کے معانی ومفاہیم کوسمجھا جائے، اس کی تفہیم  کے لیے درس وتدریس  کا اہتمام کیا  جائے  او راس کی تعلیم  کے مراکز  قائم کئے جائیں۔قرآن مجید کی تفسیر ہر مفسر نے اپنے اپنے مقام وفہم کے لحاظ سے لکھی ہے۔کسی نے اپنی توجہ کا مرکز احکام قرآنی اور مسائل فقہیہ کو بنایا، کسی مفسر کا محور عام وخاص ،مجمل ومفصل اور محکم ومتشابہ رہا ،کسی نے نحو وصرف پر زور دیا اور مفردات کے اشتقاق اور جملوں کی ترکیب پر محنت کی تو کسی نے علم کلام کی بحوث کو پیش کیا۔ زیر تبصرہ کتاب"آیات متعارضہ اور ان کا حل" محترم مولانا محمد انور صاحب گنگوہی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے منفرد انداز اختیار کرتے ہوئے آیات قرآنیہ کے درمیان نظر آنے والے ظاہری تعارض کا بہترین اور مدلل حل پیش کیا ہے۔یہ اپنے موضوع ایک منفرد اور انوکھی کتاب ہے،جس کا اہل علم کو ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • title-pages-ayat-al-kursi-k-fazail-w-tafseer-copy
    ڈاکٹر فضل الٰہی

    آیت الکرسی بہت بڑی عظمت ورفعت والی آیت ہے اوراس بلندی اور برتری کا سبب اس میں بیان کردہ باتیں ہیں ۔ یہ رب العالمین کی توحید ان کی کبریائی بڑائی صفات پر مشتمل ہے۔قرآن کریم ہر آیت کریمہ عالی مرتبت اور عظیم القدر ہے لیکن ان میں سے عظیم ترین آیت ’’آیت الکرسی‘‘ ہے آیات قرآنیہ میں سےیہ واحد آیت کریمہ ہے جس کو آنحضرت ﷺ نے بطور وظیفہ کثرت سے تلاوت کیا ہے اور صحابہ کرام اور امت مسلمہ کو تلاوت کی بار بار تاکید فرمائی ہے ۔ مثلاً پانچ نمازوں کے بعد ،رات کوسوتے وقت ، اپنی مادی چیزوں کو جن وانس سے محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی طور تلاوت کی تعلیم عطا فرمائی ہے ۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس کو بطور وظیفہ اپنانے کی مقدور بھر کوشش کرے اور اس آیت کے فیوض وبرکات کوسمیٹنے کا اہتمام کرے ۔اور نبی کریم ﷺ کی متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ آیۃ الکرسی قرآن کریم کی عظیم ترین آیت ہے اس لیے کہ اس میں ذات باری تعالیٰ کی توحید اس کی عظمت اوراس کی صفات کا بیان ہے حضرت ابی بن کعبؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ: ’’آیۃ الکرسی قرآن کریم کی عظیم ترین آیت ہے‘‘اور حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا کہ’’ آیۃ الکرسی ایک چوتھائی قرآن ہے‘‘ ۔ زیرتبصرہ کتاب ’’آیت الکرسی کے فضائل وتفسیر‘‘ شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کے برادر محترم مصنف کتب کثیرہ جناب ڈاکٹر فضل الٰہی ﷾ کی تصنیف ہےاس کتاب کو انہوں نے دو بحثوں میں تقسیم کیا ہے پہلی بحث آیت الکرسی کے فضائل اور دوسری بحث آیت االکرسی کی تفسیر کےمتعلق ہے ۔ مبحث اول کو پانچ عنوانات اور مبحث دوئم کو دس مستقل عنوانات کے تحت منفرد انداز میں بیان کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ موصوف کی تمام دعوتی وتبلیغی اور تحقیقی وتصنیفی خدمات قبول فرمائے اور اس کتاب کو عوام الناس کےلیے فائدہ مند بنائے (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-ajmal-ul-hawaashi-alaa-asool-ul-shaashi
    جمیل احمد سکروڈوی

    جب کوئی معاشرہ مذہب کو اپنے قانون کا ماخذ بنا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں علم فقہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ علم فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی؟ قرآن اور سنت کا باہمی تعلق کیا ہے؟ قرآن مجید، سنت اور حدیث میں سے کس ماخذ کو دین کا بنیادی اور کس ماخذ کو ثانوی ماخذ قرار دیا جائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی احادیث کو کیسے سمجھا جائے گا اور ان سے سنت کو کیسے اخذ کیا جائے گا؟ اگر قرآن مجید کی کسی آیت اور کسی حدیث میں بظاہر کوئی اختلاف نظر آئے یا دو احادیث میں ایک دوسرے سے بظاہر اختلاف نظر آئے تو اس اختلاف کو دور کرنے کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا؟ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔اور تمام قدیم مسالک (احناف،شوافع،حنابلہ اور مالکیہ)نے قرآن وسنت سے احکام شرعیہ مستنبط کرنے کے لئے اپنے اپنے اصول وضع کئے ہیں۔بعض اصول تو تمام مکاتب فکر میں متفق علیہ ہیں جبکہ بعض میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔اصول شاشى احناف كى اصول فقہ پر لکھی گئی مشہور كتابوں ميں سے ایک ہے اور اس كے مؤلف ابو على الشاشى احمد بن محمد بن اسحاق نظام الدين الفقيہ حنفى متوفى ( 344ھ )ہيں۔يہ امام ابو الحسن كرخى كے شاگرد ہيں، ان كى تعريف كرتے ہوئے كہتے ہيں: ابو على سے زيادہ حافظ ہمارے پاس كوئى نہيں آيا، شاشى بغداد ميں رہے اور وہيں تعليم حاصل كى۔چونکہ علماء احناف کے ہاں یہ کتاب اصول فقہ کے میدان میں ایک مصدر کی حیثیت رکھتی ہے ،چنانچہ انہوں نے اس کی متعدد شروحات بھی لکھی ہیں۔ جن میں سے "شرح مولى محمد بن الحسن الخوارزمى متوفى ( 781 ھ)،حصول الحواشى على اصول الشاشى از حسن ابو الحسن بن محمد السنبھلى الہندى ،عمدۃ الحواشى از مولى محمد فيض الحسن گنگوہى،تسھيل اصول الشاشى از شيخ محمد انور بدخشانى قابل ذکر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " اجمل الحواشی علی اصول الشاشی "بھی اصول شاشی کی ایک عظیم الشان اردو شرح ہے،جو دار العلوم دیو بند کے استاذ مولانا جمیل احمد سکروڈوی صاحب کی تصنیف ہے۔اور سچی بات یہ ہے کہ اصول شاشی کی تفہیم میں یہ ایک منفرد اور مفید ترین شرح ہے،راقم جامعہ لاہور الاسلامیہ میں اصول شاشی کے مادہ کی تدریس کے دوران اس کتاب سے بھی استفادہ کرتا رہا ہے۔اصول فقہ کے طلباء اور اساتذہ کو اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔(راسخ)(اصول فقہ)

  • title-pages-ahsan-al-tajweed-copy
    قاری محمد اظہر حسن

    علم تجوید قرآنی علوم کے بنیادی علوم میں سے ایک ہے ۔ اس علم کی تدوین کا آغاز دوسری صدی کے نصف سے ہوا۔ائمۂ حدیث وفقہ کی طرح تجوید وقراءات کے ائمہ کی بھی ایک طویل لسٹ ہے اور تجوید وقراءات کے موضوع پرماہرین تجوید وقراءات کی بے شمار کتب موجود ہیں ۔ عرب قراء کی طرح برصغیر پاک وہند کے علماء کرام اور قراءعظام نے بھی علم تجوید قراءات کی اشاعت وترویج کےلیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔پاکستان میں دیوبندی قراء کرام کےعلاوہ سلفی قراء عظام جناب قاری یحییٰ رسولنگری، قاری محمداریس العاصم ،قای محمد ابراہیم میرمحمدی حفظہم اللہ اور ان کےشاگردوں کی تجوید قراءات کی نشرواشاعت میں خدمات قابل تحسین ہیں ۔مذکورہ قراء کی تجوید وقراءات کی کتب کے علاوہ جامعہ لاہور الاسلامیہ کے کلیۃ القرآن ومجلس التحقیق الاسلامی ،لاہور کے زیر نگرانی شائع ہونے والے علمی مجلہ رشد کےعلم ِتجویدو قراءات کے موضوع پر تین ضخیم جلدوں پر مشتمل قراءات نمبر اپنے موضوع میں انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتے ہیں ۔جس میں مشہور قراء کرام کے تحریر شدہ مضامین ، علمی مقالات اور حجیت قراءات پر پاک وہند کے کئی جیدمفتیان کرام کے فتاوی ٰ جات بھی شامل ہیں اور اس میں قراءات کو عجمی فتنہ قرار دینے والوں کی بھی خوب خبر لیتے ہوئے ان کے اعتراضات کے مسکت جوابات دیئے گئے ہیں۔تلاوت ِقرآن کا بھر پور اجروثواب اس امر پرموقوف ہے کہ تلاوت پورے قواعد وضوابط اور اصول وآداب کے ساتھ کی جائے قرآن کریم کی تلاوت کا صحیح طریقہ جاننا اورسیکھنا علم تجوید کہلاتا ہے ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علم تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے ۔ کیونکہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم الشان کتاب ہے کہ ہر مسلمان پراس کتاب کو صحیح پڑھنا لازمی اور ضروری ہے جس کاحکم ورتل القرآن ترتیلا سے واضح ہوتا ہے۔ اس قرآنی حکم کی تکمیل اور تجویدکوطالب تجوید کےلیے آسان اورعام فہم بناکر پیش کرناایک استاد کے منصب کا اہم فریضہ ہے ۔ایک اچھا استاد جہاں اداء الحروف کی طرف توجہ دیتا ہے ۔  زیر تبصرہ کتاب’’ احسن التجوید‘‘ محترم جناب قاری محمد اظہر حسن صاحب کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہو ں نے علم تجوید کےضروری مسائل اور روایت سیدنا حفص کے تمام جزئیات نہایت اختصار کے ساتھ سلیس او رعام فہم اردو میں بیان کیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس رسالہ کو طلبائے تجوید کےلیے نافع بنائے (آمین) ( م۔ا)

  • title-pages-ahkam-al-bismillah-ki-tafseer-masail-w-ahkam-copy
    سید بدیع الدین شاہ راشدی

    قرآن مجید ایک مرتب ومنظم زندہ وجاوید صحیفہ ہے۔جس کی تفسیر ہر مفسر نے اپنے اپنے مقام وفہم کے لحاظ سے لکھی ہے۔کسی نے اپنی توجہ کا مرکز احکام قرآنی اور مسائل فقہیہ کو بنایا ،کسی مفسر کا محور عام وخاص ،مجمل ومفصل اور محکم ومتشابہ رہا ،کسی نے نحو وصرف پر زور دیا اور مفردات کے اشتقاق اور جملوں کی ترکیب پر محنت کی تو کسی نے علم کلام کی بحوث کو پیش کیا۔انہی مفسرین میں سے ایک عظیم محدث ومفسر شیخ العرب والعجم علامہ ابو محمد السید بدیع الدین شاہ الراشدی ﷫ ہیں جنہوں نے "بدیع التفاسیر " کے نام سے ایک جامع اور مستند تفسیر لکھی ہے اور اس میں مذکورہ تمام پہلووں کی رعایت رکھی ہے۔حتی کہ بعض مفسرین جو محض افراط خوش عقیدگی کی بناء پر ضعیف اور موضوع روایات ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آ رہے تھے ان کا بھی علمی جرات سے صفایا کر دیا ہے۔لیکن افسوس کہ شاہ صاحب﷫ تفسیر مکمل کئے بغیر ہی بقضائے رب الاعلی  اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ زیر تبصرہ کتاب " بسم اللہ الرحمن الرحیم کی تفسیر ،مسائل واحکام " بھی شاہ صاحب کی  اسی تفسیر کی ایک ہلکی سی جھلک ہے جو صرف بسم اللہ الرحمن الرحیم کے احکام ومسائل وغیرہ پر مشتمل ہے۔یہ تفسیر اصل میں سندھی زبان میں ہے جبکہ اس کا اردو ترجمہ کرنے کی سعادت محترم حافظ عبد الحمید گوندل مدیر ماہنامہ دعوت اہلحدیث نے حاصل کی ہے۔اس میں مولف موصوف نے  بسم اللہ کی لفظی تحقیق اور معانی،وہ کام جن سے پہلے بسم اللہ پڑھنی چاہئے،اللہ تعالی کو ہمیشہ اچھے ناموں سے پکارنا چاہئے،اسماء الحسنی کی تشریح،لفظ اللہ کا اشتقاق اور معنی،اسم مبارک اللہ ہی اسم اعظم ہے اوراللہ تعالی کی رحمت کا بیان وغیرہ جیسے موضوعات پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف ﷫ کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ا ن کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔(راسخ)

  • title-pages-ahkam-ul-quran-copy
    چوہدری نذر محمد

    قرآن مجید بے شمار علوم وفنون کا خزینہ ہے۔اس کے متعدد مضامین میں سے ایک اہم ترین مضمون اس کے احکام ہیں۔جو پورے قرآن مجید میں جابجا موجود ہیں ۔احکام القرآن پر مبنی آیات کی تعداد پانچ سو یا اس کے لگ بھگ ہے۔مفسرین کرام نے جہاں پورے قرآن کی تفاسیر لکھی ہیں ،وہیں احکام پر مبنی آیات کو جمع  کر کے الگ سے احکام القرآن  پر مشتمل تفسیری مجموعے مرتب کئے ہیں۔احکام القرآن پر مشتمل کتب میں قرآن مجید کی صرف انہی آیات کی تفسیر کی جاتی ہے جو اپنے اندر کوئی شرعی حکم لئے ہوئے ہیں۔ان کے علاوہ  قصص ،اخبار وغیرہ پر مبنی آیات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔زیر تبصرہ کتاب ’’  احکام القرآن‘‘ بھی اسی طرز بھی لکھی گئی  چوہدری نذر محمد  کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے تین سو کے قریب موضوعات کے تحت ان موضوعات سے متعلقہ آیات قرآنیہ  کو جمع کر دیا ہے۔انہوں نے آیت قرآنی کا متن اور الفاظ لکھنے کی بجائے اختصار کی غرض سے فقط اس کا ترجمہ دینے پر ہی اکتفاء کیا ہے،اور ساتھ سورۃ اور آیت نمبر لکھ دیا ہے،لیکن اس کا نقصان یہ ہوا ہے کہ آیات کے متن کے بغیر اسے پڑھنا ذرا بوجھل محسوس ہوتا ہے۔چوہدری نذر محمد صاحب  بنیادی طور پر ایک تاجر پیشہ آدمی تھے ،لیکن حوادثات زمانہ نے انہیں قرآن مجید کے مطالعہ پر مجبور کر دیا۔ انہوں نے اپنے مطالعہ سے جو کچھ اخذ کیا اسے اپنے جیسے دیگر تاجر حضرات کے لئے جمع کردیا تاکہ وہ بھی قلت وقت کے باوجود قرآن مجید  کے احکام سے واقف ہو سکیں اور اسی کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں۔یہ کوئی علمی یا تحقیقی کتاب نہیں ہے،بلکہ احکام قرآن پر مبنی معلومات کا ایک مجموعہ ہے۔جو تاجروں جیسے مصروف زندگی گزارنے والے لوگوں کے لئے  روشنی کی ایک کرن ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے درجات حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)(احکام القرآن)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-ahkam-ul-quran-1-copy
    علامہ ابو بکر احمد بن علی الرازی الجصاص الحنفی

    قرآن مجید بے شمار علوم وفنون کا خزینہ ہے۔اس کے متعدد مضامین میں سے ایک اہم ترین مضمون اس کے احکام ہیں۔جو پورے قرآن مجید میں جابجا موجود ہیں ۔احکام القرآن پر مبنی آیات کی تعداد پانچ سو یا اس کے لگ بھگ ہے۔لیکن مفسرین کرام نے جہاں پورے قرآن کی تفاسیر لکھی ہیں ،وہیں احکام پر مبنی آیات کو جمع  کر کے الگ سے احکام القرآن  پر مشتمل تفسیری مجموعے بھی  مرتب کئے ہیں۔احکام القرآن پر مشتمل کتب میں قرآن مجید کی صرف انہی آیات کی تفسیر کی جاتی ہے جو اپنے اندر کوئی شرعی حکم لئے ہوئے ہیں۔ان کے علاوہ  قصص ،اخبار وغیرہ پر مبنی آیات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " احکام القرآن "بھی اسی طرز بھی لکھی گئی ایک منفرد کتاب ہے، جو چوتھی صدی ہجری کے معروف حنفی عالم علامہ ابو بکر احمد بن علی الرازی الجصاص الحنفی ﷫ کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے  پورے قرآن کی تفسیر کرتے ہوئے احکام پر مبنی آیات کی خصوصی تفسیر قلم بند کی ہے۔اصل کتاب عربی میں ہے۔ اردو ترجمہ کرنے کی سعادت محترم مولانا عبد القیوم صاحب نے حاصل کی ہے۔اردو ترجمے پر مبنی کتاب کی چھ ضخیم جلدیں ہیں، جو اس وقت آپ کے سامنے موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے درجات حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-ahkam-ul-quran-1-copy
    علامہ ابو بکر احمد بن علی الرازی الجصاص الحنفی

    قرآن مجید بے شمار علوم وفنون کا خزینہ ہے۔اس کے متعدد مضامین میں سے ایک اہم ترین مضمون اس کے احکام ہیں۔جو پورے قرآن مجید میں جابجا موجود ہیں ۔احکام القرآن پر مبنی آیات کی تعداد پانچ سو یا اس کے لگ بھگ ہے۔لیکن مفسرین کرام نے جہاں پورے قرآن کی تفاسیر لکھی ہیں ،وہیں احکام پر مبنی آیات کو جمع  کر کے الگ سے احکام القرآن  پر مشتمل تفسیری مجموعے بھی  مرتب کئے ہیں۔احکام القرآن پر مشتمل کتب میں قرآن مجید کی صرف انہی آیات کی تفسیر کی جاتی ہے جو اپنے اندر کوئی شرعی حکم لئے ہوئے ہیں۔ان کے علاوہ  قصص ،اخبار وغیرہ پر مبنی آیات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " احکام القرآن "بھی اسی طرز بھی لکھی گئی ایک منفرد کتاب ہے، جو چوتھی صدی ہجری کے معروف حنفی عالم علامہ ابو بکر احمد بن علی الرازی الجصاص الحنفی ﷫ کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے  پورے قرآن کی تفسیر کرتے ہوئے احکام پر مبنی آیات کی خصوصی تفسیر قلم بند کی ہے۔اصل کتاب عربی میں ہے۔ اردو ترجمہ کرنے کی سعادت محترم مولانا عبد القیوم صاحب نے حاصل کی ہے۔اردو ترجمے پر مبنی کتاب کی چھ ضخیم جلدیں ہیں، جو اس وقت آپ کے سامنے موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے درجات حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-ahkam-ul-quran-1-copy
    علامہ ابو بکر احمد بن علی الرازی الجصاص الحنفی

    قرآن مجید بے شمار علوم وفنون کا خزینہ ہے۔اس کے متعدد مضامین میں سے ایک اہم ترین مضمون اس کے احکام ہیں۔جو پورے قرآن مجید میں جابجا موجود ہیں ۔احکام القرآن پر مبنی آیات کی تعداد پانچ سو یا اس کے لگ بھگ ہے۔لیکن مفسرین کرام نے جہاں پورے قرآن کی تفاسیر لکھی ہیں ،وہیں احکام پر مبنی آیات کو جمع  کر کے الگ سے احکام القرآن  پر مشتمل تفسیری مجموعے بھی  مرتب کئے ہیں۔احکام القرآن پر مشتمل کتب میں قرآن مجید کی صرف انہی آیات کی تفسیر کی جاتی ہے جو اپنے اندر کوئی شرعی حکم لئے ہوئے ہیں۔ان کے علاوہ  قصص ،اخبار وغیرہ پر مبنی آیات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " احکام القرآن "بھی اسی طرز بھی لکھی گئی ایک منفرد کتاب ہے، جو چوتھی صدی ہجری کے معروف حنفی عالم علامہ ابو بکر احمد بن علی الرازی الجصاص الحنفی ﷫ کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے  پورے قرآن کی تفسیر کرتے ہوئے احکام پر مبنی آیات کی خصوصی تفسیر قلم بند کی ہے۔اصل کتاب عربی میں ہے۔ اردو ترجمہ کرنے کی سعادت محترم مولانا عبد القیوم صاحب نے حاصل کی ہے۔اردو ترجمے پر مبنی کتاب کی چھ ضخیم جلدیں ہیں، جو اس وقت آپ کے سامنے موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے درجات حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-ahkam-ul-quran-1-copy
    علامہ ابو بکر احمد بن علی الرازی الجصاص الحنفی

    قرآن مجید بے شمار علوم وفنون کا خزینہ ہے۔اس کے متعدد مضامین میں سے ایک اہم ترین مضمون اس کے احکام ہیں۔جو پورے قرآن مجید میں جابجا موجود ہیں ۔احکام القرآن پر مبنی آیات کی تعداد پانچ سو یا اس کے لگ بھگ ہے۔لیکن مفسرین کرام نے جہاں پورے قرآن کی تفاسیر لکھی ہیں ،وہیں احکام پر مبنی آیات کو جمع  کر کے الگ سے احکام القرآن  پر مشتمل تفسیری مجموعے بھی  مرتب کئے ہیں۔احکام القرآن پر مشتمل کتب میں قرآن مجید کی صرف انہی آیات کی تفسیر کی جاتی ہے جو اپنے اندر کوئی شرعی حکم لئے ہوئے ہیں۔ان کے علاوہ  قصص ،اخبار وغیرہ پر مبنی آیات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " احکام القرآن "بھی اسی طرز بھی لکھی گئی ایک منفرد کتاب ہے، جو چوتھی صدی ہجری کے معروف حنفی عالم علامہ ابو بکر احمد بن علی الرازی الجصاص الحنفی ﷫ کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے  پورے قرآن کی تفسیر کرتے ہوئے احکام پر مبنی آیات کی خصوصی تفسیر قلم بند کی ہے۔اصل کتاب عربی میں ہے۔ اردو ترجمہ کرنے کی سعادت محترم مولانا عبد القیوم صاحب نے حاصل کی ہے۔اردو ترجمے پر مبنی کتاب کی چھ ضخیم جلدیں ہیں، جو اس وقت آپ کے سامنے موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے درجات حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-ahkam-ul-quran-1-copy
    علامہ ابو بکر احمد بن علی الرازی الجصاص الحنفی

    قرآن مجید بے شمار علوم وفنون کا خزینہ ہے۔اس کے متعدد مضامین میں سے ایک اہم ترین مضمون اس کے احکام ہیں۔جو پورے قرآن مجید میں جابجا موجود ہیں ۔احکام القرآن پر مبنی آیات کی تعداد پانچ سو یا اس کے لگ بھگ ہے۔لیکن مفسرین کرام نے جہاں پورے قرآن کی تفاسیر لکھی ہیں ،وہیں احکام پر مبنی آیات کو جمع  کر کے الگ سے احکام القرآن  پر مشتمل تفسیری مجموعے بھی  مرتب کئے ہیں۔احکام القرآن پر مشتمل کتب میں قرآن مجید کی صرف انہی آیات کی تفسیر کی جاتی ہے جو اپنے اندر کوئی شرعی حکم لئے ہوئے ہیں۔ان کے علاوہ  قصص ،اخبار وغیرہ پر مبنی آیات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " احکام القرآن "بھی اسی طرز بھی لکھی گئی ایک منفرد کتاب ہے، جو چوتھی صدی ہجری کے معروف حنفی عالم علامہ ابو بکر احمد بن علی الرازی الجصاص الحنفی ﷫ کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے  پورے قرآن کی تفسیر کرتے ہوئے احکام پر مبنی آیات کی خصوصی تفسیر قلم بند کی ہے۔اصل کتاب عربی میں ہے۔ اردو ترجمہ کرنے کی سعادت محترم مولانا عبد القیوم صاحب نے حاصل کی ہے۔اردو ترجمے پر مبنی کتاب کی چھ ضخیم جلدیں ہیں، جو اس وقت آپ کے سامنے موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے درجات حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-ahkam-ul-quran-1-copy
    علامہ ابو بکر احمد بن علی الرازی الجصاص الحنفی

    قرآن مجید بے شمار علوم وفنون کا خزینہ ہے۔اس کے متعدد مضامین میں سے ایک اہم ترین مضمون اس کے احکام ہیں۔جو پورے قرآن مجید میں جابجا موجود ہیں ۔احکام القرآن پر مبنی آیات کی تعداد پانچ سو یا اس کے لگ بھگ ہے۔لیکن مفسرین کرام نے جہاں پورے قرآن کی تفاسیر لکھی ہیں ،وہیں احکام پر مبنی آیات کو جمع  کر کے الگ سے احکام القرآن  پر مشتمل تفسیری مجموعے بھی  مرتب کئے ہیں۔احکام القرآن پر مشتمل کتب میں قرآن مجید کی صرف انہی آیات کی تفسیر کی جاتی ہے جو اپنے اندر کوئی شرعی حکم لئے ہوئے ہیں۔ان کے علاوہ  قصص ،اخبار وغیرہ پر مبنی آیات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " احکام القرآن "بھی اسی طرز بھی لکھی گئی ایک منفرد کتاب ہے، جو چوتھی صدی ہجری کے معروف حنفی عالم علامہ ابو بکر احمد بن علی الرازی الجصاص الحنفی ﷫ کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے  پورے قرآن کی تفسیر کرتے ہوئے احکام پر مبنی آیات کی خصوصی تفسیر قلم بند کی ہے۔اصل کتاب عربی میں ہے۔ اردو ترجمہ کرنے کی سعادت محترم مولانا عبد القیوم صاحب نے حاصل کی ہے۔اردو ترجمے پر مبنی کتاب کی چھ ضخیم جلدیں ہیں، جو اس وقت آپ کے سامنے موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے درجات حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-ikhtilaaf-e-quran-aur-nazria-tehreef-e-quran
    محمد فیروز الدین شاہ کھگہ

    قرآن مجید اللہ تعالی کی طرف سے نازل کی جانے والی آسمانی کتب میں سے سب سے آخری  کتاب ہے ۔جسےاللہ تعالی نے امت کی آسانی کی غرض سے قرآن مجید کو سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون،روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالم اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش ، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع ،مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے۔ہمارے ہاں مجلس التحقیق الاسلامی میں ان چاروں متداول روایات(اور مزید روایت شعبہ) میں مجمع ملک فہد کے مطبوعہ قرآن مجید بھی موجود ہیں۔مگر افسوس کہ بعض مستشرقین ابھی تک اس وحی سماوی کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کرنے اور اس میں تحریف ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں تاکہ مسلمانوں کو اس سے دور کیا جا سکے۔اہل علم نے ہر دور میں ان دشمنان اسلام کا مقابلہ کیا ہے اور مستند دلائل سے ان کے بے تکے اعتراضات کا جواب دیا ہے۔ زیر نظر کتاب ''اختلاف قراءات اور نظریہ تحریف قرآن'' محترم محمد فیروز الدین شاہ کھگہ کا ایم فل کا مقالہ ہے جو انہوں نے شیخ زید اسلامک سنٹر پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم فل کی ڈگری کے حصول کے لئے لکھا تھا۔اس میں انہوں نے قراءات قرآنیہ کا تعارف، تدوین وارتقاء،سبعہ احرف اور اختلاف قراءات،اختلاف قراءات اور استشراقی نظریہ تحریف کے موضوعات پر تفصیلی بحث کی ہےاور مدلل دلائل سے مستشرقین کے اعتراضات کا جواب دیا ہے۔ اللہ تعالی قراء ات قرآنیہ کے دفاع کے حوالے سے سر انجام دی گئی ان کی ان خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-urdu-tafaseer-beesvi-sadi-mein
    ڈاکٹر سید شاہد علی

    قرآنِ مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِ ہدایت ہے اور اسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ اسے پڑھنے پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ نے ایک ایک حرف پر ثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِ صحابہ سے لے کر عصر حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم و تشریح اور ترجمہ و تفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دیں اور ائمہ محدثین نے کتبِ احادیث میں باقاعدہ ابواب التفسیر کے نام سے باب قائم کیے۔ اور مختلف ائمہ نے عربی زبان میں مستقل بیسیوں تفاسیر لکھیں ہیں۔ جن میں سے کئی تفسیروں کے اردو زبان میں تراجم بھی ہوچکے ہیں۔ اور ماضی قریب میں برصغیرِ پاک وہند کے تمام مکتب فکر کےعلماء نے قرآن مجید کی اردو تفاسیر لکھنے میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ارد وتفاسیر بیسویں صدی میں‘‘ ڈاکٹر سید شاہد علی مرتب شدہ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے بیسویں صدی میں اردو زبان میں لکھی جانی والی مکمل تفسیریں، جزوی تفسیریں، اور حواشی کی صورت میں لکھی جانے والی تفسیروں کا تعارف پیش کیا ہے۔ فاضل مصنف نے اس کتاب کو چار ابواب میں تقسیم کیا ہے باب اول میں 26 مکمل تفسیروں کا تعارف۔ باب دوم میں 37 جزوی تفسیروں کا تعارف۔ باب سوم میں چار تفسیری حواشی کاتعارف پیش کیا ہے اور باب چہارم حوالہ جات پر مشتمل ہے۔ صاحب کتاب نے اگرچہ اس کتاب کو بڑی محنت سے مرتب کیا ہے 20 صدی میں اردو زبان میں لکھی جانے والی مکمل جزوی، تفسیری حواشی کو اس میں جمع کرنے کی کوشش کی ہے لیکن راقم کے خیال میں اس کتاب میں ابھی تشنگی ہے کیونکہ مصنف تمام تفسیروں کا احاطہ نہیں کرسکے۔ مثلاً انہوں نے مکمل تفسیروں میں مولاناادریس کاندہلوی﷫ کی تفسیر معارف القرآن اور تفسیری حواشی میں اشرف الحواشی کاذکر نہیں کیا۔ تتبع و تلاش سے بیسویں صدی میں لکھی جانے والی مزید تفسیریں بھی مل سکتی ہیں۔ (م۔ا)

  • title-pages-asas-ul-quran-copy
    خولہ ضیغم

    قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِہدایت ہے، او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہےکہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے ۔ اسے پڑھنے  اور پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِصحابہ سے لے کر دورِ حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم وتشریح اور ترجمہ وتفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دیں اور ائمہ محدثین نے کتب احادیث میں باقاعدہ ابواب التفسیر کے نام سےباب قائم کیے ہیں ۔تاکہ خدمت قرآن کے  عظیم الشان شرف سے مشر ف ہوں۔قرآن مجید اسی ہزار الفاظ پر مشتمل ہے۔مگر اصل الفاظ دو ہزار ہیں، جن کے بار بار آنے سے یہ اسی ہزار بن گئے ہیں۔ان میں سے 500 الفاظ اردو زبان میں کم وبیش استعمال ہوتے ہیں۔باقی 1500 الفاظ ہیں جنہیں اگر صحیح طرح سے یاد کر لیا جائے توقرآن مجید کو سمجھنا آسان ہو جاتاہے۔ زیرتبصرہ کتاب  ''اساس القرآن '' محترمہ خولہ ضیغم  صاحبہ کی کاوش ہے، جس  میں انہوں نے انہی بنیادی  1734 الفاظ کے لغوی واصطلاحی معانی   بیان کر دئیے ہیں تاکہ قرآن مجید کو سمجھنے میں آسانی ہو سکے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولفہ موصوفہ کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-asbab-nazole-quran-copy
    ابو الحسن علی بن احمد الواحدی النیسابوری

    قرآن  کریم آخری الہامی  کتاب اور عالمی وابدی سرڈچشمۂ ہدایت کی حیثیت سے پڑھنے سمجھنے اور معاشرے میں اس کے قوانین  کے اطلاق کے سلسلے  میں جس اہتمام کاتقاضا کرتا ہے وہ کسی طرح محتاج بیان نہیں ہے ۔ اس سلسلے  میں جاننا ضروری ہے کہ  قرآن کریم معاشرے میں اصلاح کے تدریجی طریق کار کے پیش نظر مختلف حالات میں نازل ہوتا رہا ۔ ا ن مخصوص حالات اور واقعات کی واقفیت  ہر مسلمان  فر د بالخصوص  ہر مبلغ کے لیے  از بس ضروری ہے ۔اس سلسلے میں  امت کےعلماء  کرام  نے  پوری کوشش کی ہے  اور آیات قرآنی کے شان نزول کو تفصیل  کےساتھ محفوظ کیا ہے ۔انہی مستند کتب اور مآخذ میں سے زیر  نظر  کتاب ’’اسباب  نزول القرآن‘‘  ہے جو امام ابو الحسن علی بن احمد بن محمد الواحدی کی تصنیف ہے ۔ جس میں قرآنی آیات کے اسباب یعنی  شان نزول کا  احاطہ کیاگیا ہے۔اللہ تعالی مصنف  مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کو  شرف قبولیت سے  نوازے اور اس طالبان ِعلوم نبوت کےلیے  نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • pages-from-islam-ka-qanoon-e-waqaf-ma-tareekh-e-muslim-auqaaf
    ڈاکٹر محمود الحسن عارف

    وقف اسلامی قانون کا ایک اہم جز اور مسلمانوں کی ملی زندگی کا ایک روشن رخ ہے۔مسلمانوں نے ہر دور میں اس کارِخیراورفلاحی پروگرام کورواج دیا ہے۔ وقف کی تعریف یہ ہے کہ ملکیت باقی رکھتے ہوئے جائداد کا نفع سب کے لیے یا کسی خاص طبقے کیلئے خاص کردیاجائے۔نہ اس کو بیچا جاسکتاہے اور نہ منتقل کیاجاسکتا ہے۔اسلام میں سب سے پہلا وقف پیغمبرحضرت محمدﷺنے کیا ۔آپ ﷺنے سات باغوں کووقف کیا جو اسلام میں پہلاوقف خیری تھا۔ دوسرا وقف اسلام میں خلیفہ دوم سید نا عمر فاروق﷜ نے کیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ کے زمانہ ہی میں صحابہ کرام ﷢نے کئی وقف کیے۔جب پیغمبراسلام کے سامنے کوئی شوسل مسئلہ آتاتوآپﷺ صحابہ کرام کو ترغیب دیتے،صحابہ کرام فوراََ وہ چیز دے دیتے ۔اسلام کے مالیاتی نظام میں وقف کو ایک بنیادی حیثیت حاصل ہے۔اسلامی تاریخ کے ہردور میں غریبوں اورمسکینوں کی ضروریات کو پوراکرنے ،انہیں معاشی طورپر خود کفیل بنانے ،مسلمانوں کو علوم و فنون سے آراستہ کرنے ،مریضوں پریشان حالوں کی حاجت روائی کرنے اور اصحاب علم و فضل کی معاشی کفالت میں اسلامی وقف کا بہت اہم رول رہا ہے۔ کتب ِ فقہ میں اسکے تفصیلی احکامات موجود ہیں ۔ فقہ کی اکثر کتب چونکہ عربی زبان میں ہیں ۔اردو دان طبقہ جس سے مستفید نہیں ہوسکتا تھا ۔ جناب ڈاکٹر محمود الحسن عارف صاحب نے   فقہ کی امہات الکتب سے استفادہ کر کے اردو دان حضرات کے لیے زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام کا قانون وقف مع تاریخ مسلم اوقاف ‘‘ تیار کی ۔اس کتاب میں انہوں نے اسلام کے قانون وقف کاتعارف کروانے کی کوشش کی ہے ۔اس میں ’’وقف‘‘کے لغوی واصطلاحی پس منظر کے ساتھ اس کے قوانین پر بھی تفصیلاً بحث کرنے کے علاوہ عہد نبوی سے قیام پاکستان تک مسلم اوقاف کے مختلف ادوار کی تاریخ بھی پیش کردی ہے ۔اردو زبان میں اپنے موضوع پر یہ ایک تحقیقی نوعیت کی ایک اہم کتاب ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-islam-k-muashrti-adab-sorat-al-hujrat-ki-roshni-me-copy
    سید ابو الاعلی مودودی

    سورۃ الحجرات قرآن مجید کی 49 ویں سورت جو حضرت محمد ﷺ کی مدنی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس سورت میں 2 رکوع اور 18 آیات ہیں۔سورۃ الحجرات کےمضامین اورتفاسیر بالماثور کےمطالعہ سے پتہ چلتاہے کہ سورۃ الحجرات ایک ہی دفعہ نازل نہیں کی گئی بلکہ حسب ضرورت اس کانزول کئی حصوں او رمختلف اوقات میں ہوا اس سورت کااجمالی موضوع اہل ایمان اورمسلمانوں کے ان امور کی اصلاح ہے جن کا تعلق ان کے باہمی معاملات او رمجمتع اسلامی سے ہوتاہے۔ ابتدائی پانچ آیتوں میں ان کو وہ ادب سکھایا گیا ہے جو انہیں اللہ اور اس کے رسول کے معاملے میں ملحوظ رکھنا چاہیے۔ پھر یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ہر خبر پر یقین کر لینا اور اس پر کوئی کارروائی کر گزرنا مناسب نہیں ہے۔ اگر کسی شخص یا گروہ یا قوم کے خلاف کوئی اطلاع ملے تو غور سے دیکھنا چاہیے کہ خبر ملنے کا ذریعہ قابل اعتماد ہے یا نہیں۔ قابل اعتماد نہ ہو تو اس پر کارروائی کرنے سے پہلے تحقیق کر لینا چاہیے کہ خبرصحیح ہے یا نہیں۔ اس کے بعد بتایا گیا ہے کہ اگر کسی وقت مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو اس صورت میں دوسرے مسلمانوں کو کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے۔ پھر مسلمانوں کو ان برائیوں سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے جو اجتماعی زندگی میں فساد برپا کرتی ہیں اور جن کی وجہ سے آپس کے تعلقات خراب ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کا مذاق اڑانا، ایک دوسرے پر طعن کرنا، ایک دوسرے کے برے برے نام رکھنا، بد گمانیاں کرنا، دوسرے کے حالات کی کھوج کرید کرنا، لوگوں کو پیٹھ پیچھے ان کی برائیاں کرنا، یہ وہ افعال ہیں جو بجائے خود بھی گناہ ہیں اور معاشرے میں بگاڑ بھی پیدا کرتےہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نام بنام ان کا ذکر فرما کر انہیں حرام قرار دے دیا ہے۔ اس کے بعد قومی اور نسلی امتیازات پر ضرب لگائی گئی ہے جو دنیا میں عالمگیر فسادات کے موجب ہوتے ہیں۔ قوموں اور قبیلوں اور خاندانوں کا اپنے شرف پر فخر و غرور، اور دوسروں کو اپنے سے کمتر سمجھنا، اور اپنی بڑائی قائم کرنے کے لیے دوسروں کو گرانا، ان اہم اسباب میں سے ہے جن کی بدولت دنیا ظلم سے بھر گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک مختصر سی آیت فرما کر اس برائی کی جڑ کاٹ دی ہے کہ تمام انسان ایک ہی اصل سے پیدا ہوئے ہیں اور قوموں اور قبیلوں میں ان کا تقسیم ہونا تعارف کے لیے ہے نہ کہ تفاخر کے لیے، اور ایک انسان پر دوسرے انسان کی فوقیت کے لیے اخلاقی فضیلت کے سوا اور کوئی جائز بنیاد نہیں ہے۔ آخر میں لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ اصل چیز ایمان کا زبانی دعویٰ نہیں ہے بلکہ سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول کو ماننا، عملاً فرمانبردار بن کر رہنا، اور خلوص کے ساتھ اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال کھپا دینا ہے۔ حقیقی مومن وہی ہیں جو یہ روش اختیار کرتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو دل کی تصدیق کے بغیر محض زبان سے اسلام کا اقرار کرتے ہیں اور پھر ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں کہ گویا اسلام قبول کر کے انہوں نے کوئی احسان کیا ہے، تو دنیامیں ان کا شمار مسلمانوں میں ہو سکتا ہے، معاشرے میں ان کے ساتھ مسلمانوں کا سا سلوک بھی کیا جا سکتا ہے، مگر اللہ کے ہاں وہ مومن قرار نہیں پا سکتے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اسلام کے معاشرتی آداب ‘‘ عالم اسلام کے عظیم اسلامی اسکالر مفسر قرآن سید ابو الاعلیٰ مودودی ﷫ کی تصیف ہے جسے انہوں نے سورۃ الحجرات کی روشنی میں انتہائی عام فہم انداز میں عامۃ الناس کے لیے مرتب کیا تھا۔یہ کتاب دراصل ان کی تفسیر ’’ تفہیم القرآن ‘‘ سے اخذ شدہ جسے عامۃ الناس کے استفادے کے لیے اسلامک سروسز سوسائٹی نے الگ سے شائع کیا گیا ہے ۔ (راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1292 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں