• title-pages-alfaze-mutaradifa-k-darmiyan-farak
    محمد نور حسین قاسمی
    علوم اسلامیہ اور عربیہ میں علمِ لغت ایک ایسا جامع علم ہے جس سے جملہ علوم کا سلسلہ جڑتا ہے۔ علمِ لغت کو ام العلوم سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ علم نحو، صرف، اشتقاق، معانی، بدیع اور علم بیان وغیرہ کا استخراج اسی علم سے ہوا ہے۔ عربی لغت میں الفاظ کے درمیان باہم مناسبت اور ترادف بھی ہوا کرتا ہے جس کی نشاندہی اکثر لغت کی کتب میں چیدہ چیدہ مقامات پر اہل فن نے کی ہے۔ بعد میں اس پہلو کو مزید روشن بنانے کے لئے مستقل عرق ریزی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چنانچہ ارباب علم و فن نے اس پہلو کو خوف روشن کر کے دکھایا۔ زیر نظر کتاب بھی اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ ’’البروق فی انواع الفروق‘‘ یعنی الفاظ مترادفہ کے درمیان فرق، مولانا نور حسین قاسمی کی تصنیف لطیف ہے۔ اس کتاب میں الف سے لیکر یاء تک، دلچسپ الفاظ مترادفات مثلاً اللہ، الہ، رب، خدا جیسے کلمات کا والد، ولد، ابن جیسے کلمات کا، جنگ، جہاد، غزوہ جیسے کلمات کا اور اسی طرح دین، شریعت، ملت، مذہب جیسے کلمات کا آپس میں فرق آسان کتاب میں جا بجا مقامات پر فروق پر مبنی عربی کتب سے براہِ راست اقتباسات باحوالہ نقل کئے گئے ہیں اور آخر میں مصادر و مراجع پر مبنی کتب کی فہرست دے دی گئی ہے جو مستفیدین کو تفصیلی معلومات کی طریق رہنمائی کرتی ہیں۔ مختصر یہ کہ اردو زبان میں الفاظ مترادفہ کے مابین فروق کے حوالے سے، یہ کتاب قابلِ التفات اور قابلِ ستائش ہے۔ (آ۔ہ۔)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • anwar-ul-biyan-4-pic1
    علی محمدپی۔سی۔ایس

    قرآن قیامت تك کے لیے  ایک ضابطہ حیات  كی كتاب ہے جواپنے اندر ہر دور کے مسائل کا حل رکھتی ہے۔ لہٰذا قرآن کا ایک ایک لفظ معجزہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن چونکہ فصیح و بلیغ زبان کا شاہکار ہے او راس زبان کو سمجھنےکےلئے عجمیوں کےلیے قواعد وضع کئے گئے تاکہ ان قواعد كو  مدنظر رکھتے ہوئے قرآن کے مفہوم کو صحیح طرح سمجھا جائے۔

    قرآن کے مدلول کو عامۃ الناس پر منکشف کرنے کے لئے مفسرین نے اپنی اپنی بساط کے مطابق عربی  اور غیر عربی زبان میں تفاسیر لکھیں۔ ان تفاسیر میں مفسرین نے احادیث و آثار فقہی آراء اور لغت کے حل کی مدد سے قرآنی الفاظ کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ قرآن کے الفاظ اور  عبارات کی لغوی تفسیر کہ جس میں تراکیب و عبارات کے حل کا اہتمام کیا جاتا  صرف عربی  زبان میں نہیں ۔اُردو زبان میں اس کام کی بہت ضرورت تھی کہ قرآن کی عبارت کو گرامر کی روشنی میں تراکیب کے ساتھ حل کردیا جاتا تاکہ علماء و متعلمین اس سے استفادہ کرسکی اور یہ  الغمام زیر نظر کتاب  ’’انوار البیان  فی حل لغات القرآن ‘‘ میں ہمیں اتم درجہ دیکھنے کو ملا ہے۔ مصنف نے اس میں ہر سورے کی عبارتوں کی ترکیب اور ہر لفظ کی عربی گرامر کی رو سے نشاندہی کردی ہے اور یہ کتاب چار مجلدات پر مشتمل ہے۔اگرچہ یہ کتاب عامۃ الناس کے لیے نہیں ہے ۔بہرکیف مصنف اپنی کوشش میں کامیاب نظر آتے ہیں اور ایک منتہی اور طالب علم کے لیے علمی حظ اٹھانے کا وافر سامان موجود ہے۔
  • anwar-ul-biyan-4-pic2
    علی محمدپی۔سی۔ایس
    قرآن قیامت تك کے لیے  ایک ضابطہ حیات  كی كتاب ہے جواپنے اندر ہر دور کے مسائل کا حل رکھتی ہے۔ لہٰذا قرآن کا ایک ایک لفظ معجزہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن چونکہ فصیح و بلیغ زبان کا شاہکار ہے او راس زبان کو سمجھنےکےلئے عجمیوں کےلیے قواعد وضع کئے گئے تاکہ ان قواعد كو  مدنظر رکھتے ہوئے قرآن کے مفہوم کو صحیح طرح سمجھا جائے۔قرآن کے مدلول کو عامۃ الناس پر منکشف کرنے کے لئے مفسرین نے اپنی اپنی بساط کے مطابق عربی  اور غیر عربی زبان میں تفاسیر لکھیں۔ ان تفاسیر میں مفسرین نے احادیث و آثار فقہی آراء اور لغت کے حل کی مدد سے قرآنی الفاظ کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ قرآن کے الفاظ اور  عبارات کی لغوی تفسیر کہ جس میں تراکیب و عبارات کے حل کا اہتمام کیا جاتا  صرف عربی  زبان میں نہیں ۔اُردو زبان میں اس کام کی بہت ضرورت تھی کہ قرآن کی عبارت کو گرامر کی روشنی میں تراکیب کے ساتھ حل کردیا جاتا تاکہ علماء و متعلمین اس سے استفادہ کرسکی اور یہ  الغمام زیر نظر کتاب  ’’انوار البیان  فی حل لغات القرآن ‘‘ میں ہمیں اتم درجہ دیکھنے کو ملا ہے۔ مصنف نے اس میں ہر سورے کی عبارتوں کی ترکیب اور ہر لفظ کی عربی گرامر کی رو سے نشاندہی کردی ہے اور یہ کتاب چار مجلدات پر مشتمل ہے۔اگرچہ یہ کتاب عامۃ الناس کے لیے نہیں ہے ۔بہرکیف مصنف اپنی کوشش میں کامیاب نظر آتے ہیں اور ایک منتہی اور طالب علم کے لیے علمی حظ اٹھانے کا وافر سامان موجود ہے۔(ک۔ط)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-anwar-ul-biyan-fe-halle-lughat-ul-quran-3
    علی محمدپی۔سی۔ایس
    قرآن قیامت تك کے لیے  ایک ضابطہ حیات  كی كتاب ہے جواپنے اندر ہر دور کے مسائل کا حل رکھتی ہے۔ لہٰذا قرآن کا ایک ایک لفظ معجزہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن چونکہ فصیح و بلیغ زبان کا شاہکار ہے او راس زبان کو سمجھنےکےلئے عجمیوں کےلیے قواعد وضع کئے گئے تاکہ ان قواعد كو  مدنظر رکھتے ہوئے قرآن کے مفہوم کو صحیح طرح سمجھا جائے۔قرآن کے مدلول کو عامۃ الناس پر منکشف کرنے کے لئے مفسرین نے اپنی اپنی بساط کے مطابق عربی  اور غیر عربی زبان میں تفاسیر لکھیں۔ ان تفاسیر میں مفسرین نے احادیث و آثار فقہی آراء اور لغت کے حل کی مدد سے قرآنی الفاظ کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ قرآن کے الفاظ اور  عبارات کی لغوی تفسیر کہ جس میں تراکیب و عبارات کے حل کا اہتمام کیا جاتا  صرف عربی  زبان میں نہیں ۔اُردو زبان میں اس کام کی بہت ضرورت تھی کہ قرآن کی عبارت کو گرامر کی روشنی میں تراکیب کے ساتھ حل کردیا جاتا تاکہ علماء و متعلمین اس سے استفادہ کرسکی اور یہ  الغمام زیر نظر کتاب  ’’انوار البیان  فی حل لغات القرآن ‘‘ میں ہمیں اتم درجہ دیکھنے کو ملا ہے۔ مصنف نے اس میں ہر سورے کی عبارتوں کی ترکیب اور ہر لفظ کی عربی گرامر کی رو سے نشاندہی کردی ہے اور یہ کتاب چار مجلدات پر مشتمل ہے۔اگرچہ یہ کتاب عامۃ الناس کے لیے نہیں ہے ۔بہرکیف مصنف اپنی کوشش میں کامیاب نظر آتے ہیں اور ایک منتہی اور طالب علم کے لیے علمی حظ اٹھانے کا وافر سامان موجود ہے۔(ک۔ط)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • anwar-ul-biyan-4-pic1
    علی محمدپی۔سی۔ایس
    قرآن قیامت تك کے لیے  ایک ضابطہ حیات  كی كتاب ہے جواپنے اندر ہر دور کے مسائل کا حل رکھتی ہے۔ لہٰذا قرآن کا ایک ایک لفظ معجزہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن چونکہ فصیح و بلیغ زبان کا شاہکار ہے او راس زبان کو سمجھنےکےلئے عجمیوں کےلیے قواعد وضع کئے گئے تاکہ ان قواعد كو  مدنظر رکھتے ہوئے قرآن کے مفہوم کو صحیح طرح سمجھا جائے۔قرآن کے مدلول کو عامۃ الناس پر منکشف کرنے کے لئے مفسرین نے اپنی اپنی بساط کے مطابق عربی  اور غیر عربی زبان میں تفاسیر لکھیں۔ ان تفاسیر میں مفسرین نے احادیث و آثار فقہی آراء اور لغت کے حل کی مدد سے قرآنی الفاظ کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ قرآن کے الفاظ اور  عبارات کی لغوی تفسیر کہ جس میں تراکیب و عبارات کے حل کا اہتمام کیا جاتا  صرف عربی  زبان میں نہیں ۔اُردو زبان میں اس کام کی بہت ضرورت تھی کہ قرآن کی عبارت کو گرامر کی روشنی میں تراکیب کے ساتھ حل کردیا جاتا تاکہ علماء و متعلمین اس سے استفادہ کرسکی اور یہ  الغمام زیر نظر کتاب  ’’انوار البیان  فی حل لغات القرآن ‘‘ میں ہمیں اتم درجہ دیکھنے کو ملا ہے۔ مصنف نے اس میں ہر سورے کی عبارتوں کی ترکیب اور ہر لفظ کی عربی گرامر کی رو سے نشاندہی کردی ہے اور یہ کتاب چار مجلدات پر مشتمل ہے۔اگرچہ یہ کتاب عامۃ الناس کے لیے نہیں ہے ۔بہرکیف مصنف اپنی کوشش میں کامیاب نظر آتے ہیں اور ایک منتہی اور طالب علم کے لیے علمی حظ اٹھانے کا وافر سامان موجود ہے۔(ک۔ط)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-tafheem-tarjuma-quran-copy
    پروفیسر ریاض احمد طور

    اللہ رب العالمین کی لا تعداد انمول نعمتوں میں سے ایک عظیم ترین نعمت قرآن مجید کا نزول ہے۔ جس میں پوری انسانیت کی فلاح وبہودی کا سامان ہے۔ جو سراپا رحمت اور مینار رشد وہدایت ہے جو رب العالمین کی رسی ہے جسے مضبوطی سے پکڑنے والا دنیا وآخرت میں کامیابی وکامرانی سے ہم کنار ہوگا۔ جو سیدھی اور سچی راہ دکھاتا ہے۔ مکمل فطری دستور حیات مہیا کرتا ہے۔ اس کی ہدایات پر عمل کر نے والا سعادت دارین سے ہمکنار ہوتا ہے۔ اس کی مبارک آيات کی تلاوت کر نے والا عظیم اجر وثواب کے ساتھ ساتھ اطمینان وسکون، فرحت وانبساط اور زیادتی ایمان کی دولت سے مالا مال ہوتا ہے۔ جو کثرت تلاوت سے پرانا نہیں ہوتا نہ ہی پڑھنے والا اکتاہٹ کا شکار ہوتا ہے۔ بلکہ مزید اشتیاق وچاہت کے جذبات سے شادکام ہوتا ہے کیونکہ یہ رب العالمین کا کلام ہے۔جو قوم قرآن کریم کو اپنا دستور حیات بنا لیتی ہے،خدا اسے رفعت اور بلندی سے سرفراز فرماتا ہے اور جو گروہ اس سے اعراض کا رویہ اپناتا ہے وہ ذلیل و رسوا ہو جاتا ہے۔قرآن مجید چونکہ عربی زبان میں ہے لہذا اردو دان طبقے کے لئے اسے سمجھنا ایک مشکل کام ہے۔اہل علم نے اس مشکل کو حل کرتے ہوئے قرآن مجید کے متعدد تراجم کئے ہیں اور عامۃ الناس کو ترجمہ قرآن سکھلانے کے مختلف اندازاختیار کئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " تفہیم ترجمہ قرآن " محترم پروفیسر ریاض احمد طور صاحب، سابق معلم جامعہ ملک سعود، سعودی عرب کی کاوش ہے جس میں انہوں نے علامات کے ذریعے ترجمہ  قرآن مجید سکھانے کا ایک منفرد اور انتہائی آسان طریقہ پیش کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-khasais-al-quran--salman-mansoor-puri--copy
    قاضی سلیمان منصور پوری رحمہ اللہ

    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ،اس کی آخری کتاب اور اس کا ایک معجزہ ہے ۔ یہ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔اس نے اپنے  سے پہلے کی سب الہامی کتابوں کو منسوخ کردیا ہے۔ اوران میں سےکوئی بھی آج اپنی اصل صورت میں محفوظ نہیں ۔ البتہ قرآن تمام پہلی کتابوں کی تعلیمات کواپنے  اندر سمیٹے ہوئے ہے ۔اور قرآن مجید  واحد ایسی کتاب کے  جو پوری انسانیت  کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے  اللہ تعالی نے اس کتاب ِہدایت میں  انسان کو پیش   آنے والےتما م مسائل کو   تفصیل سے  بیان کردیا ہے  جیسے کہ ارشادگرامی ہے کہ   و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سیکڑوں موضوعا ت   پرمشتمل ہے۔مسلمانوں کی دینی  زندگی کا انحصار  اس مقدس  کتاب سے  وابستگی پر ہے  اور یہ اس وقت  تک ممکن نہیں جب تک اسے پڑ ھا اور سمجھا نہ  جائے۔ قرآن کریم کا  یہ اعجاز  ہے کہ اللہ تعالیٰ نے  قرآن کی حفاظت کا  ذمہ خود لیا۔اور قرآن کریم یہ  خصوصیت ہے  کہ تمام مخلوقات مل کر بھی اس  کی مثال پیش کرنے سے قاصر  ہیں۔قرآن کی عظمت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے ہ یہ کتاب جس سرزمین پر نازل ہوئی اس نے وہاں کے لوگوں کو فرشِ خاک سے اوجِ ثریا تک پہنچا دیا۔اس نےان کو دنیا کی عظیم ترین طاقت بنا دیا۔قرآن واحادیث میں  قرآن   اور حاملین قرآن  کے   بہت فضائل بیان کے گئے ہیں ۔نبی کریم  ﷺ نے اپنی زبانِ رسالت سے  ارشاد فرمایا: «خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ القُرْآنَ وَعَلَّمَهُ» صحیح بخاری:5027) اور ایک حدیث مبارکہ میں   قوموں کی  ترقی اور تنزلی کو بھی قرآن مجید پر عمل کرنے کےساتھ  مشروط کیا ہے ۔ارشاد نبو ی ہے : «إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ»صحیح مسلم :817)تاریخ  گواہ کہ جب تک  مسلمانوں نے  قرآن وحدیث کو مقدم رکھااور اس پر عمل پیرا رہے  تو وہ دنیا میں غالب اور سربلند رہے ۔ انہوں نے تین براعظموں پر حکومت کی اور دنیا کو اعلیٰ تہذیب وتمدن اور بہترین نظام ِ زندگی دیا ۔  اور جب قرآن سے دوری کا راستہ اختیار کیا   تو مسلمان تنزلی کاشکار ہوگئے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ خصائص القرآن ‘‘ ہندوستان کے معروف سیرت نگار  قاضی سلیمان منصورپوری کی تصنیف ہے ۔اس میں انہوں نے قرآن مجید کی فصاحت وبلاغت، ثاتیر قرآن ، قبولیت  قرآن، خصوصیات  قرآن حمید  اور  قرآن کے متعلق سات پشین گوئیاں ، اسلام اور اہل ایمان  کے متعلق پیش گوئیوں کو بیان کیا ہے ۔(م۔ا)

  • pages-from-dolat-e-quran-ki-qadar-o-azmat
    محمد تقی عثمانی

    قرآن مجید واحد ایسی کتاب کے جو پوری انسانیت کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے اللہ تعالی نے اس کتاب ِہدایت میں انسان کو پیش آنے والےتما م مسائل کو تفصیل سے بیان کردیا ہے جیسے کہ ارشادگرامی ہے کہ و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سیکڑوں موضوعا ت پرمشتمل ہے۔مسلمانوں کی دینی زندگی کا انحصار اس مقدس کتاب سے وابستگی پر ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے پڑ ھا اور سمجھا نہ جائے۔قرآن واحادیث میں قرآن اور حاملین قرآن کے   بہت فضائل بیان کے گئے ہیں ۔نبی کریم ﷺ نے اپنی زبانِ رسالت سے ارشاد فرمایا:«خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ القُرْآنَ وَعَلَّمَهُ» صحیح بخاری:5027) اور ایک حدیث مبارکہ میں قوموں کی ترقی اور تنزلی کو بھی قرآن مجید پر عمل کرنے کےساتھ مشروط کیا ہے۔ ارشاد نبو ی ہے :«إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ»صحیح مسلم :817)تاریخ گواہ کہ جب تک مسلمانوں نے قرآن وحدیث کو مقدم رکھااور اس پر عمل پیرا رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو غالب رکھا اور جب قرآن سے دوری کا راستہ اختیار کیا   تو مسلمان تنزلی کاشکار ہوگئے۔شاعر مشرق علامہ اقبال نے بھی اسی کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا:

    وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر

    تم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر

    زیر تبصرہ کتابچہ’’ دولتِ قرآن کی قدرو عظمت‘‘مولانا تقی عثمانی صاحب کے ایک خطاب کی کتابی صورت جو انہوں نے مارچ 1998ء میں اختتام قرآن کی تقریب میں ارشاد فرمایا۔اس میں انہو ں نے دولت ِ قرآن کی عظمت اور حاملین قرآن کی فضیلت کو بیان کیا۔ استفادۂ عام کےلیے اسے حسن طباعت سے آراستہ کیا گیا ۔اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کریم کی عظمت وفضیلت کو سمجھنے اوراس پر عمل پیرا ہونےکی توفیق دے۔ (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-zikarullah-quran-o-hadees-ki-roshni-mein
    عبد الرحمن عاجز ملیر کوٹلی

    اللہ تعالیٰ کا ذکر اطمینانِ قلب اور راحت جاں کا سبب ہے ۔نبی کریم ﷺ نے بار بار اپنے ارشادات سے ذکر اللہ کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ ذکر عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معانی یاد کرنا ،یاد تازہ کرنا ،کسی شئے کو بار بار ذہن میں لانا ،کسی چیز کو دہرانا اور دل و زبان سے یاد کرنا ہیں۔ذکر الہٰی یادِ الہٰی سے عبارت ہے ذکر الہٰی کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ ہر وقت اور ہر حالت میں۔ اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے اپنے معبود حقیقی کو یاد رکھے اور اس کی یاد سے کبھی غافل نہ ہو۔ ذکر الہٰی ہر عبادت کی اصل ہے تمام جنوں اور انسانوں کی تخلیق کا مقصد عبادت الہٰی ہے اور تمام عبادات کا مقصودِ اصلی یادِ الہٰی ہے ۔کوئی عبادت اور کوئی نیکی اللہ تعالیٰ کے ذکر اور یاد سے خالی نہیں۔ سب سے پہلی فرض عبادت نماز کا بھی یہی مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کو دوام حاصل ہو اور وہ ہمہ وقت جاری رہے ۔نفسانی خواہشات کو مقررہ وقت کے لئے روکے رکھنے کا نام روزہ ہے۔ جس کا مقصد دل کو ذکر الہٰی کی طرف راغب کرنا ہے ۔روزہ نفس انسانی میں پاکیزگی پیدا کرتا ہے اور دل کی زمین کو ہموار کرتا ہے تاکہ اس میں یاد الہٰی کا ہی ظہور ہو ۔قرآن حکیم پڑھنا افضل ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور سارے کا سارا اسی کے ذکر سے بھرا ہوا ہے، اس کی تلاوت اللہ تعالیٰ کے ذکر کو تر و تازہ رکھتی ہے۔ معلوم ہوا کہ تمام عبادات کی اصل ذکرِ الہٰی ہے اور ہر عبادت کسی نہ کسی صورت میں یادِ الہٰی کا ذریعہ ہے ۔مردِ مومن کی یہ پہچان ہے کہ وہ جب بھی کوئی نیک عمل کرے تو اس کا مطمعِ نظر اور نصب العین فقط رضائے الہٰی کا حصول ہو ۔یوں ذکرِ الہٰی رضائے الہٰی کا زینہ قرار پاتا ہے۔ اس اہمیت کے پیش نظر قرآن و سنت میں جابجا ذکر الہٰی کی تاکید کی گئی ہے۔ کثرت ذکر محبت الہٰی کا اولین تقاضا ہے :انسانی فطرت ہے کہ وہ اس چیز کو ہمیشہ یاد کرتا ہے جس کے ساتھ اس کا لگاؤ کی حدتک گہرا تعلق ہو ۔وہ کسی صورت میں بھی اسے بھلانے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ذکر اللہ قرآن وحدیث کی روشنی میں‘‘ مولانا عبد الرحمن عاجزم مالیر کوٹلوی ﷫ کی تصنیف ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں قرآن وحدیث کی روشنی میں فضائل ِ ذکر اور کلماتِ ذکر اور اقسام ذکر بیان کرنے کی کوشش ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے عامۃ الناس کےلیے نفع بخش بنائے۔ آمین(م۔ا)

  • title-page-rooh-e-quran
    سید اسعد گیلانی
    قرآن مجید اس پوری انسانی دنیا کا رہنما ہے دنیا کا بہت بڑاحصہ اس حقیقت سےبے خبر ہے اس لیے گم کردہ راہ ہوکروہ تباہی و بربادی کاشکار ہورہا ہے اس بات کاعلم صرف مسلمانوں کو ہے لیکن انہوں نے بحیثیت مجموعی اپنے علم کےخلاف طرز عمل اختیار کر رکھا ہےاس لیے وہ خود بھی گم کردہ راہ ہیں اور اور دنیاکو بھی گمراہی میں چھوڑدینے کا دوہرا وبال و غلامی ،پستی اور ذلت  کی صورت میں بھگت رہے ہیں اس ذلت سے نجات کی کوئی صورت اس کے سوا نہیں ہے کہ وہ خدا کی اس کتاب کے ساتھ اطاعت وفرمانبرداری کارویہ اختیار کریں۔جب تک وہ اس کتاب سےمنحرف ہیں ساری دنیا ان سے منحرف رہے گی اور اس انحراف کی سنگین سزا وہ بھگتتے رہیں گے۔

  • Title Page---Azmat e Quran
    وحید الدین خاں

    قرآن کریم اللہ تعالی کی کلام ہے اور یہ نزول سے لے کر اس زمانے تک اور قیامت تک کے لیے ویسے ہی محفوظ ہے جیسے یہ نازل ہوئی تھی-قرآن کریم اور دوسری کتابوں کے درمیان فرق افضل مفضول اور اکمل وغیراکمل کا نہیں بلکہ بنیادی فرق محفوظ اور غیر محفوظ کا ہے،کیونکہ اللہ تبارک وتعالی نے کسی بھی کتاب کی بقا اور حفاظت کی ذمہ داری قبول نہیں جبکہ قرآن کریم کی حفاظت کی ذمہ داری خود قبول کی ہے جس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ پہلی کتابیں وقت کے ساتھ ختم ہو جائیں گی اور قیامت تک کے لیے راہنمائی اس کتاب سے حاصل کی جائے جس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالی نے خود لی ہے-مصنف نے  اپنی کتاب میں قرآن کریم کے حوالے سے تین مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی ہے-1-قرآن اپنی ذات میں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اللہ تعالی کی کلام ہے-2-یہ کہ قرآن اسی طرح محفوظ ہے جیسے یہ نازل ہوا تھا اور اس میں کسی بھی قسم کا تغیر وتبدل یا کمی وبیشی نہ کی گئی ہے  اور نہ ہی کوئی کر سکتا ہے-3-یہ ایک کتاب دعوت ہے اور اگر اس کی دعوت کو صحیح طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے تو یہ دنیا کو مسخر کر سکتی ہے-

     

    ------------------------------------------------------------------------

    ادارہ جاتی نوٹ

    مصنف مولانا وحید الدین خاں علماء کے ہاں ایک متنازع شخصیت سمجھی جاتی ہیں اس لیے ادارہ کا مصنف کے جمیع نظریات سے اتفاق نہیں،ہاں ادارہ جہاں یہ سمجھے گا کہ اس موضوع میں قرآن وسنت اور اسلاف کےنظریات کو مد نظر رکھتے ہوئے گفتگو کی گئی صرف اسی موضوع کو پیش کیا جائے گا-کسی بھی کتاب کو پیش کرنے کا مطلب یہ نہ سمجھا جائے کہ ادارہ کسی بھی مصنف کے جمیع افکار ونظریات سے اتفاق رکھتا ہے بلکہ جس کو پیش کیا جائے گا صرف اسی حد تک اتفاق ہو گا-قارئین نوٹ فرما لیں -

  • title-pages-fasal-al-khatab-fi-fazal-al-kitab-copy
    نواب صدیق الحسن خاں

    قرآن مجید واحد ایسی کتاب کے جو پوری انسانیت کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے اللہ تعالی نے اس کتاب ِہدایت میں انسان کو پیش آنے والےتما م مسائل کو تفصیل سے بیان کردیا ہے جیسے کہ ارشادگرامی ہے کہ و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سیکڑوں موضوعا ت پرمشتمل ہے۔مسلمانوں کی دینی زندگی کا انحصار اس مقدس کتاب سے وابستگی پر ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے پڑ ھا اور سمجھا نہ جائے۔قرآن واحادیث میں قرآن اور حاملین قرآن کے بہت فضائل بیان کے گئے ہیں ۔نبی کریم ﷺ نے اپنی زبانِ رسالت سے ارشاد فرمایا: «خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ القُرْآنَ وَعَلَّمَهُ» صحیح بخاری:5027) اور ایک حدیث مبارکہ میں قوموں کی ترقی اور تنزلی کو بھی قرآن مجید پر عمل کرنے کےساتھ مشروط کیا ہے ۔ارشاد نبو ی ہے : «إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ»صحیح مسلم :817)تاریخ گواہ کہ جب تک مسلمانوں نے قرآن وحدیث کو مقدم رکھااور اس پر عمل پیرا رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو غالب رکھا اور جب قرآن سے دوری کا راستہ اختیار کیا تو مسلمان تنزلی کاشکار ہوگئے۔شاعر مشرق علامہ اقبال نے بھی اسی کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا :  وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر زیر تبصرہ کتاب’’( فصل الخطاب فی فضل الکتاب‘‘ علامہ نواب صدیق حسن خاں﷫ کی تصنیف ہے ۔ یہ رسالہ موصوف نے 1305ھ میں تحریر کیا او رمؤلف کی زندگی میں متعد بارطبع ہوا۔علامہ موصوف نے اس رسالہ میں احادیث صحیحہ واقوال صحابہ وائمہ دین کی روشنی میں قرآن مجید فرقان حمید کے فضائل بیان کیے اور آیات کتاب اللہ اور اس کی سورتوں پر مفصل گفتگو کی ہے۔ مولانا عطاء اللہ حنیف ﷫ اس رسالہ میں مذکور آیات واحادیث وآثار کی تخریج ، اعراب اور ان کےاردو ترجمے کرکے اسے شائع کرنا چاہتےتھے تاکہ اس کی افادیت زیادہ ہوجاجائے ۔لیکن اپنی بیماری کی وجہ سے موصوف یہ کام نہ کرسکے البتہ فصل الخطاب فی فضل االکتاب کا مطبع فاروقی دہلی طبع 1896ء کےنسخے کو قدرے ممکن تنقیح وحواشی کے ساتھ اسے 1984ء میں شائع کیا علامہ نواب صدیق حسن ﷫ کا یہ رسالہ اب حافظ عبد اللہ سلیم﷾ ، حافظ شاہد محمود﷾ کی تسہیل وتخریج کے ساتھ مجموعہ علوم القرآن میں دار ابی الطیب گوجرانوالہ سے شائع ہوچکا ہے۔اس مجموعہ میں نواب صدیق حسن ﷫ کی قرآن کےمتعلق مزید تین کتب (تذکیر الکل بتفسیر الفاتحۃ واربع قل،افادۃ الشیوخ بمقدار الناسخ والمنسوخ،اکسیر فی اصول التفسیر) بھی شامل ہیں یہ مجموعہ علوم قرآن بھی ویب سائٹ پر موجود ہے ۔( م ۔ا)

  • title-pages-fazail-e-quran
    عبد اللہ بن جار اللہ بن ابراہیم الجاراللہ
    قرآن کریم کےنزول کا مقصد یہ تھا کہ لوگ اس کو پڑھیں، اسے سیکھیں، اس میں غور و فکر کریں، اسے سمجھنے کی کوشش کریں اور پھر اس پر عمل کر کے دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کریں۔ لیکن اس کے برعکس آج کے مسلمان قرآن کے ساتھ جو سلوک کر رہے ہیں وہ محتاج وضاحت نہیں۔ زیر نظر میں مصنف نے فضائل قرآن کےساتھ ساتھ اسی فکر کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے کہ قرآن صرف حصول برکت یا محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ یہ کتاب ہدایت بھی ہے جس سے زندگیوں میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ فی زمانہ  ہمارے زوال و ادبار کا سب سے بڑا سبب یہی ہے کہ ہم نے قرآن مقدس کو پس پشت ڈال رکھا ہے۔قرآن سے بے رغبتی کی وجہ یہ ہے کہ ہم  اس کی اہمیت و فضیلت سے بے خبر ہیں۔عالم عرب کے مشہور ومعروف عالم دین عبداللہ بن جار اللہ بن ابراہیم الجار اللہ نے قرآن مجید کے فضائل پر یہ بہترین کتاب تالیف فرما کر ہمیں یہی بتانے کی کوشش کی ہے کہ یہ کتاب لاریب ،کس قدر عظیم الشان ہے۔خدا کرے کہ ہم قرآن حکیم کی فضیلت سے با خبر ہو جائیں اور اس سے اپنا رشتہ مستحکم کر لیں،تاکہ دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکیں اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے مستحق ہو سکیں۔(ع۔م)

  • fazael-e-quran
    سید ابو الاعلی مودودی

    قرآن مجید واحد ایسی کتاب کے جو پوری انسانیت کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے اللہ تعالی نے اس کتاب ِہدایت میں انسان کو پیش   آنے والےتما م مسائل کو   تفصیل سے بیان کردیا ہے جیسے کہ ارشادگرامی ہے کہ   و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سیکڑوں موضوعا ت   پرمشتمل ہے۔مسلمانوں کی دینی زندگی کا انحصار اس مقدس کتاب سے وابستگی پر ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے پڑ ھا اور سمجھا نہ جائے۔قرآن واحادیث میں قرآن   اور حاملین قرآن کے   بہت فضائل بیان کے گئے ہیں ۔نبی کریم ﷺ نے اپنی زبانِ رسالت سے ارشاد فرمایا:«خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ القُرْآنَ وَعَلَّمَهُ» صحیح بخاری:5027) اور ایک حدیث مبارکہ میں   قوموں کی ترقی اور تنزلی کو بھی قرآن مجید پر عمل کرنے کےساتھ مشروط کیا ہے ۔ارشاد نبو ی ہے :«إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ»صحیح مسلم :817)تاریخ گواہ کہ جب تک مسلمانوں نے قرآن وحدیث کو مقدم رکھااور اس پر عمل پیرا رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو غالب رکھا اور جب قرآن سے دوری کا راستہ اختیار کیا   تو مسلمان تنزلی کاشکار ہوگئے۔شاعر مشرق علامہ اقبال نے بھی اسی کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا :

    وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر 

    تم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر

    زیرتبصرہ   کتاب ’’فضائل قرآن ‘‘ حدیث کی معروف کتاب   مشکاۃ المصابیح کے کتاب فضائل قرآن سے منتخب احادیث کے عام فہم مطالب ومفاہیم اور تشریح پر مشتمل ہے ۔ جو کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ہفتہ وار دورس حدیث کے سلسلے بیان کیے تھےاس کو مرتب نے ٹیپ ریکارڈر سے سن کر مرتب کر کے کتابی صورت میں شائع کیا۔اللہ تعالیٰ تمام اہل اسلام کو قرآن پر عمل کرنےاور اس کو پڑھنے اور سمجھنے کی توفیق عنائیت فرمائے (آمین) م۔ا)

  • title-pages-fazail-e-quran--muhammad-kareem-sultani--copy
    محمد کریم سلطانی

    قرآن مجید  واحد ایسی کتاب کے  جو پوری انسانیت  کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے  اللہ تعالی نے اس کتاب ِہدایت میں  انسان کو پیش   آنے والےتما م مسائل کو   تفصیل سے  بیان کردیا ہے  جیسے کہ ارشادگرامی ہے کہ   و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سیکڑوں موضوعا ت   پرمشتمل ہے۔مسلمانوں کی دینی  زندگی کا انحصار  اس مقدس  کتاب سے  وابستگی پر ہے  اور یہ اس وقت  تک ممکن نہیں جب تک اسے پڑ ھا اور سمجھا نہ  جائے۔قرآن واحادیث میں  قرآن   اور حاملین قرآن  کے   بہت فضائل بیان کے گئے ہیں ۔نبی کریم  ﷺ نے اپنی زبانِ رسالت سے  ارشاد فرمایا: «خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ القُرْآنَ وَعَلَّمَهُ» صحیح بخاری:5027) اور ایک حدیث مبارکہ میں   قوموں کی  ترقی اور تنزلی کو بھی قرآن مجید پر عمل کرنے کےساتھ  مشروط کیا ہے ۔ارشاد نبو ی ہے : «إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ»صحیح مسلم :817)تاریخ  گواہ کہ جب تک  مسلمانوں نے  قرآن وحدیث کو مقدم رکھااور اس پر عمل پیرا رہے  تو اللہ تعالیٰ نے ان کو غالب رکھا  اور جب قرآن سے دوری کا راستہ اختیار کیا   تو مسلمان تنزلی کاشکار ہوگئے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’فضائل قرآن‘‘ جناب محمد کریم سلطانی صاحب  کی مرتب شدہ ہے ۔اس کتاب میں  فاضل مصنف نے  قرآن کریم ،احادیث مبارکہ  اور سلف صالحین کے اقوال کی روشنی میں  قرآن مجید کے فضائل بیان کیے  ہیں۔اور احادیث   کی  مکمل تخریج وتحقیق بھی   پیش کردی ہے جس سے کتاب کی افادیت مزید بڑھ گئی ہے۔(م۔ا)

  • title-pages-fazail-e-quran-copy
    محمد بن عبد الوہاب تمیمی

    قرآن مجید  واحد ایسی کتاب کے  جو پوری انسانیت  کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے  اللہ تعالی نے اس کتاب ِہدایت میں  انسان کو پیش   آنے والےتما م مسائل کو   تفصیل سے  بیان کردیا ہے  جیسے کہ ارشادگرامی ہے کہ   و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سیکڑوں موضوعا ت   پرمشتمل ہے۔مسلمانوں کی دینی  زندگی کا انحصار  اس مقدس  کتاب سے  وابستگی پر ہے  اور یہ اس وقت  تک ممکن نہیں جب تک اسے پڑ ھا اور سمجھا نہ  جائے۔قرآن واحادیث میں  قرآن   اور حاملین قرآن  کے   بہت فضائل بیان کے گئے ہیں ۔نبی کریم  ﷺ نے اپنی زبانِ رسالت سے  ارشاد فرمایا: «خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ القُرْآنَ وَعَلَّمَهُ» صحیح بخاری:5027) اور ایک حدیث مبارکہ میں   قوموں کی  ترقی اور تنزلی کو بھی قرآن مجید پر عمل کرنے کےساتھ  مشروط کیا ہے ۔ارشاد نبو ی ہے : «إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ»صحیح مسلم :817)تاریخ  گواہ کہ جب تک  مسلمانوں نے  قرآن وحدیث کو مقدم رکھااور اس پر عمل پیرا رہے  تو اللہ تعالیٰ نے ان کو غالب رکھا  اور جب قرآن سے دوری کا راستہ اختیار کیا   تو مسلمان تنزلی کاشکار ہوگئے۔شاعر مشرق علامہ اقبال نے بھی اسی کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا :  وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر         اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر زیر نظرکتاب ’’فضائل قرآن‘‘ شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب﷫  کے قرآن مجید کےفضائل کےحوالے ایک  عربی رسالے کاترجمہ ہے۔شیخ موصوف نے  اس مختصر کتابچہ میں   بڑے احسن انداز میں فضائل قرآن کو بیان کیا ہے ۔معروف مترجم  ومصنف  مولانا محموداحمد غضنفر﷫نے اس کا   سلیس اردو ترجمہ کرکے تقریبا 24 سال قبل شائع کیا ۔اللہ تعالیٰ تمام اہل اسلام کو  قرآن پر عمل کرنےاور اس کو پڑھنے اور سمجھنے کی  توفیق عنائیت فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-fazail-e-quran-ki-kitab
    حافظ عمران ایوب لاہوری
    قرآن کریم کےنزول کا مقصد یہ تھا کہ لوگ اس کو پڑھیں، اسے سیکھیں، اس میں غور و فکر کریں، اسے سمجھنے کی کوشش کریں اور پھر اس پر عمل کر کے دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کریں۔ لیکن اس کے برعکس آج کے مسلمان قرآن کے ساتھ جو سلوک کر رہے ہیں وہ محتاج وضاحت نہیں۔ زیر نظر کتاب میں محترم عمران ایوب لاہوری حفظہ اللہ نے فضائل قرآن کےساتھ ساتھ اسی فکر کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے کہ قرآن صرف حصول برکت یا محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ یہ کتاب ہدایت بھی ہے جس سے زندگیوں میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ مصنف نے کتاب میں تفصیلی مقدمہ رقم کرنے کے بعد قرآن کریم کے عمومی فضائل کا تذکرہ کیا ہے پھر صحیح احادیث کی روشنی میں قرآنی سورتوں کی فضیلت پر روشنی ڈالی ہے۔ کتاب کے دو ابواب قرآنی آیات اور کلمات کی فضیلت پر مشتمل ہیں۔ اخیر میں قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنے کی فضیلت اور قرآن کریم کی تعلیم دینے کی فضیلت کو بھی کتاب کا حصہ بنایا گیاہے۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • 1
    ڈاکٹر عبد اللہ عباس الندوی

    قرآن مجید ایک کامل دستور حیات اورانسانیت کو  جینے کا ڈھنگ سکھاتا ہے قرآن صرف انہی کےلیے منہج وستور بن سکتا ہے جواس کے معانی ومطالب کو سمجھ سکیں۔ اس کے معانی سے واقفیت صرفی ونحوی اعتبار سے قرآن کے جاننے پر موقوف ہے لغت عرب کے قواعد کو جانے بغیر اگر کوئی قرآن سمجھنے کی کوشش کرے گا تو بجائے ہدایت کے گمراہی اور کجر وی کا شکار ہوسکتا ہے ایسی لغزشوں سے بچانے کےلیے علمائے عجم نے بھی قرآن کے ترجمہ وتفاسیر اور اعراب سے متعلق کتابیں لکھیں ہیں ۔

    زیر نظر کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے  جامعہ ام القراء  مکہ مکرمہ کے انجمن تدریس کےرکن ڈاکٹر عبداللہ عباس الندوی نےانگریزی دان طبقہ کےلیے عربی سے انگلش میں تصنیف فرمائی اورافادہ عام کےلیے ریٹائرڈ پروفیسر عبدالرزاق فاضل جامعہ ریاض نےاس کا اردو ترجمہ کیا ہے ۔مذکورہ مقصد کو پورا کرنے کےلیے اس کتاب میں قرآن کریم کےکلمات والفاظ کی صرفی تصریف اور نحوی ترکیب کے ساتھ لغوی معنی کو بھی بیان کیا گیا ہے۔انگریزی نسخہ میں جو انگلش حوالے تھے ترجمہ میں ان کو حذف کیا گیا ہےجبکہ سورتوں اور آیتوں کی نشاندہی نمبروں سے کی گئی ہے ترجمہ سلیس اور عام فہم بنانے کی حتی المقدور سعی کی گئی ہے انگریزی متن کے بعض مختلف  فیہ مقامات  پر ترجمہ میں توضیحی نوٹ بھی لکھا گیا ہے ۔قرآن کریم کوسمجھنے کےلیے  ہر سطح کے لوگوں کےلیے نہایت کارآمد قاموس ہے ۔ اللہ تعالیٰ اسے قرآن فہمی کا ذریعہ بنائے اور شرف قبولیت سے نوازے۔آمین

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پرتبصرہ کرنے کےلیے یہاں کلک کریں۔ جزاکم اللہ خیرا واحسن الجزاء

  • title-pages-qamoos-alfaz-al-quran-al-kareemurduarbi
    ڈاکٹر عبد اللہ عباس الندوی

    قرآن مجیدایک کامل دستورِحیات اورانسانیت کوجینے کا ڈھنگ سکھاتا ہے ،قرآن صرف انہی کے لیے منہج ودستور بن سکتا ہے جو اس کے معانی ومطالب کوسمجھ سکیں اس کے معانی سے واقفیت صرفی ونحوی اعتبار سے قرآن کے جاننے وپر موقوف ہے ۔لغت عرب کے قواعد کو جانے بغیر اگر کوئی قرآن سمجھنےکی کوشش کرے گا تو بجائے ہدایت کےگمراہی اور کجروی کا شکار ہوسکتا ہے ۔ ایسی لغرشوں سے بچانے کے لیے علمائے عجم نے قرآن کے ترجمہ وتفسیر اور اعراب سےمتعلق متعدد کتابیں لکھی ہیں ۔زیرِنطرکتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جسے ’’جامعه ام القریٰ‘‘مکہ مکرمہ کے معلم ڈاکٹر عبد اللہ عباس ندوی نے انگریزی دان طبقہ کے لیے عربی سے انگلش میں تصنیف کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر عبد الرزاق (فاضل جامعہ ریاض) نے افادہ عام کے لیے اس کااردو ترجمہ کیا ہے ۔مترجم نے ترجمہ سلیس او رعام فہم بنانےکی حتی المقدور کوشش کی ہے ۔اس کتاب میں قرآن مجید کےکلمات والفاظ کی صرفی تصریف اور نحوی ترکیب کے ساتھ لغوی معنی کو بیان کیا گیا ہے ۔انگریزی متن کے بعض مختلف فیہ مقامات پرتر جمہ میں توضیحی نوٹ بھی لکھا گیا ہے ۔ قرآن کریم کوسمجھنے کے لیے ہر سطح کے   طلباء کے لیے نہایت کار آمد قاموس ہے۔اللہ تعالیٰ اسے قرآن ِفہمی کا ذریعہ بنائے اور شرفِ قبولیت سے نوازے(آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • 1
    قاضی زین العابدین سجاد میرٹھی

    قرآن کریم کی جو جو خدمت جس جس انداز میں علماء امت نے گزشتہ تیرہ سوسال میں اپنے اپنے مخصوص ذوق  فکرونظر  اور اپنے اپنے زمانہ کے مخصوص احوال وظروف  کےدائرہ میں انجام دی ہے اس سے انکار کرنا چاند پر خاک ڈالنا ہے۔من جملہ دیگر خدمات کے ایک خدمت یہ بھی تھی کہ قرآن کریم کے خصوصی لغات مرتب کیے گئے جن میں قرآن کریم کے الفاظ کی صوری ومعنوی تحقیق کی گئی ان لغات القرآن میں امام راغب اصفہانی رحمہ اللہ کی ’’مفردات غریب القرآن‘‘ اپنی گوناگوں خصوصیات کی بناء پر مشہور وممتاز ہے۔

    اردو  زبان میں جب تصنیف وترجمہ کا دور شروع ہوا  اور حضرت شاہ عبدالقادر محدث دہلوی رحمہ اللہ  نے اردوئے معلیٰ کے آئینہ خانہ میں قرآن کریم کےمعانی ومطالب  کے لعل وجواہر سجائے  اور اپنا پہلا بامحاورہ اردو ترجمہ قرآن کریم مرتب کیا  تو لغات القرآن کے موضوع پر بھی ایک مختصر کتاب ترتیب دی ۔کتاب بہت مختصر تھی جس میں الفاظ کے معانی اور ان کی مختصر تشریح درج کی گئی تھی۔

    شاہ صاحب کے اس بنیادی کام پر بعض دوسرے اہل علم نے اضافے کیے  اور کئی کتابیں طبع ہوکر بازار میں آئیں مگر الفاظ قرآن کی صرفی ونحوی تشریح  سے ان کا قلم آگے نہ بڑھ سکا اور اردو زبان وادب میں ہر جہتی ترقی کے باوجود خدمت قرآن کریم کےسلسلہ میں یہ خلا باقی رہا۔

    اس خلا کو پر کرنے کی سعادت دیگر اہل علم کے ساتھ قاضی زین العابدین سجاد میرٹھی نے بھی کی۔ جو قاموس القرآن کے نام سے تمام الفاظ قرآنی کا صحیح اردو ترجمہ  اور ان کی مکمل صرفی ونحوی تشریخ نیز جملہ وضاحت طلب الفاظ پر سہل زبان  میں مختصر جامع اور مستند نوٹ  کے ساتھ پیش ہے۔
    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کےلیے یہاں تشریف لائیں
  • title
    حافظ حسن مدنی
    قرآن فہمی کے حوالہ سے صحابہ کرام، سلف صالحین اور بعد کے ادوار میں متعدد صورتوں میں کام ہوتا رہا ہے اور اگرچہ فی زمانہ مسلمانوں کی قرآن سے دوری واقع ہوئی ہے لیکن پھر بھی تاحال بے شمار لوگ اور ادارے قرآن فہمی کے لیے کام رہے ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب میں قرآن فہمی کے ذیل میں جو اہم مضامین ماہنامہ ’محدث‘ میں شائع ہوئے ہیں ان کو یکجا شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ ان مضامین کی افادیت کا اندازہ اس سے کیجئے کہ یہ رشحات قلم امام ابن تیمیہ، علامہ ناصر الدین البانی، محمد عبدہ الفلاح، مولانا عبدالرحمٰن کیلانی، مولانا عبدالغفار حسن رحمہم اللہ اور مولانا زاہد الراشدی جیسی ہمہ گیر شخصیات کے ہیں۔ پہلے باب میں فہم قرآن کے بنیادی اصولوں پر مضامین جمع کیے گئے ہیں جبکہ دوسرے باب میں فہم قرآن میں حدیث نبوی کے کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ تیسرا اور آخری باب قرآن نافہمی کے اسباب پر مشتمل ہے۔ کتاب کے آخر میں لاہورمیں فہم قرآن کے اداروں پتے درج کیے گئے ہیں اور اس موضوع پر دستیاب مضامین اور کتب کی فہرست بھی دی گئی ہے۔   (ع۔م)


    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-quran-majeed-key-adbi-asrar-o-ramooz
    پیر ذولفقار احمد نقشبندی

    قرآن مجید وہ عظیم الشان کتاب ہے ،جسے اللہ تعالی کا کلام ہونے کا شرف حاصل ہے۔اس کو پڑھنا باعث اجر وثواب اور اس پر عمل کرنا باعث نجات ہے۔جو قوم اسے تھام لیتی ہے وہ رفعت وبلندی کے اعلی ترین مقام پر فائز ہو جاتی ہے،اور جو اسے پس پشت ڈال دیتی ہے ،وہ ذلیل وخوار ہو کر رہ جاتی ہے۔یہ کتاب مبین انسانیت کے لئے دستور حیات اور ضابطہ زندگی کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ انسانیت کو راہ راست پر لانے والی ،بھٹکے ہووں کو صراط مستقیم پر چلانے والی ،قعر مذلت میں گرے ہووں کو اوج ثریا پر لے جانے والے ،اور شیطان کی بندگی کرنے والوں کو رحمن کی بندگی سکھلانے والی ہے۔زیر تبصرہ کتاب " قرآن مجید کے ادبی اسرار ورموز " حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے قرآن مجید کے ادبی اسرار ورموز پر بحث کی ہے۔مولف کی ہر بات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ادبی اعتبار سے موضوع کے مفید کی بناء پر یہ کتاب قارئین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔اللہ تعالی مولف کو اس کاوش پر جزائے خیر عطا فرمائے،ہمیں قرآنی برکات سے استفادہ کرنے کی توفیق دے۔آمین(راسخ)

  • Title Page---Quran_ka_Matloob_Insaan
    وحید الدین خاں

    قرآن کریم اللہ تعالی کی کلام ہے اور اس کا یہ معجزہ ہے کہ اس جیسی کلام کرنا کسی کے اختیار میں نہیں-قرآن کریم اللہ تعالی نے انسان کی راہنمائی کےلیے نازل فرمایا اور اس کے احکامات پر عمل کو لازمی قرار دیا جس سے انسانی دنیا وآخرت کی کامیابی کو سمو دیا-مذکورہ کتاب مولانا وحید الدین خاں کے مختلف دروس وتقاریر کو کتابی شکل میں ڈھالا گیا ہے-چونکہ مختلف مقامات پر دیے جانے والے دروس کے مابین موضوع کا اشتراک موجود تھا تو اس لیے اس کو کتابی میں شکل میں پیش کر دیا گیا ہے-مصنف نے قرآن کریم کی روشنی میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ قرآن کریم مخاطب اصل میں انسان ہے-اس لیے مصنف نے جن چیزوں کو بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے وہ درج ذیل ہیں:1-قرآن کا مطلوب اصل میں انسان ہے2-مومن کی عملی زندگی کیسی ہونی چاہیے3-انسانی زندگی بامقصد ہونی چاہیے4-خدمت دین میں کون کون سی مشکلات آتی ہیں5-اور ان مشکلات کی صورت میں انسان کو کیا کرنا چاہیے-

    ------------------------------------------------------------------------

    ادارہ جاتی نوٹ

    مصنف مولانا وحید الدین خاں علماء کے ہاں ایک متنازع شخصیت سمجھی جاتی ہیں اس لیے ادارہ کا مصنف کے جمیع نظریات سے اتفاق نہیں،ہاں ادارہ جہاں یہ سمجھے گا کہ اس موضوع میں قرآن وسنت اور اسلاف کےنظریات کو مد نظر رکھتے ہوئے گفتگو کی گئی صرف اسی موضوع کو پیش کیا جائے گا-کسی بھی کتاب کو پیش کرنے کا مطلب یہ نہ سمجھا جائے کہ ادارہ کسی بھی مصنف کے جمیع افکار ونظریات سے اتفاق رکھتا ہے بلکہ جس کو پیش کیا جائے گا صرف اسی حد تک اتفاق ہو گا-قارئین نوٹ فرما لیں -

     

  • untitled-1
    سید ابو الاعلی مودودی

    مولانا سید ابو الاعلی مودودی نے اپنی کتاب میں قرآن کریم میں بار بار ذکر ہونے والی چار اصطلاحات کو موضوع سخن بنایا ہے-وہ چار اصطلاحات یہ ہیں:1-الہ2-رب3-عبادت4-دین-مصنف نے اپنی کتاب میں ان چار اصطلاحات کی اہمیت اور ان کے مفہوم کو بیان کرتے ہوئے قرآن کریم کا مقصد اور مختلف امم سابقہ کے حالات کو پیش کر کے مثالوں سے سمجھانے کی کوشش کی ہے-قرآن کریم میں ان اصطلاحات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اس لیے ان میں سے ہر ایک لغوی اور شرعی وضاحت  کو آیات قرآنی سے واضح کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ ان چار اصطلاحات کو سمجھے بغیر قرآن کریم کو سمجھنا ناممکن ہے-ان اصطلاحات سے ناواقفیت یہ نقصان ہو گا کہ نہ تو توحید وشرک کا پتہ چلے گا اور نہ عبادت اللہ کے لیے خاص ہو سکے گی اور نہ ہی دین اللہ کے لیے خالص رہے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ایمان لانے کے باوجود عقیدہ اور عمل دونوں نامکمل ہو جائیں گے-

     

  • title-pages-quran-ki-azmat-w-fazeelat-copy
    پروفیسر محمد رفیق چودھری

    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ،اس کی آخری کتاب اور اس کا ایک معجزہ ہے ۔ یہ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔اس نے اپنے سے پہلے کی سب الہامی کتابوں کو منسوخ کردیا ہے۔ اوران میں سےکوئی بھی آج اپنی اصل صورت میں محفوظ نہیں ۔ البتہ قرآن تمام پہلی کتابوں کی تعلیمات کواپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے ۔اور قرآن مجید واحد ایسی کتاب کے جو پوری انسانیت کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے اللہ تعالی نے اس کتاب ِہدایت میں انسان کو پیش آنے والےتما م مسائل کو تفصیل سے بیان کردیا ہے جیسے کہ ارشادگرامی ہے کہ و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سیکڑوں موضوعا ت پرمشتمل ہے۔مسلمانوں کی دینی زندگی کا انحصار اس مقدس کتاب سے وابستگی پر ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے پڑ ھا اور سمجھا نہ جائے۔ قرآن کریم کا یہ اعجاز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کا ذمہ خود لیا۔اور قرآن کریم ایک ایسا معجزہ ہے کہ تمام مخلوقات مل کر بھی اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں۔قرآن کی عظمت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے ہ یہ کتاب جس سرزمین پر نازل ہوئی اس نے وہاں کے لوگوں کو فرشِ خاک سے اوجِ ثریا تک پہنچا دیا۔اس نےان کو دنیا کی عظیم ترین طاقت بنا دیا۔قرآن واحادیث میں قرآن اور حاملین قرآن کے بہت فضائل بیان کے گئے ہیں ۔نبی کریم ﷺ نے اپنی زبانِ رسالت سے ارشاد فرمایا: «خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ القُرْآنَ وَعَلَّمَهُ» صحیح بخاری:5027) اور ایک حدیث مبارکہ میں قوموں کی ترقی اور تنزلی کو بھی قرآن مجید پر عمل کرنے کےساتھ مشروط کیا ہے ۔ارشاد نبو ی ہے : «إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ»صحیح مسلم :817)تاریخ گواہ کہ جب تک مسلمانوں نے قرآن وحدیث کو مقدم رکھااور اس پر عمل پیرا رہے تو وہ دنیا میں غالب اور سربلند رہے ۔ انہوں نے تین براعظموں پر حکومت کی اور دنیا کو اعلیٰ تہذیب وتمدن اور بہترین نظام ِ زندگی دیا ۔ اور جب قرآن سے دوری کا راستہ اختیار کیا تو مسلمان تنزلی کاشکار ہوگئے۔شاعر مشرق علامہ اقبال نے بھی اسی کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا :  وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر زیر تبصرہ کتاب ’’ قرآن کی عظمت وفضیلت‘‘ماہنامہ محدث کے معروف کالم نگار اور کئی کتب کے مصنف ومترجم محترم مولانا محمد رفیق چودھری ﷾ کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے قرآن مجید کی عظمت وفضیلت کے بعض پہلوؤں کو عام فہم انداز میں اُجاگر کیا ہے ۔ کتاب کے مصنف محترم محمد رفیق چودہری ﷾ علمی ادبی حلقوں میں جانی پہچانی شخصیت ہیں ۔ ان کو بفضلہٖ تعالیٰ عربی زبان وادب اور علوم قرآن سے گہرا شغف ہے او ر طالبانِ علم کو مستفیض کرنے کے جذبے سےسرشار ہیں۔ قرآن مجید کا لفظی وبامحاورہ ترجمہ کرنے کے علاوہ ان دنوں قرآن مجید کی تفسیر لکھنے میں مصروف ہیں جس کی دو جلدیں شائع ہوچکی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تدریسی وتعلیمی اور تحقیقی وتصنیفی خدمات کو قبول فر ما ئے۔ (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-quran-ki-azmatain-aur-us-k-mujaze
    محمود بن احمد الدوسری
    قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا معجز کلام ہے جس کا ایک ایک لفظ فصاحت و بلاغت کا آئینہ دار ہے۔ قرآن کریم کا بے تکلف طرز تخاطب انسان کے عقل و شعور کو جھنجوڑتا اور اللہ تعالیٰ کی بندگی پر آمادہ کرتا ہے۔ اس وقت امت مسلمہ کے گوناگوں کا مسائل کی بنیادی وجہ قرآن کریم کے ساتھ اس وابستگی کا ختم ہونا ہے جو کبھی مسلمانوں کا خاصہ ہوا کرتا تھا۔ ہمارے گھروں میں قرآن مجید تو موجود ہیں لیکن ان کو کھولنے کی زحمت کرنا ایک مشکل امر بن چکا ہے۔ زیر نظر کتاب مسلمانوں کے دل میں قرآن کریم کی عظمت کا چراغ روشن کرنے کے لیے تصنیف کی گئی ہے تاکہ بھولا بھٹکا راہی صراط مستقیم کا مسافر بن جائے۔ مصنف نے سب سے پہلے قرآن کی عظمت کے دلائل پیش کیے ہیں اور قرآن کا تعارف قرآن ہی کی آیات مقدسہ سے کرایا ہے اس کے بعد دلائل و براہین کی روشنی میں یہ حقیقت اجاگر کی ہے کہ قرآن کریم قیامت تک کے لیے زندگی کے ہر تقاضے کا جواب دینے کے جوہر سے آراستہ ہے۔ کتاب کے آخر میں بے خبر انسانوں کو حق کی طرف دعوت دی گئی ہے۔ کتاب اصل میں عربی میں تھی جس کے مصنف محمود بن احمد الدوسری ہیں۔ کتاب کے سلیس اور رواں ترجمے کے فرائض پروفیسر حافظ عبدالرحمٰن ناصر نے انجام دئیے ہیں۔ قرآن کریم کی عظمت سے متعلقہ جس قدر مواد قرآنی آیات اور احادیث و آثار سے میسر  ہوا  ہے مصنف نے کامل محنت کے ساتھ اس کو جمع کر دیا ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-quran-key-daman-mein
    پروفیسر محمد رفیق چودھری

    آسمان دنیا کے نیچے اگر آج کسی کتاب کو کتاب ِالٰہی ہونے کا شرف حاصل ہے تووہ صرف قرآن مجید ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ قرآن سےپہلے بھی اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کئی کتابیں نازل فرمائیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ سب کی سب انسانوں کی غفلت، گمراہی اور شرارت کاشکار ہوکر بہت جلد کلام ِالٰہی کے اعزاز سے محروم ہوگئیں۔ اب دنیا میں صرف قرآن ہی ایسی کتاب ہے جو اپنی اصلی حیثیت میں آج بھی محفوظ ہے ۔ تاریخ عالم گواہ ہے کہ قرآن اس دنیا میں سب سے بڑی انقلابی کتاب ہے اس کتاب نے ایک جہان بدل ڈالا۔ اس نےاپنے زمانے کی ایک انتہائی پسماندہ قوم کو وقت کی سب سے بڑی ترقی یافتہ اور مہذب ترین قوم میں تبدیل کردیا اور انسانی زندگی کےلیے ایک ایک گوشے میں نہایت گہرے اثرات مرتب کیے۔قرآن کریم ہی وہ واحد کتاب ہے جو تاقیامت انسانیت کے لیے ذریعہ ہدایت ہے ۔ اسی پر عمل پیرا ہو کر دنیا میں سربلند ی او ر آخرت میں نجات کا حصول ممکن ہے لہذا ضروری ہے اس کے معانی ومفاہیم کوسمجھا جائے ،اس تفہیم کے لیے درس وتدریس کا اہتمام کیا جائے او راس کی تعلیم کے مراکز قائم کئے جائیں۔ ہر دو ر میں مختلف اہل علم نے قرآنی تعلیمات کوعام کرنے کے لیے قرآن کریم کی   مختلف انداز میں خدمت کی ہے اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔ان خدام قرآن میں ایک نام جناب مولانا محمد رفیق چودہری صاحب کابھی ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’قرآن کے دامن میں‘‘ محترم جناب   پروفیسرمحمدر فیق چودہری ﷾ کی کاوش ہے ۔یہ کتاب در اصل موصوف کے قرآنی مباحث پر 18 علمی وتحقیقی مضامین ومقالات کامجموعہ ہے۔ جواکثر وبیشتر ملک کے معروف دینی رسائل وجرائد میں اشاعت پذیر ہوچکے ہیں۔ ان مضامین کا تعلق چونکہ قرآن مجید کے علوم ومعارف اوراحکام ومباحث سے ہے اس لیے   موصوف نے اسے ’’قرآن کے دامن   میں‘‘ کے نام سے مرتب کیا ہے۔کتاب کے مصنف محترم محمد رفیق چودہری ﷾ علمی ادبی حلقوں میں جانی پہچانی شخصیت ہیں ۔ ان کو بفضلہٖ تعالیٰ عربی زبان وادب سے گہرا شغف ہے ۔ اور کئی کتب کے مصنف ومترجم ہونے کے علاوہ قرآن مجید کے مترجم ومفسر بھی ہیں۔ اور ماشاء اللہ قرآن کی فہم وتفہیم کے   موضوع پرنوکتب کے منف ہیں او ر طالبانِ علم کو مستفیض کرنے کے جذبے سےسرشار ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی تدریسی وتعلیمی اور تحقیقی وتصنیفی خدمات کو قبول فر ما ئے ۔ آمین(م۔ا)

  • title-pages-kya-quran-kalam-e-khudawandi-hai--jadeed-audition--copy
    ڈاکٹر ذاکر نائیک

    محترم ڈاکٹر ذاکر نائیک ﷾ہندوستان کے ایک معروف  مبلغ اور داعی ہیں۔آپ اپنے خطبات اور لیکچرز میں اسلام اور سائنس  کے حوالے سے  بہت زیادہ گفتگو کرتے ہیں ،اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے جو کچھ بتا دیا تھا ،آج کی جدید سائنس اس کی تائید کرتی نظر آتی ہے۔اور یہ کام  وہ زیادہ تر غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دیتے وقت  کرتے ہیں ،تاکہ ان کی عقل اسلام کی حقانیت اور عالمگیریت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔اسلام اگرچہ سائنس کی تائید کا محتاج نہیں ہے ،اور اس کا پیغام امن وسلامتی اتنا معروف اور عالمگیر ہے کہ اسے مسلم ہو یا غیر مسلم  دنیا کا ہر آدمی تسلیم کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " کیا قرآن کلام خدا وندی ہے؟" ان کے  ایک خطاب کی روداد ہے، جس میں انہوں نے قرآن مجید کے کلام خداوندی ہونے  پر متعدد عقلی ونقلی دلائل پیش کئے ہیں۔اللہ  تعالی ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائیں اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائیں۔(راسخ)

  • untitled-1
    اساتذہ مدرسہ عائشہ صدیقہؓ
    عربی ایک مبارک زبان ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کا نزول بھی اسی زبان میں کیا۔ عربی زبان کی تفہیم کے لیے بہت سے قواعد مرتب کیے جا چکے ہیں اور اس پر تقریباً ہر بڑی زبان میں بہت سی قیمتی کتب منظر عام پر آ چکی ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب ’لسان القرآن‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک اہم کاوش ہے۔ جس میں عربی کو سمجھنے کے لیے طالبان علم کی سہولت کی خاطر قواعد و ضوابط رقم کیے گئے ہیں۔ اس علمی کام کے پیچھے کراچی میں واقع مدرسہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے اساتذہ کی محنت کارفرما ہے، جنھوں نے نہایت جانفشانی کے ساتھ آسان اسلوب میں یہ کتاب مرتب کی تاکہ ہر سطح کے طالب علم حتیٰ کہ عوام الناس بھی اس سے استفادہ کر سکیں۔ کتاب تین جلدوں مشتمل ہے اور اس کو ’النحو الواضح‘ کے طرز پر مرتب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پہلے چند اسباق کے علاوہ ہر سبق کا آغاز عربی جملوں سے کیا گیا ہے جن کی روشنی میں زیر بحث قاعدہ کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس کے بعد بقدر کفایت تمرینات ہیں جن کے ذریعے طالب علم قاعدہ کی عملی تطبیق کی مشق حاصل کر سکتا ہے۔ بیشتر اسباق کے آخر میں ایک تمرین ایسی ہے جو آیات قرآنیہ پر مشتمل ہے تاکہ طلبا ابتدا ہی سے قرآن کریم کے اسلوب سے کسی حد تک آشنا ہو جائیں۔ قواعد کی شرح نہایت عام فہم اسلوب میں کی گئی ہے۔ صرف ضروری قواعد کے بیان پر اکتفا کیا گیا ہے اور ابتدائی  مرحلہ میں طلبا کو نحو و صرف کی دقیق بحثوں میں الجھانے سے حتی الامکان گریز کیاگیاہے۔ اپنے موضوع پر یہ کتاب نہایت مفید اور لائق مطالعہ ہے۔(ع۔م)
  • untitled-1
    اساتذہ مدرسہ عائشہ صدیقہؓ
    عربی ایک مبارک زبان ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کا نزول بھی اسی زبان میں کیا۔ عربی زبان کی تفہیم کے لیے بہت سے قواعد مرتب کیے جا چکے ہیں اور اس پر تقریباً ہر بڑی زبان میں بہت سی قیمتی کتب منظر عام پر آ چکی ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب ’لسان القرآن‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک اہم کاوش ہے۔ جس میں عربی کو سمجھنے کے لیے طالبان علم کی سہولت کی خاطر قواعد و ضوابط رقم کیے گئے ہیں۔ اس علمی کام کے پیچھے کراچی میں واقع مدرسہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے اساتذہ کی محنت کارفرما ہے، جنھوں نے نہایت جانفشانی کے ساتھ آسان اسلوب میں یہ کتاب مرتب کی تاکہ ہر سطح کے طالب علم حتیٰ کہ عوام الناس بھی اس سے استفادہ کر سکیں۔ کتاب تین جلدوں مشتمل ہے اور اس کو ’النحو الواضح‘ کے طرز پر مرتب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پہلے چند اسباق کے علاوہ ہر سبق کا آغاز عربی جملوں سے کیا گیا ہے جن کی روشنی میں زیر بحث قاعدہ کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس کے بعد بقدر کفایت تمرینات ہیں جن کے ذریعے طالب علم قاعدہ کی عملی تطبیق کی مشق حاصل کر سکتا ہے۔ بیشتر اسباق کے آخر میں ایک تمرین ایسی ہے جو آیات قرآنیہ پر مشتمل ہے تاکہ طلبا ابتدا ہی سے قرآن کریم کے اسلوب سے کسی حد تک آشنا ہو جائیں۔ قواعد کی شرح نہایت عام فہم اسلوب میں کی گئی ہے۔ صرف ضروری قواعد کے بیان پر اکتفا کیا گیا ہے اور ابتدائی  مرحلہ میں طلبا کو نحو و صرف کی دقیق بحثوں میں الجھانے سے حتی الامکان گریز کیاگیاہے۔ اپنے موضوع پر یہ کتاب نہایت مفید اور لائق مطالعہ ہے۔(ع۔م)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1084 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں