• pages-from-khlaasah-tuhfatunnizara-safrnaama-ibn-e-batootah
    مولوی عبد الرحمن خانصاحب

    چودہویں صدی کے مشہور سیاح ابن بطوطہ نے اپنی زندگی کے 28سال سیاحت میں گزارے ۔ان کا مکمل نام ابوعبداللہ محمد ابن بطوطہ ہے۔ مراکش کے شہر طنجہ میں1304ء کو پیدا ہوا اور 1378ء میں وفات پائی۔ ادب، تاریخ، اور جغرافیہ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اکیس سال کی عمر میں پہلا حج کیا۔ اس کے بعد شوق ِسیاحت میں افریقہ کے علاوہ روس سے ترکی پہنچا۔ جزائر شرق الہند اور چین کی سیاحت کی۔ عرب، ایران ، شام ، فلسطین ، افغانستان ، اور ہندوستان کی سیر کی۔ چار بار حج بیت اللہ سے مشرف ہوا۔ محمد تغلق کے عہد میں ہندوستان آیا تو توسلطان نے اُس کی بڑی آؤ بھگت کی اور قاضی کے عہدے پر سرفراز کیا۔ یہیں سے ایک سفارتی مشن پر چین جانے کا حکم ملا۔ 28 سال کی مدت میں اس نے 75ہزار میل کاسفر کیا۔ آخر میں فارس کے بادشاہ ابوحنان کے دربار میں آیا۔ اور اس کے کہنے پر اپنے سفر نامے کو کتابی شکل دی۔ اس کتاب کا نام عجائب الاسفارنی غرائب الدیار ہے۔ یہ کتاب مختلف ممالک کے تاریخی و جغرافیائی حالات کا مجموعہ ہے۔یورپ والوں کو انیسویں صدی میں ابن بطوطہ کے سفرنامہ کا علم ہوا۔ اسکے بعد اسکے کئی ترجمے یورپی زبانوں میں شائع ہوئے۔ اردو میں بھی کئی ترجمے شائع ہوئے۔ سب سے پہلا ترجمہ 1898 میں محمد حسین نے لاہور سے شائع کیا تھا۔ اسکے علاوہ کئی خلاصے بھی شائع ہوئے۔ زیر نظر کتاب ’’ خلاصہ تحفۃ النظار یعنی سفر نامہ شیخ ابن بطوطہ‘‘ سفر نامہ ابن بطوطہ کے ایک خلاصہ کااردو ترجمہ ہے مولوی عبدالرحمن خاں صاحب (سابق پرنسپل جامعہ عثمانیہ حیدر آباد،انڈیا) نے اسے اردوزبان میں منتقل کیا ہے۔موصوف نے اردوترجمہ کےعلاوہ تمہید میں سفرنامہ کےاسلامی عہد اوراس کےتاریخی اور سیاسی پس منظر پر جوکلام کیا ہے اس سے اس کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ سفر نامہ جہاں بے حددلچسپ اور دلآویز ہے ۔نایاب وبیش قیمت معلومات کاگنجینہ بھی ہے ۔ ان میں بہت سی معلومات ایسی ہیں۔ جوکسی دوسرے ذریعہ سے حاصل نہیں ہوسکتیں۔(م۔ا)

  • pages-from-khoon-raiz-saleebi-jangon-key-sarbasta-raaz
    سر جارج ڈبلیو کارکس

    صلیبی جنگوں اور ان میں حصہ لینے والے انتہاء پسندوں کی تاریخ تقریبا ایک ہزار سال پرانی ہے۔سب سے پہلی صلیبی جنگ، یعنی عیسائیوں کی مسلمانوں کے خلاف جنگ 1096ء میں ہوئی، جب عیسائیوں نے مسلمانوں سے بیت المقدس چھیننے کی کوشش کی۔1096ءسے 1291ء تک ارض فلسطین بالخصوص بیت المقدس پر عیسائی قبضہ بحال کرنے کے لیے یورپ کے عیسائیوں نے کئی جنگیں لڑیں جنہیں تاریخ میں “صلیبی جنگوں“ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ جنگیں فلسطین اور شام کی حدود میں صلیب کے نام پر لڑی گئیں۔ صلیبی جنگوں کا یہ سلسلہ طویل عرصہ تک جاری رہا اور اس دوران نو بڑی جنگیں لڑی گئیں جس میں لاکھوں انسان قتل ہوئے۔ صلیبی جنگوں کے اصل اسباب مذہبی تھے مگر اسے بعض سیاسی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔ یہ مذہبی اسباب کچھ معاشرتی پس منظر بھی رکھتے ہیں۔ پیٹر راہب جس نے اس جنگ کے لیے ابھارا، اس کے تعلقات کچھ مالدار یہودیوں سے بھی تھے۔ پیٹر راہب کے علاوہ بعض بادشاہوں کا خیال تھا کہ اسلامی علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد ان کے معاشی حالات سدھر سکتے ہیں۔ غرض ان جنگوں کا کوئی ایک سبب نہیں مگر مذہبی پس منظر سب سے اہم ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" خونریز صلیبی جنگوں کے سربستہ راز "ایک انگریز مصنف سر جارج ڈبلیو کارکس کی تصنیف ہے جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا عبد الحلیم شرر صاحب نے کیا ہے جبکہ نظر ثانی محترم جناب محسن فارانی صاحب نے فرمائی ہے۔ اس کتاب میں صلیبیوں پر مجاہدین کی ولولہ انگیز یلغاروں اور پرستاران صلیب کی اسلام دشمن مکروہ سازشوں وسیاسی چالوں کی خفیہ کہانی بیان کی گئی ہے۔ (راسخ)

  • title-pages-duniya-aur-maghrab-copy
    پروفیسر آرنلڈ جے ٹائن بی

    مغربی تہذیب اور اسکے نتیجے میں وجود پانے والا معاشرہ چند بنیادوں پر کھڑا ہے جن کو سمجھنا ضروری ہے۔ مگر اس سے قبل مغربی تہذیب کی اصل نوعیت کو جان لینا بہت اہم ہوگا۔مشرق اور مغرب کے درمیان کشمکش کا موضوع ایک  طویل عرصے سے زیر بحث چلا آ رہا ہے۔مغرب میں بسنے والے بہت سے لوگوں کے خیال میں مغربی اَقدار کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیادی شرط ہیں۔ مغرب میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ایشیائی اقدار کے چمپئن اپنے استبداد، ڈکٹیٹر شپ اور دیگر غیر جمہوری رویوں کو 'ایشیائی اقدار' کے نام پر درست ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ اس تعصب کی بنیادی وجہ شاید یہ ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ اور لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ دنیا میں صرف اَقدار کا ایک ہی مؤثر نظام موجود ہے جوکہ مغربی اقدار کا نظام ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ اور وہاں کے صاحب رائے لیڈر شاید یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ دنیا میں بہت سے مختلف نظام ہائے اَقدار پہلو بہ پہلو باہمی بھائی چارے کی فضا میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"دنیا اور مغرب" انگریز پروفیسرآرنلڈ جے  ٹائن بی کے ان خطبات کا مجموعہ ہے جو انہوں نے 1952ء میں بی بی سی پر دئیے۔اس کتاب کا ترجمہ محترم  ڈاکٹر حسین احمد پراچہ صاحب انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد نے کیا ہے۔مولف موصوف نے اپنے ان خطبات میں  مغربی تہذیب کی دوسرے معاشروں پر اثر انداز ہونے کی کہانی بیان کی ہے۔یہ کتاب مغربی تہذیب کو سمجھنے کے لئے ایک مفید ترین کتاب ہے۔(راسخ)

  • pages-from-safarnamah-ibn-e-batoota-molvi-hussain
    مولوی محمد حسین

    حضرت انسان اپنے دل و دماغ میں بے شمارقسم کی خواہشات اور امیدوں کو جنم دیتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے، دن و رات کی تفریق کیے بغیر ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہو جاتا ہے۔ ہر انسان اپنے ذہن کے مطابق مختلف قسم کی خواہشات رکھتا ہے بعض افراد تعلیم کے شوقین ہوتے ہیں، تو بعض افراد معیشت کی لگن، کچھ افراد کوئی جدید ٹیکنالوجی کے دلدادہ ہوتے ہیں، تو کچھ افراد تاریخی اسفار کی جستجو میں مصروف عمل نظر آتے ہیں۔ ان خواہشات میں جو لوگ تاریخی اسفار کے شوقین ہوتے ہیں وہ اپنے سفر ناموں میں دوران سفر پیش آنے والے حالات، اقوام کی تہذیب و تمدن، ان کے رسم و رواج اور ان اقوام کے طرز بودوباش کو نہایت باریک بینی سے جانچتا ہے اور اپنے سفر نامے کو احاطہ تحریر میں لانے کی کوشش کرتا ہے۔ زیر نظر کتاب" سفر نامہ ابن بطوطہ" عربی کتاب" عجائب الاسفار" کا اردو ترجمہ ہے۔ فاضل مترجم خان بہادر مولوی محمد حسین صاحب نے نہایت سہل اور آسان فہم سلیس اردو ترجمہ کیا ہے۔ کتاب ہذا میں ہندوستان، مالدیپ، چین و عرب، ایران، شام، مصر اور دیگر ممالک کے سفر نامے مذکور ہیں۔ اللہ تعالیٰ موصوف کو ہمت و استقامت سے نوازے۔ آمین(عمیر)

  • pages-from-sultan-noor-ud-din-muhammad-zangi-2
    طالب ہاشمی

    خلفائے راشدین﷢ اور حضرت عمر بن عبد العزیز ﷫کےبعد جن مسلمان حکمرانوں کی عظمت کردار نے آسمان کی رفعتوں کو چھو لیا ان میں ملک العادل سلطان نورالدین محمود زندگی﷫ کا نام نامی امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی عظمت کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا کہ ہردور کے مورخ ،دوست اوردوشمن سبھی نے اسکی شہرتِ عام اور بقائے دوام کےدربار میں نمایاں جگہ دی ہے۔بعض مورخین نےخلفائے راشدینؓ کےبعد تمام فرماں روایان اسلام میں اس کوسب سےبہتر قرار دیا ہے ۔سلطان نور الدین زنگی سلطنت کے بانی عماد الدین زنگی کا بیٹا تھا عماد الدین زنگی سلجوقی حکومت کی طرف سے شہر موصل کا حاکم تھا۔ جب سلجوقی حکومت کمزور ہوگئی تو اس نے زنگی سلطنت قائم کرلی اورعیسائیوں کو شکستوں پر شکستیں دیں جس نے تاریخ میں بڑا نام پیدا کیا۔ نور الدین فروری 1118ء میں پیدا ہوا اور 1146ء سے 1174ء تک 28سال حکومت کی۔اس نے عیسائیوں سے بیت المقدس واپس لینے کے لیے پہلے ایک مضبوط حکومت قائم کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے گرد و نواح کی چھوٹی چھوٹی مسلمان حکومتوں کو ختم کرکے ان کو اپنی مملکت میں شامل کرلیا۔مصر پر قبضہ کرنے کے بعد نورالدین نے بیت المقدس پر حملہ کرنے کی تیاریاں شروع کردیں۔ بیت المقدس کی مسجد عمر میں رکھنے کے لیے اس نے اعلیٰ درجے کا منبر تیار کروایا۔ اس کی خواہش تھی کہ فتح بیت المقدس کے بعد وہ اس منبر کو اپنے ہاتھوں سے رکھے گا لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہ تھا۔ نورالدین ابھی حملے کی تیاریاں ہی کررہا تھا کہ زنگی کو حشیشین نے زہر دیا۔جس سے ان کے گلے میں سوزش پیدا هو گئی جو کہ ان کی موت کا باعث بنی15 مئی 1174ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ انتقال کے وقت نورالدین کی عمر 58سال تھی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سلطان نورالدین زنگی ‘‘ معروف سوانح نگار اور ادیب محترم طالب ہاشمی کی تصنیف ہے ۔ جس نے انہوں چھٹی صدر ہجری کے مجاہد ِ اعظم نورالدین زنگی  کی شخصیت ،حیات وخدمات اور ان کے جنگی کارناموں کو بڑے دلنشیں انداز میں بیان کیا۔ جو یقینا تاریخ کے طالب علم کےلیے لائق مطالعہ ہے ۔(م۔ا)

  • pages-from-ilam-bri-daulat-hai-aur-doosri-kahaniyaan
    طالب ہاشمی

    علم وجہِ فضیلت ِآدم ہے علم ہی انسان کے فکری ارتقاء کاذریعہ ہے ۔ علم ہی کے ذریعے سے ایک نسل کے تجربات دوسری نسل کو منتقل ہوتے ہیں۔سید الانام خیر البشر حضرت محمد ﷺ کو خالق کائنات نے بے شمار انعامات وامتیازات سے سرفراز فرمایا تھا مگر جب علم کی دولت سے سرفراز فرمانے کا ارشاد گرامی ہوا تو اسے ’’ فضلِ عظیم‘‘ قرار دیا ارشاد ربانی ہے :وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا(النساء:113)زیر نظر کتاب ’’علم بڑی دولت ہے اور دوسری کہانیاں‘‘ معروف سوانح نگار اور مصنف کتب کثیرہ جناب طالب ہاشمی کا قوم کےنونہالوں کےلیے دلچسپ تاریخی ،نیم تاریخی ،سوانحی اصلاحی اور معلوماتی مختلف 31 کہانیوں کا چوتھا مجموعہ ہے ۔ان کہانیوں کی اشاعت کا مقصد نونہالانِ قوم کےلیے نہ صرف کردار سازی اور معلومات افزا لٹریچر مہیا کرنا ہے بلکہ ان کو مضرت اثرات سے بھی بچانا ہے جو بعض اداروں کی طرف سے شائع ہونے والی اوٹ پٹانگ فرضی کہانیوں اور تصویروں سے ناپختہ ذہنوں پر پڑتے ہیں۔ (م۔ا)

  • pages-from-kismat-ka-sikandar-aur-doosri-kahaniyaan
    طالب ہاشمی

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں کی بھر مار ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب" قسمت کا سکندر اور دوسری کہانیاں"محترم طالب ہاشمی صاحب کی کاوش ہے ۔جس میں انہوں نے اس کمی کو دور کرنے کی مقدور بھر کوشش کی ہےاور بامقصد اور دلچسپ کہانیوں پر مشتمل کتب لکھنے کا آغاز کیا ہے۔ اور یہ کتاب اس سلسلے کی دوسری کڑی ہے۔اس سے پہلے " چاندی کی ہتھکڑی اور دوسری کہانیاں "نامی ایک کتاب چھپ کر بچوں میں مقبولیت حاصل کر چکی ہے۔ اگرچہ اب میدان میں اور بھی متعدد کتب چھپ کر منظر عام پر آ چکی ہیں۔اس کتاب میں انہوں نے احادیث سے ماخوذ واقعات کے ساتھ ساتھ ایسی تاریخی یا نیم تاریخی کہانیاں قلمبند کی ہیں جن سے کوئی نہ کوئی اخلاقی سبق ملتا ہےیامعلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔یہ اگرچہ کوئی تحقیقی یا علمی کتاب نہیں ہے لیکن سائٹ پر بچوں سے متعلقہ مواد نہ ہونے کے سبب اسے بچوں کے بطور تحفہ پیش کیا جارہا ہے۔ (راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1637 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں