• title-pages-earth-shaster-2
    کوتلیہ چانکیہ
    ارتھ شاستر کوتلیہ چانکیہ کی تصنیف ہے جو ایک برہمن گھرانے میں پیدا ہوا ۔اس کتاب کا زمانہ تصنیف 311سے 300ق۔م کے درمیان ہے۔’ارتھ شاستر‘نے برصغیر کے تمدن اور اسلوب سیاست پر گزشتہ دو ہزار سال کے دوران جو اثرات مرتب کیے ہیں ان کے نقوش آئندہ کئی صدیوں تک بھی واضح رہیں گے۔کوٹلیہ نے اس کتاب میں قدیم ہندوستانی تمدن کے ہر پہلو کو اپنی تحریر کا موضوع بنایا ہے۔علوم وفنون ،زراعت،معیشت،اردواجیات،سیاسیات،صنعت وحرفت ،قوانین،رسوم ورواج،توہمات،ادویات،فوجی مہارت،سیاسی وغیر سیاسی معاہدات اور ریاست کے استحکام سمیت ہر وہ موضوع کوتلیہ کی فکر کے وسیع دامن میں سماگیا ہے جو سوچ میں آسکتا ہے ۔علم سیاسیت کے پنڈت کہیں کوتلیہ کو اس کی متنوع علمی دستگاہ کی وجہ سے ہندوستان کا ارسطو کہتے ہیں اور کہیں ایک نئے اور واضح تر سیاسی نظام کا خالق ہونے کے باعث اس کا موازنہ میکاولی سے کیا جاتا ہے ۔بہر حال یہ کتاب اس کے افکار ونظریات کو سمجھنے کا معتبر ماخذ ہے۔(ط۔ا)
  • Title Page---Islam aur HindoMat
    ڈاکٹر ذاکر نائیک
    اس کتاب میں  مصنف نے ہندومت اور اسلام کا تقابلی جائزہ  پیش کیا ہے- جس میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے عقائد و نظریات کو زیر بحث لاتے ہوئے دونوں مذاہب میں تصور خدا  پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے- عالم اسلام کی مشہور ومعروف شخصیت ڈاکٹر ذاکر نائک  نے غیرمسلموں اور ہندؤوں کی جانب سے  دین اسلام پر کیے جانے والے اعتراضات کا عقلی و نقلی جواب دیا ہے اور ان کی ہی کتب سے ان کے خلاف ایسے واضح اور بین دلائل دیے ہیں جو ہندو مت کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہیں- کتاب کے دوسرے حصے میں ڈاکٹر ذاکر نائک اور مسٹر رشمی بھائی زاویری کے مابین ''گوشت خوری جائز یا ناجائز'' کے موضوع پر ہونے والے دلچسپ اور علمی مناظرے کی روداد قلمبند کی گئی ہے-جسے پڑھ کر قارئین جہاں  گوشت خوری سے متعلق اسلامی نقطہ نگاہ سے آگاہ ہوں گے وہیں ڈاکٹر ذاکر نائک کی جانب سے پیش کیے جانے والے سائنسی استدلالات سے بھی محظوظ ہوں گے-
  • pages-from-insaaniyat-ka-qatil-hindu-dharam
    امیر حمزہ

    ہندو دھرم کی صحیح تصویر کشی کے لئے بہت کم لکھا گیاہے۔ اور جو تحریری مواد موجود بھی ہے اس میں مولفین نے عام طور پر فلسفیانہ انداز اختیار کیا ہے۔ویسے بھی ہندو دھرم ایک الجھا ہوا فلسفہ ہے۔اور اس مذہب کے راہنما اپنی عوام کو یہ تلقین کرتے ہیں کہ مذہب سمجھ میں آنے والی چیز نہیں ہے ،بس آنکھیں بند کر کے اس پر عمل کیا جائے اور بغیر دلیل کے اسے تسلیم کیا جائے۔یہی وجہ ہے کہ ہندو مذہب میں کروڑوں خدا پوجے جاتے ہیں اور جنوں ،پریوں اور توہمات سے لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے۔ضرورت اس بات کی تھی کہ لوگوں کو ہندو مذہب سے آگاہ کرنے کے لئے آسان انداز میں لکھا جاتا ،کیونکہ ہندو رسوم ورواج اور ہندوانہ عقائد بہت حد تک مسلمانوں میں گھر کر چکے ہیں۔اور اس موضوع پر لکھنےوالے ناقدین نے بھی اس ضرورت کو پورا نہیں کیا ہے۔ الا ما شاء اللہ۔ زیر تبصرہ کتاب" انسانیت کا قاتل ہندو دھرم " جماعت الدعوہ کے مرکزی راہنما،مجلہ الحرمین کے ایڈیٹر اور معروف کالم نگار محترم امیر حمزہ صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے نہایت سادہ اور عام فہم انداز میں ہندو دھرم کی تصویر کشی کی ہے،تاکہ عام لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور اپنے عقائد کی اصلاح کر سکیں۔ مولف موصوف نے اس کتاب میں ہندو دھرم کی حقیقت اور ہندووں کی اسلام دشمنی اور ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں پر مذہبی تشدد اور دہشت گردی کو آشکارا کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی ان محنتوں کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • turk-e-islam
    ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری

    بیسویں صدی کا ابتدائی عہد ہندوستانی مسلمانوں کے لئے بڑا صبر آزما تھا۔مسلمان انگریزی حکومت کے جبر واستبداد کا شکار تھے۔انگریزی استعمار کا فتنہ زوروں پر تھا ۔پورے ملک میں عیسائی مشنریاں سر گرم تھیں۔ہندووں میں ایک نیا فرقہ آریہ سماج وجود میں آچکا تھا۔جس کے بانی پنڈت دیانند شرما اور ان کے ہم نواوں کا قلم اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ایسا زہر اگل رہا تھا ،جس سے مسلمانوں میں ارتداد کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔"سنیارتھ پرکاش" اور"رنگیلا رسول" جیسی دل آزار کتابیں اسی دور کی یاد گار ہیں۔ان صبر آزما حالات میں ہندوستان کے معروف عالم دین ابو الوفاء مولانا ثناء اللہ امرتسری﷫ نے تمام داخلی وخارجی محاذ پر اپنے مسلسل مناظروں ،تحریروں اور تقریروں کے ذریعے جو چومکھی لڑائی لڑی اور اسلام اور مسلمانوں کا جس کامیابی سے دفاع کیا ،وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔جو مہاشہ دھرمپال کی کتاب"ترک اسلام" کے جواب میں لکھی گئے ہے۔یہ شخص گوجرانوالہ کا ایک مسلمان تھا۔جس کا نام عبد الغفور تھا۔1903ء میں پنڈت دیانند شرما کی تحریروں اور آریہ سماج کی شدھی تحریک سے متاثر ہو کر اسلام سے مرتد ہو گیا اور آریہ سماج میں داخل ہو گیا ہے،اور عبد الغفور سے دھرمپال بن گیا۔جس پر سماجیوں نے بڑی خوشی منائی اور جگہ جگہ جلوس نکالے۔اس موقع پر آریہ سماج نے ایک لیکچر کا بھی اہتمام کیا جس میں اس نے اپنے مذہب کی تبدیلی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے قرآن مجید پر ایک سو پندرہ اعتراضات کئے،جسے آریہ سماج نے مرتب کر کے " تَرک اسلام" کے نام سے شائع کر دیا ۔جب یہ کتاب چھپ کر منظر عام پر آئی تو مسلمان بے چین ہو کر اٹھے اور ہر طرف سے اس کے جواب کا مطالبہ ہونے لگا۔چنانچہ علامہ امرتسری ﷫کا قلم حرکت میں آیا اور " تُرک اسلام بر تَرک اسلام" کے نام سے اس دل آزار کتاب کا خود ان کی مذہبی کتابوں سے ایسا دندان شکن جواب دیا کہ اس کے تمام اعتراضات کے تاروپود نہ صرف بکھیر کر رکھ دئے ،بلکہ ایک سو پندرہ اعتراضات کے جواب میں اس پر ایک سو سولہ اعتراضات جڑ دیئے۔جس کا آج تک کوئی جواب نہ دے سکا۔ اللہ تعالی مولف کی اس عظیم الشان کاوش کو قبول ومنظور فرمائے اور مسلمانوں کے لئے باعث ہدایت بنائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-kitab-ul-hindalberoni
    ابو ریحان البیرونی
    ایک ہمہ گیر شخصیت، علم ہیئت کا ماہر، فلسفی اور ایک ہی وقت میں سائنسی اور عمرانی علوم پر دسترس رکھنے والا شخص تاریخ میں ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی کے نام سے مشہور ہے۔ اس عبقری شخصیت نے ہندوستان اور ہندوؤں کے حالات پر مشتمل ’کتاب الہند‘ کے نام سے ایک جاندار کتاب لکھی، جس کا اردو ترجمہ آپ کے سامنے ہے۔ 1019ء میں البیرونی ہند کے حالات معلوم کرنے ہندوستان آیا۔ ہندوستان کی معاشرت، تہذیب و ثقافت، جغرافیہ، تمدن، یہاں کے مذاہب اور لوگوں کی اخلاقی حالت کا مطالعہ کرنے کے لیے اس نے سنسکرت زبان سیکھی۔ ہندوستان میں البیرونی نے کم و بیش دس سال گزارےاور اس دوران ہندو مذہب کے متعلق بہت سی معلومات حاصل کیں۔ یہ تمام معلومات زیر مطالعہ کتاب کا حصہ ہیں۔ ہندوؤں کے ہاں تصور خدا کیا ہے؟ دنیا سے نجات پانے کے کیا راستے ہیں؟ ہندوؤں کے دیگر مذاہب کے بارے میں کیا نظریات ہیں؟ اوربیوی کو خاوند کے ساتھ ستی کرنے کی کیا وجہ ہے؟ ہندو ازم سے متعلق یہ اور اس طرح کے دیگر بہت سے حقائق کو نہایت عرق ریزی کے ساتھ اس کتاب میں بیان کر دیا گیا ہے۔ اس کتاب کو ہندوؤں سے متعلق معلومات کا انسائیکلوپیڈیا کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اس کتاب کے مطالعے سے اس بات کو سمجھنے میں مدد ملے گی کہ ہندوؤں کو دعوت دین دینے کے حوالے سے کہاں کہاں خامیاں موجود ہیں اور کن ذرائع کو ملحوظ رکھ کر ہم ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو مائل بہ اسلام کر سکتے ہیں۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    یہ کتاب کا نیو ایڈیشن ہے۔
  • copy-of-title-pages-kitab-ul-hind
    ابو ریحان البیرونی
    ایک ہمہ گیر شخصیت، علم ہیئت کا ماہر، فلسفی اور ایک ہی وقت میں سائنسی اور عمرانی علوم پر دسترس رکھنے والا شخص تاریخ میں ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی کے نام سے مشہور ہے۔ اس عبقری شخصیت نے ہندوستان اور ہندوؤں کے حالات پر مشتمل ’کتاب الہند‘ کے نام سے ایک جاندار کتاب لکھی، جس کا اردو ترجمہ آپ کے سامنے ہے۔ 1019ء میں البیرونی ہند کے حالات معلوم کرنے ہندوستان آیا۔ ہندوستان کی معاشرت، تہذیب و ثقافت، جغرافیہ، تمدن، یہاں کے مذاہب اور لوگوں کی اخلاقی حالت کا مطالعہ کرنے کے لیے اس نے سنسکرت زبان سیکھی۔ ہندوستان میں البیرونی نے کم و بیش دس سال گزارےاور اس دوران ہندو مذہب کے متعلق بہت سی معلومات حاصل کیں۔ یہ تمام معلومات زیر مطالعہ کتاب کا حصہ ہیں۔ ہندوؤں کے ہاں تصور خدا کیا ہے؟ دنیا سے نجات پانے کے کیا راستے ہیں؟ ہندوؤں کے دیگر مذاہب کے بارے میں کیا نظریات ہیں؟ اوربیوی کو خاوند کے ساتھ ستی کرنے کی کیا وجہ ہے؟ ہندو ازم سے متعلق یہ اور اس طرح کے دیگر بہت سے حقائق کو نہایت عرق ریزی کے ساتھ اس کتاب میں بیان کر دیا گیا ہے۔ اس کتاب کو ہندوؤں سے متعلق معلومات کا انسائیکلوپیڈیا کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اس کتاب کے مطالعے سے اس بات کو سمجھنے میں مدد ملے گی کہ ہندوؤں کو دعوت دین دینے کے حوالے سے کہاں کہاں خامیاں موجود ہیں اور کن ذرائع کو ملحوظ رکھ کر ہم ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو مائل بہ اسلام کر سکتے ہیں۔(ع۔م)
  • title-page-goshtkhorijaizyanajaiz-copy
    ڈاکٹر ذاکر نائیک
    دنیا جہان میں مختلف نظریات اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ پائے جاتے ہیں-لہذا ایک دوسرے کے نقطہ ہائے نگاہ کی تفہیم کے لیے بحث مباحثوں اور مناظروں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا-زیر نظر کتاب میں بھی ڈاکٹر ذاکر نائیک اور رشمی بھائی زاویری کے درمیان ''گوشت خوری جائز یا ناجائز'' کے موضوع پر ہونے والےمباحثے کو مرتب کیا گیا ہےجس میں فریقین کی طرف سے اپنے مؤقف کے اثبات میں جدید سائنسی حقائق کی روشنی میں پرزور دلائل دئیے گئے ہیں-کتاب کے دوسرے حصے میں ڈاکٹر ذاکر نائیک نے موضوع سے متعلقہ سوالات کا بالدلائل تسلی بخش جواب پیش کیا ہے- ان سوالات کا تعلق دنیا میں کھائے جانے والی مختلف غذاوؤں سے متعلق تھا کہ کون کون سی غذا جس کو دین اسلام حرام قرار دیتا ہے اور اس کی کیا حکمتیں ہیں اور جن غذاوؤں کو حلال قرار دیتا ہے اس میں کیا کیا فوائد ہیں-

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1306 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں