ڈاکٹر حافظ حسن مدنی

 

28 جولائی 2017 ء کو سپریم کورٹ نے پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کواس فیصلہ کی بنا پر اپنے عہدے سے معزول کردیا کہ وہ آئین پاکستان کی دفعہ 62 کے مطابق صادق اور امین نہیں رہے:

 

’’نواز شریف نے متحدہ عرب امارات میں قائم کمپنی ایف زیڈ ای میں اپنے اثاثوں کو 2013ء میں اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں ظاہر نہ کر کے قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور وہ اب پیپلز ایکٹ 1976 ءکی سیکشن 99 کی روشنی میں ایماندار نہیں رہے لہٰذا وہ پیپلز ایکٹ 1976 کی سیکشن 99 اور آرٹیکل 62 (اے) کی روشی میں پارلیمنٹ کے ممبر کے طور نااہل ہیں۔     الیکشن کمیشن نواز شریف کی نااہلی کا فوری نوٹیفکیشن جاری کرے۔‘‘[1]

 

اس کے بعد سے مختلف سیاسی وسماجی حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی کہ آئین کے اس آرٹیکل 62 کی کونسی ایک اہم ضرورت ہے جس کی بنا پر ایک منتخب وزیر اعظم کو گھر بھیج دیا گیا۔ بعض لوگ تو یہاں تک کہنے لگے کہ آئین میں ترمیم کرکے اس دفعہ کو حذف کرایا جائے کیونکہ یہ مستقبل میں بھی کسی بھی حاکم کو معزول کرنے کا اختیار سپریم کورٹ کو دیتی ہے۔ دستورِ پاکستان کے آرٹیکل 62 (1) کا مستند متن یہ ہے :

 

تفصیل کے لیے۔۔۔

 

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 263 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں