• title-page-70-true-islamic-stories
    حافظ عبد الشکور

    فی زمانہ جبکےبچے بڑے جھوٹے اورلغوافسانوں ،ناولوں اورکہانیوں کے قصوں میں گرفتارنظرآتےہیں ،ایسی کتابوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے،جس میں سچےواقعات بیان کئے گئے ہوں ۔جنہیں پڑھ کرعمل کاجذبہ بیدارہو۔زیرنظرکتاب میں سیرت نبوی اورتاریخ اسلام سے ایسے ہی 70واقعات کاانتخاب پیش کیاگیاہے ،جن کےمطالعہ سے ایمان کوتازگی اورروح کوشادابی نصیب ہوتی ہے۔نیزدل میں صحابہ کرام اورسلف صالحین کی عظمت اوران سے محبت کاجذبہ پیداہوتاہے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ اس طرح کالٹریچرعام کیاجائے اورگھروں میں خصوصاً بچوں اورخواتین کوان کےمطالعے کی ترغیب دی جائے تاکہ وہ جھوٹے اور فحش ناولوں میں وقت ضائع کرنےکے بجائے سیرت سلف سے روشناس ہوسکیں۔

  • pages-from-ishariah-mazameen-e-quran-1
    سید ممتاز علی

    قرآن مجید واحد ایسی کتاب کے جو پوری انسانیت کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے اللہ تعالی نے اس کتاب ِہدایت میں انسان کو پیش آنے والےتما م مسائل کو تفصیل سے بیان کردیا ہے جیسے کہ ارشادگرامی ہے کہ و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سینکڑوں موضوعات پرمشتمل ہے۔ مختلف اہل علم نے اس حوالے سے كئی کتب تصنیف کی ہیں علامہ وحید الزمان  کی ’’تبویب القرآن فی مضامین الفرقان ‘‘، شمس العلماء مولانا سید ممتاز علی کی ’’ اشاریہ مضامین قرآن ‘‘ اور ’’مضامین قرآن‘‘از زاہد ملک قابل ذکر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اشاریہ مضامین قرآن؍تفصیل البیان فی مقاصد القرآن‘‘شمس العلماء مو لانا سید ممتاز علی کی قرآن میں بیان شدہ مضامین کو جاننے کے لیے ایک اہم کاوش ہے۔ موصوف 1860ء کو راولپنڈی میں ہوئے۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنےکےبعددار العلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور وہاں ممتاز اساتذہ سے   تعلیم حاصل کی ۔آپ زندگی بھر تصنیف وتالیف کے کام سے منسلق رہے ۔آپ نے چار رسالوں کااجراء کیا اور تقریبا 14 کتب تصنیف کیں جن میں سےاہم ترین کتاب’’ تفصیل البیان فی مقاصد القرآن‘‘ ہے ۔یہ موصوف کا بڑا علمی کارنامہ ہے جس کو آپ نے پچیس برس کی محنت سے ترتیب دیا ۔یہ آیات قرآنی کا ایک مبسوط اشاریہ ہے جو معانی ومطالب کےاعتبار سے مرتب کیا گیا ہے ۔ قرآن مجید میں ایک موضوع ایک ہی مقام پر بیان نہیں ہوا بلکہ ایک عنوان پر روشنی ڈالنے والی متعدد آیات مختلف مقامات پر ملتی ہیں ۔لٰہذا جوشخص کسی خاص موضوع کے ذیل میں آنے والی تمام آیات سے بیک وقت باخبر ہو نا چاہتا ہو اس کے لیے یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ پورا قرآن مجید شروع سے آخر تک نہ پڑھ لے اور یہ ایک دقت طلب مسئلہ ہے ضرورت اس امر کی تھی کہ قرآن میں بیان شدہ تمام موضوعات سےمتعلق آیات ایک ہی مقام پرجمع کردی جائیں۔تاکہ ان سے کما حقہ استفادہ کیاجاسکے ۔اس ضرروت کے پیش نظر مولانا سید ممتاز علی نے نہایت جانفشانی اور عرق ریزی سے پانچ ہزار سے زائد عنوانات کا تعین کیا جو قرآن مجید کی جملہ آیا ت سے قائم ہو سکتے ہیں اور پھر ان کےذیل میں آنے والی تمام آیات ایک مقام پر جمع کردیں اور ساتھ ساتھ ان کا ترجمہ بھی درج کردیا ہے۔یہ کتاب سات حصوں(کتاب العقائد،کتاب الاحکام، کتاب الرسالت،کتاب المعاد، کتاب الاخلاق، کتاب بدء الخلق، کتاب القصص) پر مشتمل ہے ۔ یہ کتاب قرآن مجید کے مضامین کو سمجھے او رجاننے کے لیے انتہائی مفید اور ہر لائبریری اور گھر میں رکھنے کے لائق ہے ۔ علماء واعظین ، مدرسین ، اورمناظرین   کے لیے از بس مفید ہے۔ اللہ تعالی مصنف کی اس عظیم کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین ( م۔ا)

  • pages-from-ishariah-mazameen-e-quran-1
    سید ممتاز علی

    قرآن مجید واحد ایسی کتاب کے جو پوری انسانیت کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے اللہ تعالی نے اس کتاب ِہدایت میں انسان کو پیش آنے والےتما م مسائل کو تفصیل سے بیان کردیا ہے جیسے کہ ارشادگرامی ہے کہ و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سینکڑوں موضوعات پرمشتمل ہے۔ مختلف اہل علم نے اس حوالے سے كئی کتب تصنیف کی ہیں علامہ وحید الزمان  کی ’’تبویب القرآن فی مضامین الفرقان ‘‘، شمس العلماء مولانا سید ممتاز علی کی ’’ اشاریہ مضامین قرآن ‘‘ اور ’’مضامین قرآن‘‘از زاہد ملک قابل ذکر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اشاریہ مضامین قرآن؍تفصیل البیان فی مقاصد القرآن‘‘شمس العلماء مو لانا سید ممتاز علی کی قرآن میں بیان شدہ مضامین کو جاننے کے لیے ایک اہم کاوش ہے۔ موصوف 1860ء کو راولپنڈی میں ہوئے۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنےکےبعددار العلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور وہاں ممتاز اساتذہ سے   تعلیم حاصل کی ۔آپ زندگی بھر تصنیف وتالیف کے کام سے منسلق رہے ۔آپ نے چار رسالوں کااجراء کیا اور تقریبا 14 کتب تصنیف کیں جن میں سےاہم ترین کتاب’’ تفصیل البیان فی مقاصد القرآن‘‘ ہے ۔یہ موصوف کا بڑا علمی کارنامہ ہے جس کو آپ نے پچیس برس کی محنت سے ترتیب دیا ۔یہ آیات قرآنی کا ایک مبسوط اشاریہ ہے جو معانی ومطالب کےاعتبار سے مرتب کیا گیا ہے ۔ قرآن مجید میں ایک موضوع ایک ہی مقام پر بیان نہیں ہوا بلکہ ایک عنوان پر روشنی ڈالنے والی متعدد آیات مختلف مقامات پر ملتی ہیں ۔لٰہذا جوشخص کسی خاص موضوع کے ذیل میں آنے والی تمام آیات سے بیک وقت باخبر ہو نا چاہتا ہو اس کے لیے یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ پورا قرآن مجید شروع سے آخر تک نہ پڑھ لے اور یہ ایک دقت طلب مسئلہ ہے ضرورت اس امر کی تھی کہ قرآن میں بیان شدہ تمام موضوعات سےمتعلق آیات ایک ہی مقام پرجمع کردی جائیں۔تاکہ ان سے کما حقہ استفادہ کیاجاسکے ۔اس ضرروت کے پیش نظر مولانا سید ممتاز علی نے نہایت جانفشانی اور عرق ریزی سے پانچ ہزار سے زائد عنوانات کا تعین کیا جو قرآن مجید کی جملہ آیا ت سے قائم ہو سکتے ہیں اور پھر ان کےذیل میں آنے والی تمام آیات ایک مقام پر جمع کردیں اور ساتھ ساتھ ان کا ترجمہ بھی درج کردیا ہے۔یہ کتاب سات حصوں(کتاب العقائد،کتاب الاحکام، کتاب الرسالت،کتاب المعاد، کتاب الاخلاق، کتاب بدء الخلق، کتاب القصص) پر مشتمل ہے ۔ یہ کتاب قرآن مجید کے مضامین کو سمجھے او رجاننے کے لیے انتہائی مفید اور ہر لائبریری اور گھر میں رکھنے کے لائق ہے ۔ علماء واعظین ، مدرسین ، اورمناظرین   کے لیے از بس مفید ہے۔ اللہ تعالی مصنف کی اس عظیم کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین ( م۔ا)

  • title-page-afkar-ebn-khalidoon
    محمد حنیف ندوی
    ابن خلدون ایک عظیم سماجی مفکرتھے تاریخ عالم کے چندنمایاں ارباب علم وفکرمیں وہ ایک منفردمقام رکھتے ہیں علامہ نے سماجیات میں انسانی فکرکونئے زاویوں سے آشناکیاہے اورعمرانی علوم میں ایسے قابل قدرنکات اجاگرکیے ہیں جوآج بھی ماہرین عمرانیات کےلیے دلیل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔علامہ کےافکاروخیالات کےباب میں انکا مشہورزمانہ مقدمہ ایک خاص مقام کاحامل ہے جس میں انہوں نے مختلف علوم وفنون اورافکارونظریات پرجچی تلی اورمتوازن ومعتدل آراء کا اظہارکیاہے۔زیرنظرکتاب میں مولانامحمدحنیف ندوی رحمہ اللہ نے علامہ کے مقدمہ کاانتہائی موثراوردلنشیں پیرایہ بیان میں خلاصہ کیاہے ۔جس میں تمام ضروری مباحث بڑی خوبصورتی سے سمیٹے ہیں ۔لاعق تحسین امریہ ہے کہ مولاناندوی نے خلاصہ کے آغاز میں ایک مقدمۃ المقدمہ بھی تحریرکیاہے ۔جس میں ابن خلدون کے افکاروآراء پرتجزیاتی تبصرہ کرتے ہوئے اس کی اہمیت کواجاگرکیاہے ۔


  • pages-from-umm-ul-kitab-mein-allah-ka-taaruf
    محمد ابو الخیر اسدی

    ہم مختلف لوگوں سے سنتے ہيں جو اللہ تعالیٰ کا تعارف ان کی اپنی عقل وسمجھ کے مطابق کرتے ہيں، اور بعض مسلمان انہی نظريات اور افکار سے متاثر ہو جاتے ہيں۔ اللہ تعالی کے تعارف کو سمجھنے اور اس کے متعلق علم حاصل کرنے کا سب سے بہترين ذريعہ خود اللہ رب العالمين، قران مجيد اور رسول اللہﷺ کا اللہ تعالیٰ کے متعلق تعارف کروانا ہے، جسے صحابہ رضی اللہ عنہم کے فہم کے مطابق سمجھنا چاہيے۔ اللہ تعالیٰ جو اس کائنات کا خالق، مالک اور مدبر ہے قرآن کو نازل فرمايا تاکہ ہم اپنی زندگی کو بامعنیٰ بنائيں اور آخرت ميں کامياب ہوں، اگر ہم قران مجيد پر کھلے دل اور دماغ سے غور کريں گے تو ہميں اللہ تعالیٰ کا حقيقی تعارف حاصل ہو سکے گا جس کے ذريعہ ہم اللہ تعالیٰ کے حقوق کو سمجھ سکیں گے اور اس کی خالص بندگی کرنے ميں ہميں مدد ملےگی جيسے کے اس کی عبادت کرنے کا حق ہے۔ لفظ ’’ اللہ ‘‘يہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام ہے، جو صرف اللہ ہی کے ليے خاص ہے کوئی اور ذات اللہ تعالیٰ کے علاوہ اس نام سے موسوم نہیں ہو سکتی۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ لفظ "اللہ" کا معنی يہ ہے کہ "وہ اوصاف کاملہ اور صفات جامعہ کى مالک ذات جو ساری مخلوق کی عبادت کى اکىلى حقدار اور مستحق ہے"۔ اللہ تعالی کا يہ نام قرآن کريم میں سب سے زیادہ استعمال ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے تمام افعال میں یکتا اور اکیلا ہے اللہ تعالی ہی ہر چیز کا خالق، مالک اور مدبر ہےاور ساری کائنات کا نظام وہی چلا رہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب(پالنے والا) ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے ناموں اور صفات میں اکیلا ،منفرد اور جداہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے ’’اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں، ان لوگوں کو ان کے کئے کی ضرور سزا ملے گی۔ (الأعراف: 180) اللہ تعالیٰ کاصحیح تعارف حاصل کرنے کابہترین ذریعہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب قرآن مجید، احادیث صحیحہ اور آسمان وزمین موجود اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ ام الکتاب میں اللہ کا تعارف‘‘علامہ ابو الخیر اسدی﷫ کی تصنیف ہےجس میں انہوں نے سورۃ الفاتحہ کی تفسیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کاتعارف پیش کیا ہے۔ کیونکہ اس سورت میں معرفت الٰہیہ، رسالت، آخرت کواجمال کے طورپر بیان کیاگیا ہے۔ باقی سارے قرآن میں ان تینوں اصولوں کی تفصیل کے ساتھ تشریح کی گئی ہے۔ (م۔ا)

  • pages-from-tareekh-nazool-e-quran
    عبد الرشید عراقی

    قرآن یا قرآن مجید (عربی میں القرآن الكريم) اسلام کی بنیادی کتاب ہے۔ اسلامی عقیدے کے مطابق قرآن عربی زبان میں تقریباً 23 برس کے عرصے میں محمدﷺ پر نازل ہوا۔ قرآن کے نازل ہونے کے عمل کو وحی کہا جاتا ہے۔ اور یہ کتاب مشہور فرشتے حضرت جبرائیل﷤ کے ذریعےامام الانبیاء سیدنا محمدﷺ پر نازل ہوئی۔ مسلمانوں کا بنیادی عقیدہ ہے کہ قرآن میں آج تک کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکی اور اسے دنیا کی واحد محفوظ کتاب ہونے کی حیثیت حاصل ہے، جس کا حقیقی مفہوم تبدیل نہیں ہو سکا اور تمام دنیا میں کروڑوں کی تعداد میں چھپنے کے با وجود اس کا متن ایک جیسا ہے۔ اس کی ترتیب نزولی نہیں بلکہ محمدﷺ کی بتائی ہوئی ترتیب کے مطابق ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تاریخ نزول قرآن‘‘ وطن عزیز پاکستان کے معروف سیرت نگار و مؤرخ، کالم نگار مصنف کتب کثیرہ جناب مولانا عبد الرشید عراقی ﷾ کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے قرآن مجید کے نزول کو اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے اور نزول قرآن کے متعلق تمام معلومات کو یکجا کردیا ہے۔ یہ کتاب سکول اور مدارس کے طلبہ و طالبات اور عام قارئین کے لیے بڑی اہم اور مفید ہے۔ (م۔ا)

  • title-pages-tabah-shuda-aqwam-copy
    ہارون یحییٰ

    قرآنِ حکیم کابڑا حصہ اممِ سابقہ  کے  احوال وبیان پرمشتمل ہے  جو یقیناً غور وفکر کامتقاضی ہے ۔ان قوموں میں سےاکثر نے اللہ  کےبھیجے  ہوئے پیغمبروں کی دعوت کو مسترد کردیا اور ان کے ساتھ بغض وعناد اختیارکیا۔ ان کی اسی سرکشی کے باعث ان پر اللہ  کا غضب نازل ہوا اور وہ صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹادی گئیں۔آج کے دور میں بھی ماہرین آثار قدیمہ کی تحقیقات اوردرفیافتوں کے  نتیجے  میں  قرآنِ حکیم میں بیان کردہ سابقہ اقوام کی تباہی  کے حالات قابل ِمشاہدہ ہوچکے ہیں ۔زیر نظرکتاب  ’’تباہ شدہ اقوام‘‘ جوکہ  معروف رائٹر ہارون یحی کی تصنیف ہے ۔اس میں انہوں نے  احکامِ الٰہی  سے انحراف کے سبب ہلاک ہونے والے  چند معاشروں اور قوموں کا تذکرہ کیا ہے ۔یہ کتاب بتاتی ہے  کہ قرآن مجید میں ذکر کی جانے والی یہ اقوام کس طرح تباہ  ہوئیں۔اپنے موضوع پر یہ ایک  بےمثال کتاب ہے ۔کتاب ہذا کے  فاضل مصنف ہارون یحی نے بہت سی سیاسی اور مذہبی کتب  لکھیں  جو زیور طباعت سے آراستہ ہو  کر قارئین تک  پہنچ چکی ہیں۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم  اورناشرین  کی اس کوشش کوقبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-husan-w-jamal-ka-chand
    حافظ محمد عبد الاعلٰے
    حضرت یوسف   کے واقعہ کو قرآن نے  احسن القصص کے طور پر بیان کیا ہے جو اپنے مضامین کی جامعیت  ،موضوع کی انفرادیت ،نفس واقعہ کی حلاوت و شیرینی ،نتائج و عواقب کے لحاظ سے بے نظیر اور اثر آفرینی میں اپنی مثال آپ ہونے کی وجہ سے بجاطور پر احسن القصص ہے نزولِ قرآن سے پہلے یہود کے ہاں بائبل اور ثمود میں بھی   اسے تفصیل کے  ساتھ بیان کیا گیا تھالیکن   ان  کتب  میں یہ واقعہ تحریف شدہ تھا ۔قرآن کریم جو آسمانی کتابوں کے لیے نگران بناکر نازل کیا گیا ہےاس نے سابقہ احوال و فصل کو ٹھیک ٹھیک انداز میں بیان کیا اور بائبل کی تحریقات کی اصلاح بھی کی ہے ۔ واقعہ حضرت  یوسف    کئی لحاظ سے دیگر  واقعات کی  نسبت منفرد  ہے  مثلاً پورا قصہ ایک ہی  سورت میں بیان کردیا گیا  ہے اس قدر عبرتیں حکمتیں اور مواعظ ونصائح ایک ہی مقام پر تسلسل کے  ساتھ  جمع  ہیں۔ ہر  دور اور ہر زبان کے مسلم علماء و ادباء نے اس واقعہ کو موضوع سخن بناکر اپنے اپنے ذوق کے مطابق  نظم یا نثر میں لکھا ہے  ۔زیرِ نظر کتاب ’’ حسن وجمال  کاچاند ‘‘ از حافظ عبد الاعلی اسی موضوع پر ایک اہم کاوش ہے ۔جوکہ قرآن واحادیث صحیحہ کی روشنی  میں سیدنا یوسف   کے  حسن وجما ل  وکما لِ سیرت  اور پیغمبرانہ  شان  کی ترجمان  سورۂ  یوسف کی منفرد تفسیر ہے  ۔علماء ،خطبا، واعظین او رعامۃ الناس کے لیے  ایک نادر تحفہ ہے    اللہ  تعالی فاضل مصنف کی جہود کو  قبول  فرمائے  (آمین)( م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-khalasah-mazameen-e-quran
    ملک عبد الرؤف

    رمضان المبارک قرآن پاک کےنزول کا مہینہ ہے۔ قرآن اسلامی تعلیمات کا ماخذ ِ اوّل اور رسول اللہﷺ کا ابدی معجزہ ہے۔ رمضان المبارک میں جبریل امین﷤ آپ ﷺ کی پاس آتے اور آپ کے ساتھ قرآن کادور کرتے۔ رسو ل اللہ ﷺ ماہ رمضان میں رات کی عبادت میں غیرمعمولی مشقت اٹھاتے اور گھر والوں اور صحابہ کرام کو قیام الیل کی ترغیب دلاتے۔ اور اپنی زبانِ رسالت سے رمضان میں قیام اللیل کی ان الفاظ میں’’من قام رمضان ایمانا واحتسابا غفرلہ ما تقدم من ذنبہ ‘‘ فضیلت بھی بیان کی ۔سیدنا عمر فاروق﷜ کے عہد خلافت میں صحابہ کرام ﷢ کے مشوورہ سے رمضان المبارک کی راتوں میں تراویح باجماعت پڑھنا مقرر ہوا۔ جس میں امام جہری قراءت کرتا اور مقتدی سماعت سے محظوظ ہوتے۔ لیکن ارض ِ پاک وہند میں ہماری مادری زبان عربی نہیں اس لیے ہم امام کی تلاو ت سنتے تو ہیں لیکن اکثر احباب قرآن کریم کے معنیٰ اور مفہوم سے نابلد ہیں جس کی وجہ سے اکثر لوگ اس مقدس کتاب کی تعلیمات اور احکامات سے محروم رہتے ہیں۔ تو اس ضرورت کے پیش نظر بعض مساجد میں اس بات کا اہتمام کیا گیا کہ قراءت کی جانے والی آیات کا خلاصہ بھی اپنی زبان میں بیان کردیا جائے۔ اور بعض اہل علم نے اس کو تحریر ی صورت میں مختصراً مرتب کیا۔ تاکہ ہر کوئی قرآن کریم سنے اور سمجھے اور اس کے دل میں قرآن مجید کو پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کاشوق پیدا ہو۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’خلاصہ مضامین قرآن‘‘ مولانا ملک عبد الرؤف صاحب (خطیب جامع مسجد آسٹریلیا) کی یہ ایک کامیاب کوشش ہے موصوف نے تقریباً تیس سال قبل اپنے نمازیوں کو روزانہ نماز تراویح کے بعد تلاوت شدہ قرآن کریم کا خلاصہ سنایا جو بہت پسند کیا گیا۔ دور دور سے صاحبان ذوق اس کو سننے کے لیے آتے تھے۔ تو مولانا نے اپنے اس بیان شدہ کلام اللہ کے تیس پاروں کا خلاصہ تحریری صورت میں مرتب کر کے افادۂ عام کے لیے نہایت آسان زبان میں تیس ابواب کی صورت میں پیش کیا ہے۔ قارئین کی دلچسپی اور افادۂ عام کے لیے ہررکوع کو جداگانہ عنوان دیا گیا ہے اس خلاصہ کایہ سب سےمنفرد اور اہم کام ہے۔ ہر باب آسانی سے تیس منٹ میں پڑھا جاسکتا ہے۔رمضان المبارک میں تراویح سے قبل یا بعد اگر روزانہ نصف گھنٹہ میں یہ خلاصہ سنانے کااہتمام ہو جائے تو تعلیمات قرآن کو عام کرنے کی یہ نہایت کامیاب اور مؤثر صورت ہوگی۔ حافظ نذر احمد پرنسپل شبلی کالج، لاہور نے اس پر نظرثانی کی اور مسلم اکادمی لاہور 1984ء میں اسے شائع کیا تھا۔ (م۔ا)

  • pages-from-rijaal-e-quran
    ڈاکٹر عبد الرحمن عمیرہ

    صحابۂ کرام کے عہد زریں بڑے دلچسپ اور سبق آموز واقعات پر مشتمل ہے ان کی عطر آگیں سیرت اور پاکیرہ زندگی ایمان وعمل کا بہت بڑا سرچشمہ اور منبع نور وہدایت ہے جس سے مسلمانوں نے ایمان ویقین کی مشعلیں روشن کی تھیں ۔ خلفائے راشدین کی قابل فخر تاریخ ایمان وایقان ، صبر وتحمل ، بے پناہ شجاعت، ثابت قدمی اور علم وہنر کے کارہائے نمایاں سے بھر پور ہے ۔ ان کا بے مثال عمل وکردار جس کےثمرات ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور جس کافیضان آج تک جاری ہے۔ وہ لوگوں کے معاملے میں خدا ترس واقع ہوئے تھے۔ دنیا کے مال ومتاع سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ خشوع و خضوع کے پیکر تھے اور اللہ تعالیٰ سے ان کا تعلق بڑی مستحکم بنیادوں پر استوار تھا۔صحابہ کرام ﷢ نے جس طرح اللہ اوراس کے محبوب ﷺ کی اطاعت اور فرمانبرداری کی اور اس کےلیے قربانیاں دیں تاریخ ان کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ صحابہ کرام ﷢ ان اوقات کی تلاش میں رہتے تھے کہ انہیں وقت ملے اور وہ اللہ کے رسول کو راضی کریں۔ صحابہ کرام ﷢ میں بعض ایسی خوش قسمت شخصیات بھی تھی کہ جن افعال اوراعمال کا تذکرہ اللہ رب العزت کو اتنا پسند آیا کہ ان کا ذکر قرآن کریم میں کردیا۔آج کے اس پرفتن دور میں جبکہ نوجوان نسل بتدریج اسلام سے دور ہورہی ہے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ اہم اپنے نوجوانوں کو اپنے اسلاف کی سیرت پرھائیں، وہ اسے سنیں اور جانیں کہ ان کی زندگیاں کیسی تھیں، ان کےاخلاق وکردار کیسے تھے اور انہوں نے اسلام کے لیے کتنی قربانیاں پیش کیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’رجال القرآن‘‘ ڈاکٹر عبد لرحمٰن عمیرہ کی عربی کتاب ’’رجال أنزل الله فيهم قرآنا‘‘ کا سلیس ور واں اردو ترجمہ ہے۔ فاضل مصنف کا انداز بڑا عمدہ ہے۔ انہوں نے ایک کہانی کے انداز میں ان صحابہ کرام کی سیرت اس کتاب میں بیان کی ہے جن کے بارے میں قرآن کریم میں آیات نازل ہوئی ہیں۔ نیز انہوں نے اس کتاب میں صحابہ کرام ہی نہیں بلکہ ان کفار کے بارے میں بھی پوری تفصیل کے ساتھ لکھا ہے جن کے بارے میں قرآن نازل ہوا۔ کتاب میں موجود واقعات تاریخ کی مستند کتابوں سے نقل کیے گئے ہیں۔ ان واقعات میں اور صحابہ کرام کی مبارک زندگیوں میں ہمارے لیے دروس ہیں۔ یہ کتاب خلفائے راشدین کے علم و نظر، سیرت و کردار اور ان کے عظیم کارناموں کی روداد ہے۔ اس میں جہاں آپ کو خلفائے راشدین کی پاکیزہ سوانح عمری پڑھنے کو ملےگی وہیں ان کے نور علم کی روشنیاں بھی جگمگاتی نظر آئیں گی۔ اللہ تعالیٰ کتاب کے فاضل مؤلف، مترجم اورناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے اسے امت مسلمہ کے لیے نفع بخش بنائے۔ (آمین)(م۔ا)

  • titlepagesonehreyawraaq
    عبد المالک مجاہد
    تاریخ اسلامی دلچسپ اور سبق آموز واقعات سے بھری پڑی ہے- اس موضوع پر اب تک بہت سی کتب لکھی جا چکی ہیں لیکن وہ کافی تفصیلی اور ضخیم ہیں جن کا مطالعہ کھلے وقت کا متقاضی  ہے- کتاب ہذا میں مصنف نے حقائق پر مبنی دلچسپ واقعات کو آسان اور سلیس زبان میں بیان کر دیا ہے- کتاب کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری تاریخ میں کس قدر عظیم لوگ پیدا ہوئے جن کے کارہائے نمایاں روز روشن کی طرح عیاں ہیں یہ ایسے سنہرے اوراق ہیں جو بچوں، بڑوں غرض ہر عمر کے لوگوں کے لیے یکساں دلچسپی کے حامل ہیں-مصنف نے حتی الامکان کوشش کی ہے کہ صرف وہی واقعات ذکر کئے جائیں جو تاریخی اعتبار سے درست ہیں اور جن کے حوالہ جات موجود ہیں-
  • titlepagesonehreyhuroof
    عبد المالک مجاہد
    چونکہ نبی کریم ﷺ ، صحابہ کرام، تابعین وتبع تابعین، فقہائے کرام اور سلف صالحین کی  زندگی امت مسلمہ کے ہر فرد کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے اس لیے اس امر کی شدید ضرورت محسوس  کی جارہی تھی کہ ان تابندہ ستاروں کی زندگی کے درخشاں واقعات کو اختصار کے ساتھ یکجا کیا جا سکے- زیر مطالعہ کتاب میں عبدالمالک مجاہد نے اسلامی تاریخ کے انہی چنیدہ ستاروں کے  واقعات احاطہ تحریر میں لائے ہیں- مصنف نے سیرت رسول ﷺ، صحابہ کرام ، تابعین  اور اس کے بعد ترتیب وار سلف صالحین اور نامور سلاطین کے سبق آموز اور دلچسپ واقعات کا تذکرہ کیا ہے کتاب میں ذکر کردہ مصادر صحیح اور مستند ہیں- اسلاف کے تفقہ، رسوخ فی العلم، تواضع، ایثار اور اعلائے کلمۃ الحق کے یہ واقعات ہر مسلمان مرد اور عورت کے لیے گرانقدر راہنمائی فراہم کرتے ہیں-
  • titlepagesonehrifaisly3
    عبد المالک مجاہد
    دین اسلام میں عدل وانصاف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے،  جس کا مقصد انسانی حقوق کا تحفظ اور ایک ایسےصالح اسلامی معاشرے کا قیام ہے جس میں آقا سے لے کر غلام تک ہر شخص کے ساتھ مساویانہ برتاؤ کی ضمانت دی جا سکے- زیر نظر کتاب ''سنہرے فیصلے'' میں مصنف نے نبی مکرم  ، صحابہ کرام، نامور مسلم حکمرانوں اور قاضیان کرام کے ان فیصلوں کو یکجا کر دیا ہے جن سے اطراف واکناف عالم میں عدل وانصاف کی سنہری روایات کی ترویج ہوئی ہے- کتاب میں بیان کردہ فیصلوں سے جہاں حکمرانوں، قاضیوں اور ججوں کو گرانقدر راہنمائی ملتی ہے وہیں ایک اسلامی معاشرے میں انفرادی واجتماعی عدل کی نوید بھی سنائی دیتی ہے- کتاب کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں مستند اور مصدقہ واقعات جمع کیے گئے ہیں اور حوالوں کا خصوصاً اہتمام کیا گیا ہے- اس کے علاوہ واقعات کے آخر میں شخصیات کا مختصر تعارف بھی شامل کر دیا گیا ہے جس سے کتاب کی علمی افادیت مزید دو چند ہوگئی ہے-
  • titlepagesonehreynaqoosh
    عبد المالک مجاہد
    زیر مطالعہ کتاب بھی مولانا عبدالمالک مجاہد صاحب کی دیگر کتب کی طرح سبق آموز اور دلچسپ داستانوں پر مشتمل ہے- مولانا نے کہانی کے انداز میں زندگی کی اٹل حقیقتیں جچے تلے لفظوں میں بیان کر دی ہیں-ایک مرد مؤمن فقط احکام الہی کا پابند اور محمد  کا پیروکار ہوتا ہے دنیا کی کوئی بھی طاقت مؤمن کے ایمان کو شکست نہیں دے سکتی- یہ نظارہ دیکھنا ہو تو لشکر اسامہ کی روانگی کے زیر عنوان حضرت ابوبکر کی استقامت ملاحظہ فرمائیں- حضرت عمر بن عبدالعزیز کے احوال پڑھ کر اسلام کے طریق سیاست وحکومت سے آگاہ ہوں- قرآن کریم کی اثر آفرینی ملاحظہ کرنی ہو تو حضرت عمر اور ان کی ہمشیرہ فاطمہ کا واقعہ پڑھئے- ایک مسلمان کا شباب اسلام کے لیے کس حد تک کار آمد ثابت ہوسکتا ہے اس کی تفصیل جاننی ہو تو کتاب میں موجود عمیر بن حمام، اسامہ بن زید اور طارق بن زیاد کی سیرت ملاحظہ فرمائیے-کتاب میں جہاں آپ کو سعید بن جبیر اور امام احمد بن حنبل کی دلکش سیرت کے جلوے نظر آئیں گے وہیں حضرت عثمان کی اہلیہ محترمہ کو تھپڑ مارنے والے انجام بھی دیکھنے کو ملے گا- مختصرا یہ کتاب نیکی اور بدی کے کرداروں کا حیرت انگیز نگار خانہ ہے جس کے مطالعے سے دل ودماغ کے بند دریچے کھلتے ہوئے نظر آئیں گے-
  • title-pages-quran-main-khawateen-k-waqiat-copy
    محمد بن ناصر الحمید

    قرآن حکیم  میں  بیان شدہ واقعات وقصص تین اقسام مشتمل ہیں۔انبیاء ورسل کے  واقعات  کہ جو انہیں اہل ایمان کے ہمراہ کافروں کے ساتھ پیش  آئے تھے۔اور دوسری قسم  ان واقعات کی  ہے   جو عام لوگوں یا جماعتوں ،قوموں سے متعلق ہیں ۔تیسری قسم  نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ  میں پیش آمدہ واقعات اور قوموں کاذکر ہے ۔قرآنی واقعات بالکل سچے اور حقیقی قصص ہوتے ہیں  یہ کوئی خیالی اور تمثیلی کہانیاں نہیں ہوتیں۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں  انبیائے کرام﷩کے واقعات بیان کرنے کامقصد خودان  الفاظ  میں واضح اور نمایا ں فرمایا ’’اے  نبیﷺ جونبیوں کے واقعات ہم آپ  کے سامنے بیان کرتے ہیں ان سے ہمارا  مقصد آپ  کے  دل  کو ڈھارس دینا ہے اور آپ کے  پاس حق پہنچ چکا ہے اس میں مومنوں کے لیے  بھی نصیحت وعبرت ہے‘‘ ۔اور ان  واقعات  کا ایک بہت بڑا مقصد اہل ایمان کی ہمت کوبندھانا اور انہیں اللہ کی راہ میں جوغم ،دکھ اور مصیبتیں پہنچی ہیں ان کے بارے   میں تسلی دلانا ہوتا ہے ۔قرآن حکیم میں  مذکورہ واقعات وقصص میں  سے بعض وہ   ہیں جو ایک ہی بار ذکر ہوئے ہیں جیسے کہ سیدنا یوسف   اور عزیز مصر کی بیوی  اور ابو الہب کی بیو ی کا واقعہ ہے ۔ان میں سے بعض واقعات ایسے  بھی ہیں  جو باربار ذکر ہوئے  ہیں ۔جیسے  کہ : سیدنا موسیٰ  کی والدہ ، ان کی بہن اور مریم بنت عمران ﷩ کے واقعات ہیں۔ ایسا کسی مصلحت اور ضرورت کے مطابق   ہوا ہے  یہ  تکرار کسی ایک سبب کی بنا پر نہیں ہوا  ۔ اسی طرح ہر تکرار او رعدم تکرار کا کوئی نہ کوئی حکم حکمت ودانائی اور راز ضرور ہے۔ قرآن  حکیم نے  مردوں کے ساتھ  ساتھ  خواتین کے بھی واقعات بیان کیے  ہیں ۔تاکہ  مسلمان عورتیں اپنی اصلاح کے لیے ان واقعات سے نصیحت حاصل کریں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ قرآن میں خواتین کے واقعات ‘‘ مدینہ یونیورسٹی ایک فاضل استاد  ڈاکٹر محمد بن  ناصر  الحمید﷾ کی عربی کتاب قصص النساء فی القرآن کا اردو ترجمہ ہے  ۔مصنف موصوف نے  اس کتاب میں  اللہ  تعالیٰ  کی مومنہ وصالحہ بندیوں کے ساتھ ساتھ کچھ بد اخلاق وبدکردار اور بے وقوف کم عقل عورتوں کےواقعات بھی بیا ن کیے  ہیں ۔ تاکہ مسلمان خواتین اپنے  نہایت اجلے  اسلامی سیرت والے لباس کو اس طرح کے اوچھے پن ،بے وقوقی وبدکرداری اور بد اخلاقی والے  بد نما دھبوں سے بچا سکیں۔ٹیلی ویژن کےسامنے  بیٹھ کر  یا جھوٹے قصے کہانیاں پڑھ کر اپنا وقت برباد کرنے والے  مسلم  خواتین اور مومن ومسلم طالبات کے لیےا س کتاب  میں  دلچسپ واقعات بھی اور اردو ادب کےلیے بہترین عبارتیں اور اسباق ودروس  بھی۔ اس لیے کہ  اردو ترجمہ میں ادبی چاشنی کاخوب لحاظ رکھا گیا ہے ۔ اس  اہم کتاب  کا رواں اور سلیس ترجمہ  کے  فرائض  محترم مولانا  ابو یحییٰ محمد زکریا زاہد  ﷾ نے  انجام دئیے  ہیں ۔اللہ  تمام اہل  ایمان کو   قرآن وسنت  کی تعلیمات کے مطابق زندگی بسرکی  توفیق عطافرمائے اور اس کتاب  کو  عوام الناس کے   لیے نفع بخش بنائے (آمین)  قصص  القرآن

  • title-pafe-quran-pak-aur-asmani-sahefe
    محمد رضی الاسلام ندوی

    اللہ تعالی نے مختلف قوموں کی ہدایت کے لیے ان کے درمیان اپنے پیغمبر بھیجے تو ان پر اپنی کتابیں بھی نازل کیں یہ کتابیں پیغمبروں کے بعدبھی ان قوموں کے لیے ہدایت کاذریعہ رہی ہیں اور ان سے وہ اپنی زندگی کے مختلف معاملات میں رہنمائی حاصل کرتے ر ہے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان پر خواہشات ِ نفس کا غلبہ ہوگیا تو انہوں نے ان کتبِ الٰہی کو پس پشت ڈال دیا۔او ر ان میں تحریفات کردیں۔ اللہ تعالی نے سب سے آخر میں خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا اور آپ ﷺ پراپنی کتاب قرآن مجید نازل کی ۔دیگر کتب سماوی کے مقابلے میں قرآن مجید کا امتیازیہ ہے کہ اس کی حفاظت کا اللہ تعالی نے خود وعدہ کیا۔زیر نظر رسالہ مولانا محمد رضی الاسلام ندوی کے قرآن کے حوالے سے مختلف پانچ مضامین کا مجموعہ ہے جن کی تفصیل یہ ہے ۔پہلا مقالہ: قرآن کریم میں صحف سماوی کے حوالے ۔ اس میں ان آیات کی تشریح وتوضیح کی گئی ہے جن میں صحف سماوی کے حوالے دے کر ان کی بعض تعلیمات نقل کی گئی ہیں۔دوسرا مقالہ:تورات پر تنقید کی قرآنی اصطلات ۔ اس میں ان قرآنی بیانات سے بحث کی گئی ہے جو تورات کی تحریفات سے متعلق وارد ہیں او ران الفاظ کی وضاحت کی گئی ہے جن کا استعمال قرآن میں بہ طور اصطلاح ہوا ہے ۔تیسرے مقالہ میں قرآن کریم کی متعلقہ آیات کے حوالے سے صحفِ ابراہیم کا تعارف کرایا گیا ہےاور چوتھا مقالہ میں حضرت ابراہیم کی سیرت کے متعلق قرآن کریم اور بائبل کے بیانات کا تقابلی مطالعہ بیش کیا گیا ہے اور پانچواں مقالہ اہل کتاب کے متعلق ہے اللہ سے دعا ہے کہ اس کتاب کا فائدہ عام کرے اور مصنف کو اس کے اجر سے نوازے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • محمد حفظ الرحمن صاحب سیوہاروی
    قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے دنیائے انسانی کی ہدایت کےلیے جو مختلف معجزانہ اسلوبِ بیان اختیار فرمائے ہیں ان میں سےایک یہ بھی ہے کہ گزشتہ قوموں کے واقعات و قصص کے ذریعہ ان کے  نیک و بد اعمال اور ان اعمال کے ثمرات و نتائج کو یاد دلائے اور عبرت و بصیرت کا سامان مہیا کرے۔ قرآن مجید کے قصص و واقعات کا سلسلہ بیشتر گزشتہ اقوام اور ان کی جانب بھیجے ہوئے پیغمبروں سے وابستہ ہے اور جستہ جستہ بعض اور واقعات بھی اس کے ضمن میں آ گئے ہیں۔ مسلمان قوم کی پستی کو دیکھتے ہوئے مولانا محمد حفظ الرحمٰن سیوہاروی نے قرآن مجید میں موجود ان قصص کو یکجا صورت میں پیش کرنے کا اہتمام کیا تاکہ ان سے عبرت و بصیرت حاصل کی جائے۔ اس وقت آپ کے سامنے ’قصص القرآن‘ کی پہلی اور دوسری جلد ہے جس میں حضرت آدم سے لے کر حضرت یحییٰ علیہما السلام تک کے واقعات نہایت مفصل اور محققانہ انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ تمام واقعات کی بنیاد اور اساس قرآن عزیز کو بنایا گیا ہے اور احادیث صحیحہ اور واقعات تاریخی کے ذریعے ان کی توضیح و تشریح کی گئی ہے۔ خاص خاص مقامات پر تفسیری، حدیثی اور تاریخی اشکالات اور بحث و تمحیص کے بعد سلف صالحین کے مسلک کے مطابق ان کا حل پیش کیا گیا ہے۔ ہر پیغمبر کے حالات قرآن عزیز کی کن کن سورتوں میں بیان ہوئے ہیں ان کو نقشہ کی شکل میں ایک جگہ دکھایا گیا ہے۔ علاوہ بریں ’نتائج و عبر‘ یا ’عبر و بصائر‘ کے عنوان سے اصل مقصد اور حقیقی غرض و غایت یعنی عبرت و بصیرت کے پہلو کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • محمد حفظ الرحمن صاحب سیوہاروی
    قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے دنیائے انسانی کی ہدایت کےلیے جو مختلف معجزانہ اسلوبِ بیان اختیار فرمائے ہیں ان میں سےایک یہ بھی ہے کہ گزشتہ قوموں کے واقعات و قصص کے ذریعہ ان کے  نیک و بد اعمال اور ان اعمال کے ثمرات و نتائج کو یاد دلائے اور عبرت و بصیرت کا سامان مہیا کرے۔ قرآن مجید کے قصص و واقعات کا سلسلہ بیشتر گزشتہ اقوام اور ان کی جانب بھیجے ہوئے پیغمبروں سے وابستہ ہے اور جستہ جستہ بعض اور واقعات بھی اس کے ضمن میں آ گئے ہیں۔ مسلمان قوم کی پستی کو دیکھتے ہوئے مولانا محمد حفظ الرحمٰن سیوہاروی نے قرآن مجید میں موجود ان قصص کو یکجا صورت میں پیش کرنے کا اہتمام کیا تاکہ ان سے عبرت و بصیرت حاصل کی جائے۔ اس وقت آپ کے سامنے ’قصص القرآن‘ کی تیسری اور چوتھی جلد ہے جس میں انبیاء علیہم السلام کے سوانح حیات  کے علاوہ باقی قصص قرآنی اصحاب قریہ، اصحاب الجنہ، حضرت لقمان، اصحاب سبت وغیرہ کی مکمل اور محققانہ تفسیر و تشریح کی گئی ہے۔ آخر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور نبی کریمﷺ کے واقعات و حالات کا محققانہ و مبصران بیان موجود ہے۔ تمام واقعات کی بنیاد اور اساس قرآن عزیز کو بنایا گیا ہے اور احادیث صحیحہ اور واقعات تاریخی کے ذریعے ان کی توضیح و تشریح کی گئی ہے۔ خاص خاص مقامات پر تفسیری، حدیثی اور تاریخی اشکالات اور بحث و تمحیص کے بعد سلف صالحین کے مسلک کے مطابق ان کا حل پیش کیا گیا ہے۔ ہر پیغمبر کے حالات قرآن عزیز کی کن کن سورتوں میں بیان ہوئے ہیں ان کو نقشہ کی شکل میں ایک جگہ دکھایا گیا ہے۔ علاوہ بریں ’نتائج و عبر‘ یا ’عبر و بصائر‘ کے عنوان سے اصل مقصد اور حقیقی غرض و غایت یعنی عبرت و بصیرت کے پہلو کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ  کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1508 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں