• asool-e-tafseer-2
    امام ابن تیمیہ

    قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب ہے،جسے اس نے دنیا کے لیےراہنما بنا کر بھیجا ہے۔اس کے کچھ الفاظ مجمل اور کچھ مطلق ہیں ،جن کی تشریح وتوضیح کے لیے نبی کریمﷺ کو منتخب فرمایا-قرآن کریم کی وضاحت وہی بیان کر سکتا ہے جس پر یہ نازل ہوا۔اس لیے صحابہ کرام ﷢کبھی بھی اپنی طرف سے قرآن کی تشریح نہ کرتے تھے،اور اگر کسی چیز کی سمجھ نہ آتی تو خاموشی اختیار کر لیتےتھے۔اللہ کے نبیﷺ نے جس طریقے اور صحابہ نے آپ کے طریقے کو اختیار کرتے ہوئے جس طریقے سے قرآن کی تشریح کی ہے اس کو علما نے تفسیر بالماثور ، اور جن لوگوں نے اپنی مرضی سے تفسیر کی اس کو تفسیر بالرائے کا نام دیا ہے۔زیر تبصرہ کتاب (اصول تفسیر)شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اصول قرآن اور اصول تفسیر پر بحث کی ہے۔ اس کا اردو ترجمہ مولانا عبد الرزاق صاحب ملیح آبادی﷫ نے کیا ہے اور مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی﷫ نے مفید تعلیق چڑھائی ہے۔قرآن مجید کی تفسیر میں گمراہی کا اصلی سبب اس حقیقت کو بھول جانا ہے کہ قرآن کے مطالب وہی درست ہیں ،جو اس کے مخاطب اول نے سمجھے اور سمجھائے ہیں۔قرآن محمد پر نازل ہوا ،اور قرآن بس وہی ہے جو محمد نے سمجھا اور سمجھایا ہے۔اس کے علاوہ جو کچھ ہے ،یا تو علمی ،روحانی نکتے ہیں ،جو قلب مومن پر القا ہوں اور یا پھر اقوال وآراء ہیں۔اٹکل پچو باتیں ہیں ،جن کے محتمل کبھی قرآنی لفظ ہوتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے ہیں۔لیکن یہ یقینی ہے کہ باتیں قرآن سے مقصود نہیں ہیں۔قرآنی مقصود صرف وہی ہے جو نبی کریم ﷺنے سمجھا اور سمجھایا ہے۔شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫ نے اس کتاب میں یہ بھولی ہوئی بنیادی حقیقت بڑی خوبی اور احسن انداز سے یاد دلا دی ہے،اور وہ تمام اصول بیان کر دئیے ہیں جو کتاب اللہ کی تفسیر کے لئے ضروری ہیں۔اللہ تعالی مولف کی ان گرانقدر خدمات کو قبول فرمائے اور ان کی قبر کو منور فرمائے۔آمین(راسخ)

  • usooletafseersawalanjawaban-copy
    ابو نعمان بشیر احمد
    قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب ہے اور اس کتاب کو اللہ تعالی نے دنیا کے لیے راہنمائی بنا کر بھیجا ہے اور اس کے الفاظ کی تشریح وتوضیح کے لیے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو منتخب فرمایا-قرآن کریم کی وضاحت وہی بیان کر سکتا ہے جس پر یہ نازل ہوا-اس لیے صحابہ کرام کبھی بھی اپنی طرف سے قرآن کی تشریح نہ کرتے اور اگر کسی چیز کی سمجھ نہ آتی تو خاموشی اختیار کر لیتے-اللہ کے نبی نے جس طریقے اور صحابہ نے آپ کے طریقے کو اختیار کرتے ہوئے جس طریقے سے قرآن کی تشریح کی ہے اس کو علما نے تفسیر بالماثور کا نام دیا ہے اور جن لوگوں نے اپنی مرضی سے تفسیر کی اس کو تفسیر بالرائے کا نام دیا-اس کتاب میں مولف نے اصول قرآن اور اصول تفسیر پر بحث کی ہے جس میں مصنف نے قرآن مجید کی لغوی و اصطلاحی تعریف اور وجہ تسمیہ کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کی امتیازی خصوصیات کو بھی بیان کیا ہے , قرآن اور حدیث قدسی کی تعریف اور ان کا فرق واضح کیا ہے اور علوم قرآن سے متعلقہ دوسری کئی بحثوں کو شامل کیا ہے جیسا کہ مکی اور مدنی سورتوں کی علامات و خصوصیات , لفظ سورت کی وجہ تسمیہ , قرآن مجید کی قراءات , ناسخ منسوخ کا بیان , حفاظت قرآن اور تدوین قرآن عہد رسالت میں بیان کرتے ہوئے اصول تفسیر میں تفسیر و تاویل کا لغوی و اصطلاحی معنی , موضوع , غرض و غایت , دونوں کے درمیان فرق , اقسام و شرائط , تفسیر قرآن کے ماخذ اور مصادر و مراجع کا ذکر کیا گیا ہے
  • alfawaaed-ul-tafseeriyah-al-ssalfiyah
    محمد ابو سعید ابن عبد السلام رستمی

    قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِہدایت ہے، او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہےکہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے ۔ اسے پڑھنے اور پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِ صحابہ سے لے کر دورِ حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم وتشریح اور ترجمہ وتفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دی ہیں ۔ اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض تربیت، قرآن مجید کی زبان اور زمانۂ نزول کے حالات سے واقفیت کی بنا پر، قرآن مجید کی تشریح، انتہائی فطری اصولوں پر کرتے تھے۔ چونکہ اس زمانے میں کوئی باقاعدہ تفسیر نہیں لکھی گئی، لہٰذا ان کے کام کا بڑا حصہ ہمارے سامنے نہیں آ سکا اور جو کچھ موجود ہے، وہ بھی آثار او رتفسیری اقوال کی صورت میں، حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں بکھرا ہوا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "الفوائد التفسیریۃ السلفیۃ" محترم محمد ابو سعید بن علامہ سید عبد السلام رستمی ﷫ کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے سلفی علماء کرام کی تفاسیر کو ایک جگہ جمع کرتے ہوئے ایک منفرد انداز میں ایک نئی تفسیر تیار کر دی ہے۔ اور اس کا نام سلفی تفسیری فوائد رکھا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • pages-from-al-fauz-ul-azeem-urdu-sharha-al-fauz-ul-kabeer
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

    شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی (1703-1762) برصغیر پاک و ہند کے ان عظیم ترین علماء ربانیین میں سے ہیں جو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ان کی شہرت صرف ہندوستان گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر ہے۔ وہ بلاشبہ اٹھارہویں صدی کے مجدد تھے اور تاریخ کے ایک ایسے دورا ہے پر پیدا ہوئے جب زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا تھا، مسلم اقتدار کی سیاسی بساط لپیٹی جا رہی تھی، عقلیت پرستی اور استدلالیت کا غلبہ ہو رہا تھا۔ آپ نے حجۃ اﷲ البالغہ جیسی شہرہ آفاق کتاب اور موطا امام مالک کی شرح لکھی اورقرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ دوران ترجمہ شاہ صاحب کے سامنے بہت سے علوم و معارف اور مسائل و مشکلات واشگاف ہوئے۔ شاہ صاحب نے ان کو حل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے۔ ترجمہ کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے "مقدمہ در قوانین ترجمہ" کی تصنیف فرمائی۔ لیکن شاہ ولی اﷲ کا ایک بے مثال کارنامہ ’’الفوز الکبیر   فی اصول التفسیر ‘‘ہے۔ شاہ صاحب کی علوم القرآن پر اتنی گرفت ہے کہ ان کی تصنیف لطیف ’’الفوز الکبیر‘‘ سند کا درجہ رکھتی ہےچونکہ اپنے موضوع پر ایک منفرد کتاب تھی اسی لئے اناً فاناً سارے عالمِ اسلام میں اس کی شہرت پھیل گئی۔منیر الدین دمشقی اور مولانا سلمان ندوی نے اس کا عربی میں ترجمہ کیا ہے۔ مفتی محمد سعید پالن پوری نے بھی اس کا عربی میں ترجمہ کیا، اور اردو و عربی میں شرح بھی لکھی۔ اس کے علاوہ بھی کئی اہل علم نے اس کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا۔ زیر نظر کتاب ’’الفوز العظیم شرح اردو الفوز الکبیر‘‘ مولانا خورشید انور قاسمی فیض آبادی کی تصنیف ہے جو کہ پچاس سے زائد اہم کتابوں کے منتخب علوم اور محقق اساتذۂ کرام کے فیوض وافادات سے مزین الفوز الکبیر کی نہایت جامع اردو شرح ہے۔ فوز الکبیر کی یہ شرح  طالبانِ علوم نبوت اور مدارس کے اساتذہ و طلباء کے لیے ایک گراں قدر تحفہ ہے کیونکہ یہ کتاب اکثر مدارس اسلامیہ میں شامل نصاب ہے۔ (م۔ا)

  • title-pages-barre-sagheer-me-usool-e-tafseer-k-manahij-w-asrat-copy
    ڈاکٹر عبید الرحمن محسن

    قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب ہے،جسے اس نے دنیا کے لیےراہنما بنا کر بھیجا ہے۔اس کے کچھ الفاظ مجمل اور کچھ مطلق ہیں ،جن کی تشریح وتوضیح کے لیے نبی کریمﷺ کو منتخب فرمایا-قرآن کریم کی وضاحت وہی بیان کر سکتا ہے جس پر یہ نازل ہوا۔اس لیے صحابہ کرام کبھی بھی اپنی طرف سے قرآن کی تشریح نہ کرتے تھے،اور اگر کسی چیز کی سمجھ نہ آتی تو خاموشی اختیار کر لیتےتھے۔اللہ کے نبیﷺ نے جس طریقے اور صحابہ نے آپ کے طریقے کو اختیار کرتے ہوئے جس طریقے سے قرآن کی تشریح کی ہے اس کو علما نے تفسیر بالماثور ، اور جن لوگوں نے اپنی مرضی سے تفسیر کی اس کو تفسیر بالرائے کا نام دیا ہے۔ قرآن مجید کی تفسیر میں گمراہی کا اصلی سبب اس حقیقت کو بھول جانا ہے ۔ قرآن کے مطالب وہی درست ہیں ،جو اس کے مخاطب اول نے سمجھے اور سمجھائے ہیں۔قرآن محمدﷺ پر نازل ہوا ،اور قرآن بس وہی ہے جو محمد ﷺنے سمجھا اور سمجھایا ہے۔اس کے علاوہ جو کچھ ہے ،یا تو علمی ،روحانی نکتے ہیں ،جو قلب مومن پر القا ہوں اور یا پھر اقوال وآراء ہیں۔اٹکل پچو باتیں ہیں ،جن کے محتمل کبھی قرآنی لفظ ہوتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے ہیں۔ماضی قریب کے جدید مفسرین نے اپنی مرضی سےاپنے ہی اصول تفسیر قائم کر کے اپنی عقل وفکر سے اپنی تفاسیر میں بعض آیات وسور کی ایسی تفسیر پیش کی ہے جو صریحاً مفسر صحابہ کرام ، تابعین عظام ﷭ اور قرون اولیٰ کے مشہور مفسرین ائمہ کرام ﷭ کی تفاسیر مختلف ہے۔ان مفسرین میں سر سید ، حمید الدین فراہی ، امیں احسن اصلاحی ، غلام احمد پرویز ، جاوید احمد غامدی وغیرہ کے اسماء گرامی قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ برصغیر میں اصول تفسیر کے مناہج واثرات تجزیاتی وتنقیدی مطالعہ‘‘ معروف واعظ ومبلغ شیخ الحدیث مولانا یوسف راجووالوی﷫کے صاحبزادے پروفیسر ڈاکٹر عبید الرحمٰن محسن﷾(مدیر دار الحدیث ،راجووال) کا پنجاب یوینورسٹی میں ڈاکٹریٹ کے لیے پیش کیے جانے والے علمی وتحقیقی مقالہ کی کتابی صورت ہے ۔موصوف نے اس میں علم اصول تفسیر کامعنی ومفہوم ، آغاز وارتقاء ۔ منہج تفسیر بالماثور، ضرورت واہمیت، اثرات۔منہج تفسیر بالماثور کےاصول وقواعد ۔منہج تفسیر بالرائے المحمود۔ فراہی مکتب فکر کےاصول تفسیر،عقل پرست انحرافی مکتب فکر کے اصول تفسیر جیسے عنوانات قائم کر کے برصغیر کے جدید مفسرین کے قائم کردہ اصول تفسیر کا علمی وتحقیقی انداز میں خو ب تنقیدی وتجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کی تدریسی ،دعوتی ، تحقیقی وتصنیفی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے ۔(آمین) (م۔ا)

  • title-pages-tareekh-e-tafseer-w-usool-e-tafseer-copy
    پروفیسر میاں منظور احمد

    تفسیر کا معنیٰ بیان کرنا یا کھولنا یا کسی تحریر کےمطالب کوسامعین کےقریب ِفہم کردینا ہے ۔قرآن مجید ایک کامل ومکمل کتاب ہے مگر اس کوسمجھنے کےلیے مختلف علوم کی ضرورت ہے ۔قرآن مجید کی آیات کا ترجمہ کرنا اور ان کامطلب بیان کرنا علم تفسیر ہے اور علم تفسیر وہ علم ہے جس میں الفاظِ قرآن کی کیفیت ،نطق،اور الفاظ کے معانی اور ان کےافرادی ترکیبی حالات اور ان کے تتمات کا بیان ہوتاہے ۔اور اصول تفسیر سے مراد وہ علوم ہیں جن کے ذریعے قرآن کی تشریح کی جاتی ہے۔ قرآن کلام الٰہی ہے جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ میں ایسی قابلیت پیدا کردی تھی کہ آپ منشاء الٰہی کو سمجھ جاتے تھے اور آپ کو وحی جلی اور وحی خفی کے ذریعہ سےاحکام سے آگاہ بھی کردیاجاتا تھا ۔جو سورت یاآیت نازل ہوتی آپ مسلمانوں کو اس کامطلب سمجھاتےدیتے تھے ۔اس لیے قرٖٖآن مجید کےمفسر اول حضور ﷺ اور پہلی تفسیر حدیث ِرسول ﷺہے ۔آپ ﷺ نے قرآن کی جو تفسیر بیان کی اس کا کچھ حصہ آپ کی حیات ِمبارکہ میں ہی ضبط تحریر میں آیا او رکچھ حصہ صحابہ کرام کے سینوں میں محفوظ رہا جو اس عہد کے بعد ضبطِ تحریر میں آیا ۔عہد خلافت راشد ہ میں مسلمانوں کی زیادہ توجہ حفظ قرآن اور تدوین حدیث اور ملکی معاملات پر رہی اس لیے تفسیر کے نام سے سوائے تفسیر ابی بن کعب اور تفسیر ابن عباس کےاورکوئی تفسیر کی کتاب مرتب نہیں ہوئی۔ اس کے بعد عصر حاضر تک قرآن کریم کی ہزاروں تفاسیر لکھی جا چکی ہیں اور ہر صدی میں متعدد کتب تفسیر کی کئی لکھی گئیں ۔اس کے علاوہ قرآن کریم کےمتعدد پہلوؤں پر علمی و تحقیقی کام موجود ہے ۔
    زیر تبصرہ کتاب ’’تاریخ تفسیر واصول تفسیر‘‘پروفیسر میاں منظور احمد صاحب کی کاوش ہے ۔اس کتاب میں وہ ان چند مباحث کو جن کاتعلق ایم اے علوم اسلامیہ کےامتحان سے ہے انہیں وہ جدید ترین نصاب کے مطابق زیربحث لائے ہیں۔ تفصیل وتطویل کو چھوڑ کر اختصار کو پیش نظر رکھا گیا ہے تاکہ ایک تویہ رسالہ طویل نہ ہو اور طلبہ وقارئین کےلیے باعث ملال نہ ہو۔مصنف موصوف نے مختلف موضوعات وابحاث پر امتحانی نقظۂنظر کوبھی ذہن میں رکھا ہے بلکہ اصول تفسیر میں تو امتحانی سوالات ہی کوبنیاد بنایا ہے۔(م۔ا)

  • title-pages-tafseer-aur-usool-e-tafseer-copy
    فیصل احمد ندوی بھٹکلی

    قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب ہے،جسے اس نے دنیا کے لیےراہنما بنا کر بھیجا ہے۔اس کے کچھ الفاظ مجمل اور کچھ مطلق ہیں ،جن کی تشریح وتوضیح کے لیے نبی کریمﷺ کو منتخب فرمایا-قرآن کریم کی وضاحت وہی بیان کر سکتا ہے جس پر یہ نازل ہوا۔اس لیے صحابہ کرام کبھی بھی اپنی طرف سے قرآن کی تشریح نہ کرتے تھے،اور اگر کسی چیز کی سمجھ نہ آتی تو خاموشی اختیار کر لیتےتھے۔اللہ کے نبیﷺ نے جس طریقے اور صحابہ نے آپ کے طریقے کو اختیار کرتے ہوئے جس طریقے سے قرآن کی تشریح کی ہے اس کو علما نے تفسیر بالماثور ، اور جن لوگوں نے اپنی مرضی سے تفسیر کی اس کو تفسیر بالرائے کا نام دیا ہے۔ قرآن مجید کی تفسیر میں گمراہی کا اصلی سبب اس حقیقت کو بھول جانا ہے ۔ قرآن کے مطالب وہی درست ہیں ،جو اس کے مخاطب اول نے سمجھے اور سمجھائے ہیں۔قرآن محمدﷺ پر نازل ہوا ،اور قرآن بس وہی ہے جو محمد ﷺنے سمجھا اور سمجھایا ہے۔اس کے علاوہ جو کچھ ہے ،یا تو علمی ،روحانی نکتے ہیں ،جو قلب مومن پر القا ہوں اور یا پھر اقوال وآراء ہیں۔اٹکل پچو باتیں ہیں ،جن کے محتمل کبھی قرآنی لفظ ہوتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے ہیں۔اصول تفسیر ایسے اصول وقواعد کا نام ہے جو مفسرین قرآن کے لیے نشان منزل کی تعیین کرتے ہیں۔ تاکہ کلام اللہ کی تفسیر کرنے والا ان کی راہ نمائی اور روشنی میں ہر طرح کے ممکنہ خطرات سے محفوظ رہے اور اس کےمنشاء ومفہوم کا صحیح ادراک کرسکے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تفسیر اور اصول تفسیر ضرورت ، تعارف اور اہم کتابیں‘‘اپریل 2013ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء میں کلیۃ الشریعۃ واصول الدین کی طرف سےکے زیر اہتمام ’’ مدارس میں قرآن واصول قرآن کی تفہیم وتدریس –اسلوب ، منہج ،مسائل ومشکلات ‘‘ کےعنوان سےمنعقد کیے گئے دور وزہ مذاکرہ علمی میں محترم جناب فیصل احمد ندوی کی طرف سےپیش کیے مقالہ کی کتابی صورت ہے ۔(راسخ )

  • title-pages-tafseer-quran-k-usool-w-qawaid-copy
    ڈاکٹر عبید الرحمن محسن

    قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب ہے،جسے اس نے دنیا کے لیےراہنما بنا کر بھیجا ہے۔اس کے کچھ الفاظ مجمل اور کچھ مطلق ہیں ،جن کی تشریح وتوضیح کے لیے نبی کریمﷺ کو منتخب فرمایا-قرآن کریم کی وضاحت وہی بیان کر سکتا ہے جس پر یہ نازل ہوا۔اس لیے صحابہ کرام کبھی بھی اپنی طرف سے قرآن کی تشریح نہ کرتے تھے،اور اگر کسی چیز کی سمجھ نہ آتی تو خاموشی اختیار کر لیتےتھے۔اللہ کے نبیﷺ نے جس طریقے اور صحابہ نے آپ کے طریقے کو اختیار کرتے ہوئے جس طریقے سے قرآن کی تشریح کی ہے اس کو علما نے تفسیر بالماثور ، اور جن لوگوں نے اپنی مرضی سے تفسیر کی اس کو تفسیر بالرائے کا نام دیا ہے۔ قرآن مجید کی تفسیر میں گمراہی کا اصلی سبب اس حقیقت کو بھول جانا ہے ۔ قرآن کے مطالب وہی درست ہیں ،جو اس کے مخاطب اول نے سمجھے اور سمجھائے ہیں۔قرآن محمدﷺ پر نازل ہوا ،اور قرآن بس وہی ہے جو محمد ﷺنے سمجھا اور سمجھایا ہے۔اس کے علاوہ جو کچھ ہے ،یا تو علمی ،روحانی نکتے ہیں ،جو قلب مومن پر القا ہوں اور یا پھر اقوال وآراء ہیں۔اٹکل پچو باتیں ہیں ،جن کے محتمل کبھی قرآنی لفظ ہوتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے ہیں۔اصول تفسیر ایسے اصول وقواعد کا نام ہے جو مفسرین قرآن کے لیے نشان منزل کی تعیین کرتے ہیں۔ تاکہ کلام اللہ کی تفسیر کرنے والا ان کی راہ نمائی اور روشنی میں ہر طرح کے ممکنہ خطرات سے محفوظ رہے اور اس کےمنشاء ومفہوم کا صحیح ادراک کرسکے ۔ لیکن برصغیرکے جدید مفسرین نے اپنی مرضی سےاپنے ہی اصول تفسیر قائم کر کے اپنی عقل وفکر سے اپنی تفاسیر میں بعض آیات وسور کی ایسی تفسیر پیش کی ہے جو صریحاً مفسر صحابہ کرام ، تابعین عظام ﷭ اور قرون اولیٰ کے مشہور مفسرین ائمہ کرام ﷭ کی تفاسیر مختلف ہے۔ان مفسرین میں سر سید ، حمید الدین فراہی ، امیں احسن اصلاحی ، غلام احمد پرویز ، جاوید احمد غامدی وغیرہ کے اسماء گرامی قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ تفسیر قرآن کے اصول وقواعد‘‘معروف واعظ ومبلغ شیخ الحدیث مولانا یوسف راجووالوی﷫کے صاحبزادے پروفیسر ڈاکٹر عبید الرحمٰن محسن﷾(مدیر دار الحدیث ،راجووال) کی تصنیف ہے۔جوکہ ڈاکٹر صاحب کے پی ، ایچ ، ڈی کے لیے لکھے گئے تفصیلی علمی وتحقیقی مقالے کاایک حصہ ہےجسے معمولی ترمیم واضافے کےساتھ الگ شائع کیا ہے۔فاضل مؤلف نےاس کتاب میں چاروں مکاتب فکر ( تفسیر بالماثور، تفسیر بالرأی المحمود، فراہی مکتب فکر، تفسیر با لرأی المذموم) کے اصول تفسیر کو سامنے رکھا اور ان کاتنقیدی جائزہ لیا ہےاور خیر القرون میں تفسیر بالماثور کے مسلمہ اصول تفسیر واضح طور پر مرتب کرنے کی بھر پور اور کامیاب کوشش کی ہے ۔ نیز فن تفسیر میں دستیاب عربی اور اردو لٹریچر کا ایک جامع خلاصہ پیش کیا ہے ۔اس کتاب میں بیان کردہ اصول تفسیر کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی فرد واحد کےخود ساختہ نہیں ،بلکہ جمہورمفسرین انہی اصولوں کےتحت قرآن کےسعادت حاصل کرتے رہے ہیں ۔یہ کتاب اپنی افادیت کے اعتبار سے قیمتی اور نادر موتیوں کی ایک لڑی ہے جو دینی مدارس کےمنتہی طلبہ ،اساتذہ اوردورات تفسیر کےفاضل طلباء وطالبات کے لیےایک اکسیر اور خاصے کی چیز ہے ۔مفتی جماعت شارح صحیح بخاری شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد﷾ کی اس کتاب پر نظر ثانی سے کتاب کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کی تدریسی ،دعوتی ، تحقیقی وتصنیفی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے ۔(آمین) (م۔ا)

  • title-pages-tafseeri-nukaat-w-afadaat
    ابن قیم الجوزیہ
    قرآن حکیم کی تفسیر اور مطالب بیان کرنا نہایت دقیق اور پیچیدہ معاملہ ہے۔ جس سے کوئی پختہ کار عالم ،جید محقق اور کوہنہ مشق مفسر ہی عہدہ برآن ہو سکتا ہے ۔کیونکہ قلم کی ذرا سی لغزش سے مفہوم میں کئی پیچیدگیاں واقع ہو جاتی ہیں۔اور ممکن ہے معمولی سی خطا کئی لوگوں کی گمراہی کا سبب بن جائے۔حافظ ابن قیم رحمہ اللہ ایسے تمام اوصاف سے متصف ،علم وعرفان کے وہ مہتاب ہیں جن کی پختہ سوچ ،صاعب رائے اور علم میں پختگی مسلمہ ہے ۔ان کی زیر تبصرہ یہ کتاب تفسیری نکات کا حسین مرقع اور نادر مجموعہ ہے ،جو شائقین علم کے لیے بیش قیمت خزانہ ہے  جو ان کی علمی تشنگی اور تفسیر کے مفاہیم کو سمجھنے کی ضرورت کی کما حقہ آبیاری کرتی ہے۔پھر جید عالم دین مولانا عبدالغفار حسن رحمہ اللہ کا ترجمہ اور جمع وتبویب سونے پہ سہاگہ ہے ۔یہ اپنے موضوع پر نایاب کتاب ہے ۔(ف۔ر)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title
    ڈاکٹر حافظ انس نضر مدنی

    قرآنِ مجید وہ عظیم کتاب ہے،جسے اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی رُشد و ہدایت کیلئے نازل فرمایا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین سے لے کر آج تک ہر دور میں اہل علم مفسّرین اس کی مشکلات کو حل کرتے اور اس کی گتھیوں کوسلجھاتے چلے  آئے ہیں۔ہر دَور میں مفسرین کرام نے خصوصی ذوق اور ماحول کے مطابق اس کی خدمت کی اور تفسیر کے مخصوص مناہج اور اصول اپنے سامنے رکھے۔ پیش نظر"حمید الدین فراہی اور جمہور کے اصول تفسیر" حافظ انس نضر مدنی کا پی ایچ ڈی کے لیے لکھا جانے والا مقالہ ہے۔ محترم حافظ صاحب امتیازی حیثیت میں فاضل مدینہ یونیورسٹی ہونے کے ساتھ ساتھ ’مجلس التحقیق الاسلامی‘اور ’کتاب ونت ڈاٹ کام‘ کے انچارج ہیں۔ موصوف جہاں طلباء جامعہ لاہور الاسلامیہ کو علم کے زیور سے آراستہ کر رہے ہیں وہیں متنوع علمی و تحقیقی کاموں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ آپ کی خداد صلاحیتوں کا ایک اظہار زیر نظر مقالہ ہے۔مولانا حمید الدین فراہی رحمہ اللہ کے  منہجِ تفسیر اور مولانا امین احسن اصلاحی رحمہ اللہ کی تفسیر ’تدبر قرآن ‘ پر تو کسی نہ کسی حوالے  سے تحقیقی کام موجود ہے  لیکن مولانا فراہی رحمہ اللہ کے  اُصول تفسیر اور جمہور کے  اُصول تفسیر میں  مناسبت اور تقابل پر مرتب تحقيقی کام پہلی بارسامنے آیا ہے۔محترم حافظ صاحب نے مولانا فراہی رحمہ اللہ کے  اُصول تفسیر اور تفسیر پر موجود کام کا سلف صالحین کے  مناہجِ تفسیر سے اس انداز میں تقابلی جائزہپیش کیاہےکہ واضح ہو سکے  کہ کیا یہ ایک شے  کے  دو رُخ ہیں یا ان میں  آپس میں  جوہری اختلاف اور فرق ہے۔

    نوٹ

    یہ کتاب دراصل پی ایچ ڈی مقالہ ہے جو حافظ انس نضر مدنی (مدیر مجلس التحقیق الاسلامی 99 جے، ماڈل ٹاؤن، لاہور) جو فاضل مدینہ یونیورسٹی بھی ہیں، نے اصول تفسیر میں لکھا ہے۔ حافظ صاحب علم وراثت میں مہارت رکھنے کے ساتھ ساتھ قراءات سبعہ وعشرہ کے قاری بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی عمر میں برکت دے اور ان کا افادہ عام کرے۔آمین

  • title-pages-darayat-tafseri-copy
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    متحدہ پنجاب کے جن اہل  حدیث خاندانوں نے تدریس  وتبلیغ اور مناظرات ومباحث  میں شہرت پائی ان میں  روپڑی خاندان کےعلماء کرام کو بڑی اہمیت حاصل ہے  ۔روپڑی خاندان میں علم وفضل کے اعتبار سے سب سے برگزیدہ شخصیت حافظ عبد اللہ محدث  روپڑی(1887ء۔1964) کی تھی، جو ایک عظیم  محدث ،مجتہد مفتی اور  محقق تھے ان کے فتاویٰ، ان کی فقاہت اور مجتہدانہ صلاحیتوں کے غماز او ر ان کی تصانیف ان کی محققانہ ژرف نگاہی کی مظہر ہیں۔ تقسیمِ ملک سے قبل روپڑ شہر (مشرقی پنجاب) سے ان کی زیر ادارت ایک ہفتہ وار پرچہ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ نکلتا رہا، جو پاکستان بننے کے بعد اب تک لاہور سے شائع ہو رہا ہے۔ محدث روپڑی تدریس سے بھی وابستہ رہے، قیامِ پاکستان کے بعد مسجد قدس (چوک دالگراں، لاہور) میں جامعہ اہلحدیث کے نام سے درس گاہ قائم فرمائی۔ جس کے شیخ الحدیث اور صدر مدرّس اور ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ کے مدیر وغیرہ سب کچھ وہ خود ہی تھے، علاوہ ازیں جماعت کے عظیم مفتی اور محقق بھی۔اس اعتبار سے محدث روپڑی کی علمی و دینی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، وہ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہے اور کئی نامور علماء تیار کئے، جیسے حافظ عبدالقادر روپڑی ،حافظ اسمٰعیل روپڑی ، مولانا ابوالسلام محمد صدیق سرگودھوی ، مولانا عبدالسلام کیلانی﷭ ، حافظ عبد الرحمن مدنی ،مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہما اللہ  وغیرہم۔ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘کے ذریعے سے سلفی فکر اور اہلحدیث مسلک کو فروغ دیا اور فرقِ باطلہ کی تردید کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اجتہاد و تحقیق کی اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا تھا، فتویٰ و تحقیق کے لئے وہ عوام و خواص کے مرجع تھے۔ ۔ چنانچہ اس میدان میں بھی انہوں نے خوب کام کیا۔ ان کے فتاویٰ آج بھی علماء اور عوام دونوں کے لئے یکساں مفید اور رہنمائی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ مذکورہ خدمات کے علاوہ  مختلف موضوعات  پر  تقریبا  80تالیفات علمی یادگار کے طور پر چھوڑیں، عوام ہی نہیں، علماء بھی ان کی طرف رجوع کرتے تھے او ران کی اجتہادی صلاحیتوں کے معترف تھے ۔مولانا عبدالرحمن مبارکپور ی  (صاحب تحفۃ الاحوذی  )فرماتے ہیں  حافظ عبد اللہ  روپڑی  جیسا ذی علم اور  لائق استاد تمام  ہندوستان میں کہیں  نہیں ملےگا۔ہندوستان  میں ان کی نظیر نہیں۔زیر تبصرہ کتاب ’’ درایت تفسیری‘‘ مجتہد العصر  حافظ عبد اللہ محدث روپڑی﷫ کی اصول  تفسیر کے موضوع پرایک اہم اور بے مثال تالیف ہے ۔یہ کتاب محدث روپڑی کی تعلیمی دور  سے فراغت کے بعد پہلی کتاب ہے ۔ یہ کتاب دراصل  محدث روپڑی نے   فاتح قادیان  مولانا  ثناء اللہ امرتسری ﷫ کی  کتاب کے رد میں لکھی تھی ۔  اس کتاب کا تعارف  کراتے ہوئے  مینجر اخبار ’’تنظیم اہلحدیث ‘‘ روپڑ ضلع ابنالہ لکھتے ہیں :’’آج کا خصوصیت کے ساتھ کچھ ایسی آزادی ہوگئی ہے کہ ہرفرقہ قرآن مجید سے استدلال کرتا ہے  اور تروڑ مروڑ کر اپنے موافق کرلیتا ہے ۔ اس رسالہ میں بتلایا گیا ہے کہ کن اصولوں پر تفسیر کرنی چاہیے اور صحیح تفسیر کونسی  ہے  ‘‘اللہ تعالیٰ محدث روپڑی  کی  مرقد پر  اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطافرمائے (آمین) (م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-aun-al-khabir-shrha-al-fouz-ul-kabir-fi-usool-al-tafsir
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

    شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی (1703-1762) برصغیر پاک و ہند کے ان عظیم ترین علماء ربانیین میں سے ہیں جو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ان کی شہرت صرف ہندوستان گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر ہے ۔وہ بلاشبہ اٹھارہویں صدی کے مجدد تھے اور تاریخ کے ایک ایسے دورا ہے پر پیدا ہوئے جب زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا تھا، مسلم اقتدار کی سیاسی بساط لپیٹی جا رہی تھی، عقلیت پرستی اور استدلالیت کا غلبہ ہو رہا تھا۔آپ نے حجۃ اﷲ البالغہ جیسی شہرہ آفاق کتاب اور موطا امام مالک کی شرح لکھی اورقرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ دوران ترجمہ شاہ صاحب کے سامنے بہت سے علوم و معارف اور مسائل و مشکلات واشگاف ہوئے ۔ شاہ صاحب نے ان کو حل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے ۔ترجمہ کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے "مقدمہ در قوانین ترجمہ" کی تصنیف فرمائی۔ لیکن شاہ ولی اﷲ کا ایک بے مثال کارنامہ ''الفوز الکبیر فی اصول التفسیر ''ہے ۔شاہ صاحب کی علوم القرآن پر اتنی گرفت ہے کہ ان کی تصنیف لطیف ''الفوز الکبیر'' سند کا درجہ رکھتی ہےچونکہ اپنے موضوع پر ایک منفرد کتاب تھی اسی لئے اناً فاناً سارے عالمِ اسلام میں اس کی شہرت پھیل گئی۔منیر الدین دمشقی اور مولانا سلمان ندوی نے اس کا عربی میں ترجمہ کیا ہے ۔ مفتی محمد سعید پالن پوری نے بھی اس کا عربی میں ترجمہ کیا، اور اردو و عربی میں شرح بھی لکھی۔اس کے علاوہ بھی کئی اہل علم نے اس کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا ۔ زیر نظر کتاب ''عون الخبیر شرح الفوز الکبیر'' مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی کی تصنیف ہے جو کہ فوز الکبیر کو تدریس کے دروان ان کے کیسٹوںمیں ریکارڈ شدہ دروس کو سن کر تیار کی گی ہے ۔فوز الکبیر کی یہ شرح طالبانِ علوم نبوت اور مدارس کےاساتذہ وطلباء کے لیے ایک گراں قدر تحفہ ہے کیونکہ یہ کتاب اکثر مدارس اسلامیہ میں شامل نصاب ہے ۔(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ  کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • fitle-page-muhaddis-roprre-aur-tafseeri-dirayat-k-usool
    حافظہ مریم مدنی
    زیر نظر کتاب حافظہ مریم مدنی کا ایم فل کا مقالہ ہے۔ جس میں انہوں نے قرآن کی تفسیر روایت و درایت سے اخذ کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔کیونکہ انسانی عقل کتنی ہی پختہ ہو ،خیالات میں کتنی ہی رفعت ہو اور افکاری بالیدگی میں کتنی ہی موزونیت ہو قرآنی آیات کی تفسیر کو سمجھنے کے لیے روایات (احادیث نبوی )اور درایات(صحابہ کرام رضی اللہ عنہما کے تفسیری اقوال ) کا علم بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔اس لیے کہ قرآنی آیات کے صحیح مفہوم کی تعیین کے یہی دو طریق اصل ماخذ ہیں۔علماء حق اور محدثین کا قرآن کی تفسیر میں یہی اسلوب رہا ہے ۔لیکن مرور زمانہ کے ساتھ کئی گمراہ فرقے ،روشن خیال افراد اور مغرب زدہ دانشوروں نے قرآنی آیات کی گتھیاں سلجھانے اور قرآنی آیات کے مفہوم کی تعیین کے لیے لغت عربی ،عرب ادبا ء کے کلام اور عقلی سوچ کا سہارا لیا ہے ۔جو وحی کی تعبیر و تشریح میں مستقل اتھارٹی نہیں ہیں ۔بلکہ اپنی تخلیقی کمزوریوں کے باعث خود بھی محتاج اصلاح ہیں۔لہذا کلام الہی کی صحیح تعبیر و تشریح احادیث نبویہ ﷺ یا آثار صحابہ ہی سے ممکن ہے۔البتہ اجتہادی مسائل میں اہل علم کے اختلافی اقوال کی صورت میں دلائل شرعیہ یا لغت عرب سے مدد لی جاسکتی ہے ۔اس پس منظر میں فکری اصلاح اور صحیح قرآنی تعبیر و تفسیر کے لیے یہ مقالہ ایک اہم سنگ میل ہے ۔جس میں مقالہ نگار نے روپڑی خاندان کے چشم و چراغ اور علماء برصغیر کے آسمان کے درخشندہ ستارے حافظ عبداللہ محدث روپڑیؒ کے قرآنی تفسیر کی تعبیر میں روایت و درایت کا اہتمام کرنے کے راہنما اصول کا بیان ہے ۔نیز یہ مقالہ منکرین حدیث و مستشرقین کی فکری یلغار کے سامنے ایک مضبوط بند ہے ۔جس سے عقلی توفق اور پرویزی افکار کی منہ زور لہریں ٹکرا کر اپنی موت آپ مر جائیں ۔حافظہ مریم مدنی کی یہ کاوش ان کے کتاب وسنت سے شغف ،دین اسلام سے قلبی لگاؤ اور احادیث و آثار کے دفاع کی لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔اللہ تعالی ٰ مصنفہ کی اس دینی خدمت کو شرف قبول بخشے اور انہیں اس طرح کے مزید علمی کاموں کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 304 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں