• pages-from-iraab-ul-quran-o-tafseer-teeswan-parah
    عثمان علی

    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام او راس کی آخری کتاب ہدایت ہے ۔اس عظیم الشان کتاب نے تاریخ انسانی کا رخ موڑ دیا ہے۔ یہ واحد آسمانی کتاب ہے جو قریبا ڈیڑھ ہزار سال سے اب تک اپنی اصل زبان میں محفوظ ہے۔ اس پر ایمان لانامسلمان ہونے کی ایک ضروری شرط اوراس کا انکار کفر کے مترادف ہے اس کی تلاوت باعث برکت وثواب ہے، اس کا فہم رشد وہدایت اوراس کے مطابق عمل فلاح و کامرانی کی ضمانت ہے۔ کتاب اللہ کی اسی اہمیت کے پیش نظر ضروری ہے ہر مسلمان اسے زیادہ سے زیادہ سمجھنے کی کوشش کرے ۔ اگر چہ آج الحمد للہ اردو میں قرآن مجید کے بہت سے تراجم وتفاسیر ہیں، تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ قرآن کو قرآن کی زبان میں سمجھنے کا جو مقام ومرتبہ ہے وہ محض ترجموں سے حاصل نہیں ہوسکتا ہے۔ عربی زبان اور قرآن مجید کی تعلیم وتفہیم کےلیے مختلف اہل علم نے تعلیم وتدریس اور تصنیف وتالیف کے ذریعے کوششیں کی ہیں۔ جن سے متفید ہوکر قرآن مجیدمیں موجود احکام الٰہی کو سمجھا جاسکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اعراب القرآن وتفسیر (تیسواں پارہ سوالنامہ )‘‘ محترم عثمان علی، حافظ ابو بکر عثمان ، حافظ احسان اللہ نے   شیخ الحدیث حافظ محمد شریف﷾ اور جامعہ سلفیہ ،فیصل آباد کے مایہ ناز مدرس مولانانجیب اللہ طارق﷾ کی زیرنگرانی اہم تفاسیر کوسامنے رکھ کر صرف سوالنامہ مرتب کیا ہے جس میں جدید شکوک وشبہات کا ازالہ ،قرآن کریم کی صرفی ونحوی ابحاث، لغوی، سبب نزول، تظم بین السور، سورت کاموضوع و مضمون نظم بین الآیات، مختلف فیہ مسائل میں تطبیق، اعراب، وجہ اعراب، محل اعراب و اصطلاحی مطالب کے علاوہ اہم تفسیری نکات کوبھی بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ استاد العلماء حافظ عبد العزیز علوی﷾ (شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ ،فیصل آباد) کی نظر ثانی سے اس کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ کتاب طالبان ِعلوم نبوت کے لیے ایک گراں قدر علمی تحفہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کی تیاری میں شامل ہونے والے تمام اہل علم کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور انہیں اس نہج پر قرآن مجید کےباقی پاروں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین) یہ 94 صفحات پر مشتمل صرف سوالنامہ ہے ان سوالات کے جوابات بھی الگ سے شائع کردئیے گئے ہیں۔ جو تین صد سے زائدصفحات پر مشتمل ہے اور وہ بھی کتاب وسنت سائٹ پر موجود ہے۔ (م۔ا)

  • title-pages-asaan-tarjuma-quran-majeed
    حافظ نذر احمد
    قرآن شریف خداوند کریم کا کلام ہے جس میں انسان کی رشد وہدایت اور دائمی فلاح وکامرانی کے تمام اصول بیان کر دیئے گئے ہیں۔مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس قرآن کو پڑھے اور اس کے مطالب کو فہم کی گرفت میں لانے  کی کوشش کرے۔ہماری مادری زبان چونکہ عربی نہیں ہے ،اس لیے تراجم قرآن کا سہارا لینا ناگزیر ہے اردو زبان میں بے شمار تراجم ہو چکے ہیں اور ہر ترجمے کی اپنی خصوصیات ہیں۔کتاب وسنت ڈاٹ کام پر اس سے پہلے بھی قرآن حکیم کے بعض تراجم پیش کیے جا چکے ہیں ۔اب حافظ نذر احمد صاحب کا ترجمہ پبلش کیا جار ہا ہے اس میں بعض ایسی خصوصیات ہیں جو پہلے تراجم میں نہ تھیں مثلاً پہلے ترجمے صرف لفظی یا محض بامحاورہ تھے۔اس میں لفظی ترجمہ بھی ہے اور بامحاورہ بھی۔پھر اس ترجمے کواہل حدیث،دیوبند اور بریلوی تینوں مکاتب فکر کے علما کی تائید حاصل ہے۔لہذا تمام افراد اس سے بلا جھجک استفادہ کر سکتے ہیں امید ہے اس کے مطالعہ سے قارئین میں قرآن فہمی کا ذوق پیدا ہو گا اور قرآن حکیم کی تعلیمات پر عمل کا جذبہ بیدار ہو گا۔ناظرین سے التجا ہے کہ وہ اس کے مطالعہ کے بعد مترجم،ناشر اور کتاب وسنت ڈاٹ کام کے اراکین کو اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں۔خداوند قدوس ہم سب کو قرآن شریف پر حقیقی معنوں میں عمل پیرا ہونے کی توفیق رحمت فرمائے۔آمین یار ب العالمین(ط۔ا)

  • title-pages-asan-uloome-quran-copy
    پروفیسر محمد رفیق چودھری

    علوم القرآن  سے مراد وہ تمام علوم وفنون ہیں جو قرآن فہمی میں مدد دیتے ہیں  او رجن  کے ذریعے قرآن کو سمجھنا آسان ہوجاتا  ہے ۔ ان علوم میں وحی کی کیفیت ،نزولِ قرآن  کی ابتدا اور تکمیل ، جمع قرآن،تاریخ تدوین قرآن، شانِ نزول ،مکی ومدنی سورتوں کی پہچان ،ناسخ ومنسوخ ، علم قراءات ،محکم ومتشابہ آیات  وغیرہ  ،آعجاز القرآن ، علم تفسیر ،اور اصول  تفسیر  سب شامل ہیں ۔علومِ القرآن  کے مباحث  کی ابتدا عہد نبوی  اور دورِ صحابہ کرام سے  ہو چکی  تھی  تاہم  دوسرے اسلامی علوم کی طرح اس موضوع پربھی مدون کتب لکھنے کا رواج بہت بعد  میں ہوا۔زیر نظر کتاب’’آسان علوم قرآن‘‘ماہنامہ  محدث کے  معروف   کالم نگار  اور  کئی کتب کے مصنف  ومترجم محترم  مولانا محمد رفیق چودھری ﷾ کی  تصنیف ہے۔جو بنیادی طور  پر اسلامیات اور علوم القرآن کےمبتدی  طالب علموں کے لیے  لکھی  گئی ہے  اور اس میں  مبتدی  حضرات او رخواتین کے لیے  ضروری معلومات موجود ہیں ۔اس  کی زبان  سادہ اور آسان ہے ۔انداز ِ بیان صاف،رواں اور عام فہم ہے ۔ اس  میں فنی اصطلاحات  کم سے  کم  استعمال کی گئی ہیں۔ کتاب کے  مصنف  محترم محمد رفیق چودہری ﷾ علمی ادبی حلقوں میں جانی پہچانی  شخصیت ہیں ۔ ان کو بفضلہٖ تعالیٰ عربی زبان وادب  اور علوم  قرآن سے  گہرا  شغف ہے  او ر طالبانِ علم  کو  مستفیض کرنے کے جذبے سےسرشار ہیں۔ قرآن  مجید  کا  لفظی  وبامحاورہ  ترجمہ  کرنے  کے علاوہ  ان دنوں  قرآن  مجید کی  تفسیر     لکھنے  میں  مصروف ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تدریسی وتعلیمی اور تحقیقی وتصنیفی خدمات کو قبول فر ما ئے(آمین)  (م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • pages-from-aasan-chalees-sabaq-1
    فروغ احمد

    قرآن حکیم ہم مسلمانوں کی مقدس کتاب اور عملی زندگی میں ضابطہ حیات ہے۔ہماری دینی ،دنیوی اور اجتماعی تمام امور کی راہنمائی قرآ ن مجید کے اوراق میں موجود ہے۔یہ ہماری کم ہمتی یا غفلت ہے کہ ہم اس متاع بے  بہا سے محروم ہیں۔اول تو ہم قرآن حکیم کو پڑھتے نہیں،اگر پڑھتے ہیں تو اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔حالانکہ قرآن مجید ہمیں پکار پکار کر دعوت دے رہا ہے کہ ہم اس کو سمجھیں،اس کی آیات میں غور وفکر کریں ا ور اس کے معنی ومفہوم میں تدبر کریں۔اللہ تعالی فرماتے ہیں:"وہ قرآن حکیم میں غور وفکر کیوں نہیں کرتے ،کیا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔"دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: "ہم نے قرآن مجید کو ذکر کے لئے آسان کر دیا ہے ،تو کوئی ہے جو اس میں غور وفکر کرے۔"ہم میں سے کوئی شخص اگر اس کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے قرآن حکیم کو سمجھنے کوشش شروع کرتا ہے تو عربی زبان سے ناآشنائی اس کے راستے میں دیوار بن جاتی ہے۔بد قسمتی سے ہمارے ہاں عربی زبان خصوصا قرآن حکیم کی زبان سیکھنے اور سکھانے کے لئے باقاعدہ جدوجہد نہیں کی گئی اور یہ مشہور کر دیا گیا ہے کہ قرآن مجید بہت مشکل ہے اور عربی زبان دنیا کی مشکل ترین زبان ہے،حالانکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " آسان چالیس سبق" محترم علامہ فروغ احمد صاحب  ناظم اعلی آسان عربی سکیم ،اسلام آباد کی کاوش ہے۔جس میں انہوں نے عربی الفاظ وکلمات ،ان کے مفہوم ومعانی طریقہ ہائے استعمال اور اس کی صرف ونحو کو چالیس آسان ومختصر اسباق میں سمودیا ہے۔ ان اسباق کو مختلف اذہان ،استعداد اور ماحول کے لحاظ سے مختلف صورتوں میں کئی کئی بار شائع کیا جا چکا ہے۔یہ کتاب چار حصوں پر مشتمل ہے،جو قرآن فہمی اور عربی تعلیم کے سلسلے میں انتہائی مفید اور شاندار کتاب ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو مولف کی میزان حسنات میں داخل فرمائے اور ان کے درجات کو بلند  فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-aasan-chalees-sabaq-2
    فروغ احمد

    قرآن حکیم ہم مسلمانوں کی مقدس کتاب اور عملی زندگی میں ضابطہ حیات ہے۔ہماری دینی ،دنیوی اور اجتماعی تمام امور کی راہنمائی قرآ ن مجید کے اوراق میں موجود ہے۔یہ ہماری کم ہمتی یا غفلت ہے کہ ہم اس متاع بے  بہا سے محروم ہیں۔اول تو ہم قرآن حکیم کو پڑھتے نہیں،اگر پڑھتے ہیں تو اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔حالانکہ قرآن مجید ہمیں پکار پکار کر دعوت دے رہا ہے کہ ہم اس کو سمجھیں،اس کی آیات میں غور وفکر کریں ا ور اس کے معنی ومفہوم میں تدبر کریں۔اللہ تعالی فرماتے ہیں:"وہ قرآن حکیم میں غور وفکر کیوں نہیں کرتے ،کیا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔"دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: "ہم نے قرآن مجید کو ذکر کے لئے آسان کر دیا ہے ،تو کوئی ہے جو اس میں غور وفکر کرے۔"ہم میں سے کوئی شخص اگر اس کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے قرآن حکیم کو سمجھنے کوشش شروع کرتا ہے تو عربی زبان سے ناآشنائی اس کے راستے میں دیوار بن جاتی ہے۔بد قسمتی سے ہمارے ہاں عربی زبان خصوصا قرآن حکیم کی زبان سیکھنے اور سکھانے کے لئے باقاعدہ جدوجہد نہیں کی گئی اور یہ مشہور کر دیا گیا ہے کہ قرآن مجید بہت مشکل ہے اور عربی زبان دنیا کی مشکل ترین زبان ہے،حالانکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " آسان چالیس سبق" محترم علامہ فروغ احمد صاحب  ناظم اعلی آسان عربی سکیم ،اسلام آباد کی کاوش ہے۔جس میں انہوں نے عربی الفاظ وکلمات ،ان کے مفہوم ومعانی طریقہ ہائے استعمال اور اس کی صرف ونحو کو چالیس آسان ومختصر اسباق میں سمودیا ہے۔ ان اسباق کو مختلف اذہان ،استعداد اور ماحول کے لحاظ سے مختلف صورتوں میں کئی کئی بار شائع کیا جا چکا ہے۔یہ کتاب چار حصوں پر مشتمل ہے،جو قرآن فہمی اور عربی تعلیم کے سلسلے میں انتہائی مفید اور شاندار کتاب ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو مولف کی میزان حسنات میں داخل فرمائے اور ان کے درجات کو بلند  فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-aasan-chalees-sabaq-3
    فروغ احمد

    قرآن حکیم ہم مسلمانوں کی مقدس کتاب اور عملی زندگی میں ضابطہ حیات ہے۔ہماری دینی ،دنیوی اور اجتماعی تمام امور کی راہنمائی قرآ ن مجید کے اوراق میں موجود ہے۔یہ ہماری کم ہمتی یا غفلت ہے کہ ہم اس متاع بے  بہا سے محروم ہیں۔اول تو ہم قرآن حکیم کو پڑھتے نہیں،اگر پڑھتے ہیں تو اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔حالانکہ قرآن مجید ہمیں پکار پکار کر دعوت دے رہا ہے کہ ہم اس کو سمجھیں،اس کی آیات میں غور وفکر کریں ا ور اس کے معنی ومفہوم میں تدبر کریں۔اللہ تعالی فرماتے ہیں:"وہ قرآن حکیم میں غور وفکر کیوں نہیں کرتے ،کیا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔"دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: "ہم نے قرآن مجید کو ذکر کے لئے آسان کر دیا ہے ،تو کوئی ہے جو اس میں غور وفکر کرے۔"ہم میں سے کوئی شخص اگر اس کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے قرآن حکیم کو سمجھنے کوشش شروع کرتا ہے تو عربی زبان سے ناآشنائی اس کے راستے میں دیوار بن جاتی ہے۔بد قسمتی سے ہمارے ہاں عربی زبان خصوصا قرآن حکیم کی زبان سیکھنے اور سکھانے کے لئے باقاعدہ جدوجہد نہیں کی گئی اور یہ مشہور کر دیا گیا ہے کہ قرآن مجید بہت مشکل ہے اور عربی زبان دنیا کی مشکل ترین زبان ہے،حالانکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " آسان چالیس سبق" محترم علامہ فروغ احمد صاحب  ناظم اعلی آسان عربی سکیم ،اسلام آباد کی کاوش ہے۔جس میں انہوں نے عربی الفاظ وکلمات ،ان کے مفہوم ومعانی طریقہ ہائے استعمال اور اس کی صرف ونحو کو چالیس آسان ومختصر اسباق میں سمودیا ہے۔ ان اسباق کو مختلف اذہان ،استعداد اور ماحول کے لحاظ سے مختلف صورتوں میں کئی کئی بار شائع کیا جا چکا ہے۔یہ کتاب چار حصوں پر مشتمل ہے،جو قرآن فہمی اور عربی تعلیم کے سلسلے میں انتہائی مفید اور شاندار کتاب ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو مولف کی میزان حسنات میں داخل فرمائے اور ان کے درجات کو بلند  فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-aasan-chalees-sabaq-4
    فروغ احمد

    قرآن حکیم ہم مسلمانوں کی مقدس کتاب اور عملی زندگی میں ضابطہ حیات ہے۔ہماری دینی ،دنیوی اور اجتماعی تمام امور کی راہنمائی قرآ ن مجید کے اوراق میں موجود ہے۔یہ ہماری کم ہمتی یا غفلت ہے کہ ہم اس متاع بے  بہا سے محروم ہیں۔اول تو ہم قرآن حکیم کو پڑھتے نہیں،اگر پڑھتے ہیں تو اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔حالانکہ قرآن مجید ہمیں پکار پکار کر دعوت دے رہا ہے کہ ہم اس کو سمجھیں،اس کی آیات میں غور وفکر کریں ا ور اس کے معنی ومفہوم میں تدبر کریں۔اللہ تعالی فرماتے ہیں:"وہ قرآن حکیم میں غور وفکر کیوں نہیں کرتے ،کیا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔"دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: "ہم نے قرآن مجید کو ذکر کے لئے آسان کر دیا ہے ،تو کوئی ہے جو اس میں غور وفکر کرے۔"ہم میں سے کوئی شخص اگر اس کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے قرآن حکیم کو سمجھنے کوشش شروع کرتا ہے تو عربی زبان سے ناآشنائی اس کے راستے میں دیوار بن جاتی ہے۔بد قسمتی سے ہمارے ہاں عربی زبان خصوصا قرآن حکیم کی زبان سیکھنے اور سکھانے کے لئے باقاعدہ جدوجہد نہیں کی گئی اور یہ مشہور کر دیا گیا ہے کہ قرآن مجید بہت مشکل ہے اور عربی زبان دنیا کی مشکل ترین زبان ہے،حالانکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " آسان چالیس سبق" محترم علامہ فروغ احمد صاحب  ناظم اعلی آسان عربی سکیم ،اسلام آباد کی کاوش ہے۔جس میں انہوں نے عربی الفاظ وکلمات ،ان کے مفہوم ومعانی طریقہ ہائے استعمال اور اس کی صرف ونحو کو چالیس آسان ومختصر اسباق میں سمودیا ہے۔ ان اسباق کو مختلف اذہان ،استعداد اور ماحول کے لحاظ سے مختلف صورتوں میں کئی کئی بار شائع کیا جا چکا ہے۔یہ کتاب چار حصوں پر مشتمل ہے،جو قرآن فہمی اور عربی تعلیم کے سلسلے میں انتہائی مفید اور شاندار کتاب ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو مولف کی میزان حسنات میں داخل فرمائے اور ان کے درجات کو بلند  فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-ayaat-e-mutaarza-aur-un-ka-hal
    محمد انور گنگوھی

    قرآن کریم  ہی وہ واحد کتاب ہے جو تاقیامت انسانیت کے لیے ذریعہ رشد وہدایت ہے۔ اسی پر عمل پیرا  ہو کر دنیا  میں سربلند ی او ر آخرت میں نجات کا حصول ممکن ہے  لہذا ضروری ہے اس کے معانی ومفاہیم کوسمجھا جائے، اس کی تفہیم  کے لیے درس وتدریس  کا اہتمام کیا  جائے  او راس کی تعلیم  کے مراکز  قائم کئے جائیں۔قرآن مجید کی تفسیر ہر مفسر نے اپنے اپنے مقام وفہم کے لحاظ سے لکھی ہے۔کسی نے اپنی توجہ کا مرکز احکام قرآنی اور مسائل فقہیہ کو بنایا، کسی مفسر کا محور عام وخاص ،مجمل ومفصل اور محکم ومتشابہ رہا ،کسی نے نحو وصرف پر زور دیا اور مفردات کے اشتقاق اور جملوں کی ترکیب پر محنت کی تو کسی نے علم کلام کی بحوث کو پیش کیا۔ زیر تبصرہ کتاب"آیات متعارضہ اور ان کا حل" محترم مولانا محمد انور صاحب گنگوہی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے منفرد انداز اختیار کرتے ہوئے آیات قرآنیہ کے درمیان نظر آنے والے ظاہری تعارض کا بہترین اور مدلل حل پیش کیا ہے۔یہ اپنے موضوع ایک منفرد اور انوکھی کتاب ہے،جس کا اہل علم کو ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • pages-from-ajmal-ul-hawaashi-alaa-asool-ul-shaashi
    جمیل احمد سکروڈوی

    جب کوئی معاشرہ مذہب کو اپنے قانون کا ماخذ بنا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں علم فقہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ علم فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی؟ قرآن اور سنت کا باہمی تعلق کیا ہے؟ قرآن مجید، سنت اور حدیث میں سے کس ماخذ کو دین کا بنیادی اور کس ماخذ کو ثانوی ماخذ قرار دیا جائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی احادیث کو کیسے سمجھا جائے گا اور ان سے سنت کو کیسے اخذ کیا جائے گا؟ اگر قرآن مجید کی کسی آیت اور کسی حدیث میں بظاہر کوئی اختلاف نظر آئے یا دو احادیث میں ایک دوسرے سے بظاہر اختلاف نظر آئے تو اس اختلاف کو دور کرنے کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا؟ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔اور تمام قدیم مسالک (احناف،شوافع،حنابلہ اور مالکیہ)نے قرآن وسنت سے احکام شرعیہ مستنبط کرنے کے لئے اپنے اپنے اصول وضع کئے ہیں۔بعض اصول تو تمام مکاتب فکر میں متفق علیہ ہیں جبکہ بعض میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔اصول شاشى احناف كى اصول فقہ پر لکھی گئی مشہور كتابوں ميں سے ایک ہے اور اس كے مؤلف ابو على الشاشى احمد بن محمد بن اسحاق نظام الدين الفقيہ حنفى متوفى ( 344ھ )ہيں۔يہ امام ابو الحسن كرخى كے شاگرد ہيں، ان كى تعريف كرتے ہوئے كہتے ہيں: ابو على سے زيادہ حافظ ہمارے پاس كوئى نہيں آيا، شاشى بغداد ميں رہے اور وہيں تعليم حاصل كى۔چونکہ علماء احناف کے ہاں یہ کتاب اصول فقہ کے میدان میں ایک مصدر کی حیثیت رکھتی ہے ،چنانچہ انہوں نے اس کی متعدد شروحات بھی لکھی ہیں۔ جن میں سے "شرح مولى محمد بن الحسن الخوارزمى متوفى ( 781 ھ)،حصول الحواشى على اصول الشاشى از حسن ابو الحسن بن محمد السنبھلى الہندى ،عمدۃ الحواشى از مولى محمد فيض الحسن گنگوہى،تسھيل اصول الشاشى از شيخ محمد انور بدخشانى قابل ذکر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " اجمل الحواشی علی اصول الشاشی "بھی اصول شاشی کی ایک عظیم الشان اردو شرح ہے،جو دار العلوم دیو بند کے استاذ مولانا جمیل احمد سکروڈوی صاحب کی تصنیف ہے۔اور سچی بات یہ ہے کہ اصول شاشی کی تفہیم میں یہ ایک منفرد اور مفید ترین شرح ہے،راقم جامعہ لاہور الاسلامیہ میں اصول شاشی کے مادہ کی تدریس کے دوران اس کتاب سے بھی استفادہ کرتا رہا ہے۔اصول فقہ کے طلباء اور اساتذہ کو اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔(راسخ)(اصول فقہ)

  • pages-from-islam-ka-qanoon-e-waqaf-ma-tareekh-e-muslim-auqaaf
    ڈاکٹر محمود الحسن عارف

    وقف اسلامی قانون کا ایک اہم جز اور مسلمانوں کی ملی زندگی کا ایک روشن رخ ہے۔مسلمانوں نے ہر دور میں اس کارِخیراورفلاحی پروگرام کورواج دیا ہے۔ وقف کی تعریف یہ ہے کہ ملکیت باقی رکھتے ہوئے جائداد کا نفع سب کے لیے یا کسی خاص طبقے کیلئے خاص کردیاجائے۔نہ اس کو بیچا جاسکتاہے اور نہ منتقل کیاجاسکتا ہے۔اسلام میں سب سے پہلا وقف پیغمبرحضرت محمدﷺنے کیا ۔آپ ﷺنے سات باغوں کووقف کیا جو اسلام میں پہلاوقف خیری تھا۔ دوسرا وقف اسلام میں خلیفہ دوم سید نا عمر فاروق﷜ نے کیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ کے زمانہ ہی میں صحابہ کرام ﷢نے کئی وقف کیے۔جب پیغمبراسلام کے سامنے کوئی شوسل مسئلہ آتاتوآپﷺ صحابہ کرام کو ترغیب دیتے،صحابہ کرام فوراََ وہ چیز دے دیتے ۔اسلام کے مالیاتی نظام میں وقف کو ایک بنیادی حیثیت حاصل ہے۔اسلامی تاریخ کے ہردور میں غریبوں اورمسکینوں کی ضروریات کو پوراکرنے ،انہیں معاشی طورپر خود کفیل بنانے ،مسلمانوں کو علوم و فنون سے آراستہ کرنے ،مریضوں پریشان حالوں کی حاجت روائی کرنے اور اصحاب علم و فضل کی معاشی کفالت میں اسلامی وقف کا بہت اہم رول رہا ہے۔ کتب ِ فقہ میں اسکے تفصیلی احکامات موجود ہیں ۔ فقہ کی اکثر کتب چونکہ عربی زبان میں ہیں ۔اردو دان طبقہ جس سے مستفید نہیں ہوسکتا تھا ۔ جناب ڈاکٹر محمود الحسن عارف صاحب نے   فقہ کی امہات الکتب سے استفادہ کر کے اردو دان حضرات کے لیے زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام کا قانون وقف مع تاریخ مسلم اوقاف ‘‘ تیار کی ۔اس کتاب میں انہوں نے اسلام کے قانون وقف کاتعارف کروانے کی کوشش کی ہے ۔اس میں ’’وقف‘‘کے لغوی واصطلاحی پس منظر کے ساتھ اس کے قوانین پر بھی تفصیلاً بحث کرنے کے علاوہ عہد نبوی سے قیام پاکستان تک مسلم اوقاف کے مختلف ادوار کی تاریخ بھی پیش کردی ہے ۔اردو زبان میں اپنے موضوع پر یہ ایک تحقیقی نوعیت کی ایک اہم کتاب ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • titlepag-2
    قاری محمد یحییٰ رسولنگری
    قرآن کریم کے حروف کو درست تلفظ کے ساتھ ادا کرنا لازم و ملزوم ہے۔ بصورت دیگر قرآن کریم کے معانی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ فی زمانہ جہاں بہت سے لوگ قرآن کریم کو صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنے کا ذوق شوق رکھتے ہیں وہیں معتد بہ طبقہ ایسا بھی ہے جو اس حوالے سے سستی کا شکار ہے۔ شیخ القراء قاری یحییٰ رسولنگری حفظہ اللہ نے اسی ضرورت کے پیش نظر عام فہم انداز میں یہ کتاب تصنیف فرمائی۔ قاری صاحب نے روایت حفص سے متعلقہ جن قواعد کو نقل کیا ہے ان کا یاد کرنا نہایت آسان ہے ان قواعد کو مشق میں لا کر عوام الناس ایسی غلطیوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں جن سے فساد معنی لازم آتا ہے۔ قاری صاحب کے بقول اگر اس کتاب کو اچھی طرح سمجھ کر پڑھ لیا جائے تو حفص کے قواعد پر مکمل عبور حاصل ہو جائے گا۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • titlepagesatlasulquran1
    ڈاکٹر شوقی ابوخلیل
    قرآن کریم اللہ عزوجل کا کلام اور آخری الہامی کتاب ہے ۔امت مسلمہ کی خوش نصیبی ہے کہ یہ آج  اپنے متن کے تمام ترتقاضوں کے ساتھ محفوظ حالت میں موجود ہے۔قرآن شریف اصلاً ایک کتاب ہدایت ہے جس کا مقصد راہ گم کردہ انسانیت کو خدا کی طرف بلانا اور اس کی مہت کے راستے پر گامزن کرنا ہے۔قرآن میں متعدد امتوں اور قوموں کے حالات بیان ہوئے اور کئی مقامات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔قرآن پڑھتے ہوئے اگر ان اشخاص ،اقوام اور مقامات سے آگاہی ہو تو اس کے معانی ومفاہیم کو سمجھنے میں نہ صرف سہولت رہتی ہے بلکہ اس میں اثر پذیری کی خصوصیت دو چند ہو جاتی ہے ۔زیر نظر کتاب پہلی قرآنی اطلس ہے جسے جدید فی تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے ۔فاضل مصنف ڈاکٹر شوقی ابو خلیل نے اس مقصد کے لیے قرآن مجید کی آیات کا بالاستعاب مطالعہ کیااور ان آیات کو جمع کیا،جن میں اماکن ،اقوام،اعلام یا دوسری جغرافیائی معلومات کے بارے میں تذکرہ ملتا ہے۔پھر ہر موضو ع پر متعلقہ آیات کا انتخاب معلومات کے جد اول اور بعد ازاں ان کے فن جغرافیہ کی روشنی میں واضح رنگ دار نقشے ترتیب دیے۔جن سے قرآن شریف کے اس متعلقہ متن میں موجود مقامات،شخصیات اور اعلام  کی بخوبی وضاحت ہو جاتی ہے ۔اس اطلس  میں نقشوں کی تعداد75،جد اول کی تعداد31اور تصاویر کی تعداد 21ہے۔(ط۔ا)

  • title-pages-airab-al-quran-w-tafseer-copy
    حافظ محمد شریف

    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام او راس کی آخری کتاب ہدایت ہے ۔اس عظیم الشان کتاب نے تاریخ انسانی کا رخ موڑ دیا ہے ۔ یہ واحد آسمانی کتاب ہے جو قریبا ڈیڑھ ہزار سال سے اب تک اپنی اصل زبان میں محفوظ ہے ۔ اس پر ایمان لانامسلمان ہونے کی ایک ضروری شرط اوراس کا انکار کفر کے مترادف ہے اس کی تلاوت باعث برکت وثواب ہے ،اس کا فہم رشد وہدایت اوراس کے مطابق عمل فلاح وکامرانی کی ضمانت ہے ۔کتاب اللہ کی اسی اہمیت کے پیش نظر ضروری ہے ہر مسلمان اسے زیادہ سے زیادہ سمجھنے کی کوشش کرے ۔ اگر چہ آج الحمد للہ اردو میں قرآن مجید کے بہت سے تراجم وتفاسیر ہیں،تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ قرآن کو قرآن کی زبان میں سمجھنے کا جو مقام ومرتبہ ہےوہ محض ترجموں سے حاصل نہیں ہوسکتا ہے ۔عربی زبان اور قرآن مجید کی تعلیم وتفہیم کےلیے مختلف اہل علم نے تعلیم وتدریس اور تصنیف وتالیف کے ذریعے کوششیں کی ہیں ۔جن سے متفید ہوکر قرآن مجیدمیں موجود احکام الٰہی کو سمجھا جاسکتا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اعراب القرآن وتفسیر (تیسواں پارہ سوالاً وجواباً)‘‘ محترم عثمان علی ، حافظ ابو بکر عثمان ، حافظ احسان اللہ نے شیخ الحدیث حافظ محمد شریف ﷾ اور جامعہ سلفیہ ،فیصل آباد کے مایہ ناز مدرس مولانانجیب اللہ طارق ﷾ کی زیرنگرانی اہم تفاسیر کوسامنے رکھ کر سوالاً وجواباً یہ کتاب مرتب کی ہےجس میں جدید شکوک وشبہات کا ازالہ ،قرآن کریم کی صرفی ونحوی ابحاث، لغوی واصطلاحی مطالب کے علاوہ اہم تفسیری نکات کوبھی بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔استاد العلماء حافظ عبد العزیز علوی ﷾(شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ ،فیصل آباد) کی نظر ثانی سے اس کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ یہ کتاب طالبان ِعلوم نبوت کے لیے ایک گراں قدر علمی تحفہ ہے۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کی تیاری میں شامل ہونے والے تمام اہل علم کی اس کاوش کو قبول فرمائے اورانہیں اس نہج پر قرآن مجید کےباقی پاروں پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-aqsaam-ul-quran
    امین احسن اصلاحی

    اقوامِ عالم کے ہاں قسم اصل میں تاکید کے اسلوبوں میں سے ایک اسلوب ہے اسلام سے قبل عربوں کےمعاشرے میں قسم کو بہت اہمیت حاصل تھی عہدِ اسلامی میں بعض نامناسب یعنی شرکیہ قسمیں ممنوع ہوگئیں البتہ بعض جو شرک اور دوسرے شوائب سے پاک تھیں جاری رہیں اور شرع میں قابل لحاظ ہوئیں قرآن مجید میں اللہ تعالی نے دلیل وحجت کے کمال اوراس کی پختگی کے لیے قسم کا ذکر فرمایا ہے کسی مسئلے میں مخاطب کے اطمینان کے دو طریقے ہیں ایک تو شہادت دوسرا قسم۔ قرآن مجید میں یہ دونوں طریقے استعمال ہوئے ہیں۔ اس موضوع پر عربی   زبان میں التبیان فی اقسام القرن ،امعان فی اقسام القرآن، آیات القسم من القرآن االکریم قابل ذکر کتابیں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ اقسام القرآن ‘‘علامہ حمید الدین فراہی کی بلند پایہ علمی کتاب ’’الامعان فی اقسام القرآن ‘‘ کا اردوترجمہ ہےجو کہ ان کی تفسیر’’ نظام القرآن وتاویل الفرقان بالفرقان‘‘ کے مقدمہ کا ایک جز وہے۔ یہ کتاب ان قسموں کےبیان میں ہےجوقرآن مجید میں وارد ہیں۔ اس میں قرآن مجید کی تمام اصول مباحث کی تفصیل پیش کردی گئی ہے۔ کتاب ہذا کا اردو ترجمہ صاحب تفسیرتدبرقرآن مولانا امین احسن اصلاحی نے کیا ہے۔

  • pages-from-al-itqaan-fi-aloomil-quran-jilad-1
    جلال الدین سیوطی

    جلال الدین سیوطی﷫ (849۔911ھ)  کا اصل نام عبدالرحمان، کنیت ابو الفضل، لقب جلال الدین ہے  ۔ علامہ سیوطی مصر کےقدیم قصبے سیوط میں پیدا  ہوئے، اسی نسبت سے آپ کو سیوطی کہا جاتا ہے ۔8سال کی عمر میں شیخ کمال الدین ابن الہمام حنفی کی خدمت میں رہ کر قرآن حفظ کیا۔اس کے بعد شیخ شمس سیرامی اور شمس فرومانی حنفی کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا اور ان دونوں حضرات سے بہت سے کتب پڑحیں۔علامہ سیوطی ممتاز مفسر،محدث،فقیہ اور مورخ تھے۔آپ کثیر التصانیف تھے، آپ کی کتب کی تعداد 500 سےزائد ہے۔تفسیر جلالین اور تفسیر درمنثور کے علاوہ قرآنیات پر الاتقان فی علوم القرآن علماء میں کافی مقبول ہے اس کے علاوہ تاریخ اسلام پر تاریخ الخلفاء مشہور ہے۔قرون وسطیٰ کے مسلمان علماء میں علامہ جلال الدین سیوطی اپنی علمی خدمات کی وجہ سے بہت  مشہور و مقبول ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’الاتقان فی علوم القرآن‘‘علامہ جلالالدین سیوطی کی علوم قرآن کے حوالے سے عظیم کتاب ہے ۔اس کتاب کو علوم قرآن پر مشتمل ایک دستاویز کا نام دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اس میں امام صاحب نے علوم قرآن کی اسی(۸۰)اَقسام کا تفصیلی تذکرہ قلمبند کیاہے جن میں سے ۲۰؍ اَقسام علم قراء ات کا اِحاطہ کیے ہوئے ہیں۔علامہ موصوف نے یہ کتاب التحبیر کے بعد لکھی اور اس میں  التحبیر کے جملہ مضامین کے علاوہ  علامہ زرکشی کی ’’البرہان فی علوم القرآن‘‘ اور علامہ بلقینی کی’’  مواقع العلوم ‘‘کے منتخب مضامین کوبھی حسن ترتیب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اور یہ  کتاب فہم قرآن کےلیے۔ اہم اور بنیادی کتاب ہے۔ ’’الاتقان ‘‘کا  زیر تبصرہ  اردو ترجمہ دو جلدوں  پر مشتمل ہے۔ ۔(م۔ا)

  • pages-from-al-itqaan-fi-aloomil-quran-jilad-2
    جلال الدین سیوطی

    جلال الدین سیوطی﷫ (849۔911ھ)  کا اصل نام عبدالرحمان، کنیت ابو الفضل، لقب جلال الدین ہے  ۔ علامہ سیوطی مصر کےقدیم قصبے سیوط میں پیدا  ہوئے، اسی نسبت سے آپ کو سیوطی کہا جاتا ہے ۔8سال کی عمر میں شیخ کمال الدین ابن الہمام حنفی کی خدمت میں رہ کر قرآن حفظ کیا۔اس کے بعد شیخ شمس سیرامی اور شمس فرومانی حنفی کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا اور ان دونوں حضرات سے بہت سے کتب پڑحیں۔علامہ سیوطی ممتاز مفسر،محدث،فقیہ اور مورخ تھے۔آپ کثیر التصانیف تھے، آپ کی کتب کی تعداد 500 سےزائد ہے۔تفسیر جلالین اور تفسیر درمنثور کے علاوہ قرآنیات پر الاتقان فی علوم القرآن علماء میں کافی مقبول ہے اس کے علاوہ تاریخ اسلام پر تاریخ الخلفاء مشہور ہے۔قرون وسطیٰ کے مسلمان علماء میں علامہ جلال الدین سیوطی اپنی علمی خدمات کی وجہ سے بہت  مشہور و مقبول ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’الاتقان فی علوم القرآن‘‘علامہ جلالالدین سیوطی  کی   علوم قرآن کے حوالے سے عظیم کتاب ہے ۔اس کتاب کو علوم قرآن پر مشتمل ایک دستاویز کا نام دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اس میں امام صاحب نے علوم قرآن کی اسی(۸۰)اَقسام کا تفصیلی تذکرہ قلمبند کیاہے جن میں سے ۲۰؍ اَقسام علم قراء ات کا اِحاطہ کیے ہوئے ہیں۔علامہ موصوف نے یہ کتاب التحبیر کے بعد لکھی اور اس میں  التحبیر کے جملہ مضامین کے علاوہ  علامہ زرکشی کی ’’البرہان فی علوم القرآن‘‘ اور علامہ بلقینی کی’’  مواقع العلوم ‘‘کے منتخب مضامین کوبھی حسن ترتیب کے ساتھ  پیش کیا  گیا ہے۔اور یہ  کتاب فہم قرآن کےلیے  اہم اور بنیادی کتاب ہے۔  ’’الاتقان ‘‘کا  زیر تبصرہ  اردو ترجمہ دو جلدوں  پر مشتمل ہے۔ ۔(م۔ا)

  • pages-from-al-khat-ul-usmani-fi-rasm-ul-qurani
    رحیم بخش

    کلمات قرآنیہ کی کتابت کا ایک بڑا حصہ تلفظ کے موافق یعنی قیاسی ہے،لیکن چند کلمات تلفظ کے خلاف لکھے جاتے ہیں اور رسم کے خلاف اس معروف کتاب کو رسم عثمانی یا رسم الخط کہا جاتا ہے۔تمام اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید کو رسم عثمانی کے مطابق لکھنا واجب اور ضروری ہے ،اور اس کے خلاف لکھنا ناجائز اور حرام ہے۔لہذا کسی دوسرے رسم الخط جیسے ہندی، گجراتی، مراٹھی، ملیالم، تمل، پنجابی، بنگالی، تلگو، سندھی، فرانسیسی، انگریزی ،حتی کہ معروف وقیاسی عربی رسم میں بھی لکھنا جائز نہیں ہے،کیونکہ یہ درحقیقت کتاب اللہ کے عموم و اطلاق، نبوی فرمودات، اور اجماع صحابہ و اجماعِ امت سے انحراف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "الخط العثمانی فی الرسم القرآنی "مدرسہ عربی،خیر المدارس ملتان کے استاذ شیخ القراء واستاذ الاساتذہ محترم قاری رحیم بخش بن فتح محمد صاحب پانی پتی﷫ کی ایک منفرد اور شاندار تالیف ہے۔جس میں مولف نے خط، رسم الخط، خط کی تاریخ ،خط کی اقسام جمع قرآن وتشکیل قراءات کی مختصر تاریخ ،مصاحف عثمانیہ کی تاریخ ،قرآن مجید کے اعراب ،خموس واعشار اجزاء ومنازل جیسی مباحث پر گفتگو کی ہے۔ مولف موصوف﷫ علم قراءات کے میدان میں بڑا بلند اور عظیم مقام ومرتبہ رکھتے ہیں۔آپ نے علم قراءات پر متعددعلمی وتحقیقی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ اللہ تعالی قراء ات قرآنیہ کے حوالے سے سر انجام دی گئی ان کی ان خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-alfaze-mutaradifa-k-darmiyan-farak
    محمد نور حسین قاسمی
    علوم اسلامیہ اور عربیہ میں علمِ لغت ایک ایسا جامع علم ہے جس سے جملہ علوم کا سلسلہ جڑتا ہے۔ علمِ لغت کو ام العلوم سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ علم نحو، صرف، اشتقاق، معانی، بدیع اور علم بیان وغیرہ کا استخراج اسی علم سے ہوا ہے۔ عربی لغت میں الفاظ کے درمیان باہم مناسبت اور ترادف بھی ہوا کرتا ہے جس کی نشاندہی اکثر لغت کی کتب میں چیدہ چیدہ مقامات پر اہل فن نے کی ہے۔ بعد میں اس پہلو کو مزید روشن بنانے کے لئے مستقل عرق ریزی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چنانچہ ارباب علم و فن نے اس پہلو کو خوف روشن کر کے دکھایا۔ زیر نظر کتاب بھی اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ ’’البروق فی انواع الفروق‘‘ یعنی الفاظ مترادفہ کے درمیان فرق، مولانا نور حسین قاسمی کی تصنیف لطیف ہے۔ اس کتاب میں الف سے لیکر یاء تک، دلچسپ الفاظ مترادفات مثلاً اللہ، الہ، رب، خدا جیسے کلمات کا والد، ولد، ابن جیسے کلمات کا، جنگ، جہاد، غزوہ جیسے کلمات کا اور اسی طرح دین، شریعت، ملت، مذہب جیسے کلمات کا آپس میں فرق آسان کتاب میں جا بجا مقامات پر فروق پر مبنی عربی کتب سے براہِ راست اقتباسات باحوالہ نقل کئے گئے ہیں اور آخر میں مصادر و مراجع پر مبنی کتب کی فہرست دے دی گئی ہے جو مستفیدین کو تفصیلی معلومات کی طریق رہنمائی کرتی ہیں۔ مختصر یہ کہ اردو زبان میں الفاظ مترادفہ کے مابین فروق کے حوالے سے، یہ کتاب قابلِ التفات اور قابلِ ستائش ہے۔ (آ۔ہ۔)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • ilamul-waqf-final-new-1
    قاری محمد ابراہیم میر محمدی

    وقف کا لغوی معنی ٹھہرنا اور رُکنا ہے۔ جبکہ اہل فن قراء کرام کی اصطلاح میں وقف کے معنی ہیں کہ کلمہ کے آخر پر اتنی دیر آواز کو منقطع کرنا جس میں بطور عادت سانس لیا جاسکے، اور قراء ت جاری رکھنے کا ارادہ بھی ہو، عام ہے کہ وقف کرنے کے بعد مابعد سے ابتداء کریں یا ماقبل سے اعادہ۔ (النشر:۱؍۲۴۰) نشر کی رو سے یہی تعریف ممتاز اور زیادہ واضح ہے) معرفت وقف وابتداء کی اہمیت اور اس علم کی ضرورت کا احساس کرنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جس طرح دلائل شرعیہ یعنی قرآن وحدیث اور اجماع اُمت سے قرآن مجید کا تجوید کے ساتھ پڑھنا واجب اور ضروری ہے، اس طرح معرفت الوقف، یعنی قرآنی وقوف کو پہچاننا اور دورانِ تلاوت حسنِ وقف وابتداء کی رعایت رکھنا اور اس کا اہتمام کرنا بھی ضروری ہے اوراس میں کسی کااختلاف نہیں ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ جس طرح تجوید کے ذریعہ حروف قرآن کی تصحیح ہوتی ہے اسی طرح معرفت الوقوف کے ذریعے معانی قرآن کی تفہیم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے: ’’وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلًا‘‘(المزمل:۴)’’اور قرآن مجید کو ترتیل کے ساتھ پڑھو۔ ‘‘سیدنا علی﷜ سے ترتیل کا معنی پوچھا گیا توآپ نے فرمایا: ’’الترتیل ھو تجوید الحروف ومعرفۃ الوقوف‘‘(الإتقان فی علوم القرآ ن:۱؍۸۵)اس تفسیر میں ترتیل کے دو جز بیان کیے گئے ہیں۔ تجوید الحروف اور معرفۃ الوقوف۔ زیر تبصرہ کتاب"المدخل الی علم الوقف والابتداء ومعہ تسہیل الاھتداء فی الوقف والابتداء"استاد محترم قاری محمد ابراہیم میر محمدی صاحب﷾ کے علم الوقف والابتداء پر لکھے دو غیر مطبوع رسائل پر مشتمل ہے۔ جسے محدث لائبریری کے نائب مدیر محترم قاری محمد مصطفی راسخ صاحب نے ترتیب دیتے ہوئے اس میں مفید اضافہ جات کئے ہیں۔ یہ کتاب وفاق المدارس السلفیہ کے نصاب میں شامل ہے، اور کلیۃ القرآن الکریم کے طلباء کو پڑھائی جاتی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مرتب دونوں کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • title-pages-al-yaqoot-w-al-marjan-copy
    مختار احمد سلفی

    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آخری کتابِ ہدایت ہےاور یہ کتاب اس قدر جامع اور مکمل ہے کہ یہ قیامت تک کے لیے آنے والی انسانی نسلوں کی رشد وہدایت کے لیے کافی ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس قرآن کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوں گے اور نہ ہی کبھی علماء اس کے علوم سے سیر ہوں گے چنانچہ قرآن مجید کو آپ جس پہلو سے بھی دیکھیں یہ آپ کو عدیم النظیر ہی نظر آئے گا۔ مختلف ادوار میں مختلف فکری ،علمی اور تحقیقی صلاحیتوں کےحامل لوگوں نے اپنی اپنی کوششیں قرآن کریم کی شرح وتوضیح کے میدان میں صرف کی ہیں۔لیکن قریبا ہر ایک نے اپنی کم مائیگی کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ اس بحر ذخار سے چند موتی ہی نکال سکا ہے۔قرآن مجید کے معجزاتی پہلوؤں میں ایک پہلو یہ ہے کہ ہر دور کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق مختلف اسالیب اور پیرایوں میں اس کی تفاسیر،ترجمہ ،معانی ،تفہیم، وتسہیل کا اور تدریس وتعلیم کے لیے علوم آلیہ وغیرہ کی مدد سے اس پر نصاب سازی کا کام ہوتا رہاہے۔ اور یہ مبارک سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ خوش بخت اور عالی قدر ہیں وہ نفوس جنہیں اس خدمتِ عالیہ میں حظ اٹھانے کا موقع ملا۔ عصر حاضر میں قرآن مقدس کو عام فہم انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے خانوں میں ترجمے ،رنگوں اورعلامات کے ذریعے ترجمہ پیش کرنے نیز اس کےفہم میں مزید دل چسپی پیدا کرنے کےلیے عربی زبان اور اس کےقواعد پر مشتمل نصاب سازی کےاسالیب اپنائے جارہے ہیں ۔اس سلسلے میں کئی اہل علم نے تعلیم وتدریس اور تصنیف کےذریعے کو ششیں اور کاوشیں کیں۔فہم قرآن کے سلسلے میں الہدیٰ انٹرنیشنل،ڈاکٹر اسرار، قرآن انسٹی ٹیوٹ،اسلامک انسٹی ٹیوٹ،لاہور ،دارالفلاح ،لاہور وغیرہ اور بالخصوص مولانا عطاء الرحمن ثاقب شہید (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’الیاقوت والمرجان فی حل صیغ القرآن‘‘عربی زبان خصوصا صرف ونحومیں مہارت تامہ او ردلچسپی رکھنے والے کہنہ مشق استاد مولانا مختار احمد سلفی ﷾کی تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں نے قرآنی الفاظ وصیغ کو بڑے سہل انداز اور جدید ترین اسلوب کے ساتھ پیش کیا ہے۔جس میں لفظ کی ظاہری شکل وصورت کو دیکھ کر بغیر اصلیت ومادہ کے درپے ہوئے صیغہ تلاش کیا جاسکتا ہے۔فاضل مصنف نے مکمل قرآن مجید کے صیغوں کوانتہائی آسان او رعام فہم انداز میں ، جدید اسلوب کےمطابق حل کر نے کی کوشش کی ہےاو راس کتاب میں معانی قرآن ، صرفی بحثیں، نحوی قواعد اور تفسیری نکات کو یکجاکرکے طلباء کے لیے آسانی کردی ہے ۔ اردو زبان میں اس انداز کی کوئی کتاب اس سے قبل تیار نہیں کی گئی ۔طلباء، مدرسین کواس کتاب سے ضرور استفادہ کرنا چاہیے تاکہ کتاب وسنت کی صحیح ترجمانی کرسکیں۔فاضل مصنف اس کتاب کے علاوہ مختار النحو، تبیان الصرف، بدایۃ النحو، تبصیر شرح ابن عقیل کے بھی مصنف ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل میں اضافہ فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-amsaal-ul-quran
    قاری محمد دلاور سلفی

    اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے اپنے برگزیدہ رسولوں اور پیغمبروں کو مبعوث فرمایا جو گمراہی اور جہالت میں ڈوبی ہوئی بنی نوع کو صراط مستقیم سے ہمکنار کرتے۔ سید الانبیاء ختمی المرتبت حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اللہ رب العزت نے آپ ﷺ کو قرآن جیسا عظیم معجزہ اور جوامع الکلم سے نوازہ۔ قرآن مجید امت مسلمہ کے پاس اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ایک عظیم تحفہ ہے۔ اس سچی اور لاریب کتاب میں گزشتہ اقوام کے واقعات اور مستقبل کی پشین گوئیاں بھی بیان کی گئی ہیں۔ یہ کتاب مقدس حق اور باطل کے درمیاں فیصلہ کرنے والی ہے۔ قرآن کریم سراپا نصیحت، حکمت و دانائی کی باتوں سے اور لبریز سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرنے والی کتاب ہے۔ نزول قرآن سے لے کر لمحہ موجودہ تک مختلف زاویوں سے اس کی توضیحات و تفسیرات سامنے آرہی ہیں لیکن اس کے مصارف ہیں کہ ختم نہیں ہوتے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے توحید، رسالت، آخرت اور دیگر مضامین کو سمجھانے کے لیے مثالیں بیان کی ہیں تا کہ ان مثالوں کی روشنی میں بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیا جائے۔ مثال کی صورت میں کی گئی بات دلچسپی کا باعث ہوتی ہے اور مخاطب کو جلد سمجھ آ جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"امثال القراٰن" قاری محمد دلاور سلفی حفظہ اللہ کی منفرد اور سود مند تصنیف ہے۔ کتاب کی تفہیم و تخریج فضیلۃ الشیخ محمد عظیم حاصلپوری حفظہ اللہ نے کی ہے جن کی شخصیات کاعلمی و ادبی حوالوں میں ایک معتبر نام ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہمت و استقامت عطا فرمائے۔ آمین (عمیر)

  • title-pages-anderon-se-roshni-ki-taraf-safar-copy
    محمود خالد مسلم

    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آخری کتابِ ہدایت ہےاور یہ کتاب اس قدر جامع اور مکمل ہے کہ یہ قیامت تک کے لیے  آنے والی انسانی نسلوں کی رشد وہدایت کے لیے کافی ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس قرآن کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوں گے  اور نہ ہی  کبھی علماء اس کے علوم سے  سیر ہوں گے  چنانچہ قرآن مجید کو آپ جس پہلو سے بھی دیکھیں یہ آپ کو عدیم النظیر ہی نظر آئے گا۔ مختلف ادوار میں مختلف فکری  ،علمی اور تحقیقی صلاحیتوں کےحامل لوگوں نے اپنی اپنی کوششیں قرآن کریم  کی شرح وتوضیح کے میدان میں صرف کی ہیں۔لیکن قریبا ہر ایک نے اپنی کم مائیگی کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ اس بحر ذخار سے چند موتی ہی نکال سکا ہے۔قرآن مجید کے  معجزاتی پہلوؤں میں ایک پہلو یہ ہے کہ ہر دور  کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق مختلف اسالیب اور پیرایوں میں اس کی تفاسیر،ترجمہ ،معانی ،تفہیم، وتسہیل کا اور تدریس وتعلیم کے لیے علوم آلیہ وغیرہ کی مدد سے اس پر نصاب سازی کا کام ہوتا رہاہے۔ اور یہ مبارک سلسلہ ہنوز جاری  ہے ۔  خوش بخت اور عالی قدر ہیں وہ نفوس جنہیں اس خدمتِ عالیہ میں حظ اٹھانے کا موقع ملا۔ عصر حاضر میں  قرآن مقدس کو  عام فہم انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے  خانوں میں  ترجمے ،رنگوں اورعلامات کے ذریعے  ترجمہ پیش کرنے نیز اس  کےفہم میں مزید دل چسپی پیدا کرنے  کےلیے  عربی زبان اور اس کےقواعد پر مشتمل نصاب سازی کےاسالیب اپنائے جارہے ہیں ۔اس سلسلے  میں کئی اہل علم نے  تعلیم وتدریس اور تصنیف کےذریعے کو ششیں اور کاوشیں کیں۔فہم قرآن کے سلسلے میں  الہدیٰ انٹرنیشنل،ڈاکٹر اسرار، قرآن انسٹی ٹیوٹ،اسلامک انسٹی ٹیوٹ،لاہور ،دارالفلاح ،لاہور، دار العلم ،اسلام آباد    وغیرہ  اور  بالخصوص مولانا عطاء الرحمن ثاقب شہید (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ  ،لاہور کی  خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’اندھیروں سے سے روشنی کی طرف سفر‘‘قرآن فہمی کے سلسلے میں  تحریک المسلمین  کے بانی وسرپست  محمودخالد مسلم کی  تصنیف ہے ۔ اس کتا ب میں شامل تمام مضامین فکر مندی ، جذبے اور اخلاص کےآئینہ دار ہیں اوریہ کتاب  تعمیر ملت کے لیے  سرمایۂ افکار ہے(م۔ا)

  • title-pages-anwar-al-quran-quran-kareem-tafseri-lughat-copy
    مولوی عبد الرحمن

    قرآن مجید  اللہ تعالیٰ کا کلام او راس کی آخری کتابِ ہدایت ہے ۔اس عظیم الشان کتاب نے  تاریخِ انسانی کا رخ  موڑ دیا ہے ۔  یہ کتاب ِعظیم عربی زبان میں  نازل ہوئی اور عربی نہایت جامع وبلیغ زبان ہے۔اس کا وسیع ذخیرۂ الفاظ ہےاور اس میں  نئے  الفاظ بنانے کا باقاعدہ نظام موجود ہے۔اس کےہر اسم اور فعل کا عام طور پر ایک مادہ(Root)ہوتا ہےجس میں اس کےبنیادی معنی پوشیدہ ہوتے ہین ۔اگر کسی لفظ کےبنیادی معنی معلوم ہوں تو اس سے بننے والے تمام اسماء  ، افعال اور مشتقات کا مطلب سمجھنا آسان ہوجاتا ہے ۔قرآن مجیدیہ واحد آسمانی  کتاب ہے جو قریبا ڈیڑھ ہزار سال سے اب تک اپنی اصل زبان  عربی  میں  محفوظ  ہے ۔ اس پر ایمان لانامسلمان ہونے کی ایک ضروری شرط اوراس کا  انکار کفر کے مترادف ہے اس  کی  تلاوت باعث برکت وثواب ہے  ،اس کا فہم رشد وہدایت اوراس کے مطابق عمل  فلاح  وکامرانی کی  ضمانت  ہے ۔کتاب اللہ  کی اسی اہمیت کے پیش نظر ضروری ہے کہ ہر مسلمان اسے زیادہ سے زیادہ  سمجھنے کی کوشش کرے ۔ اگر چہ آج  الحمد للہ  اردو  میں  قرآن مجید کے بہت سے تراجم وتفاسیر موجود  ہیں،تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ قرآن کو قرآن کی زبان میں سمجھنے کا  جو مقام ومرتبہ ہےوہ  محض  ترجموں سے حاصل نہیں ہوسکتا ہے ۔عربی زبان اور قرآن مجید کی تعلیم وتفہیم کےلیے  مختلف اہل علم  نے  تعلیم وتدریس اور تصنیف وتالیف کے ذریعے  کوششیں کی  ہیں ۔اور اہل قلم  ہمیشہ  سے ہی  کلمات  قرآن  کے لغوی  مفہوم  کی تلاش  میں  محوِ سفر رہے ہیں ۔ جن سے متفید ہوکر   قرآن مجیدمیں  موجود احکام الٰہی  کو سمجھا جاسکتا ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’انوار  القرآن‘‘ مولانا عبد الرحمن کی  تصنیف ہے  جو کہ    کلمات ِقرآن   کے لغوی معانی ومفاہیم کے سلسلے میں   ہونے والے  کام کا جامع خلاصہ ہے ۔اس میں ماہرین لغات کی آراء  اور مفسرین ومحدثین کی تحقیق بھی ہے ۔اور اس کتاب کی  ایک بڑی خوبی یہ ہے  کہ عام آدمی سے عالم تک اس سے مستفید ہوسکتے ہیں ۔ اس میں قرآن سمجھانے کا آسان سے آسان انداز اختیار کرتے  ہوئے  تمام ضروری معلومات فراہم کرنے کی سعی کی گئی ہے ۔ یہ کتاب  قرآنی لغت پر ایک عمدہ کتاب ہے اس میں مؤلف نے حل لغات کے علاوہ اہم مقامات پر ائمہ تفاسیر کے اقوال بھی پیش فرمائے ہیں ۔اور مصنف نے  قرآنی الفاظ کے اصلی حروف اوران کےاشتقاق پر بحث کر کے  ان کاصرفی اور نحوی حل پیش کیا ہے ۔نیز لغت اور تفسیر کے علاوہ  عقائد اوراعمال سے متعلق ضروری مسائل بھی آیات قرآنی اوراحادیث نبویہًﷺ کی روشنی میں بیان کردئیے ۔ اللہ تعالیٰ مصنف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے  قرآنی فہمی کے  لیے  نفع بخش  بنائے (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-barre-sagheer-mein-mutaleah
    ادارہ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد

    قرآن مجید اپنے تلاوت کرنے والوں اور ماننے والوں کے سامنے بہت سے مطالبات اورتقاضے پیش کرتا ہے :اولاً یہ کہ اس قرآن مجید کووحی حق پرمشتمل اور منزل من اللہ تسلیم کیا جائے ، اس کے احکام پر شرح صدر کے ساتھ ایمان لایا جائے ،اس کےاحکام پر شرح صدر کے ساتھ ایمان لایا جائے ، اس کے متن میں صفات المؤمنین کوبیان کیا گیا ہے ان پر صدق دل سےعمل کیا جائے اورانہی کی روشنی میں سیرت سازی کی جائے اس لیے   اس کے ادب واحترام کے بہت سے لوازم بیان کیے گئے آج انسانیت کے پاس یہ واحدصحیفۂ آسمانی ہے جس سے منشائے الٰہی معلوم کیا جاسکتاہے۔ادارہ تحقیقات اسلامی ،اسلام آباد کے تعاون سے علوم قرآ ن کےسلسلے میں1997ء میں چارروزہ مذاکرے کا اہتمام کیا گیا ۔جس میں ملک بھر کی جامعات، دینی مدارس اور دیگر علمی حلقوں کے محققین نے کافی تعداد میں شرکت کی اور اپنے علمی مقالات ومحاضرات پیش کیے جو بعد میں سہ ماہی فکرونظر کی خصوصی اشاعت میں شائع ہوئے۔ زیر تبصرہ کتاب’’برصغیر میں مطالعہ قرآن‘‘ انہی مقالات کا مجموعہ ہے ۔جسے   صاحبزادہ ڈاکٹر ساجد الرحمن صاحب مرتب کیا اور ادارہ تحقیقات اسلامی ،اسلام آباد کے زیر اہتمام   11تا13نومبر2014ء کو’’پاکستان میں مطالعۂ قرآن کی صورت حال‘‘ کے عنوان پر منعقد ہونے والی کانفرنس میں ان مقالات کوکتاب شکل میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ اس کتاب میں علو القرآن ،اردو تفاسیر اور مفسرین کا تعارف، تذکرہ اور قرآن کے حوالے سے   کئی اہل علم اور مضمون نگاروں کے علمی مضامین شامل ہیں۔(م۔ا)

  • untitled-1
    ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری
    جب سے دینِ اسلام کا سورج طلوع ہوا ہے اسی وقت سے اس نور ہدایت کو بجھانے کے لیے اسلام دشمن قوتیں اپنی سی کوششیں کر رہی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ دنیا میں ایسی نابغہ روزگار شخصیات کا بھی ظہور ہوتا رہا جنھوں نے حفاظت دینِ حق کی سعادت حاصل کی۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری کا شمار بھی ایسی عبقری شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے دفاع اسلام کا حق ادا کردیا۔ زیر مطالعہ کتاب کا پس منظر یہ ہے کہ سلطان محمد پادری صاحب نے اپنے رسالے میں ’سلطان التفاسیر‘ کے عنوان سے قرآن کریم تفسیر کی لکھنا شروع کی ظاہر سی بات ہے پادری صاحب کا مقصود قرآن کریم کو بائبل سے ماخوذ کتاب ثابت کرنا تھا ایسے میں مولانا ثناء اللہ امرتسری کاقلم کیسے خاموش رہ سکتا تھا انھوں نے اپنے رسالے میں موصوف کے اعتراضات کا شائستہ انداز میں محاکمہ کیا اور دلائل کی قوت سے ان کا رد کیا۔ پادری صاحب زیادہ دیر تک مولانا کے دلائل کا سامنا نہ کر سکے اور پہلے پارے کے چوتھے حصے پر پہنچ کر بواسیرلاحق ہونے کا کہہ کر اس سلسلہ کو جاری رکھنے سے معذرت کر لی۔ تب تک مولانا کے مضامین کی 81 اقساط شائع ہو چکی تھیں۔ اس کتاب میں ان اقساط کو یکجا کر کے پیش کیا گیا ہے۔(عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • image-title-copy
    غلام احمد حریری
    عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کرعہد حاضر تک قرآن کریم کی ہزاروں تفاسیر لکھی جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن کریم کےمتعدد پہلوؤں پر علمی و تحقیقی کام موجود ہے۔ مثلاً اسباب نزول، مسائل فقہیہ اور امثال قرآنی جیسی ابحاث پر مستقل تصانیف لکھی گئیں۔ مسلمانوں نے قرآن کریم کے اسرار و نکات معلوم کرنے کے لیے بہت سی مساعی انجام دی ہیں لیکن قرآن کریم کی وسعت و جامعیت کے سامنے مساعی کرنے والے کا عجز و تقصیر کااعتراف کیے بغیر چارہ نہیں رہتا۔ اب تک اردو زبان میں ایسی کوئی جامع کتاب موجود نہیں تھی جس سے علم تفسیر کی مفصل تاریخ اورمفسرین کرام کی جہود و مساعی کا تفصیلی علم ہو سکے۔ پروفیسر غلام احمد حریری نے زیر نظر کتاب کی صورت میں بہت حد تک اس کمی کو پورا کر دیا ہے۔ اس کتاب کا اہم ماخذ و مصدر علامہ محمد حسین الذہبی کی کتاب ’التفسیر والمفسرون‘ ہے۔ کتاب کی اساس اکثر و بیشتر اسی کتاب پر رکھی گئی ہے۔ اس کے غیر ضروری مواد کو حذف کر کے دیگر کتب سے مفید معلومات کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اپنے موضوع اور مواد کے اعتبار سے یہ کتاب اردو زبان میں ایک جامع اور ہمہ گیر تالیف کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ (ع۔ م)
  • title-pages-tahbeer-al-tajweed-2
    قاری محمد ادریس العاصم
    قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایا۔ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایک معجزہ ہے اس کی ایک واضح دلیل یہ ہے کہ عرب لوگ باوجود فصیح و بلیغ ہونے کے قرآن کریم جیسی ایک آیت لانے سے بھی قاصر رہے۔ قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ نے ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے فلہٰذا ضروری ہے کہ قرآن کریم کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح پڑھنے کا حق ہے ۔ اور یہ حق اسی طور پر ادا ہو سکتا ہے جب قرآن کو صحیح تلفظ اور قواعد تجوید کے مطابق پڑھا جائے۔ شیخ القرا قاری ادریس عاصم صاحب کو فن تجوید و قراءات میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس سلسلہ میں آپ کی خدمات اظہر من الشمس ہیں زیر نظر رسالہ بھی اسی فن کے حوالہ سے آپ کا عوام و خواص کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔ جس میں عام فہم انداز میں تجوید کے قواعد اسی غرض سے جمع کیے گئے ہیں کہ حفاظ و طلبا اس کو آسانی سے یاد کر سکیں۔ اور ان قواعد کی روشنی میں قرآن کریم صحیح پڑھنے کی مشق کریں۔ کتاب میں ایک جگہ پر قاری صاحب نے مخارج کا نقشہ بھی پیش کیا ہے۔ علاوہ بریں بعض عیوب تلاوت اور علامات وقوف پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ کتاب کے اخیر میں حافظ صاحب نے اپنی مکمل روایت حفص کی سند بھی لکھی ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-tohfatu-al-qari
    قاری محمد ابراہیم میر محمدی
    قاری ابراہیم میر محمدی علمی دنیا کی جانی مانی شخصیت ہیں خاص طور پر انہوں نے خدمت قرآن اور قراءات کے حوالے سے کارہائے نمایاں سرانجام دئیے ہیں۔ عوام الناس کے قرآن کے تلفظ کی درستی کے لیے اور تجوید سے آگاہی کے لیے آپ نے کافی سارے کتابچے اور کتب لکھیں۔ زیر نظر رسالہ میں بھی موصوف قاری صاحب نے فن تجوید کے مسائل کو اختصار اور احسن انداز سے بیان کیا ہے، اور متشابہ الصوت حروف کی پہلے مفردات میں پھر مرکبات میں اور ساتھ ہی حرکات ثلاثہ کی آسان انداز سے مشق کرائی ہے۔ جس سے تلفظ کی درستی کے ساتھ ساتھ حرکات کو مجہول کی بجائے معروف پڑھنا بھی آ جائے گا۔ قاری صاحب نے کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا حصہ ملتی جلتی آوازوں والے حروف اور دوسرا حصہ تجوید کے چند ضروری احکام پر مشتمل ہے۔ کتابچہ کے اخیر میں واضح الفاظ میں اس فن کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ 66 صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ فن تجوید سے شد بد کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-tarjuma-w-tafseer-teeswan-para
    حافظ صلاح الدین یوسف
    قرآن حکیم سرچشمہ رشدوہدایت اور منبع خیر وبرکت ہے،یوں تو دینی راہنمائی ،دین اسلام کی حقانیت ،توحیدکے بیان اور کفر و شرک کے ابطال کےلیے پورا قرآن ہی مجسم ہدایت ہے،لیکن عقائد کی اصلاح، جنت کی ترغیب ،روز قیامت کی ہولناکیوں اور جہنم سے ترہیب تیسویں پارے میں زیادہ بیان ہوئی ہے ۔نیزاس پارہ میں تزکیہ نفس اور اصلاح نفس پر زیادہ زور دیا گیاہے ۔اختصاروجامعیت کے اعتبار سے بھی یہ پارہ خاص اہمیت کا حامل ہے ،اس اہمیت کے پیش نظر ادارہ دار السلام نے اس پارہ کو الگ جلد میں شائع کیاہے تاکہ عوام الناس میں قرآن پڑھنے کاذوق اجاگر ہو اور وہ قرآنی تعلیمات سے کما حقہ بہرہ مند ہوسکیں۔(ف۔ر)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • pages-from-taleem-ul-waqaf-ma-sharah-tafheem-ul-wasaf
    قاری محمد اسماعیل صادق

    وقف کا لغوی معنی ٹھہرنا اور رُکنا ہے۔ جبکہ اہل فن قراء کرام کی اصطلاح میں وقف کے معنی ہیں کہ"کلمہ کے آخر پر اتنی دیر آواز کو منقطع کرنا جس میں بطور عادت سانس لیا جاسکے، اور قراء ت جاری رکھنے کا ارادہ بھی ہو، عام ہے کہ وقف کرنے کے بعد مابعد سے ابتداء کریں یا ماقبل سےاعادہ" (النشر:۱؍۲۴۰) معرفت وقف وابتداء کی اہمیت اور اس علم کی ضرورت کااحساس کرنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جس طرح دلائل شرعیہ یعنی قرآن وحدیث اور اجماع اُمت سےقرآن مجید کا تجوید کے ساتھ پڑھنا واجب اور ضروری ہے، اسی طرح معرفت الوقف، یعنی قرآنی وقوف کو پہچاننا اور دورانِ تلاوت حسنِ وقف وابتداء کی رعایت رکھنا اور اس کا اہتمام کرنا بھی ضروری ہے اوراس میں کسی کااختلاف نہیں ۔اوروجہ اس کی یہ ہے کہ جس طرح تجوید کے ذریعہ حروف قرآن کی تصحیح ہوتی ہے اسی طرح معرفت الوقوف کے ذریعے معانی قرآن کی تفہیم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے :’’اورقرآن مجید کوترتیل کے ساتھ پڑھو ۔‘‘(المزمل:4) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ترتیل کا معنی پوچھا گیا توآپ نے فرمایا:’’الترتیل ہو تجوید الحروف ومعرفۃ الوقوف‘‘(الإتقان فی علوم القرآ ن:۱؍۸۵) اس تفسیر میں ترتیل کے دوجز بیان کیے گئے ہیں 1۔تجوید الحروف 2۔معرفۃ الوقوف ۔پس تجوید الحروف کی طرح معرفۃ الوقوف بھی ترتیل کا ایک جزء اور اس کا ایک حصہ ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب" تعلیم الوقف (کامل) مع شرح تفھیم الوصف " محترم جناب قاری محمد اسماعیل صادق خورجوی مکی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں علم وقف کی علمی وفنی مباحث کو ایک جگہ جمع فرمادیا ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1399 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں