• title-pages-aye-arbi-sekhain
    شعبہ تصنیف و تالیف دار السلام
    عربی قرآن اوراہل جنت کی زبان ہے ۔اسلامی شریعت کا اصل منبعہ یہی زبان ہے ۔لہذا شریعت کی تفہیم کی خاطر عربی کا آنا  ازبس ضروری ہے ۔لیکن آج کےدورمیں مسلمانوں کو جہاں فکری طور پرزوال آیاہے وہاں یہ بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں کہ انہیں اپنی  زبان اور علوم سے وہ شغف نہی رہاجو انگریز ی علوم اور زبان سے ہے۔اور اسی مشکل کا بالخصوص اس وقت سامناکرناپڑتاہے جب مسلمان حج وعمرہ کیلے جاتاہے۔وہاں اسے ایک تو دوران ادئیگی فریضہ زبان نہ آنےکی وجہ سےمشکلات پیش آتی ہیں ،اوردوسری  جب اس معاشرےمیں رہتےہیں تو عرب لوگوں سے معاملہ کرتےوقت  مشکلوں کاسامناکرناپڑتاہے۔اسی طرح اگرسعودی عرب یاکسی دیگر عرب ملک میں کاروبارکیلے جاناہوتو یہ اسی طرح کی مشکلات کا پیش آتی ہیں ۔چناچہ  عوام الناس کی اسی پریشانی کےحل کیلے دارالسلام سٹوڈیولاہورپاکستان نےآئیے عربی سیکھیں کےنام سے یہ کتاب تیارکی ہے۔اس کتاب میں آسان عربی قوائد،روزمرہ استعمال ہونےوالی اشیاکےنام،گنتی او رفن وہنر سے وابسطہ الفاظ کو مکالماتی انداز میں پیش کیاگیاہے۔نیز برآں اس کی علیحدہ سے کیسٹس اورسی ڈیزبھی دستیاب ہے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-aasan-alfiya-w-shrha-ibne-aqeel-urdu-copy
    جاوید انور صدیقی

    عربی زبان ایک زندہ وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔لیکن عربی زبان کو اس وقت تک سیکھنا ناممکن ہے جب تک اس کے اصول وقواعد اور اس کی گرائمر (نحو وصرف)کو نہ سیکھ لیا جائے۔عہد تدوین سے لیکر آج تک عربی گرائمر(نحو وصرف) پر  عربی واردو  زبان  میں مختصر ،معتدل،مغلق اور مطول ہر طرح کی بے شمار کتب لکھی جاچکی ہیں۔عربی گرائمر (نحو وصرف)کی سب سے  مربوط اور مستند کتاب امام ابن مالک اندلسی کی "الفیہ ابن مالک"ہے۔اہل عرب میں یہ کتاب بڑی مشہور اور معروف ہےاور لوگوں کے ہاں اسے مقبولیت حاصل ہے۔اس کی تصنیف کے بعد علماء نحو نے دوسری کتب تصنیف کرنے کی بجائے اسی پر کام کرنے کو اہمیت دی اور اس کی متعدد شروحات لکھیں۔ان شروحات میں سے سب سے مقبول ترین شرح "شرح ابن عقیل "ہے۔جس میں انہوں نے انتہائی آسان انداز میں الفیہ کو حل کر دیا ہے۔زیر تبصرہ کتاب " آسان الفیہ وشرح ابن عقیل " بھی  الفیہ ابن مالک اور شرح ابن عقیل کی اردو زبان میں تسہیل ہے،جو جامعہ سلفیہ فیصل آباد کے سابق اور جامعہ عربیہ جی ٹی روڈ گوجرانوالہ کے حالیہ استاذ محترم جاوید انور صدیقی صاحب ﷾کی کاوش ہے۔موصوف ایک عرصہ سے ایک مدارس میں ابن عقیل پڑھاتے رہے ہیں اور انہوں نے اپنے ان تجربات کی روشنی میں اسے اردو میں نہائت سہل انداز میں پیش کر دیا ہے۔اللہ تعالی ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • pages-from-asaan-dars-e-arbi
    محمد یار راضی

    عربی زبان ایک فصیح اللسان زبان ہے جس کی   جوامع الکلم کی شکل میں فصاحت وبلاغت کی ان خو بیوں سے متصف ہے. کہ یہ اعزاز دوسری زبان کوحاصل نہیں کیونکہ آخری نبوی محمدرسول اللہ ﷺکے سا تھ اس زبان میں اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا جو قرآن کی شکل میں ہمارے تک پہنچی ہے اس کے بعد نبی آخر الزماں کے ارشادات بھی عربی زبان میں ہی ہیں.یہی دونوں دین اسلام کے ماخذ بھی ہیں .تو مسلمانوں کے لیے ان دونوں کا فہحم رکھنے اور عربی زبان کو بولنے کی بھی اس قدر ضرورت ہے جس قدر اسلامی تعیلمات کو سیکھ کر عمل کرنا ضروری ہے جو نجات کا ذریعہ ہے.مسلمانوں کی مذہیی ز بان عربی ہےجس کو جانے بغیر کماحقہ اسلامی تعلیات سے واقفیت حاصل نہیں ہوسکتی۔ یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ عربی زبان کو جانے کے لیے عربی گرائمر کو جاننا بے حد ضر روی ہے اور عربی زبا ن بولنےاور سمجھنے میں خاصی مشکلات آڑ ے آتی ہیں ‘جس کی وجہ سے لوگ عربی زبان کو مشکل جانتے ہوئے راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اسی طرح وہ قرآن و حدیث کی تعلیما ت سے جاہل ہی نہیں رہتے بلکہ تعلیمات دین سے دوری اختیار کرتے ہیں. فاضل مصنف محمدیار راضی صاحب نے اس ضرورت کو محسوس کیا کہ عربی کی آفادیت کو بڑھانے اور لوگوں کی آسانی کے لیے کوئی ایسا جامع نصاب ترتیب دیا جائے جس سے عام قاری بھی فائدہ اٹھاسکے۔ عربی بول چال کے ساتھ قرآن و سنت کے فہم میں طلبا ء او رعوام الناس کے لیے آسان ثابت ہو سکے۔ فاضل مصنف نے آپنے تدریسی تجربات کا نچوڑ (آسان درس عربی )کے نام سے مرتب کرنے کا عزم کیا اور مسلسل جہدوجہد اور محنت سے (25آسان سبق )کو جمع کرنے میں کامیا ب ہوئے جس کو کتابی شکل میں اگست(1974؁) کو پہلی دفعہ شائع کیا گیا اس طرح کتاب کی افادیت واہمیت کے پیش نظر مسلسل اشاعت کے بعد ساتواں اڈیشن جنور ی (1979؁)کو شائع ہوا (تعلیمی سہولت کے لیے قرآنی آیات اور احادیث و روزانہ استعمال ہونے والے جملےاور عربی گرائمر کے بنیادی قواعد وغیرہ )سے عام فہم اور آسان بنا دیا ہے جس سے دینی تعلیم حاصل کرنے والے ابتدائی طالب علم اور عوام الناس ٹھوڑی سی محنت اور مشق کے بعد عربی سمجھنے میں مہارت حاصل کر لیں گے۔ میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کتاب کو قرآن و حدیث کے فہم کا ذریعہ بنائے اور فاضل مصنف کی نیک نیتی اور اعلیٰ مقصد کو شرف قبولیت سے نوازے۔ (ظفر)

  • شاہد جاوید

    اللہ تعالی کاکلام اور نبی کریم ﷺکی احادیث مبارکہ عربی زبان میں ہیں اسی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں سے عربی کا رشتہ مضبوط ومستحکم ہے عربی اسلام کی سرکاری زبان ہے ۔شریعت اسلامی کے بنیادی مآخد اسی زبان میں ہیں لہذا قرآن وسنت اور شریعتِ اسلامیہ پر عبور حاصل کرنےکا واحد ذریعہ عربی زبان ہے۔ اس لحاظ سے عربی سیکھنا اور سکھانا امت مسلمہ کا اولین فریضہ ہے ۔ لیکن مسلمانوں کی اکثریت عربی زبان سے ناواقف ہے جس کی وجہ سے وہ فرمان الٰہی اور فرمان نبوی ﷺ کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ حتی کہ تعلیم حاصل کرنے والے لوگوں کی اکثریت سکول ،کالجز ،یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل اسلامیات کے اسباق کو بھی بذات خود پڑھنے پڑھانے سے قا صر ہے ۔دنيا كي سب سے بڑی اسلامی مملکت پاکستان دنیا کے نقشے پر اس لیے جلوہ گر ہوئی تھی کہ اس کے ذریعے اسلامی اقدار اور دینی شعائر کا احیاء ہوگا۔ اسلامی تہذیب وثقافت کا بول بالا ہوگا اور قرآن کی زبان سرزمین پاک میں زند ہ وتابندہ ہوگی۔مگر زبان قرآن کی بے بسی وبے کسی کہ ارض پاکستان میں اس مقام پر پہنچ گئی ہے کہ دور غلامی میں بھی نہ پہنچی تھی۔علماء ومدارس کی اپنی حدتک عربی زبان کی نشرواشاعت کے لیے کوششیں وکاوشیں قابل ذکر ہیں۔ لیکن سرکاری طور پر حکومت کی طرف کماحقہ جدوجہد نہیں کی گئی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’آسان عربی بول وچال‘‘ مولانا شاہد جاوید کی کاوش ہے اس کتاب میں انہوں نے مدارس عربیہ کے ان طلباء کےلیے جو بالکل ہی مبتدی اورخالی الذہن ہوتے ہیں وہ عربی تکلم کا ذوق تو رکھتے ہیں لیکن وہ اپنے پاس الفاظ کی تعبیر نہ ہونے کی وجہ سے بول نہیں پاتے ۔ فاضل مصنف یہ کتاب ایسے ہی طلباء کی استعداد کو سامنے رکھ کر آسان فہم انداز میں مرتب کی ہے تاکہ اس قسم کے طلباء مدرسہ کی چاردیواری میں رہتے ہوئے مدرسہ کی چوبیس گھنٹے کی زندگی میں استعمال ہونے والے جملے بول کر عربی تکلم پر عبور حاصل کرسکیں مدارس دینیہ میں زیر تعلیم مبتدی طلبہ وطالبات اس کا مطالعہ کر کے آسانی سے عربی زبان بولنے اور سمجھنے کی مہارت حاصل کرسکتے ہیں ۔(م۔ا)

  • title
    لطف الرحمٰن خان

    ہمارے ہاں مدارس دینیہ میں ابتدائی طالبان علم کو عربی سے شدبد کے لیے علم نحو اور علم صرف کی ایسی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں جو نہ صرف اپنے اسلوب نگارش کے لحاظ سے کافی قدیم ہیں بلکہ ابتدائی طالب علم کے لیےان کو حل کرنا قدرے مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ زیر نظر  کتاب ’آسان عربی گرامر‘ میں لطف الرحمن خان نے عربی قواعد کے حوالہ سے تمام تر مشکلات کا نہایت آسان اور قابل قدر حل پیش کیا ہے وہ طالب علم جو عربی زبان سے آشنائی چاہتے ہیں ان کےلیے یہ کتاب ایک نسخہ کیمیا ہے۔ یہ کتاب مولوی عبدالستار مرحوم کی کتاب ’عربی کا معلم‘ میں چند حک و اضافے اور ترتیب میں ردو بدل کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس  میں عربی قواعد کو نہایت آسان اور عام فہم انداز میں بیان کرنے کے ساتھ ساتھ مثالوں سے ان کی تفصیلی وضاحت کی گئی ہے۔ ہر سبق کے اخیر میں سبق سے متعلقہ مشقوں نے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے ان مشقوں کو حل کرنے سے طالب علم کی عربی استعداد میں حیرت انگیز اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ یقیناً یہ کتاب قابل تحسین بھی ہے اور اس قابل بھی کہ مدارس دینیہ اس کو اپنے نصاب میں جگہ دیں۔

     

     

  • title
    لطف الرحمٰن خان

    ہمارے ہاں مدارس دینیہ میں ابتدائی طالبان علم کو عربی سے شدبد کے لیے علم نحو اور علم صرف کی ایسی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں جو نہ صرف اپنے اسلوب نگارش کے لحاظ سے کافی قدیم ہیں بلکہ ابتدائی طالب علم کے لیےان کو حل کرنا قدرے مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ زیر نظر  کتاب ’آسان عربی گرامر‘ میں لطف الرحمن خان نے عربی قواعد کے حوالہ سے تمام تر مشکلات کا نہایت آسان اور قابل قدر حل پیش کیا ہے وہ طالب علم جو عربی زبان سے آشنائی چاہتے ہیں ان کےلیے یہ کتاب ایک نسخہ کیمیا ہے۔ یہ کتاب مولوی عبدالستار مرحوم کی کتاب ’عربی کا معلم‘ میں چند حک و اضافے اور ترتیب میں ردو بدل کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس  میں عربی قواعد کو نہایت آسان اور عام فہم انداز میں بیان کرنے کے ساتھ ساتھ مثالوں سے ان کی تفصیلی وضاحت کی گئی ہے۔ ہر سبق کے اخیر میں سبق سے متعلقہ مشقوں نے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے ان مشقوں کو حل کرنے سے طالب علم کی عربی استعداد میں حیرت انگیز اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ یقیناً یہ کتاب قابل تحسین بھی ہے اور اس قابل بھی کہ مدارس دینیہ اس کو اپنے نصاب میں جگہ دیں۔

  • title
    لطف الرحمٰن خان

    ہمارے ہاں مدارس دینیہ میں ابتدائی طالبان علم کو عربی سے شدبد کے لیے علم نحو اور علم صرف کی ایسی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں جو نہ صرف اپنے اسلوب نگارش کے لحاظ سے کافی قدیم ہیں بلکہ ابتدائی طالب علم کے لیےان کو حل کرنا قدرے مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ زیر نظر  کتاب ’آسان عربی گرامر‘ میں لطف الرحمن خان نے عربی قواعد کے حوالہ سے تمام تر مشکلات کا نہایت آسان اور قابل قدر حل پیش کیا ہے وہ طالب علم جو عربی زبان سے آشنائی چاہتے ہیں ان کےلیے یہ کتاب ایک نسخہ کیمیا ہے۔ یہ کتاب مولوی عبدالستار مرحوم کی کتاب ’عربی کا معلم‘ میں چند حک و اضافے اور ترتیب میں ردو بدل کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس  میں عربی قواعد کو نہایت آسان اور عام فہم انداز میں بیان کرنے کے ساتھ ساتھ مثالوں سےتفصیلی وضاحت کی گئی ہے۔ ہر سبق کے اخیر میں سبق سے متعلقہ مشقوں نے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے ان مشقوں کو حل کرنے سے طالب علم کی عربی استعداد میں حیرت انگیز اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ یقیناً یہ کتاب قابل تحسین بھی ہے اور اس قابل بھی کہ مدارس دینیہ اس کو اپنے نصاب میں جگہ دیں۔

     

     

  • title-pages-aasan-qaida-ma-deeniyat
    عبد الرحمن محمد عثمان عمری
    قرآن مجید اللہ کی کتاب ہے او راس کی زبان عربی ہے جس کا سیکھنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔عربی زبان کے حروف تہجی اور حرکات و سکنات اپنی جگہ خاص اہمیت کے حامل ہیں۔اگر حرف کی ادائیگی صحیح نہ ہو تو اس کاتلفظ بدل جاتا ہے اورمعنی میں تبدیلی آجاتی ہے جو گناہ کا باعث ہے۔ دینی تعلیم کے لئے مسلمان اپنے بچوں کو صغر سنی سے ہی قرآن کی تعلیم کی طرف راغب کردیتے ہیں ۔ مدارس و مساجد میں بچوں کو قرآن پڑھنے کے ابتدائی مراحل سے گزارا جاتا ہے جس میں عربی حروف تہجی کی پہچان اور تراکیب کو ایک خاص اسلوب سے ذہن نشین کروایا جاتا ہے۔زیرنظر کتاب اسی نوعیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ترتیب دی گئی ہے جس میں حروف تہجی کی پہچان اور تلفظ کی تصحیح کے لیے ایک خاص ترتیب سےمفرد و مرکب حروف و الفاظ درج ہیں تاکہ آسان ترین انداز میں بچوں کے ذہن میں قرآنی الفاظ کو راسخ کیاجاسکے۔(ک۔ط)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-ibtadai-qawaid-al-saraf-copy
    مفتی عبد الولی خاں

    احکامِ  شریعت سمجھنے کےلیے  جہاں دیگر علومِ اسلامیہ  کی اہمیت ہے وہاں عربی زبان سیکھنے کے لیے  ’’ فن صرف‘‘ کو بنیادی  درجہ حاصل ہے ۔جب تک کوئی شخص اس فن میں مہارت تامہ حاصل نہ کرے اس وقت تک اس کے لیے  علوم ِاسلامیہ  میں دسترس  تو کجا پیش رفت ہی ممکن نہیں۔ قرآن وسنت کے علوم سمجھنے کےلیے یہ ہنر شرط ِ لازم ہے۔ یہی  وجہ  ہے کہ مدارسِ اسلامیہ  میں اس فن کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور اسی کی تدریس  وتفہیم کےلیے درجہ بدرجہ مختلف ادوار میں علمائے کرام  نے اس موضوع پر گرانقدر کتابیں لکھیں اور اسے آسان سے آسان تر بنانے کی سعی جمیل کی ۔زیر نظر  کتاب ’’ قواعد الصرف ‘‘بھی اسی سلسلۃ الذہب کی ایک اہم کڑی ہے  ۔جوکہ الثانویہ العامۃ کے طلبا وطالبات کے  لیے  وفاق المدارس السلفیہ ،پاکستان  کے ذمہ دران اور دیگر اکابر علمائے کے حکم کے مطابق انہی  کی سرپرستی میں  دار السلام کی نصاب کمیٹی کے  تجربہ کار ارکان  اور علوم اسلامیہ کے ماہر معلّمین نے اس  کتاب  کی تحریر وترتیب میں بڑی محنت سے حصہ لیا ہے  اور مہارت ِفن ،باریک بینی ، اور احساس ذمہ داری  کا ثبوت  دیا ہے  اور وفاق المدارس کے اکابر علمائے کرام  اور کہنہ مشق مدرسین وشیوخ الحدیث  نے اس  پر نظر ثانی بھی فرمائی ہے ۔جس سے کتاب کی افادیت  مزید اضافہ ہوگیاہے  اور یہ کتاب  عربی کے  تدریسی سرمائے  میں  ایک  قیمتی اضافہ  اور عربی سیکھنے  کے آرزومندوں کے لیے ایک نادر تحفہ ہے ۔اللہ تعالی  دار السلام  کے ڈائریکٹر مولاناعبد المالک مجاہد﷾ اور ان کے  رفقاء کی  تفہم دین  واشاعت اسلام کے لیے  کاوشوں کو شرف قبولیت سے نوازے(آمین)(م۔ا)

  • title-pages-ibtidai-qawaid-al-nahaw
    مختلف اہل علم
    علم نحو تمام عربی علوم و معارف کے لئے ستون کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ تمام عربی علوم اسی  کی مدد سے چہرہ کشا ہوتے ہیں ۔ علوم نقلیہ کی جلالت و عظمت اپنی جگہ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے اسرار و رموز اور معانی و مفاہیم تک رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں ۔ حق یہ ہے کہ قرآن و سنت اور دیگر علوم سمجھنے کے لئے علم نحو کلیدی حیثیت رکھتا ہے ، علم نحو کی اس اہمیت کے پیش نظر عربی ، فارسی اور دیگر زبانوں میں اس فن کی مفصل و مطول ، متوسط اور مختصر ہر طرح کی کتابیں لکھی گئیں ۔ اردو زبان میں صرف و نحو کی کتابیں لکھنے کا مقصد لسانی اصول و قواعد کی تسہیل و تفہیم اور عربی زبان کی ترویج و اشاعت ہی تھا ۔ کیونکہ فن تعلیم کا اصول اور تجربہ یہ ہے کہ اگر ابتدائی طور پر کوئی مضمون مادری زبان میں ذہن نشین ہو جائے تو پھر اسے کسی بھی اجنبی زبان میں تفصیل و اضافہ سمیت بخوبی پڑھا اور سمجھا جا سکتا ہے ۔ زیر نظر کتاب اسی مقصد کے تحت ایف ائے طلبا کی ذہنی استعداد کے پیش نظر لکھی گئی ہے ۔ اس کتاب کے اندر قواعد و مسائل کی عام فہم اور آسان اسلوب  میں وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ (ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-abwab-us-saraf
    حافظ محمد بن بارک اللہ لکھوی

    دین اسلام کو سمجھنے اور جاننے کے لئے علوم آلیہ کا جاننا ضروری ہے۔ ایک ماہر محقق اور عربی دان بننے کے لئے خاص طور پر عجمیوں کو مذکورہ علوم کا حصول درکار ہوتا ہے۔ عربی کی عبارت کو جاننے اور ان کی اصلاح کے لئے صرف و نحو کے قوائد ایک مرکزی اور بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ذخیرہ عربی میں صرف و نحو تقریباً ساٹھ اور چالیس کے تناسب سے موجود ہے اور ان ہر دو علوم سے متعلق قواعد میں صرف انتہائی اہم علم ہے اور اس علم پر کئی عربی اور فارسی کتب مرتب کی گئی ہیں۔ برصغیر کے مدارس میں تفصیلی کتب نصاب میں شامل ہیں۔ لیکن مولانا محمد بارک لکھوی کی مرضی پر لکھی گئی یہ کتاب کلیدی حیثیت رکھتی ہے اور اس کی افادیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے درس نظامی کی پہلی کلاسز میں اس کو جگہ دی گئی ہے۔ تاکہ مرکزی علوم کو جاننے کے لئے مبتدی طلباء کو یہ کتاب ازبر کروا دی جائے اور یہی وجہ ہے کہ مبتدی طلباء عالم بننے تک کے سفر میں اسی کو پیش نظر رکھتے ہیں لہٰذا مذکورہ کتاب اپنی اہمیت کے حساب سے ایک مسلم حیثیت کی حامل ہے۔

  • title-pages-abwab-al-saraf-dar-ul-islam-copy
    دار السلام ریسرچ سنٹر

    عربی زبان ایک زندہ وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔زیر تبصرہ کتاب "دار السلام ابواب الصرف"قرآن وسنت کی اشاعت کے عالمی ادارے مکتبہ دار السلام کے  زیر اہتمام چھ اہل علم کی کوششوں سے تیار کی گئی ہے۔اور اسے دارالسلام ابواب الصرف کانام دیا گیا ہے۔صرف کے ابواب پر سب سے پہلی کتاب مولانا محمد بارک اللہ  لکھوی﷫ نے ابواب الصرف کے نام سے لکھی اور یہ کتاب بھی اسی کا جدید ایڈیشن ہے ،لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس میں کہیں بھی مولانا بارک اللہ لکھوی ﷫ کا کوئی تذکرہ موجود نہیں ہے۔بہتر ہوتا کہ ان کا بھی کہیں نہ کہیں تذکرہ کر دیا جاتا۔بہر حال یہ کتاب درس نظامی کی پہلی کلاسز کے لئے تیار کی گئی ہے تاکہ مرکزی علوم کو جاننے کے لئے مبتدی طلباء کو یہ کتاب ازبر کروا دی جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ مبتدی طلباء عالم بننے تک کے سفر میں اسی کو پیش نظر رکھتے ہیں لہٰذا مذکورہ کتاب اپنی اہمیت کے حساب سے ایک مسلم حیثیت کی حامل ہے۔اللہ تعالی اس کی تیاری میں محنت کرنے والے تمام اہل علم کی اس کاوش کو قبول فرمائیں۔(راسخ)

     

  • title-pages-dair-al-fikar-al-gharbi-copy
    خادم حسین الہٰی بخش

         الحمد لله رب العالمين ، والصلاة والسلام على رسوله الأمين ، سيدنا ونبينا محمدٍ صلى الله عليه وسلم ، وعلى آله وصحابته الطيبين الطاهرين ، ومن سلك سبيلهم وترسم خطاهم ونهج منهجهم إلى يوم الدين ، وبعد : فإن هذا الكتاب رسالة علمية تقدم بها المؤلف لنيل درجة الدكتوراه في العقيدة الإسلامية من جامعة أم القرى بمكة شرفها الله ، ونالها بتقدير ( ممتاز ) .  وتتضمن الرسالة مقدمة وثلاثة أبواب وخاتمة :   ففي المقدمة تحدث المؤلف عن أهمية الموضوع ، وصلته بالواقع المعاصر ، والأسباب التي دَعَتْه للكتابة فيه ، والعقبات التي واجهها أثناء البحث ، ومنهجه فيه .    وتضمن الباب الأول بفصوله الثلاثة دراسة المجتمع المسلم بالهند الموحدة _ باكستان ، الهند ، بنغلاديش _ ومن ضمن أبحاثه كيفية دخول الإسلام إلى الهند إبان حكم الخلفاء الراشدين ، ثم عَرَّج الباحث فَذَكَرَ مظاهر المسلمين المميزة في عهد دولة الغزنويين ، والغوريين ، والمماليك .     وجاء فصله الثاني مبيناً أوصاف المسلمين حكاماً ومحكومين في عهد دولة المغول ، وما تعرض له المسلمون حكاماً ومحكومين من التشيع والتنصير .    وجاء فصله الأخير موضحاً حالة المجتمع المسلم في عهد شركة الهند الشرقية ، وبيان مطامعها الاستعمارية ، وتحديد موقف المسلمين حكومة وشعباً تجاهها برفع راية الجهاد لطرد المستعمرين .    وخصصت الدراسة بابها الثاني بفصوله الأربعة في تحديد أثر الفكر الغربي في حياة المسلمين ، وجاء فصله الأول في بيان أثر النشاط التنصيري في الأفكار والمعتقدات ، فكان من مباحثه التنصير في عهد المغول ، والتنصير أثناء الحكم الإنجليزي المباشر ، وبيان الطرق التي سلكها المُنَصِّرُوْن لتنصير المسلمين وغير المسلمين ، مع تحديد الأسباب التي قادتهم إلى بعض النجاح....    وحدد الفصل الثاني لهذا الباب أثر الفكر الغربي في مجال التربية والتعليم ، وذلك ببيان موقف الدولة الإسلامية من التعليم ، وموقف الإنجليز من التعليم المُحَقِّق لمطامع المستعمرين ، وبث التنصير عن طريقالتعليم ، والتعليم في الآونة المعاصرة بروافده الثلاثة ، : التعليم الحكومي ، التعليم الخاص ، التعليم الديني .    وكان ثالث فصول هذا الباب محصوراً في القضايا الاجتماعية : كتعليم المرأة ، وعملها ، والزواج ، والقِوَامة ، وشرب المسكرات ، والاقتصاد ، ووسائل الإعلام....    وجاء خِتام فصول هذا الباب موضحاً أثر الفكر الغربي في مجال النظم التشريعية ، فتحدثت الدراسة عن قضاء المسلمين في الهند ، واتفاقية بَكْسَر وخيانة شركة الهند الشرقية في تنفيذ بنودها المتصلة بالقضاء والفصل بين الناس ، وبداية التحريف في التشريع وآثاره الوخيمة ، ومناقشة فتوى السيد رشيد رضا المصري حول جواز التحاكم إلى غير شريعة الله ، في ضوء الكتاب والسنة وأقوال علماء الإسلام . كما تطرق هذا الفصل إلى وضع دستورٍٍ لدولة باكستان المسلمة ، وقانون العقوبات الباكستاني و مناقشة محتوياته ، وذكرت الدراسة نماذج مقارنة من الجرائم والعقوبات بين الشريعة والقوانين الباكستاني ، وقانون الإثبات ومحتوياته ، وشهادة المرأة ، وشاهد المَلِك بين الشريعة والقانون...    وخَتَمَتْ الفصل بطلب إصلاحات في القضاء : كإلغاء الرسوم القضائية ، وتكوين مجمعٍ علمي قضائي ، وإصلاح التعليم التشريعي في كليات القانون ، وكليات الحقوق ، والمدارس الدينية...    وآخر أبواب الرسالة جاء موضحاً لأثر الفكر الغربي في الفرق المنحرفة عن الإسلام ، فتحدث عن الشيعة الاثني عشرية ، والشيعة الإمامية البهرة ، والشيعة الإمامية الأغاخانية ، فكان من مباحث هذا الباب ظاهرة التعاون بين الأفكار المنحرفة ، وظاهرة إخفاء ما يدين به الشيعة عموما....    كما تحدث هذا الباب عن الصوفية وأثر الفكر الغربي فيها ، وحدد منهج الصوفية في الدعوة إلى الإسلام ، وحال الهند المتصوفة عند الاحتلال الإنجليزي ، والنظرة السلبية إلى الحياة ونتائجها لصالح الفكر الغربي .    وجاء رابع فصول هذا الباب في تحديد الفكر الغربي في القرآنيين ، الذين ينكرون حجية السنة في التشريع وأخذ الأحكام الشرعية منها ، ويعود بداية هذا الفكر إلى السيد أحمد خان مؤسس جامعة عليكره ، كما ذكر هذا الباب نماذج من التحريف في فكر زعماء القرآنيين .    وكان ختام فصول الأطروحة في القاديانية وإخلاصها للفكر الغربي ، وذلك حين ادعى زعيمها غلام أحمد القادياني نسخ الجهاد بنبوته ، وأن الهند دار إسلام لا دار حرب ، وتفسير القاديانية لخاتم النبيين ، ونماذج من وحي الغلام ، وختمت الفصل بذكر ما تختلف فيه القاديانية عن الإسلام .     وقبل الخاتمة بينت الوضع الحالي المبشر لصالح الإسلام ، وجاءت الخاتمة متضمنة بين طياتها نتائج البحث التي توصلت إليها الدراسة  المؤلف د/ خادم حسين إلهي بخش  أستاذ العقيدة والفرق والمذاهب المعاصرة  بكلية الشريعة والأنظمة ، قسم الشريعة في 15 شوال 1435 هـ الموافق 11/اكست 2014م   جامعة الطائف    الطائف ، المملكة العربية السعودية

  • title-pages-ahkam-al-nisbat-copy
    علامہ ارشد حسن ثاقب

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔لغت عرب کے قواعد میں سے ایک معروف قاعدہ نسبت کا ہے جس میں کسی کو کسی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ہماری درسی کتب میں نسبت کے حوالے سے بہت کم اصول پائے جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "احکام النسبۃ"محترم علامہ ارشد حسن ثاقب صاحب کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے نسبت کے بے شمار ایسے اصول جمع  کر دئیے ہیں جو عموما ہماری درسی کتب میں نہیں  پائے جاتے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-urdu-adab-ki-tehrekain-copy
    ڈاکٹر انور سدید

    اردو زبان و ادب کے ارتقاء، وسعت، تنوع اور تبدیلیوں میں تحریکوں اور رجحانات کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ انہی تحریکوں اور رجحانات کے زیر سایہ اردو زبان و ادب کی پرورش و پرداخت ہوئی اور انہی کے زیر نگرانی اس کے حسن میں نکھار آیا جس نے پوری دنیا کو مسحور کردیا اور لوگ اس کے دامِ سحر میں گرفتار ہونے لگے۔جن دو تحریکوں نے اردو زبان ادب کو سب سے زیادہ متاثر کیا وہ علی گڑھ تحریک اور ترقی پسند تحریک ہے۔ علی گڑھ تحریک ہی نے اردو نثر کو مسجع و مقفیٰ کی بیڑیوں سے آزاد کرایا اور اس میں سب سے اہم رول بانیِ علی گڑھ تحریک سر سید احمد خاں کا ہے۔عمومی طور پر پاکستان اور خصوصی طور پر بیرون ملک میں اردو ، پنجابی اور پاکستان کی دوسری زبانوں اور ثقافتوں کو بچانے کے لیے کئی تنظیمیں اور تحریکیں بڑی بے چارگی سے ہاتھ پاوں مارتی نظر آتی ہیں۔ اسی سلسلے میں بے شمار پروگراموں اور ادبی محفلوں کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے ۔ ان ادبی اور ثقافتی محفلوں میں ادب ، شاعری اور زبان کی نوعیت اور ہیت کو پڑھائی ، لکھائی اور اسکے ہنر تک محدود رکھتے ہوئے اسکی تعمیر و ترقی کے بڑے بڑے لیکچر دئیے نہیں بلکہ پلائے جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"اردو ادب کی تحریکیں" محترم ڈاکٹر انور سدید صاحب کا وہ تحقیقی مقالہ ہے جس پر انہیں جامعہ پنجاب سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ملی۔اس میں انہوں نے اردو ادب کی انہی تحریکوں کا تفصیلی خاکہ پیش کیا ہے۔ادیب حضرات کے لئے یہ کتاب بڑی شاندار اور گوہر نایاب ہے۔(راسخ)

  • pages-from-urdu-imlaa
    رشید حسن خاں

    ہماری قومی زبان اردو اگرچہ ابھی تک ہمارے لسانی و گروہی تعصبات اور ارباب بست و کشاد کی کوتاہ نظری کے باعث صحیح معنوں میں سرکاری زبان کے درجے پر فائز نہیں ہو سکی لیکن یہ بات محققانہ طور پر ثابت ہے کہ اس وقت دنیا کی دوسری بڑی بولی جانے والی زبان ہے۔ ہر بڑی زبان کی طرح اس زبان میں بے شمار کتب حوالہ تیار ہو چکی ہیں اور اس کے علمی، تخلیقی اور تنقیدی و تحقیقی سرمائے کا بڑا حصہ بڑے اعتماد کے ساتھ عالمی ادب کے دوش بدوش رکھا جا سکتا ہے۔ ایسی زبان اس امر کی متقاضی ہے کہ اسے صحیح طور پر لکھا بولا جا سکے۔ کیونکہ کسی بھی زبان کی بنیادی اکائی اس کے اصول وقواعد ہیں۔ زبان پہلے وضع ہوتی ہے اور قواعد بعد میں لیکن زبان سے پوری واقفیت حاصل کرنے کےلیے قواعد زبان سے آگاہی ضروری ہے۔ اہل زبان نے قواعد کی ضرورت کبھی محسوس نہیں کیا اس لیے انہوں نے قواعد مرتب نہیں کیے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ اردو بولنے یا لکھنے والے پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد اپنی قومی زبان کی صحت کی طرف سے سخت غفلت برت رہی ہے۔ سکولوں اورکالجوں کےلیے گرائمر کی متعدد کتابیں شائع ہوئیں ہیں جو کاروباری مقاصد کو سامنے رکھ کر تیار کی گئیں۔جن میں گرائمر برائے نام اور انشاپردازی کےلیے اِدھر اُدھر سے مواد اکٹھا کر کے ضخیم بنادیاگیا ہے۔ جن میں کسی ترتیب کاخیال نہیں رکھا گیا۔ صرف اور نحو کوباہم گڈمڈ کردیاگیا ہے۔ روزہ مرہ ،محاورہ، ضرب المثل اور مقولہ میں تمیز کےبغیر انہیں شامل کتاب کردیا گیا ہے۔ ان کتابوں میں صرف امتحانی ضروریات کا خیال رکھاگیا ہے لیکن ان سے لسانی تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ اسی لیے اخبارات ورسائل میں جو مضامین شائع ہوتے ہیں ان میں بہت زیادہ غلطیاں پائی جاتی ہیں۔زبان کے اصول وقواعد کا مطالعہ اور تحقیق زندہ اور باوقار قوموں کی حیات کے لیے اتنا ہی ضروری ہےجتنا زندگی گزارنے کےلیے نظم وضبط اور ضابطۂ حیات لازم ہےاردو کی بقا وترقی کے لیے اس کےاصول وضوابط اور معیارات پر تحقیق کر کےاس کے نتائج سےحامیان واہالیان اردو کو مستفید کرنانہ صرف وقت کی ضرورت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’اردو املا‘‘جناب رشید حسن خاں کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں فاضل مصنف نے تحقیق اور تلاش کےبعد اردو زبان میں الفاظ کی املا کے اصول اور قواعد واضح کیے ہیں موصوف نےتیرہ برس کی تحقیق بعد یہ کتاب مرتب کی ہے۔ اردو زبان میں الفاظ کے املا کی معیار بندی اور تحقیق حوالے یہ بہترین اور اولین کتاب ہے۔ (م۔ا)

  • pages-from-sharha-maaetah-aamil-urdu-khilasa
    ابو محمد عبد الغفار بن عبد الخالق

    علوم ِنقلیہ کی جلالت وعظمت اپنی جگہ مسلمہ ہے مگر یہ بھی حقیقت کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں کلام الٰہی ،دقیق تفسیر ی نکات،احادیث رسول ﷺ ،اصول وقواعد ،اصولی وفقہی احکام ومسائل کا فہم وادراک اس علم کے بغیر حاصل نہیں کرسکتے یہی وہ عظیم فن ہےکہ جس کی بدولت انسان ائمہ کےمرتبے اور مجتہدین کی منزلت تک پہنچ جاتاہے ۔جوبھی شخص اپنی تقریر وتریر میں عربی دانی کو اپنانا چاہتا ہے وہ سب سے پہلے نحو کےاصول وقواعد کی معرفت کا محتاج ہوتاہے ۔عربی مقولہ ہے: النحو فی الکلام کالملح فی الطعام یعنی کلام میں نحو کا وہی مقام ہے جو کھانے میں نمک ہے ۔سلف وخلف کے تمام ائمہ کرام کااس بات پراجماع ہے کہ مرتبۂ اجتہاد تک پہنچنے کے لیے علم نحو کا حصول شرط لازم ہے قرآن وسنت اور دیگر عربی علوم سمجھنےکے لیے’’ علم نحو‘‘کلیدی حیثیت رکھتاہے اس کے بغیر علومِ اسلامیہ میں رسوخ وپختگی اور پیش قدمی کاکوئی امکان نہیں۔ قرن ِ اول سے ل کر اب تک نحو وصرف پرکئی کتب ان کی شروح لکھی کی جاچکی ہیں ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ اردو خلاصہ شرح مائۃ عامل سوالاً جواباً‘‘ علم نحو کےامام علامہ عبد القاہر جرجانی کی علم نحو پر مائہ ناز کتاب ’’ مائۃ عامل ‘‘کی سوالاً جواباً اردو شرح ہے جس میں نحو کے ایک سو عوامل کوبیان کیا گیا ہے یہ کتاب اکثر مدارس کے نصاب میں شامل ہے   لہذامائۃ عامل کوسمجھنے کے لیے یہ شرح طلباء کے لیے انتہائی مفید ہے۔ سوالاً جواباً اس شرح کا اہم کام مولانا عبد الغفار بن عبد الخالق﷾ (مدرس الجامعۃ الحرمین اہل حدیث ماڈل ٹاؤن،گوجرانوالہ) نے بڑ ے آسان فہم انداز میں   کیاہے۔ جس سے طلبہ وطالبات کے لیے   اصل کتاب کو سمجھنا آسان ہوگیا ہے ۔اللہ تعالیٰ   فاضل مترجم کی زندگی اور علم وعمل میں برکت فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • pages-from-urdu-shairi-ka-siyasi-o-tareekhi-pas-e-manzar
    سید محمد ابو الخیر کشفی

    اردو برصغیر کی زبانِ رابطہء عامہ ہے اور اس کا ابھار گیارہویں صدی عیسوی میں ہوا۔ اس کا اتقاء جنوبی ایشیاء میں سلطنت دہلی کے عہد میں ہوااور مغلیہ سلطنت کے دوران فارسی، عربی اور ترکی کے اثر سے اس کی ترقی ہوئی۔ یہ پاکستان کی قومی زبان جبکہ بھارت کی تیئس(23) سرکاری زبانوں میں سے ہے۔ کچھ ماہرین لسانیات اردو اور ہندی کوایک ہی زبان کی دو معیاری صورتیں گردانتے ہیں، تاہم دوسرے اس کو معاش اللسانی تفرقات کی بنیاد پر الگ سمجھتے ہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندی، اردو سے اخذ شدہ ہے۔ اسی طرح اردو اور ہندی کو ایک زبان سمجھا جائے تو یہ دنیا کی چوتھی بڑی زبان ہے۔ اردو زبان باوجود دنیا کی نئی زبانوں میں سے ہونے کے اپنے پاس معیاری اور وسیع ترین ذخیرہ ادب رکھتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"اردو شاعری کا سیاسی اور تاریخی پس منظر" سید محمد ابو الخیر کشفی کی علمی و ادبی تالیف ہے۔ جس میں موصوف نے برصغیر پاک و ہند کے معروف شعراء کے علاوہ مختلف موضوعات بالخصوص کلاسیکی اردو شعری ادب، صحافت اور افسانوی ادب کے نئے پہلوؤں کو اپنی تحقیقات کے ذریعے ثابت کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ موصوف کی اس کاوش کو قبول و منظور فرمائے اور ان کے لیے اور ان کےمحروم اقرباءکے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین (عمیر)

  • title-pages-urdu-sharha-marah-al-arwah-copy
    شیخ احمد بن علی بن مسعود

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب "اردو شرح مراح الارواح"شیخ احمد بن علی بن مسعود ﷫کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ وشرح ہے۔اردو ترجمہ اور شرح کرنے کی سعادت محترم مولانا ابو حمزہ محمد شریف صاحب نے حاصل کی ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں لغت عرب کے ایک اہم ترین باب علم الصرف پر تفصیلی گفتگو فرمائی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اورمترجم وشارح کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • urdu-arbi-k-lisani-rishte
    ڈاکٹر احسان الحق
    جس طرح انسان ابتدا ہی سے اپنے گرد پھیلی ہوئی کائنات پر غور و فکر کر رہا ہے، اسی طرح اس کے اندر پھیلی ہوئی کائنات بھی اس کی توجہ کا مرکز ہے۔ جس کے عجائبات گوناگوں اور اسرار لامتناہی ہیں۔ زبان بھی انھی اسرار میں سے ایک ہے۔ جو انسانی شخصیت میں مظہر کی حیثیت رکھتی ہے۔ پیش نظر کتاب میں جامعہ کراچی میں شعبہ عربی کے پروفیسر ڈاکٹر احسان الحق صاحب نے اردو اور عربی زبان کے تعلق کی نسبت سے نہایت قیمتی ابحاث پیش کی ہیں۔ مصنف نے ایک باب میں اردو زبان کے ماخذ پر تبصرہ کرتے ہوئے دیگر ابواب میں عربی زبان کا تعارف، اردو عربی کے روابط اور اردو عربی حروف و حرکات کے اشتراک پر علمی پیرائے میں گفتگو کی ہے۔ کتاب کے آخری ابواب اردو عربی صوتیات، قواعد اور ذخیرہ الفاظ پر مشتمل ہیں۔ یقیناً یہ کتاب اہل ذوق کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-urdu-qawaed
    ڈاکٹر شوکت سبز واری

    اُردو برصغیر کی زبانِ رابطۂ عامہ ہے۔ اس کا اُبھار 11 ویں صدی عیسوی کے لگ بھگ شروع ہو چکا تھا۔ اُردو، ہند- یورپی لسانی خاندان کے ہند- ایرانی شاخ کی ایک ہند- آریائی زبان ہے. اِس کا اِرتقاء جنوبی ایشیاء میں سلطنتِ دہلی کے عہد میں ہوا اور مغلیہ سلطنت کے دوران فارسی، عربی اور ترکی کے اثر سے اس کی ترقّی ہوئی۔ اُردو (بولنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے) دُنیا کی تمام زبانوں میں بیسویں نمبر پر ہے. یہ پاکستان کی قومی زبان جبکہ بھارت کی 23 سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے. اُردو کا بعض اوقات ہندی کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے. اُردو اور ہندی میں بُنیادی فرق یہ ہے کہ اُردو نستعلیق رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور عربی و فارسی الفاظ استعمال کرتی ہے. جبکہ ہندی دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور سنسکرت الفاظ زیادہ استعمال کرتی ہے. کچھ ماہرینِ لسانیات اُردو اور ہندی کو ایک ہی زبان کی دو معیاری صورتیں گردانتے ہیں. تاہم، دوسرے اِن کو معاش اللسانی تفرّقات کی بنیاد پر الگ سمجھتے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندی، اُردو سے نکلی۔ ہر زبان کے لئے کچھ اصول اور قوانین ہوتے ہیں، جن سے اس زبان کو صحیح طور سے سیکھا اور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ زبان کی درستی اور اس کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لئے ان قوانین پر عمل درآمد کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اردو زبان کے بھی کچھ اصول ہیں، جنہیں قواعد یا گرامر کہا جاتا ہے۔ ان کے جاننے سے اردو زبان کو ٹھیک طریقے سے بولا اور سمجھا جا سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"اردو قواعد"محترم ڈاکٹر شوکت سبز واری صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اردو زبان کے قواعد اور انشاء پردازی کے اصول بیان فرمائے ہیں۔ (راسخ)

  • title-pages-urdu-qawaid-w-insha-pardazi-2-copy
    ماہ لقا رفیق

    اُردو برصغیر کی زبانِ رابطۂ عامہ ہے۔ اس کا اُبھار 11 ویں صدی عیسوی کے لگ بھگ شروع ہو چکا تھا۔ اُردو ، ہند-یورپی لسانی خاندان کے ہند-ایرانی شاخ کی ایک ہند-آریائی زبان ہے. اِس کا اِرتقاء جنوبی ایشیاء میں سلطنتِ دہلی کے عہد میں ہوا اور مغلیہ سلطنت کے دوران فارسی، عربی اور ترکی کے اثر سے اس کی ترقّی ہوئی۔ اُردو (بولنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے) دُنیا کی تمام زبانوں میں بیسویں نمبر پر ہے. یہ پاکستان کی قومی زبان جبکہ بھارت کی 23 سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے. اُردو کا بعض اوقات ہندی کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے. اُردو اور ہندی میں بُنیادی فرق یہ ہے کہ اُردو نستعلیق رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور عربی و فارسی الفاظ استعمال کرتی ہے. جبکہ ہندی دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور سنسکرت الفاظ زیادہ استعمال کرتی ہے. کچھ ماہرینِ لسانیات اُردو اور ہندی کو ایک ہی زبان کی دو معیاری صورتیں گردانتے ہیں. تاہم، دوسرے اِن کو معاش اللسانی تفرّقات کی بنیاد پر الگ سمجھتے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندی ، اُردو سے نکلی۔ ہر زبان کے لئے کچھ اصول اور قوانین ہوتے ہیں، جن سے اس زبان کو صحیح طور سے سیکھا اور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ زبان کی درستی اور اس کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لئے ان قوانین پر عمل درآمد کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اردو زبان کے بھی کچھ اصول ہیں، جنہیں قواعد یا گرامر کہا جاتا ہے۔ ان کے جاننے سے اردو زبان کو ٹھیک طریقے سے بولا اور سمجھا جا سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" اردو قواعد وانشاء پردازی "محترمہ ماہ لقا رفیق صاحبہ کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے اردو زبان کے قواعد اور انشاء پردازی کے اصول بیان فرمائے ہیں۔(راسخ)

  • title-pages-urdu-mukhtasir-naweesi-copy
    نور احمد شاد

    پاکستان میں رہنے والے اکثر لوگوں کی زبان اردو ہے، جو اردو میں ہی گفتگو کرتے ہیں اور اردو میں ہی اپنی تحریریں لکھتے ہیں۔آئینی طور پر حکومت پاکستان پر لازم تھا کہ وہ 1988ء تک اردو کو بطور دفتری زبان کے رائج کرے۔لیکن افسر شاہی نے بیوروکریٹس نے کبھی اس طرف دھیان نہیں دیا اور ارود کے نفاذ میں روڑے اٹکاتے آئے۔دفاتر میں اردو کے نفاذ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تربیت یافتہ عملے کی کمی بیان کی جاتی ہے۔اس کمی کو پورا کرنے کے لئے مقتدرہ قومی زبان اور صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے اردو مختصر نویسی اور ٹائپ کاری کے متعدد تربیتی مراکز قائم کئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"اردو مختصر نویسی"محترم نور احمد شاد صاحب کی تصنیف ہے، جوان مراکز میں تربیت پانے والے طلباء کی سہولت کے پیش نظر لکھی گئی ہے۔امید ہے کہ اردو مختصر نویسی سیکھنے کے شائق دوسرے طلباء بھی اس کتاب کو کارآمد اور مفید پائیں گے۔اللہ کرے کہ ہماری حکومت اردو زبان کو دفاتر میں رائج کرنے کے لئے مخلص ہو جائے اور افسر شاہی کے ہتھکنڈوں اور جالوں کا شکار نہ ہو۔ابھی حال ہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی حکومت کو اس طرف توجہ دلائی ہے۔اللہ ہمیں غیروں کی زبان کی بجائے اپنے ملک میں اپنی قومی زبان نافذ کرنے کی ہمت دے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-urdu-me-usool-e-tehqiq-muntakhib-maqalat-copy
    ڈاکٹر سلطانہ بخش

    تحقیق عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کی اصلیت وحقیقت معلوم کرنے کے لئے چھان بین اور تفتیش کرنا۔اصطلاحا تحقیق کا مطلب ہے  کہ کسی منتخب موضوع کے متعلق چھان بین کر کے کھرے کھوٹے اور اصلی ونقلی مواد میں امتیاز کرنا،پھر تحقیقی قواعد وضوابط کے مطابق اسے استعمال میں لانا اور اس سے نتائج اخذ کرنا ۔ایسا تحقیقی کام سندی تحقیق میں کیا جاتا ہے ،جو ہر مقالہ کی آخری منزل ہوتی ہے۔ترقی یافتہ علمی دنیا میں تحقیقی مقالہ لکھنے یا "رسمیات تحقیق" کو سائنٹیفک اور معیاری بنانے کا کام اور اس پر عمل کا آغاز اٹھارویں صدی ہی میں شروع ہوچکا تھا- چنانچہ حواشی و کتابیات کے معیاری اصول اور اشاریہ سازی کا اہتمام مغربی زبانوں میں لکھی جانے والی کتابوں میں اسی عرصے میں نظر آنے لگا تھا۔لیکن افسوس کہ آج تک اردو میں تحقیق کی رسمیات متفقہ طور پر نہ طے ہو سکیں۔ نہ ان کے بارے میں سوچا گیا اور نہ ہی کوئی مناسب پیش رفت ہوسکی۔ چنانچہ ایک ہی جامعہ میں، بلکہ اس جامعہ کے ایک ہی شعبے میں لکھے جانے والے مقالات باہم ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ کسی ایک مقالے میں حواشی کسی طرح لکھے جاتے ہیں اور کتابیات کسی طرح مرتب کی جاتی ہے۔ دوسرے مقالے میں ان کے لکھنے اور مرتب کرنے کے اصول مختلف ہوسکتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " اردو میں اصول تحقیق،  منتخب مقالات "اسی جانب ایک سنگ میل ہےجسے محترمہ ڈاکٹر سلطانہ بخش نے  مختلف اہل علم کے مقالات سے مرتب فرمایا ہے۔یہ کتاب مقالہ نگار حضرات کے علمی وتحقیقی تجربوں اور وسیع وگہرے مطالعے کا نچوڑ ہے۔اس میں فن تحقیق کے وہ سارے پہلو آ گئے ہیں جو تحقیق کرنے والے ہر طالب علم ،ہر استاذ  اور تمام محققین کے لئے نہایت مفید ہیں۔ (راسخ)

  • pages-from-urdu-mein-shakhsiyyat-nigari-tehqeequi-o-tanqeedi-jaeza
    بشریٰ ثمینہ

    خاکہ نگاری یا شخصیت نگار ی کسی انسان کے بارے ایک ایسی تحریر ہوتی ہے جس میں ایک شخصیت کے گفتار و کردار کا اس انداز سے مطالعہ کیا جاتا ہے کہ وہ شخص ایک زندہ آدمی کی طرح تخیل کے سہارے متحرک ہو کر چلتی پھرتی روتی ہنستی اور اچھے برے کام کرتا نظرآئے۔ جتنے جاندار اور بھر پور انداز سے شخصیت ابھر ے گی اتنا ہی خاکہ کامیاب نظرآئے گا۔خاکہ نگاری ایک بہت مشکل صنف ادب ہے۔اردو ادب میں خاکہ نگاری عہد جدید کی پیداوار ہے اور یہ بھی دیگر اصناف ادب کی طرح انگریزی ادب کے ذریعے ہی سے اردو ادب میں رائج ہوئی اور بہت جلد افسانے اور ناول کی طرح اردو ادب کا تخلیقی حصہ بن گئی۔اردوخاکہ نگاری کی تاریخ کچھ زیادہ پرانی نہیں لیکن ہئیت اور مواد دونوں سطح پر دیگر اصناف کے اثرات قبول کرنے کے باوجود باقاعدہ خاکہ نگاری کا اردو ادب میں آغاز بیسویں صدی میں ہوا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اردو میں شخصیت نگاری تحقیقی ونتقیدی جائزہ دورِ سرسید سے 1985 ءتک‘‘ محترمہ بشریٰ ثمینہ صاحب کا وہ تحقیقی مقالہ ہے جو انہوں نے ڈاکٹر روبینہ ترین (چیئرمین شعبہ ارود بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ،ملتان) کی نگرانی میں بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ،ملتان کے شعبہ اردو میں پیش کر کے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔اس مقالہ کوانہوں نے چھ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ باب اول شخصیت نگاری کافن، باب دوم اردو میں شخصیت نگاری کی روایت ، باب ثالث شخصیت نگاری آزاد سے عہد جدید تک، باب چہارم شخصیت نگاری میں اسلوب اور تکنیک کانتوع اور چھٹا باب اردو میں شخصیت نگاری کےرجحانات کے تحقیقی وتنقیدی جائزہ پر مشتمل ہے۔ (م۔ا)

  • title-page-urdu-ka-aasaan-qaida
    مولوی موسی سلمان کرماڈی
    زیر نظر کتابچہ ’اردو کا آسان قاعدہ‘ مولوی موسیٰ سلیمان کرماڈی کی تالیف ہے ، جو انہوں نے چھوٹے بچوں کو اردو حروف سے واقفیت کے لیے ترتیب دیا ہے۔ 27 صفحات کا یہ قاعدہ اگر بچوں کو سبقاً پڑھا دیا جائے تو بہت جلد بچوں کو اردو زبان سے شد بد ہو جائے گی۔ قاعدہ میں مؤلف نے اس بات کو ملحوظ رکھا ہے کہ بچوں میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ لکھائی کی بھی صلاحیت پیدا ہو۔ صفحہ 5 تا 10 میں ایسا اسلوب اختیار کیا گیا ہے جس سے بچوں کو جلد لکھنا آ جائے۔ روز مرہ کی ضروری بول چال کے اردو جملے، دنوں اور مہینوں کے نام اور گنتی لفظوں میں بتائی گئی ہے۔ (ع۔م)

  • title-pages-armaghan-e-hanif
    محمد اسحاق بھٹی
    مولانامحمدحنیف ندوی علیہ الرحمۃ ایک عظیم مفکر،جلیل القدرعالم اورمنفردادیب اوربلندپایہ فلسفی تھے ۔انہوں نے مختلف اسلامی موضوعات پرتیس کے قریب کتابیں تحریرکیں ۔مولانانے قرآن شریف کی تفسیربھی لکھی جوسراج البیان کے نام سے پانچ جلدوں میں شائع ہوئی ۔مولانامرحوم بے پناہ صلاحیتوں اورخوبیوں سے اتصاف پذیرتھے اوراسلام کے لیے ان کی خدمات انتہائی قابل قدرہیں ۔لیکن افسوس کہ عوام میں بہت کم لوگ ان سے واقف ہیں ۔ارباب ذوق کوان سسے روشناس کرانے کے لیے زیرنظرکتاب ’’ارمغان حنیف ‘‘پیش کی جاری ہے جس میں ان کی خدمات وسوانح زندگی بیان کیے گئے ہیں ۔یہاں اس حقیقت کی نشاندہی بھی ضروری ہے کہ مولاناکی فکرکے بعض پہلوارباب علم وتحقیق کی نگاہ میں محل نظرہیں ۔رحمہ اللہ تعالیٰ۔



  • pages-from-asaas-ul-saraf-1
    محمد بشیر

    اللہ تعالی کاکلام اور نبی کریم ﷺکی احادیث مبارکہ عربی زبان میں ہیں اسی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں سے عربی کا رشتہ مضبوط ومستحکم ہے عربی اسلام کی سرکاری زبان ہے ۔شریعتِ اسلامی کے بنیادی مآخد اسی زبان میں ہیں لہذا قرآن وسنت اور شریعت اسلامیہ پر عبور حاصل کرنےکا واحد ذریعہ عربی زبان ہے اس لحاظ سے عربی سیکھنا اور سکھانا   امت مسلمہ کا اولین فریضہ ہے ۔فن صرف علم نحو ہی کی ایک شاخ ہے شروع میں اس کے مسائل نحو کے تحت ہی بیان کیےجاتے تھے معاذ بن مسلم ہرّاء یاابو عثمان بکر بن محمدمزنی نے علم صرف کو علم النحو سے الگ کرکے مستقل فن کی حیثیت مرتب ومدون کیا۔صرف ونحوصرف کی کتابوں کی تدوین وتصنیف میں علماء عرب کےساتھ ساتھ عجمی علماء بھی   پیش پیش رہے ۔جب یہ تسلیم کرلیا گیا کہ تعلیم وتدریس میں علم وفن کاپہلا تعارف طالب علم کی مادری زبان میں ہی ہوناچاہیے تو مختلف علاقوں کے اہل علم نے اپنی اپنی مقامی زبان میں اس فن پر کئی کتب تصنیف کیں ۔تاریخ اسلام کا یہ باب کس قد ر عظیم ہے کہ عربی زبان کی صحیح تدوین وترویج کا اعزاز عجمی علماء اور بالخصوص کبار علمائے ہندکے حصے میں آیا ہندوستان اور مغل حکمرانوں کی سرکاری زبان فارسی ہونےکی وجہ سے ہندی علماء نے صرف ونحو کی کتب فارسی زبان میں ہی تصنیف کیں پھر رفتہ رفتہ برصغیر کے باشندوں کے لیے فارسی زبان بھی اجنبی ہونے لگی توبرصغیر کے فضلا ءنےاردو میں نحووصرف کے موضوع پرکتاب النحو، کتاب الصرف،عربی کا معلم کے علاوہ متعدد کتب لکھیں ان علماء کرام کااردو زبان میں صر ف ونحو پر کتابیں لکھنےکا مقصد عربی وزبان وادب کی تفہیم وتسہیل اور اشاعت وترویج ہی تھا کیوں کہ اگر ابتدائی طور پرکوئی مضمون مادری زبان میں ذہن نشین ہوجائے تو پھر اس زبان میں تفصیل واضافہ کو بخوبی پڑھا اورسمجھا جاسکتاہے ۔ عربی زبان کی تفہیم کےلیے عصر حاضر میں مولانا بشیر سیالکوٹی کی کتب بھی بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’اساس الصرف‘‘دو حصوں پر مشتمل مولانا محمد بشیر سیالکوٹی ﷾کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب علم صرف کے قواعد کی ایسی آسان اور جامع کتاب ہے جسے پڑھ کر عربی زبان لکھنے اور بولنے کی صلاحیت حاصل کی جاسکتی ہے ۔مولانا محمد بشیر سیالکوٹی ایک معروف عالم دین، ماہر تعلیم،مصنف، مترجم اور ناشر ہیں۔ پاکستان میں عربی زبان کے فروغ اور حکومتی و دینی مدارس و جامعات کے نصاب کی اصلاح کے لیے آپ کی خدمات معروف ہیں۔آپ دارالعلم اسلام آباد اور معہداللغۃ العربیۃ پاکستان کے بانی و مدیر ہیں۔ آپ غیر عربوں کو عربی زبان کی تعلیم کے ماہر ہیں اور کئی مقبول کتابوں کے مصنف ہیں۔مدارسِ دینیہ کے نصاب میں شامل کتب اقراء، قواعد انشاء وغیرہ بھی آپ کی تصنیف ہیں۔ اللہ تعالیٰ موصوف کی خدمات کو قبول فرمائے۔(آمین)

  • pages-from-asaas-ul-saraf-2
    محمد بشیر

    اللہ تعالی کاکلام اور نبی کریم ﷺکی احادیث مبارکہ عربی زبان میں ہیں اسی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں سے عربی کا رشتہ مضبوط ومستحکم ہے عربی اسلام کی سرکاری زبان ہے ۔شریعتِ اسلامی کے بنیادی مآخد اسی زبان میں ہیں لہذا قرآن وسنت اور شریعت اسلامیہ پر عبور حاصل کرنےکا واحد ذریعہ عربی زبان ہے اس لحاظ سے عربی سیکھنا اور سکھانا   امت مسلمہ کا اولین فریضہ ہے ۔فن صرف علم نحو ہی کی ایک شاخ ہے شروع میں اس کے مسائل نحو کے تحت ہی بیان کیےجاتے تھے معاذ بن مسلم ہرّاء یاابو عثمان بکر بن محمدمزنی نے علم صرف کو علم النحو سے الگ کرکے مستقل فن کی حیثیت مرتب ومدون کیا۔صرف ونحوصرف کی کتابوں کی تدوین وتصنیف میں علماء عرب کےساتھ ساتھ عجمی علماء بھی   پیش پیش رہے ۔جب یہ تسلیم کرلیا گیا کہ تعلیم وتدریس میں علم وفن کاپہلا تعارف طالب علم کی مادری زبان میں ہی ہوناچاہیے تو مختلف علاقوں کے اہل علم نے اپنی اپنی مقامی زبان میں اس فن پر کئی کتب تصنیف کیں ۔تاریخ اسلام کا یہ باب کس قد ر عظیم ہے کہ عربی زبان کی صحیح تدوین وترویج کا اعزاز عجمی علماء اور بالخصوص کبار علمائے ہندکے حصے میں آیا ہندوستان اور مغل حکمرانوں کی سرکاری زبان فارسی ہونےکی وجہ سے ہندی علماء نے صرف ونحو کی کتب فارسی زبان میں ہی تصنیف کیں پھر رفتہ رفتہ برصغیر کے باشندوں کے لیے فارسی زبان بھی اجنبی ہونے لگی توبرصغیر کے فضلا ءنےاردو میں نحووصرف کے موضوع پرکتاب النحو، کتاب الصرف،عربی کا معلم کے علاوہ متعدد کتب لکھیں ان علماء کرام کااردو زبان میں صر ف ونحو پر کتابیں لکھنےکا مقصد عربی وزبان وادب کی تفہیم وتسہیل اور اشاعت وترویج ہی تھا کیوں کہ اگر ابتدائی طور پرکوئی مضمون مادری زبان میں ذہن نشین ہوجائے تو پھر اس زبان میں تفصیل واضافہ کو بخوبی پڑھا اورسمجھا جاسکتاہے ۔ عربی زبان کی تفہیم کےلیے عصر حاضر میں مولانا بشیر سیالکوٹی کی کتب بھی بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’اساس الصرف‘‘دو حصوں پر مشتمل مولانا محمد بشیر سیالکوٹی ﷾کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب علم صرف کے قواعد کی ایسی آسان اور جامع کتاب ہے جسے پڑھ کر عربی زبان لکھنے اور بولنے کی صلاحیت حاصل کی جاسکتی ہے ۔مولانا محمد بشیر سیالکوٹی ایک معروف عالم دین، ماہر تعلیم،مصنف، مترجم اور ناشر ہیں۔ پاکستان میں عربی زبان کے فروغ اور حکومتی و دینی مدارس و جامعات کے نصاب کی اصلاح کے لیے آپ کی خدمات معروف ہیں۔آپ دارالعلم اسلام آباد اور معہداللغۃ العربیۃ پاکستان کے بانی و مدیر ہیں۔ آپ غیر عربوں کو عربی زبان کی تعلیم کے ماہر ہیں اور کئی مقبول کتابوں کے مصنف ہیں۔مدارسِ دینیہ کے نصاب میں شامل کتب اقراء، قواعد انشاء وغیرہ بھی آپ کی تصنیف ہیں۔ اللہ تعالیٰ موصوف کی خدمات کو قبول فرمائے۔(آمین)

  • pages-from-asbaaq-un-nahaww-hameeduddin-farahi
    حمید الدین فراہی

    عربی زبان ایک زندہ وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے۔ عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ اور متعدد اہل علم نے اس پر قلم آزمائی کی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "اسباق النحو" محترم مولانا حمید الدین فراہی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس کی ترتیب وتدوین محترم مولانا خالد مسعود صاحب نے فرمائی ہے جبکہ پیش لفظ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب ﷫کے رقم کردہ ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف ومرتب کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2282 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں