• pages-from-urdu-qawaed
    ڈاکٹر شوکت سبز واری

    اُردو برصغیر کی زبانِ رابطۂ عامہ ہے۔ اس کا اُبھار 11 ویں صدی عیسوی کے لگ بھگ شروع ہو چکا تھا۔ اُردو، ہند- یورپی لسانی خاندان کے ہند- ایرانی شاخ کی ایک ہند- آریائی زبان ہے. اِس کا اِرتقاء جنوبی ایشیاء میں سلطنتِ دہلی کے عہد میں ہوا اور مغلیہ سلطنت کے دوران فارسی، عربی اور ترکی کے اثر سے اس کی ترقّی ہوئی۔ اُردو (بولنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے) دُنیا کی تمام زبانوں میں بیسویں نمبر پر ہے. یہ پاکستان کی قومی زبان جبکہ بھارت کی 23 سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے. اُردو کا بعض اوقات ہندی کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے. اُردو اور ہندی میں بُنیادی فرق یہ ہے کہ اُردو نستعلیق رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور عربی و فارسی الفاظ استعمال کرتی ہے. جبکہ ہندی دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور سنسکرت الفاظ زیادہ استعمال کرتی ہے. کچھ ماہرینِ لسانیات اُردو اور ہندی کو ایک ہی زبان کی دو معیاری صورتیں گردانتے ہیں. تاہم، دوسرے اِن کو معاش اللسانی تفرّقات کی بنیاد پر الگ سمجھتے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندی، اُردو سے نکلی۔ ہر زبان کے لئے کچھ اصول اور قوانین ہوتے ہیں، جن سے اس زبان کو صحیح طور سے سیکھا اور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ زبان کی درستی اور اس کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لئے ان قوانین پر عمل درآمد کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اردو زبان کے بھی کچھ اصول ہیں، جنہیں قواعد یا گرامر کہا جاتا ہے۔ ان کے جاننے سے اردو زبان کو ٹھیک طریقے سے بولا اور سمجھا جا سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"اردو قواعد"محترم ڈاکٹر شوکت سبز واری صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اردو زبان کے قواعد اور انشاء پردازی کے اصول بیان فرمائے ہیں۔ (راسخ)

  • title-pages-islahe-talafuz-w-imla
    طالب ہاشمی
    ہماری قومی زبان اردو اگرچہ ابھی تک ہمارے لسانی و گروہی تعصبات اور ارباب بست و کشاد کی کوتاہ نظری کے باعث صحیح معنوں میں سرکاری زبان کے درجے پر فائز نہیں ہو سکی لیکن یہ بات محققانہ طور پر ثابت ہے کہ ہند ایرانی تہذیب کی مظہر یہ زبان اس وقت دنیا کی دوسری بڑی بولی جانے والی زبان ہے۔ ہر بڑی زبان کی طرح اس زبان میں بے شمار کتب حوالہ تیار ہو چکی ہیں اور اس کے علمی، تخلیقی اور تنقیدی و تحقیقی سرمائے کا بڑا حصہ بڑے اعتماد کے ساتھ عالمی ادب کے دوش بدوش رکھا جا سکتا ہے۔ ایسی زبان اس امر کی متقاضی ہے کہ اسے صحیح طور پر لکھا بولا جا سکے۔ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ اردو بولنے یا لکھنے والے پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد اپنی قومی زبان کی صحت کی طرف سے سخت غفلت برت رہی ہے۔ تلفظ اور املا کی غلطیاں، اہل قلم کیا اور دوسرے لوگ کیا سب سے بے تحاشا سرزد ہو رہی ہیں۔ جیسا کہ کتاب کے نام سے ظاہر ہے یہ اصلاح زبان کے لیے کی گئی ایک کاوش ہے جس کے مصنف طالب الہاشمی ہیں کتاب کے شروع میں تلفظ کی غلطیوں پر ایک مضمون علامہ اسد ملتانی مرحوم اور املا کی غلطیاں کے عنوان سے جناب حامد علی خان مرحوم کا مضمون شامل کیا گیا ہے۔ بعض الفاظ کے اعراب میں چند بنیادی غلطیوں کو رقم کرنے کے بعد غلط تلفظ کی تین سو مثالیں بیان کی گئی ہیں اور اردو اِملا کے چند اہم اصول و قواعد پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ وہ الفاظ جن کا اِملا عام طور پر غلط کیا جاتا ہے، دو سو ہم شکل الفاظ اور زبانِ خامہ کی 150 عام خامیوں کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ کتاب کے آخری حصے میں اردو کے سہ حرفی، چار حرفی، پانچ حرفی، چھ حرفی اور سات حرفی الفاظ کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔ وہ لوگ جو لکھنے لکھانے میں مصروف ہیں اور ایسے لوگ جو اس میدان میں نووارد ہیں اور اردو ادب کے ساتھ ہلکا سا بھی شغف رکھنے والوں کے لیے اس کتاب کا مطالعہ از حد ضروری ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-iqra-1
    بشیر احمد سیالکوٹی
    عربی زبان کو ایک ایسا اعزاز حاصل ہے جس کی وجہ سے وہ قیامت تک رہے گی ۔ اور وہ یہ ہے کہ قرآن جیسی مقدس کتاب اس زبان میں موجود ہے ۔ مسلمان اپنا دین سیکھنے کے لئے ہمیشہ ہی اس زبان کے محتاج رہیں گے ۔ اس کی تفہیم اور تشریح کے لئے ماہرین نے مختلف پہلوؤں سے کام کیا ہے ۔ ایک تو اس کا گوشہ گرائمر کا ہے جس میں اس زبان کے قواعد و ضوابط زیر بحث آیا کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اسے براہ راست بولنے کی مشق کی جائے ۔ تاکہ اس کے الفاظ معانی کے ساتھ زبان پر چڑھ جائیں ۔ زیر نظر کتاب مؤخرالذکر پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے مرتب کی گئی ہے ۔ اس میں تقریبا تمام وہ الفاظ آگئے ہیں جو ہماری روزمرہ معمولات میں استعمال ہوا کرتے ہیں ۔ اور اس کے علاوہ یہ ہے کہ زبان کے اساسی اجزا کو ملا کر ایک جملہ کیسے تشکیل دیا جانا چاہیے اس حوالے سے بھی ساتھ ساتھ بطریق احسن مشق ہوتی جاتی ہے ۔ اس کتاب کی افادیت کے پیش نظر اسے مدارس میں داخل نصاب بھی کیا جا چکا ہے اور ہزاروں مبتدی طلبا اس سے مستفید ہو رہے ہیں ۔ اللہ مصنف کو اجر سے نوازے ۔ آمین (ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-ilamusseegha-urdu-ma-zaroori-fawaed-o-tashreehat
    مفتی رفیع عثمانی

    کسی بھی زبان کو سمجھنے کے لیے اس کے بنیادی اصول و قواعد کا جاننا بہت ضروری اور لازمی ہوتا ہے۔ انسان اس وقت تک کسی زبان میں مکمل عبور حاصل نہیں کر سکتا جب تک اس زبان کے اصول و قواعد میں پختگی حاصل نہ کر لے۔ یہ عالم فانی بے شمار زبانوں کی آماجگاہ ہے اور سب سے قدیم ترین زبان' عربی زبان' ہے۔ فہم القرآن و حدیث کے لیے عربیت کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔ اہل اسلام کی تمام تر تعلیمات کا ذخیرہ عربی زبان میں مدوّن و مرتب ہے اور ان علوم سے استفادہ عربی گرائمر(نحو و صرف) کے بغیر نا ممکن ہے۔ جب مسلمانانِ ہند کی علمی زبان فارسی تھی طالب علم کو فارسی سیکھانے کے بعد ہی درس نظامی میں داخلہ دیا جاتا تھا اور نحو و صرف کی ابتدائی کتب بھی فارسی میں مدوّن تھیں۔ لیکن اب المیہ یہ ہے کہ مدارس میں فارسی زبان سیکھانے کا وہ اہتمام نہیں رہا اور اس کی جگہ اردو زبان رائج ہوتی گئی۔ زیر نظر کتاب" علم الصیغہ" مولانا مفتی عنایت احمدؒ کی بے نظیر تصنیف ہے اور مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی حفظہ اللہ تعالیٰ نے اس کو نہایت محنت و لگن سے سلیس اردو قالب میں منتقل کرکے درس نظامی کے طلباء پر احسان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور مزید توفیق عطا فرمائے تاکہ اس قسم کے علمی جواہرات سے طلباء کے دامن کو مالامال کریں۔ آمین(عمیر)

  • pages-from-qawaed-e-urdu-1
    مولوی عبد الحق

    ہماری قومی زبان اردو اگرچہ ابھی تک ہمارے لسانی و گروہی تعصبات اور ارباب بست و کشاد کی کوتاہ نظری کے باعث صحیح معنوں میں سرکاری زبان کے درجے پر فائز نہیں ہو سکی لیکن یہ بات محققانہ طور پر ثابت ہے کہ اس وقت دنیا کی دوسری بڑی بولی جانے والی زبان ہے۔ ہر بڑی زبان کی طرح اس زبان میں بے شمار کتب حوالہ تیار ہو چکی ہیں اور اس کے علمی، تخلیقی اور تنقیدی و تحقیقی سرمائے کا بڑا حصہ بڑے اعتماد کے ساتھ عالمی ادب کے دوش بدوش رکھا جا سکتا ہے۔ ایسی زبان اس امر کی متقاضی ہے کہ اسے صحیح طور پر لکھا بولا جا سکے۔ کیونکہ کسی بھی زبان کی بنیادی اکائی اس کے اصول و قواعد ہیں۔ زبان پہلے وضع ہوتی ہے اور قواعد بعد میں لیکن زبان سے پوری واقفیت حاصل کرنے کے لیے قواعد زبان سے آگاہی ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’قواعد اردو‘‘ مولوی عبد الحق علیگ کی تصنیف ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں ارودو زبان کے گرائمر کے قواعد کو بیان کرتے ہوئے اس بات کو واضح کیا ہے کہ اردو کی صرف و نحو کو سنسکرت زبان کے قواعد سے اسی قدر مغائرت ہے جتنی عربی زبان کی صرف نحو سے۔ فاضل مصنف نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ کسی زبان کے قواعد لکھتے وقت اس کی خصوصیات کو کبھی نظر انداز نہ کیا جائے اور محض کسی زبان کی تقلید میں اس پر زبردستی قواعد اور اصول کے نام سے ایسا بوجھ نہ ڈال دیاجائے جس کی وہ متحمل نہ ہوسکے۔ مصنف نے کتاب ہذا میں اسی اصول کومدنظر رکھا ہےاوراس امر کی کوشش کی ہے جدھر زبان کا رجحان ہو ادہر ہی اس کا ساتھ دیا جائے۔ (م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 330 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں