• title-pages-asmane-hadayat-k-sattar-sitare
    طالب ہاشمی
    صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم اجمعین  وہ نفوس قدسی ہیں جن کو خاتم الانبیاﷺکےجمال جہاں آراسے اپنی آنکھیں روشن کرنے اور آپ کی مجلس نشینی کی سعادت نصیب ہوئی۔محسن انسانیت کے فیض صحبت نے ان کے شرف انسانیت کو جیتی جاگتی تصویر بنادیا۔ ان کاہر فرد خشیت الہی ،حق گوئی،ایثار،قربانی ،تقوی ،دیانت ،عدل اوراحسان کاپیکرجمیل تھا۔تمام علمائے حق کا اس بات پرکامل اتفاق ہےکہ صحبت رسول ﷺسے بڑھ کرکوئی شرف اور بزرگی نہیں۔اس صحبت سےمتمتع ہونےوالےپاک  نفس ہستیوں کی عظمت اور حسن کردار پراللہ تعالی نے قرآن حکیم میں جابجامہر ثبت فرمائی ہے۔ان عظیم ہستیوں کی سیرت کا ایک بہترین مرقع تیار کرکے جناب طالب ہاشمی صاحب نے ہمارے ہاتھوں میں تھمادیاہے۔تاکہ ہم اس ان نقوش سے راہ ہدایت پاسکیں۔اور اپنی دنیا وآخرت کو بہتر بناسکیں۔اس سلسلے میں واضح رہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی سیرت کے حوالے سے ایک نہایت اہم باب  مشاجرات صحابہ ہے جوکہ ایک انتہائی نازک باب ہے ہاشمی صاحب  نےاس میں اہل سنت کےطریقےپرچلتےہوئے کف لسان کامؤقف  اختیار کیا ہے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-aale-rasool-w-ashabe-rasool-aik-dosre-k-sana-khawan-copy
    مرکز البحوث والدراسات

    یہ دعوی بے بنیاد اور تاریخ کی تحریف ہےکہ  اصحاب رسول ﷺ اور آل رسول ﷺ ایک  دوسرے کی دشمنی  دل میں چھپائے ہوئے تھے ۔ بلکہ وہ تو  کافروں پر بڑے سخت اور آپس  میں ایک دوسرے پر حم کرتے   تھے ۔اور ان کے  درمیان محبت ومودت تھی، ایک  دوسرے کااحترام واکرام تھا اور وہ  ایک دوسرے کی ثناخوانی میں رطب اللسان تھے ان  کے درمیان رشتے داری اور سسرالی رشتہ تھا وہ دین کی سربلندی کرنے ،رسول اللہﷺ کی مدد کرنے  اورکافروں کے خلاف جہاد کرنے میں شریک تھے۔اور یہ  بات ہر ایک کومعلوم ہے  کہ اصحاب رسول ﷺ اورآل رسول  سب اہل فضل اورافضل لوگ ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ آل رسول واصحاب رسول ایک دوسرے کے ثنا خواں ‘‘  ایک عربی کتاب ’’ الثناء  المتبال  بین  الآل  والاصحاب ‘‘ کا  اردو ترجمہ  ہے جس میں آل رسول کی طرف سے صحابہ کرام کی تعریف وتوصیف اور صحابہ  کرام کی طرف سے  آل  رسول  کی تعریف وتوصیف کے سلسلے میں نصوص پیش کیے گئے ہیں۔جس کے مطالعہ سے یہ بات  واضح طور پر معلوم ہوجاتی ہے  کہ آل رسول  اور اصحاب رسول  اپنے دلوں میں  ایک دوسرے  سے محبت ومودت اور عزت رکھتے تھے۔ اللہ  تعالیٰ مترجم وناشرین کی  اس کاوش کوقبول فرمائے اوراس کتاب کو  امت مسلمہ کے لیے   آل رسولﷺ واصحاب رسول ﷺسے  محبت اور ان کی عزت واحترام  کرنے کا ذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • untitled-1
    علی بن محمد الجزری
    صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ پاک طینت ہستیاں ہیں جنہوں نے دین اسلام کی نشر و اشاعت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا اور دین اسلام کی شمع تاقیامت  روشن رکھنے کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہ کیا۔ زیر نظر کتاب ’اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ‘ میں انہیں بزرگ ہستیوں کی زندگی کے لمحات کو الفاظ جامہ پہنایا گیا ہےتاکہ اہل اسلام ان کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے لیے راہ عمل متعین کریں۔ اس کتاب میں ایسے ہزاروں صحابہ کرام کے حالات و واقعات بھی سامنے آگئے ہیں جن کے نام تک سے عموماً  لوگ ناواقف ہیں۔ ان کے تقوی و للہیت، صبرو استقامت، انکسار و تواضع اور جانبازی و خوش اخلاقی دیکھ کر اندازہ ہے کہ واقعتاً یہ لوگ اس قابل تھے کہ خدا تعالیٰ ان کو بیشتر دفعہ ’رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ‘ کا سرٹیفیکیٹ دیتا۔ ان کی انہی خوبیوں کی وجہ سے آج تک فوز و سعادت کے چراغ روشن ہیں۔ اس کتاب کے مصنف علامہ ابن اثیرعلی نب محمد الجزری ہیں جو ثقاہت و عدالت سے متصف اور حفظ و ضبط کے خصائص سے بہرہ مند ہیں۔ انہوں نے اس کتاب میں صحابہ کرام کے تذکرے حروف تہجی کے اعتبار سے مرتب کیے ہیں۔ مولانا کی تالیف کردہ عربی کتاب آٹھ حصوں پر مشتمل تھی جس کے پہلے سات حصوں کا اردو ترجمہ انڈیا کے عالم دین مولانا عبدالشکور فاروقی نے کیا ہے جبکہ آٹھویں اور آخری حصے کا ترجمہ مختلف علما نے مل کر کیا ہے۔ یہ کتاب اصحاب رسولﷺ کے حالات و واقعات پر ایک اساسی تالیف ہے اور گویا ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے۔

  • untitled-1
    علی بن محمد الجزری
    صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ پاک طینت ہستیاں ہیں جنہوں نے دین اسلام کی نشر و اشاعت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا اور دین اسلام کی شمع تاقیامت  روشن رکھنے کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہ کیا۔ زیر نظر کتاب ’اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ‘ میں انہیں بزرگ ہستیوں کی زندگی کے لمحات کو الفاظ جامہ پہنایا گیا ہےتاکہ اہل اسلام ان کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے لیے راہ عمل متعین کریں۔ اس کتاب میں ایسے ہزاروں صحابہ کرام کے حالات و واقعات بھی سامنے آگئے ہیں جن کے نام تک سے عموماً  لوگ ناواقف ہیں۔ ان کے تقوی و للہیت، صبرو استقامت، انکسار و تواضع اور جانبازی و خوش اخلاقی دیکھ کر اندازہ ہے کہ واقعتاً یہ لوگ اس قابل تھے کہ خدا تعالیٰ ان کو بیشتر دفعہ ’رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ‘ کا سرٹیفیکیٹ دیتا۔ ان کی انہی خوبیوں کی وجہ سے آج تک فوز و سعادت کے چراغ روشن ہیں۔ اس کتاب کے مصنف علامہ ابن اثیرعلی نب محمد الجزری ہیں جو ثقاہت و عدالت سے متصف اور حفظ و ضبط کے خصائص سے بہرہ مند ہیں۔ انہوں نے اس کتاب میں صحابہ کرام کے تذکرے حروف تہجی کے اعتبار سے مرتب کیے ہیں۔ مولانا کی تالیف کردہ عربی کتاب آٹھ حصوں پر مشتمل تھی جس کے پہلے سات حصوں کا اردو ترجمہ انڈیا کے عالم دین مولانا عبدالشکور فاروقی نے کیا ہے جبکہ آٹھویں اور آخری حصے کا ترجمہ مختلف علما نے مل کر کیا ہے۔ یہ کتاب اصحاب رسولﷺ کے حالات و واقعات پر ایک اساسی تالیف ہے اور گویا ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے۔

  • untitled-1
    علی بن محمد الجزری
    صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ پاک طینت ہستیاں ہیں جنہوں نے دین اسلام کی نشر و اشاعت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا اور دین اسلام کی شمع تاقیامت  روشن رکھنے کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہ کیا۔ زیر نظر کتاب ’اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ‘ میں انہیں بزرگ ہستیوں کی زندگی کے لمحات کو الفاظ جامہ پہنایا گیا ہےتاکہ اہل اسلام ان کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے لیے راہ عمل متعین کریں۔ اس کتاب میں ایسے ہزاروں صحابہ کرام کے حالات و واقعات بھی سامنے آگئے ہیں جن کے نام تک سے عموماً  لوگ ناواقف ہیں۔ ان کے تقوی و للہیت، صبرو استقامت، انکسار و تواضع اور جانبازی و خوش اخلاقی دیکھ کر اندازہ ہے کہ واقعتاً یہ لوگ اس قابل تھے کہ خدا تعالیٰ ان کو بیشتر دفعہ ’رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ‘ کا سرٹیفیکیٹ دیتا۔ ان کی انہی خوبیوں کی وجہ سے آج تک فوز و سعادت کے چراغ روشن ہیں۔ اس کتاب کے مصنف علامہ ابن اثیرعلی نب محمد الجزری ہیں جو ثقاہت و عدالت سے متصف اور حفظ و ضبط کے خصائص سے بہرہ مند ہیں۔ انہوں نے اس کتاب میں صحابہ کرام کے تذکرے حروف تہجی کے اعتبار سے مرتب کیے ہیں۔ مولانا کی تالیف کردہ عربی کتاب آٹھ حصوں پر مشتمل تھی جس کے پہلے سات حصوں کا اردو ترجمہ انڈیا کے عالم دین مولانا عبدالشکور فاروقی نے کیا ہے جبکہ آٹھویں اور آخری حصے کا ترجمہ مختلف علما نے مل کر کیا ہے۔ یہ کتاب اصحاب رسولﷺ کے حالات و واقعات پر ایک اساسی تالیف ہے اور گویا ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے۔

  • untitled-1
    علی بن محمد الجزری
    صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ پاک طینت ہستیاں ہیں جنہوں نے دین اسلام کی نشر و اشاعت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا اور دین اسلام کی شمع تاقیامت  روشن رکھنے کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہ کیا۔ زیر نظر کتاب ’اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ‘ میں انہیں بزرگ ہستیوں کی زندگی کے لمحات کو الفاظ جامہ پہنایا گیا ہےتاکہ اہل اسلام ان کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے لیے راہ عمل متعین کریں۔ اس کتاب میں ایسے ہزاروں صحابہ کرام کے حالات و واقعات بھی سامنے آگئے ہیں جن کے نام تک سے عموماً  لوگ ناواقف ہیں۔ ان کے تقوی و للہیت، صبرو استقامت، انکسار و تواضع اور جانبازی و خوش اخلاقی دیکھ کر اندازہ ہے کہ واقعتاً یہ لوگ اس قابل تھے کہ خدا تعالیٰ ان کو بیشتر دفعہ ’رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ‘ کا سرٹیفیکیٹ دیتا۔ ان کی انہی خوبیوں کی وجہ سے آج تک فوز و سعادت کے چراغ روشن ہیں۔ اس کتاب کے مصنف علامہ ابن اثیرعلی نب محمد الجزری ہیں جو ثقاہت و عدالت سے متصف اور حفظ و ضبط کے خصائص سے بہرہ مند ہیں۔ انہوں نے اس کتاب میں صحابہ کرام کے تذکرے حروف تہجی کے اعتبار سے مرتب کیے ہیں۔ مولانا کی تالیف کردہ عربی کتاب آٹھ حصوں پر مشتمل تھی جس کے پہلے سات حصوں کا اردو ترجمہ انڈیا کے عالم دین مولانا عبدالشکور فاروقی نے کیا ہے جبکہ آٹھویں اور آخری حصے کا ترجمہ مختلف علما نے مل کر کیا ہے۔ یہ کتاب اصحاب رسولﷺ کے حالات و واقعات پر ایک اساسی تالیف ہے اور گویا ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے۔
  • untitled-1
    علی بن محمد الجزری
    صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ پاک طینت ہستیاں ہیں جنہوں نے دین اسلام کی نشر و اشاعت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا اور دین اسلام کی شمع تاقیامت  روشن رکھنے کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہ کیا۔ زیر نظر کتاب ’اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ‘ میں انہیں بزرگ ہستیوں کی زندگی کے لمحات کو الفاظ جامہ پہنایا گیا ہےتاکہ اہل اسلام ان کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے لیے راہ عمل متعین کریں۔ اس کتاب میں ایسے ہزاروں صحابہ کرام کے حالات و واقعات بھی سامنے آگئے ہیں جن کے نام تک سے عموماً  لوگ ناواقف ہیں۔ ان کے تقوی و للہیت، صبرو استقامت، انکسار و تواضع اور جانبازی و خوش اخلاقی دیکھ کر اندازہ ہے کہ واقعتاً یہ لوگ اس قابل تھے کہ خدا تعالیٰ ان کو بیشتر دفعہ ’رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ‘ کا سرٹیفیکیٹ دیتا۔ ان کی انہی خوبیوں کی وجہ سے آج تک فوز و سعادت کے چراغ روشن ہیں۔ اس کتاب کے مصنف علامہ ابن اثیرعلی نب محمد الجزری ہیں جو ثقاہت و عدالت سے متصف اور حفظ و ضبط کے خصائص سے بہرہ مند ہیں۔ انہوں نے اس کتاب میں صحابہ کرام کے تذکرے حروف تہجی کے اعتبار سے مرتب کیے ہیں۔ مولانا کی تالیف کردہ عربی کتاب آٹھ حصوں پر مشتمل تھی جس کے پہلے سات حصوں کا اردو ترجمہ انڈیا کے عالم دین مولانا عبدالشکور فاروقی نے کیا ہے جبکہ آٹھویں اور آخری حصے کا ترجمہ مختلف علما نے مل کر کیا ہے۔ یہ کتاب اصحاب رسولﷺ کے حالات و واقعات پر ایک اساسی تالیف ہے اور گویا ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے۔

  • untitled-1
    علی بن محمد الجزری
    صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ پاک طینت ہستیاں ہیں جنہوں نے دین اسلام کی نشر و اشاعت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا اور دین اسلام کی شمع تاقیامت  روشن رکھنے کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہ کیا۔ زیر نظر کتاب ’اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ‘ میں انہیں بزرگ ہستیوں کی زندگی کے لمحات کو الفاظ جامہ پہنایا گیا ہےتاکہ اہل اسلام ان کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے لیے راہ عمل متعین کریں۔ اس کتاب میں ایسے ہزاروں صحابہ کرام کے حالات و واقعات بھی سامنے آگئے ہیں جن کے نام تک سے عموماً  لوگ ناواقف ہیں۔ ان کے تقوی و للہیت، صبرو استقامت، انکسار و تواضع اور جانبازی و خوش اخلاقی دیکھ کر اندازہ ہے کہ واقعتاً یہ لوگ اس قابل تھے کہ خدا تعالیٰ ان کو بیشتر دفعہ ’رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ‘ کا سرٹیفیکیٹ دیتا۔ ان کی انہی خوبیوں کی وجہ سے آج تک فوز و سعادت کے چراغ روشن ہیں۔ اس کتاب کے مصنف علامہ ابن اثیرعلی نب محمد الجزری ہیں جو ثقاہت و عدالت سے متصف اور حفظ و ضبط کے خصائص سے بہرہ مند ہیں۔ انہوں نے اس کتاب میں صحابہ کرام کے تذکرے حروف تہجی کے اعتبار سے مرتب کیے ہیں۔ مولانا کی تالیف کردہ عربی کتاب آٹھ حصوں پر مشتمل تھی جس کے پہلے سات حصوں کا اردو ترجمہ انڈیا کے عالم دین مولانا عبدالشکور فاروقی نے کیا ہے جبکہ آٹھویں اور آخری حصے کا ترجمہ مختلف علما نے مل کر کیا ہے۔ یہ کتاب اصحاب رسولﷺ کے حالات و واقعات پر ایک اساسی تالیف ہے اور گویا ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے۔

  • title-pages-islami-pegham-k-awwaleen-alambrdar-copy
    سید محب الدین الخطیب

    صحابہ کرام  اس امت کے سب سے افضل واعلی لوگ تھے ،انہوں نے نبی کریمﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا،ان کے ساتھ مل کر کفار سے لڑائیاں کیں ، اسلام کی سر بلندی اور اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا۔پوری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ  صحابہ کرام  تمام کے تمام  عدول ہیں یعنی دیانتدار،عدل اور انصاف کرنے والے ،حق پر ڈٹ جانے والے اور خواہشات کی طرف مائل نہ ہونے والے ہیں۔صحابہ کرام  کے بارے  میں اللہ تعالی کا یہ اعلان ہے کہ اللہ  ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔لیکن بعض لوگوں  نے صحابہ کرام کے باہمی اجتہادی اختلافات کو سامنے رکھ کر ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دینا شروع کر دی ہے۔مشاجرات صحابہ کے بارے میں امت نے ہمیشہ محتاط موقف اختیار کیا ہے اور ان کے باہمی اختلافات کو حسن ظن پر محمول کر کے  صحابہ دشمنی سے امکانی حد تک اجتناب کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلامی پیغام کے اولین علمبردار "ہندوستان کے معروف عالم دین علامہ سید محب الدین الخطیب﷫کی عربی تصنیف "حملۃ رسالۃ الاسلام الاولون"کا اردو ترجمہ ہے۔ اردوترجمے کی سعادت محترم محمد اسلم سیف فیروز پوری نے حاصل کی ہے۔مولف  ﷫نے اس کتاب میں مشاجرات صحابہ  پر بڑی اہم گفتگو کی ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس مخلصانہ کوشش کو  قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو صحابہ کرام  سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • uswa-e-sahaba
    عبد السلام ندوی

    آج سے چودہ صدیاں قبل جب لوگ ظلمت وکفر اور شرک میں پھنسے ہوئے تھے۔بیت اللہ میں تین سوساٹھ بتوں کو پوجا جاتا تھا۔ قتل وغارت ، عصمت فروشی، شراب نوشی، قماربازی اور چاروں طرف بدامنی کا دوردورہ تھا۔تومولائے کریم کی رحمت کاملہ جوش میں آئی اوراس بگھڑے ہوئےعرب معاشرے کی اصلاح کے لیے خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمائے ۔آپ کی بعثت نبوت کے شروع میں ہی ایک مختصر سی جماعت آپﷺ پر ایمان لائی۔ جوآہستہ آہستہ بڑھ کر ایک عظیم طاقت اور حزب اللہ ،خدائی لشکر کی صورت اختیار کر گئی۔ اس جماعت نے آپﷺ کے مشن کی تکمیل کی خاطر تن من دھن کی بازی لگادی ۔چنانچہ رسول کریمﷺ نے اللہ تعالیٰ کی مدد اور سرفروش جماعت کی معیت سے جزیرۃ العرب کی کایا پلٹ کررکھ دی ۔اس جماعت کو اصحاب النبیﷺ کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔ان کے بعد میں آنے والی ساری امت مجموعی طور پر تقویٰ اور اتباع کے مراتب عالیہ طے کرنے کے باوجود بھی ان اصحاب رسول ؐ کے مرتبے کو ہر گز نہیں پہنچ سکتی ۔ صحابہ کرام ﷢ کی جماعت انبیاء ورسل کے بعد سب مخلوق سے افضل ترین جماعت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اور نبی کریم ﷺ نے اپنی زبانِ نبوت سے صحابہ کے فضائل و مناقب کو بیان کیا۔ صحابہ کرام ﷢ کے ایمان افروز تذکرے سوانح حیا ت کے حوالے سے ائمہ محدثین او راہل علم کئی کتب تصنیف کی ہیں عربی زبان میں الاصابہ اور اسد الغابہ وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔اور اسی طرح اردو زبان میں کئی مو جو د کتب موحود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ اسوۂ صحابہ ‘‘مولانا عبد السلام ندوی ﷫ کی مرتب شدہ کا جدید ایڈیشن ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے صحابہ کرام ﷢ کی حیات طیبہ، علم وعمل،امن وآشتی، عدل وانصاف، شفقت ورافت ، عزم وہمت جرات وشجات صدق وصفا اوراخلاق وتمدن کے دلنشیں تذکروں کو بڑے آسان اندا ز میں پیش کیا ہے۔ (م۔ا)

  • title-pages-uswah-sahaba-e-kamal-ra-copy
    عبد السلام ندوی

    صحابہ  نام  ہے  ان نفوس  قدسیہ  کا جنہوں  نے   محبوب  ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا  اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو  اپنے   ایمان  وعمل میں پوری طرح سمونے کی  کوشش کی ۔ صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی  سے مراد رسول  اکرم ﷺکا وہ  ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت  میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی  کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص  ہے  لہذاب  یہ لفظ کوئی دوسراا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے  استعمال نہیں کرسکتا۔  انبیاء  کرام﷩ کے  بعد  صحابہ کرام   کی   مقدس  جماعت تمام  مخلوق سے  افضل  اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام  کو ہی  حاصل  ہے  کہ اللہ  نے   انہیں دنیا میں  ہی  مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے  بہت سی  قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام  سے محبت اور  نبی کریم  ﷺ نے  احادیث مبارکہ  میں جوان کی افضلیت  بیان کی ہے ان کو تسلیم   کرنا  ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ صحابہ کرام   کے ایمان  ووفا کا انداز اللہ کو اس قدر  پسند آیا کہ اسے   بعد میں آنے والے  ہر ایمان  لانے والے  کے لیے کسوٹی قرار  دے  دیا۔یو  ں تو حیطہ اسلام  میں آنے   کے بعد صحابہ  کرام    کی زندگی کاہر گوشہ تاب ناک ہے  لیکن بعض  پہلو اس  قدر درخشاں ،منفرد اور ایمان افروز ہیں کہ  ان کو  پڑہنے  اور سننے والا دنیا کا   کوئی بھی  شخص  متاثر  ہوئے بغیر  نہیں رہ سکتا۔ صحابہ کرام   کےایمان  افروز  تذکرے سوانح حیا ت کے  حوالے  سے  ائمہ محدثین او راہل علم  کئی  کتب تصنیف کی  ہیں عربی زبان  میں  الاصابہ اور اسد الغابہ وغیرہ  قابل ذکر ہیں  ۔اور اسی طرح اردو زبان میں  کئی مو جو د کتب موحود ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ اسوۂ صحابہ کامل‘‘مولانا عبد السلام ندوی ﷫ کی مرتب شدہ  ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے  صحابہ کرام   کی حیات طیبہ، علم وعمل،امن وآشتی، عدل وانصاف، شفقت ورافت ، عزم وہمت جرات وشجات صدق وصفا اوراخلاق وتمدن  کے دلنشیں تذکروں کو بڑے آسان اندا ز میں پیش کیا ہے ۔(م۔ا)

  • pages-from-uswa-e-hussain
    سید داؤد غزنوی

    سیدنا حسین ﷜ کی شہادت کا واقعہ جو شریعت محمدیہ کی بے شمار بصیرتیں اپنے اندر پنہاں رکھتا تھا، افسوس کہ وہ بھی افراط وتفریط کی دست درازیوں سے محفوظ نہ رہ سکا۔ماتمی مجالس کی چیخ وپکار اور ماتمیوں کی سینہ کوبی کے شور میں اس کی صدائے عبرت انگیز گم ہو گئی۔آہ !اشکبار آنکھوں کے آنسوؤں کے سیلاب میں اس کا سارا سامان عبرت وبصیرت بہہ گیا ۔افسوس اس کی ساری عظمت وبزرگی تعزیوں کے ساتھ ہی زمین میں دفن کر دی گئی۔آہ! دوست اور دشمن دونوں نے اس کے ساتھ بے انصافی کی۔دشمن نے اس واقعہ شہادت پر خوشیاں منائیں اور اس کی عظمت کو اپنے جور واستبداد کے زور سے متانے کی کوشش کی۔لیکن دوست نے بھی اس کے حقیقی شرف سے غفلت برتی اور مختلف بدعات اور شرکیہ رسوم کے تاریک پروں مین اس کو چھپا دیا۔پس آئیے !دنیا کی مجالس ماتم میں ایک نئے حلقہ ماتم کا اضافہ کریں، اور واقعہ شہادت کو اسرار شریعت کا سرچشمہ بنائیں۔اور ایک ایسی مجلس منعقد کریں جو سینہ کوبی اور ماتمی بین کی چیخ وپکار کی بجائے صبر واستقامت، عزیمت وبرداشت، ایثار وقربانی، جان نثاری وفدائیت، اور شہادت وفنا فی سبیل الحریت کا درس دے۔ زیر تبصرہ کتاب"اسوہ حسین﷜"جماعت اہل پاکستان کے معروف عالم دین محترم مولانا سید محمد داود غزنوی صاحب﷫ کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے سیدنا حسین﷜ کی شہادت کو ایک منفرد انداز میں نمونے کے طور پر بیان کیا ہے اور ہمیں اس نمونے کی پیروی کرنے کی تلقین کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-ashab-e-badar-copy
    قاضی سلیمان منصور پوری رحمہ اللہ

    صحابہ کرام  اس امت کے سب سے افضل واعلی لوگ تھے ،انہوں نے نبی کریم  ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا،ان کے ساتھ مل کر کفار سے لڑائیاں کیں ، اسلام کی سر بلندی اور اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا۔پوری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ  صحابہ کرام  تمام کے تمام  عدول ہیں یعنی دیانتدار،عدل اور انصاف کرنے والے ،حق پر ڈٹ جانے والے اور خواہشات کی طرف مائل نہ ہونے والے ہیں۔صحابہ کرام  کے بارے  میں اللہ تعالی کا یہ اعلان ہے کہ اللہ  ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔نبی کریم ﷺ کے ان صحابہ  کرام   میں سے بعض صحابہ کرام   ایسے بھی ہیں جن کی جرات وپامردی،عزم واستقلال اوراستقامت نے میدان جہاد  میں جان اپنی ہتھیلی پر رکھ کر بہادری  کی لازوال داستانیں رقم کیں،اور اپنے خون کی سرخی سے اسلام کے پودے کو تناور درخت بنایا۔ زیر تبصرہ کتاب "اصحاب بدر" ہندوستان  کے نامور صاحب قلم اورمورخ  محترم قاضی محمد سلیمان منصور پوری﷫کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے مختلف پہلوؤں سے جنگ بدر میں شریک ہونے والے صحابہ کرام کے نام اور مختصر حالات زندگی کو بیا ن کیا ہے۔قاضی صاحب ایک معروف مصنف اور مورخ  ہیں ۔ان کے قلم سے اب تک متعدد تحریریں شائع ہو کر درجہ قبولیت حاصل کر چکی ہیں۔اور سیرت نبوی ﷺ پر ان کی کتاب "رحمۃ للعالمین "ہر صاحب علم سے خراج تحسین وصول کر چکی ہے۔ اللہ تعالی مولف کی اس مخلصانہ کوشش کو  قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو صحابہ کرام  سے محبت کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-ashab-e-badar-takhreej-shuda-audition--copy
    قاضی سلیمان منصور پوری رحمہ اللہ

    صحابہ نام ہے ان نفوس قدسیہ کا جنہوں نے محبوب ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو اپنے ایمان وعمل میں پوری طرح سمونے کی کوشش کی ۔ صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی سے مراد رسول اکرم ﷺکا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسرا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام نے نبی کریم ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا،ان کے ساتھ مل کر کفار سے لڑائیاں کیں ، اسلام کی سر بلندی اور اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا۔پوری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرام تمام کے تمام عدول ہیں یعنی دیانتدار،عدل اور انصاف کرنے والے ،حق پر ڈٹ جانے والے اور خواہشات کی طرف مائل نہ ہونے والے ہیں۔صحابہ کرام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ اعلان ہے کہ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔نبی کریم ﷺ کے ان صحابہ کرام میں سے بعض صحابہ کرام ایسے بھی ہیں جن کی جرات وپامردی،عزم واستقلال اوراستقامت نے میدان جہاد میں جان اپنی ہتھیلی پر رکھ کر بہادری کی لازوال داستانیں رقم کیں،اور اپنے خون کی سرخی سے اسلام کے پودے کو تناور درخت بنایا۔ صحابہ کرام کےایمان افروز تذکرے اورسوانح حیا ت کے حوالے سے ائمہ محدثین او راہل علم نے کئی کتب تصنیف کی ہیں عربی زبان میں الاصابہ اور اسد الغابہ وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔اور اسی طرح اردو زبان میں کئی مو جو د کتب موحود ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب "اصحاب بدر" ہندوستان کے نامور صاحب قلم اورمورخ محترم قاضی محمد سلیمان منصور پوری﷫کی تصنیف ہے۔جس میں معروف روایت کے مطابق جمیع اصحاب بدر کا احاطہ کیا ہے آسان فہم انداز میں جنگ بدر میں شریک ہونے والے صحابہ کرام کے نام اور مختصر حالات زندگی کو بیا ن کیا ہے۔قاضی صاحب ایک معروف مصنف اور مورخ ہیں ۔ان کے قلم سے متعدد کتب شائع ہو کر درجہ قبولیت حاصل کر چکی ہیں۔اور سیرت نبوی ﷺ پر ان کی کتاب "رحمۃ للعالمین "ہر صاحب علم سے خراج تحسین وصول کر چکی ہے۔ اللہ تعالی مولف کی اس مخلصانہ کوشش کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو صحابہ کرام سے محبت کرنے کی توفیق عطافرمائے۔(آمین ) یہ کتاب اگرچہ پہلے بھی ویب سائٹ پر موجود تھی لیکن مکتبہ اسلامیہ،لاہور کی طبع شدہ اس ایڈیشن میں تخریج کا اہتمام کیا گیا ہے اس لیے اسے بھی پبلش کردیاگیا ہے ۔(م۔ا)

  • pages-from-ashaab-e-badar
    قاضی سلیمان منصور پوری رحمہ اللہ

    غزوہ بدر 17 رمضان 2 ہجری بروز جمعہ ہوا۔ اس میں کفار تقریباً ایک ہزار تھے اور ان کے ساتھ بہت زیادہ سامان جنگ تھا جبکہ مسلمان تین سو تیرہ (313) تھے اور ان میں سے بھی اکثر نہتے تھے، مسلمانوں کے پاس دو گھوڑے، چھ زرہیں، آٹھ تلواریں اور ستر اونٹ تھے۔جبکہ صحابہ نام ہے ان نفوس قدسیہ کا جنہوں نے محبوب ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو اپنے ایمان وعمل میں پوری طرح سمونے کی کوشش کی ۔ صحابہ کرام نے نبی کریم ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا،ان کے ساتھ مل کر کفار سے لڑائیاں کیں ، اسلام کی سر بلندی اور اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا۔پوری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرام تمام کے تمام عدول ہیں یعنی دیانتدار،عدل اور انصاف کرنے والے ،حق پر ڈٹ جانے والے اور خواہشات کی طرف مائل نہ ہونے والے ہیں۔ صحابہ کرام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ اعلان ہے کہ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔نبی کریم ﷺ کے ان صحابہ کرام میں سے بعض صحابہ کرام ایسے بھی ہیں جن کی جرات وپامردی،عزم واستقلال اوراستقامت نے میدان جہاد میں جان اپنی ہتھیلی پر رکھ کر بہادری کی لازوال داستانیں رقم کیں،اور اپنے خون کی سرخی سے اسلام کے پودے کو تناور درخت بنایا۔ صحابہ کرام کےایمان افروز تذکرے اورسوانح حیا ت کے حوالے سے ائمہ محدثین او راہل علم نے کئی کتب تصنیف کی ہیں عربی زبان میں الاصابہ اور اسد الغابہ وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔اور اسی طرح اردو زبان میں کئی مو جو د کتب موحود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "اصحاب بدر" ہندوستان کے نامور صاحب قلم اورمورخ محترم قاضی محمد سلیمان منصور پوری﷫کی تصنیف ہے۔جس میں معروف روایت کے مطابق جمیع اصحاب بدر کا احاطہ کیا ہے آسان فہم انداز میں جنگ بدر میں شریک ہونے والے صحابہ کرام کے نام اور مختصر حالات زندگی کو بیا ن کیا ہے۔قاضی صاحب ایک معروف مصنف اور مورخ ہیں ۔ان کے قلم سے متعدد کتب شائع ہو کر درجہ قبولیت حاصل کر چکی ہیں۔اور سیرت نبوی ﷺ پر ان کی کتاب "رحمۃ للعالمین "ہر صاحب علم سے خراج تحسین وصول کر چکی ہے۔ اللہ تعالی مولف کی اس مخلصانہ کوشش کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو صحابہ کرام سے محبت کرنے کی توفیق عطافرمائے۔(آمین ) طالب دعا: پ،ر،ر

  • pages-from-as-haab-e-salaasa-key-muqam-par-shia-sunni-ittehad
    عبد الرحمن عزیز الہ آبادی

    موجودہ دور میں عالم اسلام میں امریکہ اور سامراج کا ایک بنیادی ہدف، تفرقہ و اختلافات کی آگ بھڑکانہ ہے اور اس کا بہترین طریقہ اہل تشیع اور اہل تسنن کے درمیان اختلاف ڈالنا ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں سامراج کے پروردہ عناصر آج عراق کے مسائل کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں؟! کس طرح زہرافشانی کر رہے ہیں اور دشمنی کے بیج بو رہے ہیں؟! مغرب کی تسلط پسند اور جاہ طلب طاقتیں برسہا برس سے اس کام میں مصروف ہیں۔ شیعہ سنی جنگ امریکہ کا مرغوب ترین مشغلہ ہے۔قوم وملت کی پستی کا سبب مذہب سے بے اعتنائی،لا پرواہی اور صنادیدو کبائر اسلام کی تاریخ و سیر سے نا آشنائی اور باہمی اتحاد و اتفاق کی قلت ہے۔بد قسمتی سے عالم اسلام میں ایسے بھی عناصر ہیں جو طاغوتی اور سامراجی طاقتوں کی قربت حاصل کرنے کے لئے ہر جائز ناجائز کام کرنے کو تیار ہیں اور شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دے رے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"اصحاب ثلاثہ کے مقام پر شیعہ سنی اتحاد" محترم عبدالرحمن عزیز الہ آبادی کی تصنیف ہے۔جس میں شیعہ سنی کے مابین اصحاب ثلاثہ پر متفق ہونے کی ایک تحقیقی کاوش کی ہےاور اہل تشیع کی معتبر کتب کشف الغمہ،نہج البلاغہ تفسیر قمی،وغیرہ سے اصحاب ثلاثہ پر اتفاق کو ثابت کیا ہے ۔اللہ رب العزت ان کی محنت کو قبو ل فرمائے اور امت مسلمہ کو باہمی اتفاق کی توفیق عطا فرمائے۔آمینـ (عمیر )

  • pages-from-afzaliyat-e-shaikhain
    شاہ عبد العزیز دہلوی

    صحابہ کرام﷢ اس امت کے سب سے افضل واعلی لوگ تھے ،انہوں نے نبی کریم ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا،ان کے ساتھ مل کر کفار سے لڑائیاں کیں ، اسلام کی سر بلندی اور اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا۔پوری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرام ﷢تمام کے تمام عدول ہیں یعنی دیانتدار،عدل اور انصاف کرنے والے ،حق پر ڈٹ جانے والے اور خواہشات کی طرف مائل نہ ہونے والے ہیں۔صحابہ کرام ﷢کے بارے میں اللہ تعالی کا یہ اعلان ہے کہ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔لیکن بعض لوگوں نے ضعیف روایات کا سہارا لے کر بعض کبار صحابہ کرام ﷢پر اعتراضات وارد کئے ہیں ،جن کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "افضلیت شیخین "ہندوستان کے معروف عالم دین مولانا شاہ عبد العزیز دہلوی﷫کی فارسی تصنیف "وسیلۃ النجات"کا اردو ترجمہ ہے۔ اردوترجمے کی سعادت مولانا محمد سلیمان صاحب انصاری کی حاصل کی ہے۔مولف ﷫نے اس کتاب میں شیخین سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق﷢ پر کئے گئے غیر حقیقی اور بے جا اعتراضات کی حقیقت کو واضح کیا ہے اور ان پر وارد طعن کو دور کیا ہے اور ان کی فضیلت کو بیان کیا ہے۔ یہ کتاب انہوں نے اپنے ایک دوست،جو شیعہ مذہب میں کافی دسترس رکھتے تھے،ان کے مطالبے پر انہیں لکھ کر دی۔اللہ تعالی مولف کی اس مخلصانہ کوشش کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو صحابہ کرام ﷢سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-al-asabah-fi-tamyeeze-al-sahabar
    ابن حجر العسقلانی
    ’الإصابة في تمييز الصحابة‘ شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کی ایک شاندار تصنیف ہے۔ اس کی تیاری میں حافظ ابن حجرؒ نے اپنی قیمتی زندگی کی چالیس بہاریں صرف کیں مگر اس کی تشنگی ختم نہ کر پائے۔ کتب سیر و تراجم میں اس کا شمار امہات الکتب میں ہوتا ہے علما  و طلبا میں سے کوئی بھی اس سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ اسے تذکار صحابہ میں مرجع کی حیثیت حاصل ہے۔ اگر ہم اسے اصحاب رسولﷺ کا انسائیکلو پیڈیا قرار دیں تو شاید یہ بات غلط نہ ہو۔ اسی مہتم بالشان کتاب کا اردو ترجمہ اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ کتاب کے مترجم مولانا محمد عامر شہزار علوی ہیں جنھوں نے نہایت جانفشانی اور عرق ریزی کے ساتھ بخوبی یہ کام سرانجام دیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے قاری کو بخوبی علم ہو سکے گا کہ کون کب ایمان لایا۔کون اصحاب رسول میں شامل ہے اور کون نہیں۔ کس کا شمار حضرات صحابہ کے کس طبقے سے میں ہوتاہے۔ کون مہاجرین میں سے ہے او کون انصار میں سے۔ کون اصحاب بدر میں سے ہے اور کس نے حدیبیہ میں بیعت کی۔ کون سی پاک باز ہستیاں السابقون الاولون میں شمار ہوتی ہیں اور کن کے نصیب میں ہدایت آئی لیکن دور نبوت کے آخری ایام میں۔ غرض صحابہ کرام کے بارے میں اس انداز کی بے شمار معلوما کو یہ کتاب سموئے ہوئے ہے۔ صاحبان تحقیق کے ساتھ ساتھ تاریخ کے طالب علموں کے لیے بھی یہ کتاب گنج ہائے گراں مایہ کی حیثیت رکھتی ہے اور ایک عام پڑھے لکھے مسلمان کے لیے بھی اس کا مطالعہ نہایت فائدہ مند ہوگا۔ وہ جان سکے گا کہ اصحاب رسول نے کس انداز سے دین حنیف کی سربلندی کے لیے جد و جہد کی وہ ان کے حالات و واقعات سے آگاہ ہو سکے گا۔یہ یاد رہے کہ کہ اس کتاب میں جتنے نام ہیں وہ اول سے آخر تک سارے صحابہ نہیں بلکہ بعض غیر مسلم لوگوں کا تذکرہ بھی اس کتاب میں آ گیا ہے اور نمبر شمار میں انھیں بھی شمار کر لیا گیا ہے۔ خواتین سمیت کل 12300 (بارہ ہزار تین سو) افراد کا شمار ہوا ہے۔(ع۔م)


    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-al-asabah-fi-tamyeeze-al-sahabar
    ابن حجر العسقلانی
    ’الإصابة في تمييز الصحابة‘ شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کی ایک شاندار تصنیف ہے۔ اس کی تیاری میں حافظ ابن حجرؒ نے اپنی قیمتی زندگی کی چالیس بہاریں صرف کیں مگر اس کی تشنگی ختم نہ کر پائے۔ کتب سیر و تراجم میں اس کا شمار امہات الکتب میں ہوتا ہے علما  و طلبا میں سے کوئی بھی اس سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ اسے تذکار صحابہ میں مرجع کی حیثیت حاصل ہے۔ اگر ہم اسے اصحاب رسولﷺ کا انسائیکلو پیڈیا قرار دیں تو شاید یہ بات غلط نہ ہو۔ اسی مہتم بالشان کتاب کا اردو ترجمہ اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ کتاب کے مترجم مولانا محمد عامر شہزار علوی ہیں جنھوں نے نہایت جانفشانی اور عرق ریزی کے ساتھ بخوبی یہ کام سرانجام دیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے قاری کو بخوبی علم ہو سکے گا کہ کون کب ایمان لایا۔کون اصحاب رسول میں شامل ہے اور کون نہیں۔ کس کا شمار حضرات صحابہ کے کس طبقے سے میں ہوتاہے۔ کون مہاجرین میں سے ہے او کون انصار میں سے۔ کون اصحاب بدر میں سے ہے اور کس نے حدیبیہ میں بیعت کی۔ کون سی پاک باز ہستیاں السابقون الاولون میں شمار ہوتی ہیں اور کن کے نصیب میں ہدایت آئی لیکن دور نبوت کے آخری ایام میں۔ غرض صحابہ کرام کے بارے میں اس انداز کی بے شمار معلوما کو یہ کتاب سموئے ہوئے ہے۔ صاحبان تحقیق کے ساتھ ساتھ تاریخ کے طالب علموں کے لیے بھی یہ کتاب گنج ہائے گراں مایہ کی حیثیت رکھتی ہے اور ایک عام پڑھے لکھے مسلمان کے لیے بھی اس کا مطالعہ نہایت فائدہ مند ہوگا۔ وہ جان سکے گا کہ اصحاب رسول نے کس انداز سے دین حنیف کی سربلندی کے لیے جد و جہد کی وہ ان کے حالات و واقعات سے آگاہ ہو سکے گا۔یہ یاد رہے کہ کہ اس کتاب میں جتنے نام ہیں وہ اول سے آخر تک سارے صحابہ نہیں بلکہ بعض غیر مسلم لوگوں کا تذکرہ بھی اس کتاب میں آ گیا ہے اور نمبر شمار میں انھیں بھی شمار کر لیا گیا ہے۔ خواتین سمیت کل 12300 (بارہ ہزار تین سو) افراد کا شمار ہوا ہے۔(ع۔م)


    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-al-asabah-fi-tamyeeze-al-sahabar
    ابن حجر العسقلانی
    ’الإصابة في تمييز الصحابة‘ شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کی ایک شاندار تصنیف ہے۔ اس کی تیاری میں حافظ ابن حجرؒ نے اپنی قیمتی زندگی کی چالیس بہاریں صرف کیں مگر اس کی تشنگی ختم نہ کر پائے۔ کتب سیر و تراجم میں اس کا شمار امہات الکتب میں ہوتا ہے علما  و طلبا میں سے کوئی بھی اس سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ اسے تذکار صحابہ میں مرجع کی حیثیت حاصل ہے۔ اگر ہم اسے اصحاب رسولﷺ کا انسائیکلو پیڈیا قرار دیں تو شاید یہ بات غلط نہ ہو۔ اسی مہتم بالشان کتاب کا اردو ترجمہ اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ کتاب کے مترجم مولانا محمد عامر شہزار علوی ہیں جنھوں نے نہایت جانفشانی اور عرق ریزی کے ساتھ بخوبی یہ کام سرانجام دیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے قاری کو بخوبی علم ہو سکے گا کہ کون کب ایمان لایا۔کون اصحاب رسول میں شامل ہے اور کون نہیں۔ کس کا شمار حضرات صحابہ کے کس طبقے سے میں ہوتاہے۔ کون مہاجرین میں سے ہے او کون انصار میں سے۔ کون اصحاب بدر میں سے ہے اور کس نے حدیبیہ میں بیعت کی۔ کون سی پاک باز ہستیاں السابقون الاولون میں شمار ہوتی ہیں اور کن کے نصیب میں ہدایت آئی لیکن دور نبوت کے آخری ایام میں۔ غرض صحابہ کرام کے بارے میں اس انداز کی بے شمار معلوما کو یہ کتاب سموئے ہوئے ہے۔ صاحبان تحقیق کے ساتھ ساتھ تاریخ کے طالب علموں کے لیے بھی یہ کتاب گنج ہائے گراں مایہ کی حیثیت رکھتی ہے اور ایک عام پڑھے لکھے مسلمان کے لیے بھی اس کا مطالعہ نہایت فائدہ مند ہوگا۔ وہ جان سکے گا کہ اصحاب رسول نے کس انداز سے دین حنیف کی سربلندی کے لیے جد و جہد کی وہ ان کے حالات و واقعات سے آگاہ ہو سکے گا۔یہ یاد رہے کہ کہ اس کتاب میں جتنے نام ہیں وہ اول سے آخر تک سارے صحابہ نہیں بلکہ بعض غیر مسلم لوگوں کا تذکرہ بھی اس کتاب میں آ گیا ہے اور نمبر شمار میں انھیں بھی شمار کر لیا گیا ہے۔ خواتین سمیت کل 12300 (بارہ ہزار تین سو) افراد کا شمار ہوا ہے۔(ع۔م)


    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-al-asabah-fi-tamyeeze-al-sahabar
    ابن حجر العسقلانی
    ’الإصابة في تمييز الصحابة‘ شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃاللہ علیہ کی ایک شاندار تصنیف ہے۔ اس کی تیاری میں حافظ ابن حجر رحمۃاللہ علیہ نے اپنی قیمتی زندگی کی چالیس بہاریں صرف کیں مگر اس کی تشنگی ختم نہ کر پائے۔ کتب سیر و تراجم میں اس کا شمار امہات الکتب میں ہوتا ہے علما  و طلبا میں سے کوئی بھی اس سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ اسے تذکار صحابہ میں مرجع کی حیثیت حاصل ہے۔ اگر ہم اسے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انسائیکلو پیڈیا قرار دیں تو شاید یہ بات غلط نہ ہو۔ اسی مہتم بالشان کتاب کا اردو ترجمہ اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ کتاب کے مترجم مولانا محمد عامر شہزار علوی ہیں جنھوں نے نہایت جانفشانی اور عرق ریزی کے ساتھ بخوبی یہ کام سرانجام دیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے قاری کو بخوبی علم ہو سکے گا کہ کون کب ایمان لایا۔کون اصحاب رسول میں شامل ہے اور کون نہیں۔ کس کا شمار حضرات صحابہ کے کس طبقے سے میں ہوتاہے۔ کون مہاجرین میں سے ہے او کون انصار میں سے۔ کون اصحاب بدر میں سے ہے اور کس نے حدیبیہ میں بیعت کی۔ کون سی پاک باز ہستیاں السابقون الاولون میں شمار ہوتی ہیں اور کن کے نصیب میں ہدایت آئی لیکن دور نبوت کے آخری ایام میں۔ غرض صحابہ کرام کے بارے میں اس انداز کی بے شمار معلوما کو یہ کتاب سموئے ہوئے ہے۔ صاحبان تحقیق کے ساتھ ساتھ تاریخ کے طالب علموں کے لیے بھی یہ کتاب گنج ہائے گراں مایہ کی حیثیت رکھتی ہے اور ایک عام پڑھے لکھے مسلمان کے لیے بھی اس کا مطالعہ نہایت فائدہ مند ہوگا۔ وہ جان سکے گا کہ اصحاب رسول نے کس انداز سے دین حنیف کی سربلندی کے لیے جد و جہد کی وہ ان کے حالات و واقعات سے آگاہ ہو سکے گا۔یہ یاد رہے کہ کہ اس کتاب میں جتنے نام ہیں وہ اول سے آخر تک سارے صحابہ نہیں بلکہ بعض غیر مسلم لوگوں کا تذکرہ بھی اس کتاب میں آ گیا ہے اور نمبر شمار میں انھیں بھی شمار کر لیا گیا ہے۔ خواتین سمیت کل 12300 (بارہ ہزار تین سو) افراد کا شمار ہوا ہے۔(ع۔م)
  • title-pages-al-asabah-fi-tamyeeze-al-sahabar
    ابن حجر العسقلانی
    ’الإصابة في تمييز الصحابة‘ شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کی ایک شاندار تصنیف ہے۔ اس کی تیاری میں حافظ ابن حجرؒ نے اپنی قیمتی زندگی کی چالیس بہاریں صرف کیں مگر اس کی تشنگی ختم نہ کر پائے۔ کتب سیر و تراجم میں اس کا شمار امہات الکتب میں ہوتا ہے علما  و طلبا میں سے کوئی بھی اس سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ اسے تذکار صحابہ میں مرجع کی حیثیت حاصل ہے۔ اگر ہم اسے اصحاب رسولﷺ کا انسائیکلو پیڈیا قرار دیں تو شاید یہ بات غلط نہ ہو۔ اسی مہتم بالشان کتاب کا اردو ترجمہ اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ کتاب کے مترجم مولانا محمد عامر شہزار علوی ہیں جنھوں نے نہایت جانفشانی اور عرق ریزی کے ساتھ بخوبی یہ کام سرانجام دیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے قاری کو بخوبی علم ہو سکے گا کہ کون کب ایمان لایا۔کون اصحاب رسول میں شامل ہے اور کون نہیں۔ کس کا شمار حضرات صحابہ کے کس طبقے سے میں ہوتاہے۔ کون مہاجرین میں سے ہے او کون انصار میں سے۔ کون اصحاب بدر میں سے ہے اور کس نے حدیبیہ میں بیعت کی۔ کون سی پاک باز ہستیاں السابقون الاولون میں شمار ہوتی ہیں اور کن کے نصیب میں ہدایت آئی لیکن دور نبوت کے آخری ایام میں۔ غرض صحابہ کرام کے بارے میں اس انداز کی بے شمار معلوما کو یہ کتاب سموئے ہوئے ہے۔ صاحبان تحقیق کے ساتھ ساتھ تاریخ کے طالب علموں کے لیے بھی یہ کتاب گنج ہائے گراں مایہ کی حیثیت رکھتی ہے اور ایک عام پڑھے لکھے مسلمان کے لیے بھی اس کا مطالعہ نہایت فائدہ مند ہوگا۔ وہ جان سکے گا کہ اصحاب رسول نے کس انداز سے دین حنیف کی سربلندی کے لیے جد و جہد کی وہ ان کے حالات و واقعات سے آگاہ ہو سکے گا۔یہ یاد رہے کہ کہ اس کتاب میں جتنے نام ہیں وہ اول سے آخر تک سارے صحابہ نہیں بلکہ بعض غیر مسلم لوگوں کا تذکرہ بھی اس کتاب میں آ گیا ہے اور نمبر شمار میں انھیں بھی شمار کر لیا گیا ہے۔ خواتین سمیت کل 12300 (بارہ ہزار تین سو) افراد کا شمار ہوا ہے۔(ع۔م)


    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-al-asabah-fi-tamyeeze-al-sahabar
    ابن حجر العسقلانی
    ’الإصابة في تمييز الصحابة‘ شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کی ایک شاندار تصنیف ہے۔ اس کی تیاری میں حافظ ابن حجرؒ نے اپنی قیمتی زندگی کی چالیس بہاریں صرف کیں مگر اس کی تشنگی ختم نہ کر پائے۔ کتب سیر و تراجم میں اس کا شمار امہات الکتب میں ہوتا ہے علما  و طلبا میں سے کوئی بھی اس سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ اسے تذکار صحابہ میں مرجع کی حیثیت حاصل ہے۔ اگر ہم اسے اصحاب رسولﷺ کا انسائیکلو پیڈیا قرار دیں تو شاید یہ بات غلط نہ ہو۔ اسی مہتم بالشان کتاب کا اردو ترجمہ اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ کتاب کے مترجم مولانا محمد عامر شہزار علوی ہیں جنھوں نے نہایت جانفشانی اور عرق ریزی کے ساتھ بخوبی یہ کام سرانجام دیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے قاری کو بخوبی علم ہو سکے گا کہ کون کب ایمان لایا۔کون اصحاب رسول میں شامل ہے اور کون نہیں۔ کس کا شمار حضرات صحابہ کے کس طبقے سے میں ہوتاہے۔ کون مہاجرین میں سے ہے او کون انصار میں سے۔ کون اصحاب بدر میں سے ہے اور کس نے حدیبیہ میں بیعت کی۔ کون سی پاک باز ہستیاں السابقون الاولون میں شمار ہوتی ہیں اور کن کے نصیب میں ہدایت آئی لیکن دور نبوت کے آخری ایام میں۔ غرض صحابہ کرام کے بارے میں اس انداز کی بے شمار معلوما کو یہ کتاب سموئے ہوئے ہے۔ صاحبان تحقیق کے ساتھ ساتھ تاریخ کے طالب علموں کے لیے بھی یہ کتاب گنج ہائے گراں مایہ کی حیثیت رکھتی ہے اور ایک عام پڑھے لکھے مسلمان کے لیے بھی اس کا مطالعہ نہایت فائدہ مند ہوگا۔ وہ جان سکے گا کہ اصحاب رسول نے کس انداز سے دین حنیف کی سربلندی کے لیے جد و جہد کی وہ ان کے حالات و واقعات سے آگاہ ہو سکے گا۔یہ یاد رہے کہ کہ اس کتاب میں جتنے نام ہیں وہ اول سے آخر تک سارے صحابہ نہیں بلکہ بعض غیر مسلم لوگوں کا تذکرہ بھی اس کتاب میں آ گیا ہے اور نمبر شمار میں انھیں بھی شمار کر لیا گیا ہے۔ خواتین سمیت کل 12300 (بارہ ہزار تین سو) افراد کا شمار ہوا ہے۔(ع۔م)


    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-al-asabah-fi-tamyeeze-al-sahabar
    ابن حجر العسقلانی
    ’الإصابة في تمييز الصحابة‘ شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کی ایک شاندار تصنیف ہے۔ اس کی تیاری میں حافظ ابن حجرؒ نے اپنی قیمتی زندگی کی چالیس بہاریں صرف کیں مگر اس کی تشنگی ختم نہ کر پائے۔ کتب سیر و تراجم میں اس کا شمار امہات الکتب میں ہوتا ہے علما  و طلبا میں سے کوئی بھی اس سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ اسے تذکار صحابہ میں مرجع کی حیثیت حاصل ہے۔ اگر ہم اسے اصحاب رسولﷺ کا انسائیکلو پیڈیا قرار دیں تو شاید یہ بات غلط نہ ہو۔ اسی مہتم بالشان کتاب کا اردو ترجمہ اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ کتاب کے مترجم مولانا محمد عامر شہزار علوی ہیں جنھوں نے نہایت جانفشانی اور عرق ریزی کے ساتھ بخوبی یہ کام سرانجام دیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے قاری کو بخوبی علم ہو سکے گا کہ کون کب ایمان لایا۔کون اصحاب رسول میں شامل ہے اور کون نہیں۔ کس کا شمار حضرات صحابہ کے کس طبقے سے میں ہوتاہے۔ کون مہاجرین میں سے ہے او کون انصار میں سے۔ کون اصحاب بدر میں سے ہے اور کس نے حدیبیہ میں بیعت کی۔ کون سی پاک باز ہستیاں السابقون الاولون میں شمار ہوتی ہیں اور کن کے نصیب میں ہدایت آئی لیکن دور نبوت کے آخری ایام میں۔ غرض صحابہ کرام کے بارے میں اس انداز کی بے شمار معلوما کو یہ کتاب سموئے ہوئے ہے۔ صاحبان تحقیق کے ساتھ ساتھ تاریخ کے طالب علموں کے لیے بھی یہ کتاب گنج ہائے گراں مایہ کی حیثیت رکھتی ہے اور ایک عام پڑھے لکھے مسلمان کے لیے بھی اس کا مطالعہ نہایت فائدہ مند ہوگا۔ وہ جان سکے گا کہ اصحاب رسول نے کس انداز سے دین حنیف کی سربلندی کے لیے جد و جہد کی وہ ان کے حالات و واقعات سے آگاہ ہو سکے گا۔یہ یاد رہے کہ کہ اس کتاب میں جتنے نام ہیں وہ اول سے آخر تک سارے صحابہ نہیں بلکہ بعض غیر مسلم لوگوں کا تذکرہ بھی اس کتاب میں آ گیا ہے اور نمبر شمار میں انھیں بھی شمار کر لیا گیا ہے۔ خواتین سمیت کل 12300 (بارہ ہزار تین سو) افراد کا شمار ہوا ہے۔(ع۔م)


    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-al-farooq
    علامہ شبلی نعمانی
    حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے سوانح اور حالات تفصیل کےساتھ اور اس صحت کے ساتھ لکھے جاچکے جو تاریخی تصنیف کی صحت کی اخیری حد ہے دنیا میں اور جس قدر بڑے بڑے  نامور گزرےہیں ان کی مفصل سوانح عمریاں پہلےسے موجود ہیں ۔اب آپ خود اس بات کا اندازہ لگالیں کہ تمام دنیا میں حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا کوئی ہم پایہ گزرا ہے یا نہیں ۔؟
    ’الفاروق ‘ جس میں حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی ولادت سے وفات تک واقعات اور فتوحات ملکی کےحالات درج ہیں ،اس کے ساتھ ساتھ ملکی اور مذہبی انتظامات  اور علمی کمالات اور ذاتی اخلاق اور عادات کی تفصیل  بھی بیان کی گئی ہے ۔
    اس کتاب کی صحت میں کوئی کم کوشش نہیں کی گئی بحرحال کتاب کے آخر میں ایک غلط نامہ لگادیا گیا ہے جو کفارہ جرم کا کام دے سکتا ہے ۔


  • title-pages-allah-ki-talwar
    ابو زید شبلی
    کسی قوم کی حقیقی قدر و قیمت اس کے افراد کے ذریعے ہوتی ہے۔ افراد اپنے کارناموں کی بدولت قوم کی سربلندی کا باعث بنتے ہیں۔ جس قوم میں مخلص کارکن، باعمل عالم، نڈر اور بے خوف مجادین اور راست باز سیاست دان ہوں وہ قوم ترقی کے بغیر نہیں رہ سکتی اور وہی قوم اس بات کی مستحق ہوتی ہے کہ زمین کی بادشاہت اس کے ہاتھ آئے۔ سیدنا خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ بھی ایسی ہی ایک نڈر قوم کے فرد ہیں۔سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ وہ شخصیت ہیں جن کو سیف اللہ لقب عطا کیا گیا۔ انھوں نے جنگی تاریخ میں ایسے کارنامے سرانجام دئیے کہ دنیا ورطہ حیرت میں پڑ گئی۔ آپ کی جرات ، شجاعت اور عظمت کا اعتراف تو دشمن نے بھی کیا۔ ابو زید شبلی نے اپنی اس تصنیف میں ابو سلیمان سیدنا خالد بن ولید کی شخصیت، آپ کے اخلاقی و عملی کردار، خاندانی وقار اور خلافت اسلامیہ کے لیے خدمات کا بھوپور جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کی ذات پر اٹھائے جانے والے اعتراضات کا دفاعی انداز میں جواب بھی خوب دیا ہے۔ نبی کریمﷺ کی زبان مبارک سے خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ کے جو فضائل بیان ہوئے ہیں وہ بھی بیان کیے ہیں۔ ایک ایسے مسلمان نوجوان کے لیے جو دعوت و جہاد والے نبوی منہج پر چل کر دنیا میں اپنا کوئی کردار ادا کر نا چاہتا ہو، یہ کتاب نہایت مفید ہے۔  (ع۔م)
  • pages-from-allah-key-sipahi
    ابو علی عبد الوکیل

    اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے انبیاء کرام و رسل عظام کی ایک برزگزیدہ جماعت کو مبعوث فرمایا۔ اس مقدس و مطہر جماعت کو کچھ ایسے حواری اور اصحاب بھی عنائت کیے جو انبیاء کرام کی تصدیق و حمایت کرتے۔ اللہ رب العزت نے سید الاوّلین و الآخرین حضرت محمد ﷺ کو صحابہ کرام کی ایک ایسی جماعت عطا فرمائی جن کے بارے میں اللہ کی یہ مشیت ہوئی کہ وہ خاتم النبیین سے براہ راست فیض حاصل کریں اور رسول اللہ ﷺ خود ان کا تزکیہ نفس کرتے ہوئے کتاب و حکمت کی تعلیم دیں۔ اور یہ وہ مقدس نفوس تھے جن کا ذکر قرآن مجید اور دیگر آسمانی کتب میں بھی اللہ رب العزت نے فرمایا اورنبی کریم ﷺ نے" خیر امتی قرنی" کے مقدس کلمات سے نوازہ۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ ایک مسلمان کامیابی اور فتح و نصرت کے لیے کبھی ظاہری وسائل پر اعتماد نہیں کرتا بلکہ اسباب کی بجائے اسباب کے رب پر اعتماد کرتے ہوئے آتش نمرود میں کود کر تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن جاتا ہے۔ زیر نظرکتاب" اللہ کے سپاہی" جو کہ فاضل مصنف ابو علی عبدالوکیل نے ایسی ہی بہادر شخصیات کا تذکرہ دلپذیر قلمبند کیا ہے جنہوں نے اپنی زندگیوں کو اللہ کی راہ میں وقف کیا ہوا تھا۔ جن کے دن گھوڑوں کے پیٹھ پر میدان جہاد میں گزرتے اور راتیں مصلوں پر اپنے رب کی عبادت میں گزرتیں تھیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان بہادر نفوس کو جنہوں نے دین کی سر بلندی کے لیے اپنے جان و مال کی قربانیاں دیں ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازے اور فاضل مصنف کی محنت و کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین(عمیر)

  • title-pages-al-murtza
    سید ابو الحسن علی ندوی
    زیر تبصرہ کتاب چوتھے خلیفۃ الاسلام حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی سیرت پر لکھی گئی ہے۔ جس کے متعلق مصنف کا کہنا ہے کہ ان شخصیات میں جن کے حقوق نہ صرف یہ کہ ادا نہیں ہوئے بلکہ ان کے حق میں شدید بے انصافی روا رکھی گئی، حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی بلند و محبوب شخصیت بھی ہے، مخصوص حالات، خاص قسم کے عقائد اور چند نفسیاتی اسباب کی بنا پر ان کی سیرت پر بہت گہرے اور دبیز پردے پڑ گئے ہیں، ارباب بحث و تحقیق تو الگ رہے، خود وہ لوگ جو ان کی عظمت کے گن گاتے ہیں، اور ان کے نام پر اپنے عقائد کی عمارت تعمیر کیے ہوئے ہیں، انھوں نے بھی اکثر اوقات ان کی سیرت کا مطالعہ معروضی و تحقیقی انداز میں نہیں کیا اور پورے ماحول اور ان کے عہد کے تقاضوں اور دشواریوں کو سامنے رکھ کر امانت و غیر جانبداری کے ساتھ پیش نہیں کیا۔ کتاب کے مصنف مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نے کتاب مرتب کرتے ہوئے مکمل غیر جانبداری کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پیدائش سے لے کر وفات تک کے تمام تر حالات و واقعات اور مختلف ادوار میں ان کا کردار کسی لگی لپٹی کے بغیر بیان کر دیا ہے۔ اپنے موضوع پر یہ کتاب نہایت مفید اور لائق مطالعہ ہے۔ جس کے عربی، اردو اور انگریزی زبان میں متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔(ع۔م)

  • pages-from-intikhab-lajawaab
    محمد اسماعیل آزاد ایم۔ اے

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دین اسلام ایک امن و سلامتی کا دین ہے۔جب آنحضرتﷺ نے لوگوں کو دین اسلام کی تبلیغ کی تب عرب قبائل بت پرستی اور جہالت کی تاریکیوں میں غوطہ زن تھے۔اسلام نے ہر طرف پھیل کر طاغوتی طاقتوں کا قلع قمع کیا۔لوگوں کو گمراہیوں سے بچا کر راہ ہدایت سے ہمکنار کیاتو دشمنان اسلام نے منافقت سے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلامی اتحاد کو پارہ پارہ کرنےکی خفیہ سازشیں کیں اور انتہائی غیر محسوس طریقے سے حق و باطل کی آمیزش کی۔ اس طرح حقیقت نظروں سے اوجھل ہوئی اور قرون اولیٰ کی عظمت رخصت ہونے کے ساتھ ساتھ ملت اسلامیہ کا شیرازہ بکھر گیا۔آپﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ خلیفہ اول بنے اور امت محمدیہ کی بھاگ دوڑ سنبھالی۔ آپ کےبعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ دوم بنے حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہحق وباطل کےدرمیان فارق تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اسلام ایک طوفان کیطرح اقصائے عالم پر چھا گیاایران و روم کی عظیم سلطنتوں کو شکست سے دو چار کیااور بیت المقدس کو یہودیوں کی چنگل سے آزاد کروایا۔ زیر تبصرہ کتاب"انتخاب لاجواب"محمد اسماعیل کی تصنیف ہےجس میں موصوف نے خلیفہ ثانی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی سوانح عمری کو مختصر اور جامع انداز میں قلمبند کیاہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی جزائے خیر عطافرمائےاور اجر عظیم سے نوازے۔ آمین(عمیر)

  • pages-from-anokha-sakhi
    اشفاق احمد خان

    سخاوت،وفیاضی ان قدیم اخلاقیات میں سے ایک ہے جسے اولوالعزم طبیعتوں نے ہرزمانے میں اپنایا اوراپنی رفعت وبلندی اورشرافت وعظمت کی دلیل سمجھا ، زمانہ جاہلیت میں سخاوت عرب معاشرے کی ایک زریں صفت تھی ،شعراء اپنے اشعار میں سخاوت کی خوب داد دیتے تھے ۔ زمانہ جاہلیت میں جولوگ سخاوت سے مشہور ہوئے ان میں ایک نام حاتم الطائی کابھی آتاہے، اس کے متعلق سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ وہ سن شعور سے ہی اپنے حصہ کاکھانالیکر باہر نکل جاتا اورکسی کوتلاش کرکے اس کے ساتھ کھاتا تھا،اگرکوئی ساتھ کھانے والانہ ملتاتوکھاناپھینک کرگھرلوٹ آتا- تاہم زمانہ جاہلیت کی سخاوت وفیاضی پرفخر ومباہات اورنیک نامی کی چھاپ تھی ،لیکن جب اسلام کانیرتاباں حراکے افق پرطلوع ہواتواس نے اس عمدہ وصف کورب کریم کی رضاجوئی اورخوشنودی سے مربوط کردیا،چنانچہ یہ صفت ایک مومن صادق کی پہچان اورعلامت بن گئی۔سخاوت کی اہمیت کے پیش نظراللہ تعالی نے اپنے مومن بندوں کومتعددآیات میں باربارانفاق کی ترغیب دلائی ۔سخاوت وفیاضی اللہ کے رسول ﷺ کی امتیازی شان تھی ،آپ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی ،فیاض اور دریادل تھے ،کبھی آپ نے سائل کونفی میں جواب نہیں دیا، آپ کی سخاوت وفیاضی کے سامنے بڑے بڑے بادشاہ بھی گھٹنے ٹیک دیں۔ اسی طرح صحابہ کرام بھی ایک دوسرے سے بڑھ کرسخی تھےحضرت عثمان ﷜ کی سخاوت بھی بہت مشہورہے آپ کی سخاوت سے اسلام کو بہت فائد پہنچا۔سیدنا ابوبکر﷜ کی خلافت میں ایک مرتبہ لوگ قحط کے شکارہوئے ،لوگوں نے خلیفہ وقت کے پاس آکراپنی بدحالی کی شکایت کی توآپ نے فرمایا:لوٹ جائیں اورصبرکریں ہمیں امیدہے کہ شام تک اللہ تعالی آپ کی مشکلات کاحل نکال دے گا،صبح کے وقت لوگ نکلے تودیکھاکہ حضرت عثمان ﷜ کاتجارتی قافلہ ایک ہزاراونٹوں پرغذائی سامان سے لداہواآرہا ہے، مدینہ کے تاجروں کواطلاع ملی توفوراًعثمان﷜ کے پاس حاضرہوئے، آپ نے پوچھا: کیاارادہ ہے؟ جواب دیا: ہمارا ارادہ آپ کومعلوم ہے ،آپ نے پوچھا: کتنانفع دوگے ؟ تاجروں نے کہا:ایک کادو ۔حضرت عثمان ﷜ نے کہا: ہمیں اس سے زیادہ مل رہاہے ،تاجروں نے کہا :ہم لوگ آپ کوایک کاچاردیں گے، آپ نے کہا:ہمیں اس سے بھی زیادہ مل رہاہے ،تاجروں نے کہا:ہم آپ کوایک کاپانچ دیتے ہیں ،آپ نے فرمایا:ہمیں اس سے بھی زیادہ مل رہاہے ،تاجروں نے کہا: مدینہ کے سارے تجار یہاں حاضرہیں ،آخرکون آپ کوپانچ گناسے زیادہ دے رہاہے ؟آپ نے فرمایا’’اللہ تعالی ہمیں ہردرہم کے بدلے دس درہم دے رہاہے ،کیاآپ لوگ اس سے زیادہ دے سکتے ہو؟ تاجروں نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: توتم سب گواہ رہو کہ میں نے یہ سارا مال تجارت فقراءومساکین پرصدقہ کردیا۔ سخاوت انسان کوجنت کے قریب اور جہنم سے دور کرتی ہے ۔ سخاوت صرف اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کونہیں کہتے، جہاد کے دوران اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنابھی سخاوت ہے۔ کسی دوسرے کےکام کےلیے اپنا وقت خرچ کرنا بھی سخاوت ہے۔نبی کریم ﷺکے ایک صحابی سیدنا سعید بن عاص﷜ ان ساری خوبیوں سے مزین تھے ۔سخاوت ان کی پہچان بن گئی یہ خوبی کی شخصیت کالازمی عنصر ٹہری۔ اللہ کے پیارے رسول محمد ﷺ نے ان کےبچپن میں ہی اس خوبی کوپہچان لیاتھا اورشاید اسی بنار پر انہیں مستقبل کاایک معزز آدمی قرار دیا۔ان کی سخاوت میں بھی عجیب ندرت تھی۔ آپ ہر جمعہ کی رات اپنے غلام کو دیناروں کی تھیلیاں دے کر کوفہ کی مسجد میں بھیجتے۔ غلام وہ تھلیاں لے جاکر نمازیوں کےسامنے رکھ دیتا۔ ضرورت مند اس رقم میں سے اپنی ضرورت کی رقم از خوداٹھا لیتے۔ سخاوت کےاس انوکھے انداز کی بنا پر کوفہ کی مسجد شام کےوقت نمازیوں سے بھر جاتی تھی۔ یہ کتابچہ اسی بے مثال شخصیت کی بے مثال سخاوت کے متعلق ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’انوکھا سخی سعید بن عاص﷜‘‘ اشاعت کے عالمی ادارے دار السلام کے ’’سلسلہ دورنبوت کے بچے‘‘ میں آٹھواں سلسلہ ہےاس میں محترم جناب اشفاق احمد خاں نے ایک دلچسپ کہانی کی کی صورت میں سیدنا سعیدبن عاص﷜ کی شخصیت اور ان کی سخاوت کے واقعات کو ذکرکیاہے۔ اللہ تعالیٰ مرتب کی اس کاوش کوقبول فرمائے۔ (آمین)(م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 205 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :