سید بدیع الدین شاہ راشدی

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
سید بدیع الدین شاہ راشدی
سید احسان اللہ شاہ راشدی
1926-05-16
1996-01-08

دینی تعلیم کاآغاز اپنےمدرسہ ’’دارالارشاد،،سےکیا یہ ان کاٖآبائی مدرسہ تھا۔3ماہ کی قلیل مدت میں حفظ القرآ ن کی تکمیل کی ۔اس کےبعد اپنےوالدمحترم سید احسان اللہ شاہ راشدی سےتفسیرحدیث اورفقہ کی تحصیل کی ۔اس کےبعد آپ نےدجن اساتذہ سےاکتساب کیا ان کی تعداد 18ہے۔اور سب کےسب حنفی المسلک تھے۔

مولانا سید بدیع الدین شاہ راشدی  16 مئی 1926ء بمطابق 1342ؔھ میں گوٹھ فضل شاہ ( نیو سعیدآباد) ضلع حیدرآباد میں سندھ میں پیدا ہوئے۔دینی تعلیم کاآغاز پنےمدرسہ ’’دارالارشاد،،سےکیا یہ ان کاٖآبائی مدرسہ تھا۔3ماہ کی قلیل مدت میں حفظ القرآ ن کی تکمیل کی ۔اس کےبعد اپنےوالدمحترم سید احسان اللہ شاہ راشدی تفسیرحدیث اورفقہ کی تحصیل کی ۔اس کےبعد آپ نےدجن اساتذہ سےاکتساب کیا ان کی تعداد 18ہے۔اور سب کےسب حنفی المسلک تھے۔ان اساتذہ سےاستفادہ کےبعد آپ نےجن علماء حدیث سےحدیث تفسیرفقہ اورمختلف علوم اسلامیہ میں تعلیم حاصل کی ان کے نام یہ ہیں۔ 1۔مولاناسیدمحب اللہ شاہ راشدی   2۔مولاناالواالوفاء ثناء اللہ امرتسری ۔3۔مولاناحافظ عبداللہ محدث روپڑی  4۔مولانا ابو اسحاق نیک محمد امرتسری۔5۔مولانا ابوسعید شرف الدین محدث دہلوی۔فراغت کےبعداپنےگا ؤ ں میں درس وتدریس کاسلسلہ  جاری کیا اور پھراپنی ساری زندگی درس وتدریس وعظ وتبلیغ ، دعوت وارشاد واورتصنیف تالیف میں بسرکردی۔آپ کےتلامذہ کی فہرست خاصی لمبی طویل ہے۔دعوت کتاب وسنت اور تردیدشرک وبدعت کےسلسلہ میں آپ مصائب وآلام سےبھی دوچار ہوئے لیکن آپ کےپایہ استقلال میں لغزش نہ آئی۔آپ تقلیدیان احناف کےخلاف سینہ سپررہے۔حضرت بدیع الدین بلید پایہ کےمناظرتھےآپ نےاحناف  سےبہت مناظرے کیے۔صرف مناظرہ ہی نہیں بلکہ اعلی پایہ کےخطیب اور مقرر بھی تھے۔ مدینۃ النبی میں کئی سال مقیم رہےاور وہاں درس حدیث دیتےرہے۔کثیرالمطالعہ تھےاورتصنیف وتالیف کاشوق بھی رکھتےتھےعربی اردو سندھی میں کتابیں لکھی ہیں۔

وفات: بدیع الدین شاہ راشدی 8جنوری 1996ء میں کراچی میں فوت ہوئے اور اپنےآبائی گاؤں گوٹھ فضل شاہ (سعید آبادمیں دفن ہوئے۔

    pages-from-itbaa-e-sunnat
    سید بدیع الدین شاہ راشدی

    فتنہ انکار حدیث تاریخ اسلام میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ نے پیدا کیا۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم حائل تھی۔ لہذا نہوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کا مسئلہ یہ تھا کہ یونانی فلسفے نے اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے جو شکوک و شبہات عقل انسانی میں پیدا کر دیے تھے، وہ انہیں سمجھنے سے پہلے ہی حل کر دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے فلسفہ کے نام سے منقول ہر بات کو عقل کا لازمی تقاضا سمجھا اور اسلامی عقائد اور اصول و احکام کی ایسی تعبیر کرنا شروع کر دی جو ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو۔ اس راہ میں پھر حدیث و سنت حائل ہوئی تو انہوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھہرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کر دیا۔ یہ فتنہ درمیان میں کئی صدیوں تک اپنی شمشان بھومی میں پڑا رہا یہاں تک کہ تیرہویں صدی ہجری میں وہ دوبارہ زندہ ہوا۔ پہلے یہ مصر و عراق میں پیدا ہوا اور اس نے دوسرا جنم برصغیر پاک و ہند میں لیا۔ برصغیر میں اس کی ابتدا کرنے والے سرسید احمد خان اور مولوی چراغ علی تھے۔ ان کے بعد مولوی عبد اللہ چکڑالوی اس کے علمبردار بنے۔ ان کے بعد مولوی احمد دین امرتسری نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور پھر اسلم جیرجپوری اسے آگے لے کر بڑھے۔ اور آخر کار اس فتنہ انکار حدیث و سنت کی ریاست و چودہراہٹ غلام احمد پرویز صاحب کے حصے میں آئی اور انہوں نے اس فتنے کو ضلالت کی انتہا تک پہنچا دیا۔ اس فکر کے حاملین اسلام کو موم کا ایک ایسا گولہ بنانا چاہتے ہیں جسے بدلتی دنیا کے ہر نئے فلسفے کے مطابق روزانہ ایک نئی صورت دی جا سکے۔زیر تبصرہ کتاب(اتباع سنت ) پاکستان کے معروف عالم دین علامہ سید بدیع الدین راشدی کے ایک خطاب پر مشتمل تالیف ہے ،جو انہوں نے 1977ء میں پیپلزپارٹی کا تختہ الٹ کر بر سر اقتدار آنے والے ضیاء الحق کے دور میں کی تھی۔ اس میں انہوں نے مستند دلائل کے ذریعے حجیت حدیث پر استدلال کیا ہے اور منکرین حدیث کو مسکت اور دندان شکن جواب دیا ہے۔اللہ تعالی ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-ahkam-al-bismillah-ki-tafseer-masail-w-ahkam-copy
    سید بدیع الدین شاہ راشدی

    قرآن مجید ایک مرتب ومنظم زندہ وجاوید صحیفہ ہے۔جس کی تفسیر ہر مفسر نے اپنے اپنے مقام وفہم کے لحاظ سے لکھی ہے۔کسی نے اپنی توجہ کا مرکز احکام قرآنی اور مسائل فقہیہ کو بنایا ،کسی مفسر کا محور عام وخاص ،مجمل ومفصل اور محکم ومتشابہ رہا ،کسی نے نحو وصرف پر زور دیا اور مفردات کے اشتقاق اور جملوں کی ترکیب پر محنت کی تو کسی نے علم کلام کی بحوث کو پیش کیا۔انہی مفسرین میں سے ایک عظیم محدث ومفسر شیخ العرب والعجم علامہ ابو محمد السید بدیع الدین شاہ الراشدی ﷫ ہیں جنہوں نے "بدیع التفاسیر " کے نام سے ایک جامع اور مستند تفسیر لکھی ہے اور اس میں مذکورہ تمام پہلووں کی رعایت رکھی ہے۔حتی کہ بعض مفسرین جو محض افراط خوش عقیدگی کی بناء پر ضعیف اور موضوع روایات ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آ رہے تھے ان کا بھی علمی جرات سے صفایا کر دیا ہے۔لیکن افسوس کہ شاہ صاحب﷫ تفسیر مکمل کئے بغیر ہی بقضائے رب الاعلی  اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ زیر تبصرہ کتاب " بسم اللہ الرحمن الرحیم کی تفسیر ،مسائل واحکام " بھی شاہ صاحب کی  اسی تفسیر کی ایک ہلکی سی جھلک ہے جو صرف بسم اللہ الرحمن الرحیم کے احکام ومسائل وغیرہ پر مشتمل ہے۔یہ تفسیر اصل میں سندھی زبان میں ہے جبکہ اس کا اردو ترجمہ کرنے کی سعادت محترم حافظ عبد الحمید گوندل مدیر ماہنامہ دعوت اہلحدیث نے حاصل کی ہے۔اس میں مولف موصوف نے  بسم اللہ کی لفظی تحقیق اور معانی،وہ کام جن سے پہلے بسم اللہ پڑھنی چاہئے،اللہ تعالی کو ہمیشہ اچھے ناموں سے پکارنا چاہئے،اسماء الحسنی کی تشریح،لفظ اللہ کا اشتقاق اور معنی،اسم مبارک اللہ ہی اسم اعظم ہے اوراللہ تعالی کی رحمت کا بیان وغیرہ جیسے موضوعات پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف ﷫ کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ا ن کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔(راسخ)

    title-2
    سید بدیع الدین شاہ راشدی

    اللہ تعالی نے انسان کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے ،اور مرد وعورت میں ظاہری تمیز کرنے کے لئے مرد کو داڑھی جیسے خوبصورت زیور سے مزین کیا ہے۔داڑھی مرد کی زینت ہے ،جس سے اس کا حسن اور رعب دوبالا ہو جاتا ہے۔داڑھی خصائل فطرت میں سے ہے ۔ تمام انبیاء کرام داڑھی کے زیور سے مزین تھے۔یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلامیہ نے مسلمانوں کو داڑھی بڑھانے اور مونچھیں کاٹنے کا حکم دیا ہے۔اللہ تعالی کی عطا کردہ اس فطرت کو بدلنا اپنے آپ کو عورتوں کے مشابہہ کرنا اوراللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنا ہے ،جو بہت بڑا گناہ ہے۔زیر نظر کتابچہ(اسلام میں داڑھی کا مقام) شیخ العرب والعجم ابو محمد بدیع الدین شاہ راشدی کی کاوش علمیہ ہے ،جس میں انہوں نے قرآن وسنت کے دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ داڑھی رکھنا فرض اور واجب ہے اور داڑھی کاٹنا یا مونڈنا ناجائز اور حرام عمل ہے۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ شیخ محترم کی اس جدوجہد کو قبول فرماتے ہوئے ان کے میزان حسنات میں اضافے کا باعث بنائے۔آمین(راسخ)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    islaammainauratkamuqaam1-copy
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    الله تعالی ہر چیز کاخالق ومالک ہے اور ہر چیز کی طبیعت اور فطرت سے بخوبی آگاہ ہے-اسی لیے اس نے ہر چیز کی طبیعت کے موافق اس کا دائرہ کار متعین کیا ہے-اسلام نے عورت کا جو دائرہ کار مقرر کیا ہے اس میں اگرچہ جتنے بھی شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی جائے، وہ نہ صرف اس کے صحیح  مقام کو متعین کرتے ہیں بلکہ اس کو ایک باعزت شخصیت کے روپ میں پیش کرتے ہیں –زیر نظر کتاب میں شیخ العرب والعجم سید بدیع الدین شاہ راشدی نے اسلام دشمن قوتوں کی جانب سے پیش کیے جانے والے شبہات کاجائزہ لیتے ہوئے کتاب وسنت کی روشنی میں  ان کا تفصیل کے ساتھ رد کیا ہے-مصنف نے اسلام میں عورت کے حقوق  وفرائض اور ذمہ داریوں کا تعین کرتے ہوئے عورت کے پردے کے احکام اسوہ رسول اور آثار صحابہ وتابعین کی روشنی میں واضح اندازمیں پیش کیے ہیں-

    islaaheahlehadeeth-copy
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    اللہ کے فضل وکرم سے اہل اسلام میں سے اہل حدیث ایک ایسی جماعت ہے جوتقلیدی جکڑبندیوں کی بجائے قرآن اور حدیث کے فرامین پر عمل پیرا  ہے اور کتاب وسنت کی دعوت کو عام کرنےمیں تندہی کے ساتھ محنت کررہی ہے لیکن اہل حدیث حضرات میں بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جن میں بنیادی طور پر بہت سی خامیاں پائی جاتی ہیں جن کی اصلاح کی ضرورت ہے- زیر نظر رسالہ میں سید بدیع الدین شاہ راشدی نے انہی کوتاہیوں کی جانب توجہ دلائی ہے-جس میں انہوں نے اس چیز کو واضح کیا ہے کہ اہل حدیث خود ایک مصلح ہے تو مصلح کی اصلاح کیسے کی جا سکتی ہے-اس میں مصلح کی صفات اور  مسلمانوں میں پائی جانے والی کوتاہیوں کی نشاندہی کی ہے-جیسا کہ جمہوریت کو اسلامی بنانے کی کوشش،مخصوص مقامات کی حد تک محدود ہو جانا،نمازوں کی اصلاح کی طرف توجہ،جہاد سے بے رغبتی اور باہمی اتفاق واتحاد کی کمی کی طرف توجہ دلائی ہے-

    pages-from-al-ilaam-bajawab-raf-ul-abhaam-wa-taayeed-ul-daleel-ul-taam
    سید بدیع الدین شاہ راشدی

    نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔ اقرار شہادتین کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔اور نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریمﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنےیا چھوڑنے کا ہے۔بعض اہل علم کے خیال ہے کہ رکوع سے پہلے والے قیام کی طرح رکوع کے بعد والے قیام میں بھی ہاتھ باندھے جائیں گے جبکہ بعض کا خیال ہےکہ رکوع کے بعد ہاتھ نہیں باندھے جائیں گے،بلکہ کھلے چھوڑ دئیے جائیں گے۔ زیر تبصرہ کتاب" الاعلام بجواب رفع الابھام وتایید الدلیل التام " پاکستان کے معروف عالم دین محترم مولانا شاہ بدیع الدین راشدی صاحب ﷫کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کا موقف اختیار کیا ہے اور اس پر متعدد دلائل دئیے ہیں۔ یہ کتاب انہوں نے محترم مولانا حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ﷫کے رسالے "رفع الابھام فی جواب دلیل تام"کے جواب میں لکھی ہے۔ رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنے کے حوالے سے حافظ عبد اللہ بہاولپوری صاحب ﷫ کی ایک کتاب بھی پہلے اپلوڈ کی جا چکی ہے۔ یہ مسئلہ اپنے زمانے میں ایک معرکۃ الآراء مسئلہ رہا ہے ،جس میں حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ﷫ اور محترم مولانا شاہ بدیع الدین راشدی صاحب ﷫اپنے اپنے موقف کو بیان کرتے رہے ہیں۔چونکہ دونوں مصنف ہی اہل حدیث ہیں اور یہ دونوں موقف ہی علمی اور اجتہادی محنت پر مشتمل ہیں،لہذا ہم نے دونوں مواقف پر مبنی کتابیں ہی اپلوڈ کر دی ہیں تاکہ اہل علم دونوں کا مطالعہ کر کے کسی نتیجے پر پہنچ سکیں۔ اللہ تعالی دونوں مولفین کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-azab-e-qabar-ki-haqiqat-copy
    سید بدیع الدین شاہ راشدی

    عقیدہ عذاب قبر قرآن مجید،احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔جس طرح دنیا میں آنے کے لئے ماں کا پیٹ پہلی منزل ہے،اور اس کی کیفیات دنیا کی زندگی سے مختلف ہیں،بعینہ اس دنیا سے اخروی زندگی کی طرف منتقل ہونے کے اعتبار سے قبر کا مقام اور درجہ ہے،اوراس کی کیفیات کو ہم دنیا کی زندگی پر قیاس نہیں کر سکتے ہیں۔اہل وسنت والجماعت کے عقیدے کے مطابق عذاب قبر بر حق ہے اور اس پر کتاب وسنت کی بہت سی براہین واضح دلالت کرتی ہیں لیکن اسلام کی خانہ زاد تشریح پیش کرنے والے بعض افراد قرآن وحدیث کی صریح نصوص سے سر مو انحراف کرتے ہوئے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اس کا انکار کر دیتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’عذاب قبر کی حقیقت‘‘ شیخ العجم والعرب سید بدیع الدین شاہ راشدی ﷫ کا عقیدہ عذاب کے متعلق شاندار رسالہ ہے یہ رسالہ انہوں نے ہندوستان کے شہر جودھپور کے ایک مولوی کا عذاب قبر کے متعلق تحریر کردہ رسالہ بنام ’’ الجزاء بعد القضاء ‘‘ کے جواب میں تحریر کیا ۔ الجزاء بد القضاء کے مصنف نے اپنے اس رسالہ میں عقیدہ عذاب قبر کےسلسلہ میں قرآن وسنت کے صریح نصوص کا انکار کیا تو سید بدیع الدین شاہ راشدی نے قرآن وسنت کےٹھوس دلائل کے روشنی میں زیر تبصرہ رسالہ ’’ القضاء والجزاء بامر اللہ متی یشاء‘‘ کے نام سے اس کے جواب میں تحریر کیا ہے اور اس میں جودھپوری صاحب کےتمام باطل نظریات واعتراضات کے تسلی بخش جوابات دیے اور خوب ان کا علمی پوسٹ مارٹم کیا ۔(م۔ا)

    title-pages-al-qanoot-w-ilyas-al-arsal-min-nail-al-amani-w-hasool-copy
    سید بدیع الدین شاہ راشدی

    نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن  کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔نماز مومن اور کافر میں فرق ہے۔ہر انسان جب کلمہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے ایمان کی شہادت دیتا ہے اور جنت کے بدلے اپنی جان ومال کا سودا کرتا ہے، اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کا غلام ہے اور اس کی جان ومال اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اب اس پر زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے۔ اس معاہدہ کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔اور نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کا ہے۔بعض اہل علم کے خیال ہے کہ رکوع سے پہلے والے قیام کی طرح رکوع کے بعد والے قیام میں بھی ہاتھ باندھے جائیں گے جبکہ بعض کا خیال ہےکہ رکوع کے بعد ہاتھ نہیں باندھے جائیں گے۔ زیر تبصرہ کتاب" القنوط والیأس لأھل الارسال من نیل الامانی وحصول الآمال " پاکستان کے معروف عالم دین علامہ سید ابو محمد بدیع الدین شاہ راشدی ﷫صدر جمعیت اہل حدیث سندھ کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کا موقف اختیار کیا ہے اور اس پر متعدد دلائل دئیے ہیں۔آپ کے اس موقف سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ،لیکن چونکہ یہ بھی ایک علمی وتحقیقی موقف ہے اس لئے قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے ،اس کے مخالف موقف پر بھی ایک دو کتب اپلوڈ کر دی ہیں تاکہ محققین دونوں کا موازنہ کرتے ہوئے کسی اجتہادی نتیجے پر پہنچ سکیں۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-2
    سید بدیع الدین شاہ راشدی

    احادیث مبارکہ میں بالوں کی سفیدی کو بدلنے اور اسے خضاب لگانے کی ترغیب دی گئی ہے ،ان میں مہندی ،کتھم اور صفرہ(زردی) کا تذکرہ ہے۔لیکن سیاہ خضاب سے منع کیا گیا ہے ۔علامہ ابن حجر الہیتمی نے اس کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے۔کیونکہ اس سے تخلیق الہی میں تبدیلی ہوتی ہے اور اس میں دھوکہ وفریب ہے۔ زیر تبصرہ کتاب  شیخ العرب والعجم علامہ ابو محمد بدیع الدین راشدی  کی تصنیف ہے ۔مولف  کی شخصیت اتنی معروف اور عالمگیر ہے کہ محتاج تعارف نہیں ہے ،انہوں نے اٹھارہ صفحات پر مشتمل اس چھوٹے سے کتابچے میں کتاب وسنت کے دلائل کی روشنی میں سیاہ خضاب لگانے کی حرمت اور عدم جواز  کو واضح کیا ہے ۔اللہ تعالی مرحوم کی اس کاوش کو اپنی بارگا ہ میں قبول ومنظور فرمائے۔آمین(راسخ)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    imamsahihulaqidahonachahiaypdf1-copy
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    ہمارے معاشرے میں بگاڑ کی بہت سی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ تقلید جامد ہمارے معاشرے میں در آئی ہے – احکامات الہی کو کتاب وسنت کی روشنی میں پرکھنے کی بجائے قول امام پر آنکھیں بند کر لی جاتی ہیں- دکھ تو اس بات کا ہے کہ ارکان ااسلام میں سے اہم ترین رکن نماز بھی اس سے محفوظ نہیں-زیر نظر کتاب میں سید بدیع الدین شاہ راشدی نے بالدلائل اس بات کی وضاحت کی ہے کہ نماز کی صحت کے لیے امام کے عقیدے کا درست ہونا انتہائی ضروری ہے- ان کا کہنا ہے کہ حنفی عقیدہ رکھنے والے حضرات کے عقائد میں اضطراب پایا جاتا ہے اور عقیدہ کا صحیح اور درست ہونا اسلام کا اولین فریضہ ہے- اس کتاب کوپڑھ کر آپ کو اس سوال کا تسلی بخش جواب مل جائے گا کہ حنفی امام کے پیچھے نماز ہوتی ہے یانہیں ہوتی؟

    title-pages-imamat-k-ahal-kon-1
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    زیر نظر کتاب دو کبار علماء حدیث کے دو رسالوں کا مجموعہ ہے ۔جن میں سے پہلا رسالہ شیخ العرب والعجم سید بدیع الدین راشدی صاحب رحمہ اللہ کا ہے اور دوسرا رسالہ حافظ زبیر علی زئی حافظہ اللہ کاہے۔اس کتاب میں اس مسئلہ کی وضاحت کی گئی ہے کہ نماز کی امامت  کے لیے امام کن اوصاف کا حامل ہو۔نیز امام کا صحیح العقیدہ اور بدعات سے مبرہ ہونا ضروری ہے ۔فاسد العقیدہ اور بدعتی امام کے پیچھے نماز پڑھنا درست نہیں ۔لہذا مصلحت کے لبادہ میں گمراہ عقائد کے حامل اور بدعات کے رسیہ امام کے پیچھے نماز پڑھنے کی جو رخصت فراہم کی جاتی ہے کتاب وسنت کے دلائل اور آثار سلف کی رو سے یہ قطعاً غلط ہے ۔بلکہ نماز میں ایسے امام کا انتخاب لازم ہے جس کا عقیدہ صحیح اور بدعت کا پرچار کر نہ ہو ۔اس مسئلہ کے بارے میں صحیح اور کامل آگاہی کے لیے زیر تبصرہ کتاب کا مطالعہ ازہد ضروری ہے ۔(فاروق رفیع)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-page-insan-ki-azmat-ki-haqiqat-copy
    سید بدیع الدین شاہ راشدی

    اہل تصوف جو خود کو اہل حقیقت کہتے ہیں کی اہل توحید سے چپقلش کوئی نئی بات نہیں۔ اسی سلسلہ کی ایک کڑی یہ کتاب ہے۔ یہ دراصل علامہ سید بدیع الدین شاہ صاحب کا لکھا ہوا مقدمہ ہے جو عبد الکریم بیر شریف کی ایک متصوفانہ تقریر بزبان سندھی "انسان کی عظمت" کے جواب میں ایک حنفی المسلک محمد حیات لاشاری صاحب کی طرف سے لکھے گئے جواب کا مقدمہ ہے۔ لاشاری صاحب کی اصل کتاب تو مفقود ہو گئی۔ لیکن شاہ صاحب کے مقدمہ کا مسودہ باقی رہا۔ رسالہ "انسان کی عظمت" میں بہت سی باتیں اسلام کی روح کے خلاف پیش کی گئی ہیں۔ مثلاً اللہ تعالٰی کیلئے مخلوق سے مثالیں، قرآن مجید کی لفظی و معنوی تحریف، موضوع اور ضعیف روایات، صفات الٰہی کی توہین، (نعوذ باللہ) وغیرہ۔۔صوفیانہ افکار اور باطل عقائد کے رد پر نہایت ٹھوس علمی اور دقیق زبان میں شاندار تصنیف ہے۔

     

    ahlehadeskimtiazzimasyal-copy
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    مسائل کو سمجھنے کے اعتبار سے ذہنوں کے مختلف ہونے کی وجہ سے ایک ہی بات مختلف انداز میں سمجھ آتی ہے لیکن قابل تسلیم بات وہی ہوتی ہے جس کی تائید قرآن وسنت کر رہے ہوں-اس لیے بنیاد قرآن وسنت ہو تو اس بنیاد پر سمجھے جانے والے مسائل اپنا ایک خاص تعارف رکھتے ہیں-زیر نظر رسالہ میں شیخ العرب والعجم سید بدیع الدین شاہ راشدی نے نے انتہائی سادہ علمی انداز میں  نمازوں کے اوقات کا تعین،نواقض وضو،سینے پر ہاتھ باندھنا،فاتحہ خلف الامام، آمین بالجہر اور رفع الیدین ،جلسہ استراحت  اور تشہد میں بیٹھنے کے طریقے وغیرہ کے حوالے سے مسلک اہل حدیث کا مؤقف واضح کرتے ہوئےثابت کیاہے کہ یہی وہ مسلک ہے جن کاعمل  سنت رسول، آثار صحابہ وتابعن اور اقوال آئمہ کے عین مطابق ہے-

    baraateahlehadees-copy
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    تقلیدی جکڑبندیوں کے جہاں اور بہت سےنقصانات ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس سے معاشرہ جمود کا  شکار ہوجاتا ہے اور اس سے پیش آمدہ نئے مسائل میں شرعی راہنمائی فراہم کرنے کی صلاحیت مفقود ہوجاتی ہے –زیر نظر کتاب''براءۃ اہل حدیث'' میں شیخ العرب والعجم سید بدیع الدین الدین شاہ راشدی نےحدیث اور سنت میں فرق، اہل حدیث کے معنی ومفہوم کو بیان کرتے ہوئے اس چیز کو واضح کیا کہ چار مذاہب کیسے وجود میں آئے؟ اس طرح کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انتہائی سنجیدہ انداز میں تقلید شخصی کی خامیوں کا تذکرکیاہے –موصوف نے قرآن وحدیث، تاریخ، دیوبندی کتب اور اخباری حوالہ جات سے ثابت شدہ ایسے ٹھوس دلائل دئیے ہیں جو کسی بھی غیر متعصب شخص کو تقلید کے اندھیرے سے  نکال کر کتاب وسنت کی روشنی میں لانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں-



    title-pages-barat-e-ahlehadeeth
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    اہل حدیث پر عائد کیے تھے ۔نیو سعید آباد میں ایک تقریر کے دوران ماسںر اوکاڑوی نے جماعت اہل حدیث پر بے سرو پا الزامات لگائے اور مسلک حق کو خستہ و ناکارہ ثابت کرنے کی کوشش کی ، جواب میں شیخ العرب والعجم علامہ بدیع الدین شاہ راشدی صاحب نےنیو سعید آباد ہی میں ایک جلسہ عام میں ان الزامات کا علمی محاسبہ کیا اور ماسٹر صاحب کی کذب بیانوں کو طشت ازبام کیا،ان کی اس تقریر کو تنظیم نوجوانان اہل حدیث نے سندھی زبان میں کتابی شکل  میں شائع کیا ،اس کتاب کا یہ اردو ترجمہ ہے،کتاب دلائل و براہین سے آراستہ، جس میں مسلک اہل حدیث کی حقانیت ،ماسٹر اوکاڑوی کے اعتراضات کے جوابات اور آل دیوبندکی تحریفات و تکذیبات کا بیان ہے،کتاب اپنے موضوع پر عظیم علمی شاہکار ہے-(ف۔ر)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-page-tohfanamazemaghrib-copy
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    نماز ہر مسلمان پر فرض ہے اور طوعا وکرہا اس کی ادائیگی لازمی ہے اگر کوئی شخص اس کی ادائیگی میں سستی کا مظاہرہ کرتا ہے تو اللہ کے وہ شخص مجرم ہے-اس لیے فرائض کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی نے کچھ نفلی عبادت بھی رکھی ہے اور اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ بندے کا شوق دیکھا جائے کہ وہ عبادت میں کتنا شوق رکھتا ہے-تاکہ وہ فرائض سے پہلے وہ چیزیں ادا کرے جو اس پر فرض نہیں جب وہ ان کو خوش دلی سے ادا کرے گا تو فرائض میں بھی دلچسپی پیدا ہو گی-اس لیے ان نوافل میں سے مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعتیں ہیں جن کے بارے میں لوگوں بہت جہالت پائی جاتی ہے حتی کہ کچھ لوگ اس کو ادا تو نہیں کرتے لیکن ادا کرنے والوں کو عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کا کوئی تصور نہیں ہے-ديكھنے میں آیا ہے کہ دیگر فرض نمازوں کے بعد تو سنتوں کا اہتمام کرلیا جاتا ہے لیکن مغرب کی فرض نماز سے پہلے اکثر مساجد میں سنتیں ادا کرنے کا اہتمام نہیں ہوتا اور نہ ہی انہیں کوئی خاص اہمیت دی جاتی ہے-زیر نظر کتاب میں مصنف نے ترتیب وار احادیث رسول، آثار صحابہ وتابعین اور مذاہب اربعہ کے مؤقف کی روشنی میں واضح کیا ہے کہ یہ سنت عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں رائج تھی اور اہل علم اس کے قائل وعامل تھے-

    title-pages-tashreeh-al-asma-ul-husna
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    اخروی کامیابی اور دخول جنت کے لیے انسان کا توحید سے متصف ہونا شرط اور مشرک پر جنت کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہے ،اس لیے ہرمسلمان پر لاز م ہے کہ وہ توحید کی بنیادی تعلیمات سے روشناس ہو اور ہرشرکیہ فعل سے پاک ہو۔توحید کی تین اقسام ہیں (1)توحید ربوبیت (2)توحید الوہیت (3)توحید اسماءوصفات۔توحید کی پہلی دو اقسام پر تقریر  وتالیف اوردرس وتدریس کے ذریعہ کافی کام ہوا ہے ،لیکن تو حید کی تیسری قسم توحید اسماءوصفات میں کافی علمی تشنگی موجود اور عوام کی اکثریت توحید کی اس قسم میں اتنی پختہ اور مضبوط نہیں جتنی مضبوطی توحید کی پہلی دو اقسام میں پائی جاتی ہے۔اس تشنگی کاحل شیخ العرب والعجم شاہ بدیع الدین راشدی  اس تصنیف میں موجود ہے ۔کتاب ہذا میں توحید اسماءو صفات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کی بہترین تشریح کی گئی ہے، اپنے موضوع پر یہ شاہکار تصنیف اور بہترین علمی دستاویز ہے۔(ف۔ر)
    title-page-tanqeed-sadeed
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    مسلمانوں کو کتاب وسنت پرعمل پیرا ہوتے ہوئے اپنےمسائل زندگی کےبارے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں اہل علم سے رہنمائی لینی چاہئے؟ یا کسی ایک فقیہ کی تقلید شخصی پرکاربند رہنا چاہیے ؟یہ نکتہ اہل تقلید اور اہل حدیث کے مابین ایک عرصہ سے بحث ونظر کاموضوع رہا ہے ایک حنفی عالم دین نے ''اجتہاد وتقلید'' کےنام سے ایک رسالہ تصنیف فرمایا جس میں ترک تقلید ہی کا رونا رویا گیا تقلید جامد کی حمایت میں لکھي گئی اس کتاب مین کوئی نئی بات نہیں بلکہ وہی سطحی مغالطے ہیں جو ایک زمانے سے حلقہ مقلدین  میں چلے آرہے ہیں زیرنظر کتاب میں شیخ العرب والعجم علامہ سیدبدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ نے اس رسالے کامفصل علمی اور تحقیقی جواب دیاہے جس سے مقلدین کاتمام دلائل کا تاروبود بکھر کررہ جاتے ہیں اورتقلید سے متعلق سارے شبہات کامکمل ازالہ ہوجاتا ہے


    126932tawator
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    اللہ تعالیٰ نے انسان ذات کی ہدایت کےلیے اپنی طرف سے آفاقی پیغام پیغام ہدایت دے کر انبیاء کرام ورسل عظام کو مبعوث فرمایا جنہوں نےاس تعلیم کے اصول ومبادی کی توضیح وتشریح فرمائی اور اس میں کسی اور کی آراء وقیاس  کے دخل کے تمام راستے مسدود کردیئے تاکہ کوئی بھی دین متین میں اپنی من مانی تاویلیں نہ کرسکے۔

    یہی سبب ہے کہ جب بھی دین متین وشریعت محمدیﷺ میں اس قسم کی اخل اندازیاں ہوئیں تو اہل حق علماء ان کی بیخ کنی کےلیے میدان کارزار میں اتر آئے اوران کا قلع قمع کرکے ہی دم لیا ۔

    زیر تبصرہ کتاب تواتر عملی وحیلہ جدلی  شیخ بدیع الدین شاہ راشدی  رحمہ اللہ نے مسعود بی ایس سی کے جواب میں لکھا جنہوں نے ایک اصول تواتر عملی نامی وضع کرکے وضع الیدین بعدالرکوع والوں کو ہدف تنقید بنایا ۔جبکہ وہ خود کتاب صلواۃ المسلمین  اور تفہیم الاسلام  وغیرہ میں  اس اصول کی تردید کرچکے ہیں۔

    اللہ تعالیٰ جزائے خیردے شیخ العرب والعجم سید بدیع الدین شاہ راشدی  رحمہ اللہ کو کہ جنہوں نے مسعود بی ایس سی کےاس مصنوعی مذہب  اور اس کے اصولوں کا قلع قمع کیا ۔اور خصوصاً اس تواتر عملی کو 31 وجوہات سے رد کیا ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس رسالہ کو شاہ صاحب مرحوم کےلیے  نجات اور ہمارے لیے ہدایت کا ذریعہ بنائے۔آمین

    title-pages-toheed-e-khalis
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    انسانوں اور جنات کی تخلیق کا مقصد صرف یہ تھا کہ یہ دونوں مخلوقات اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کریں ،دنیا میں اس کی تو کا پرچار کریں اور نظام تو حید کو دنیا میں رائج کریں ۔توحید کی تعلیمات کو جاری و ساری رکھنے کی غرض سے اللہ مالک الملک نے انبیاء و رسل کی بعثت اور آسمانی  کتب کے نزول کا سلسلہ شروع کیا اور انسانیت کی راہنمائی اور ہدایت کے لیے دعوت واصلاح کے مؤثر نظام کی بحالی جاری رہی ۔اس کے باوجو د شیطا ن لعین نے اپنی دسیسہ کاریوں اور فریب کاریوں کاسلسلہ جاری رکھااوراپنی چالاکیوں سے شرک و کفرکی بے شمار راہیں واہ کیں ۔کفار ومشرکین اور یہود ونصاریٰ تو اس کے ہم نوا تھے ،ابلیس اور اس کی آل نےمسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنا گرویدہ بنالیا اور تو حید کے قوانین و ضوابط کی جگہ ابلیسیت سے پاس شدہ ایک نیا دین دیا جو شرک وبدعات سے آراستہ اور خواہشات نفسی کی خوب آبیاری کرتاہے۔اس خوفناک سازش سے امت اسلامیہ کے گمراہ فرقوں  کے رگ و پے میں شرک سرایت کرگیا اور یہ لوگ اسلام اور توحید کے نام پر دھڑلے سے شرک کرنے لگے ۔شرک و کفر کے سیلاب کے سامنے یہ کتاب ایک مضبوط بند ہے،جو عرب وعجم کے مسلمہ استاد فضیلۃ الشیخ شاہ بدیع الدین راشدی صاحب کا امت  پر احسان  عظیم ہے۔جس میں تو حید کی اقسام ،توحید کی اہمیت وضرورت  پر سیر حاصل بحث ہے اور امت میں پائے جانے والے شرک کا خوب تدارک ہے۔(ف۔ر)
    title-pages-toheed-e-rabbani
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    انبیائے کرام کی دعوت کا بنیادی نقطہ توحید تھا۔ اسی کے لیے انہوں نے اور ان کے متبعین نے طرح طرح کی تکالیف کا سامنا کیا جن کے واقعات قرآن و حدیث میں مذکور ہیں۔ مگر افسوس کہ علمی دور کے انحطاط اور جہالت کے غلبے کی وجہ سے بہت سارے لوگ توحید سے بے خبر اور شرک کی بے شمار اقسام میں گرفتار ہیں۔ علاوہ ازیں بہت سے لوگ توحید عبادت کی اصل بنیاد توحید ربوبیت کے حوالےسے سخت انحراف کا شکار ہیں۔ جو شخص اس امتحان میں فیل ہو گیا وہ بری طرح ناکام ہو گیا۔ نتیجتاً اپنی دنیا، اپنی قبر اور اپنی آخرت سب کی بربادی کا خود ہی انتظام کر ڈالا۔ زیر نظر کتاب میں محترم بدیع الدین شاہ راشدی نے توحید کی تمام تر جہات سے متعلق بہت تفصیلی اور مدلل گفتگو کی ہے۔ یہ کتاب سندھی زبان میں لکھی گئی اور شائع ہوئی تھی اس کی افادیت کو دیکھتے ہوئے مولانا حزب اللہ نے اس کو اردو میں منتقل کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ توحید کی بنیاد اور اس سے متعلقہ تمام تر معلومات کے حصول کے لیے اس کتاب کا مطالعہ بہت مفید ہے۔ شرک کی دلدل میں پھنسے ہوئے لوگوں تک بھی یہ کتاب ضرور پہنچانی چاہیے۔(ع۔م)

    title-2
    سید بدیع الدین شاہ راشدی

    رب کائنات نے ہر دور میں فرعون کے لئے موسی کو پیدا فرمایا ہے۔جہاں بڑے بڑے ظالم ،جابر اور غاصب آئے جو اسلام کے پودے کو کاٹنا بلکہ جڑ سے اکھاڑنا چاہتے تھے،وہاں اسلام پر اپنی جان ،مال ،وطن ، اولاد اور سب کچھ قربان کر کے اسلام کی شمع کو روشن کرنے والے بھی سر پر کفن باندھے میدان کار زار میں موجود تھے۔ایسے معززین ،مکرمین اور خادمین اسلام میں سے ایک روشن نام شیخ العرب والعجم   ابو محمد بدیع الدین شاہ راشدی کا بھی ہے۔آپ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ متعدد کتب کے مصنف اور مولف ہیں،جو عربی ،اردو اور سندھی میں لکھی گئی ہیں۔اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ شاہ صاحب کی پیش کردہ تحقیق کو آسانی سے رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔زیر نظر کتاب (حق وباطل عوام کی نظر میں)بھی آپ کے بے شمار شہ پاروں میں سے ایک جوہر نایاب ہے،جو آپ کے ایک خطبے کا خلاصہ ہے۔اس میں شاہ صاحب نے دلائل وبراہین سے یہ ثابت کیا ہے کہ جماعت حقہ صرف وہی جماعت ہے جو قرآن وسنت کی بنیاد پر قائم ہے۔وہی اصل اور عہد رسالت سے چلی آرہی ہے۔دیگر تمام تمام جماعتیں اور مسالک جو اپنے آپ کو دیگر اماموں کی طرف منسوب کرتے ہیں ،وہ اصل سے کٹ چکے ہیں۔اللہ تعالی شاہ صاحب کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کی قبر کو منور فرمائے ۔آمین(راسخ)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    ramooz-e-raashia
    سید بدیع الدین شاہ راشدی

    علامہ سید بدیع الدین راشدی ﷫کا شمار ان کبار علماء کرام اور مشائخ عظام میں ہوتا ہے، جنہوں نے توحید وسنت کی اشاعت،باطل مذاہب کی تردید اور باطل وکفریہ عقائد کے خلاف جہاد میں اپنی زندگی کھپا دی۔آپ کی شخصیت راشدی خاندان کے ماتھے کا جھومر ہے۔آپ نے عالم اسلام کو بالعموم اور اہل سندھ کو بالخصوص شرعی تعلیم سے روشن کرتے ہوئے صحیح منہج ودرست عقائد پر گامزن کیا اور ان کو تقلید شخصی اور غیر اسلامی رسومات کے خلاف جہاد کرنے کا حوصلہ بخشا۔آپ تقریر وتحریر دونوں میدانوں کے شہسوار تھے۔آپ کا علمی وادبی مقام ومرتبہ بہت بلند ہے۔آپ ان علماء حق میں سے تھے جو باطل کے سامنے سینہ سپر ہوجاتے تھے۔آپ عربی ،اردو،سندھی اور فارسی کے ماہر تھے۔آپ نے مختلف علوم وفنون پر ڈیڈھ سو کے قریب کتب تصنیف فرمائی ہیں،جو ہمارے لئے ایک سرمایہ صد افتخار ہے۔المختصر آپ گلشن اہل حدیث کے وہ پھول تھے،جس کی خوشبو آج بھی علمی ،ادبی سیاسی اور مذہبی میدان میں مہک رہی ہے۔زیر تبصرہ کتابچہ "رموز راشدیہ"آپ کے ایک طویل انٹرویو پر مشتمل ہے ،جو 1982ء میں آپ سے لیا گیا تھا،یہ انٹرویو آپ کی زندگی کے حوالے سے ایک دستاویز ہے۔جسے مولانا عبد الرحمن میمن نے انتہائی محنت سے مرتب کیاہے۔جو فائدہ کی غرض سے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔اللہ تعالی شاہ صاحب اور اس انٹرویو کے مرتب محترم عبد الرحمن میمن کو جزائے خیر دے اور ان کو جنت الفرودس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-ziadat-al-khushu-biwaza-al-yadain-copy
    سید بدیع الدین شاہ راشدی

    نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن  کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔نماز مومن اور کافر میں فرق ہے۔ہر انسان جب کلمہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے ایمان کی شہادت دیتا ہے اور جنت کے بدلے اپنی جان ومال کا سودا کرتا ہے، اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کا غلام ہے اور اس کی جان ومال اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اب اس پر زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے۔ اس معاہدہ کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔اور نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کا ہے۔بعض اہل علم کے خیال ہے کہ رکوع سے پہلے والے قیام کی طرح رکوع کے بعد والے قیام میں بھی ہاتھ باندھے جائیں گے جبکہ بعض کا خیال ہےکہ رکوع کے بعد ہاتھ نہیں باندھے جائیں گے۔ زیر تبصرہ کتاب" زیادۃ الخشوع بوضع الیدین فی القیام بعد الرکوع الملقب بہ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنا " پاکستان کے معروف عالم دین علامہ سید ابو محمد بدیع الدین شاہ راشدی ﷫صدر جمعیت اہل حدیث سندھ کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کا موقف اختیار کیا ہے اور اس پر متعدد دلائل دئیے ہیں۔اس سے پہلے ان کی اسی موضوع پر ایک کتاب بنام"القنوط والیأس لأھل الارسال من نیل الامانی وحصول الآمال" سائٹ پر اپلوڈ کی جا چکی ہے۔آپ کے اس موقف سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ،لیکن چونکہ یہ بھی ایک علمی وتحقیقی موقف ہے اس لئے قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے ،اس کے مخالف موقف پر بھی ایک دو کتب اپلوڈ کر دی ہیں تاکہ محققین دونوں کا موازنہ کرتے ہوئے کسی اجتہادی نتیجے پر پہنچ سکیں۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

    sharaeetalaaq1-copy
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    زوجین کے باہمی اختلاف کی وجہ سے آپس میں اکٹھے نہ رہنے کی صورت کے پیدا ہونے پر اسلام ان کو علیحدگی کے لیے بھی اصول وقانون دیتا ہے جس سے فریقین میں سے کسی پر زیادتی نہ ہو-مصنف نے اس کتاب میں طلاق کے حوالے سے مختلف پچیدہ مباحث کو انتہائی اچھے انداز سے بیان کرتے ہوئے طلاق کا شرعی حکم اور اس کی حیثیت کو بیان کرتے ہوئےطلاق دینے کا طریقہ اور شرعی طورپر کون سی طلاق واقع ہو گی اور کون سی نہیں ہو گی اس کو واضح کیا ہے-اس کی شاندار بحثوں میں سے  یہ بھی ہے کہ طلاق ثلاثہ کے بارے میں شرعی راہنمائی اور تین طلاقوں کا ایک واقع ہونا عین فطرت سلیمہ کے موافق ہے-اور حضرت عمر کے بارے میں پیدا کیے جانے والے شکوک وشبہات کا جائزہ لیا ہے-طلاق کی مختلف صورتیں،اور ان کی عدتوں کے بیان کے ساتھ ساتھ رجوع یا تجدید نکاح کا طریقہ واضح کیا ہے-اور تین طلاقوں کے وقوع کے جو حلالے کا غیر شرعی طریقہ اختیار کیا گیا ہے اس کو فریقین کے دلائل کے ساتھ قرآن وسنت کی روشنی میں واضح کی گیا ہے-اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں  مفتی سعودیہ عربیہ علامہ عبدالعزیز بن باز کے فتاوی کے ساتھ ساتھ محدث کامل سلطان محمود جلال پوری کے فتاوی کو بھی شامل کیا گيا ہے-

    title-page-aqeeda-taoheed-aur-ulamay-salaf-ki-khidmaat
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    دین وشریعت کی اساس اور نقطۂ آغازتوحید کا عقیدہ ہے اسلامی تعلیمات کی تمام ترجزئیات وتفصیلات اسی کی تشریح وتوضیح ہیں اسی بناء پر اللہ عزوجل نے عقیدہ توحید  کی ابلاغ ،دعوت اور اشاعت کےلیے  ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء ورسل جیسی جلیل القدر ہستیوں کو اس اہم ترین فریضے کی بجا آوری پرمامور کیا جنہوں نے اپنی ذمہ داری کوکما حقہ اداکیا سیدنا محمدعربی صلی اللہ علیہ وسلم پر چونکہ نبوت ورسالت  کاخاتمہ ہوگیا اس لیے اب اس  ذمہ داری کا بوجھ ارباب علم کے کندھوں پر آن پڑا کہ وہ عقیدہ توحید سے لوگوں کو روشناس کرائیں او رکل عالم تک اس پیغام کو پہنچائیں مطالعہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ علماء اس ذمہ داری سے بطریق احسن عہدہ برآ ہوئے۔زیر نظر کتاب ’’عقیدہ توحید اور علمائے سلف کی خدمات‘‘ میں بھی علامہ سیدبدیع الدین شاہ راشدی  رحمہ اللہ نے عقیدہ توحید کے حوالے سے اہل علم وفکر کی ساعی جمیلہ  کاتاریخی تناظر میں تذکرہ کیا ہے جس سے یہ امر نکھر کر نظروبصر کے سامنے آتاہٰےکہ ہر دور میں علمائے کرام  نے زبان وقلم کے ذریعے عقیدہ توحید  کی آبیاری کی ہے ۔


    title-page-fatihakhalfalimambashamoldofatwaysaktataurameenpdf-copy
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    سورہ فاتحہ کا نماز میں پڑھنا ایک لازمی جز ہے جو کہ احادیث سے با صراحت ثابت ہے اور نماز میں سورہ فاتحہ کے نہ پڑھنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے اس لیے علما نے اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر بہت کچھ لکھا ہے جس کی ایک مثال بدیع الدین راشدی کی زیر نظرکتاب فاتحہ خلف الامام ہے –نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنے کے بارے میں لوگوں میں مختلف گروہ پائے جاتے ہیں ان میں سے کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ جہری نماز میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی جائے گی اور پھر اس موقف کو تقویت دینے  کے لیے اور اس کو ثابت کرنے کےلیے دلائل دیے جاتے ہیں-تو ان دلائل کو سامنے رکھتے ہوئے سورہ فاتحہ کے بارے میں کیا موقف ہونا چاہیے مصنف نے فاتحہ خلف الامام کے نام سے کتاب تصنیف کر کے اس بات کو بڑے اچھے انداز واضح کیا ہے-اس کتاب میں مصنف نے فاتحہ خلف الامام کے بارے میں صحیح اور مرفوع احادیث کا ذکر کیا ہے اور ان راویوں کا ذکر بھی کیا ہے جن سے یہ احادیث مروی ہیں اور اس کے علاوہ ایسے آثار کو بیان کیا ہے جو صحابہ کرام سے منقول ہیں اور آخر میں دو اہم فتوے بیان کیے ہیں  جوکہ امام کے سکتات میں مقتدیوں کا سورہ فاتحہ پڑھنے کے بارے میں ہیں-

    title-pages-fiqah-wa-hadees
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    زیر نظر کتاب محدث العصر شیخ العرب والعجم علامہ سید بدیع الدین راشدی رحمتہ اللہ علیہ کا عظیم علمی شاہکار اور معرکہ آراء کتاب ہے ۔جسے کتاب وسنت کے دلائل کو دین حنیف کا ماخذ ثابت کیا گیا ہے اور کتاب وسنت کو چھوڑ کر خودساختہ حنفی فقہ اور ائمہ احناف کے بے سروپا اقوال کی آنکھیں بند کر کے تقلید  واتباع کی شناعت کو طشت ازبام کیا ہے۔اس کتاب کی تالیف کا پس منظر یہ ہے کہ راشدی صاحب نے ایک فتوی دیا۔جس کا ماحصل یہ تھا کہ ہم قرآن وحدیث  کے علاوہ کسی اور چیز کو سند نہیں سمجھتے۔اس فتوی سے مشتعل ہو کر اور تعصب وعناد کی تربیت میں پروان چڑھنے و الے ایک حنفی عالم نے مسلکی غیرت کے تاؤ میں آکر اس فتوی پر بے جاتبرّا بازی کی اور فقہ کو دین حنیف کا اساس ثابت کرنے کے لیے بے سروپا دلائل سے یہ ثابت کرنے کی سعی لاحصل کی او راس مسئلہ کو ترتیب دے کر کہ اگر کنویں میں کوئی چیز گر کر مر جائے یا مردہ چیز کنویں میں گر پڑے تو ای کی صفائی کیسے ہوگی۔چنانچہ اس مسئلہ کی عقدہ کشائی کے لیے کتاب وسنت خاموش ہیں ۔لہذا کتب فقہ ہی اس مسئلہ کی نشاندہی کرتی ہیں۔سو ثابت ہوا کہ فقہ ہی دین کی بنیادی اساس ہے اور فقہ کے مقابلے میں احادیث نبویہ کی چنداں ضرورت و اہمیت نہیں ۔کتاب وسنت پر اس جارحانہ حملے کے جواب میں شاہ صاحب نے قلم اٹھایا اور حدیث وفقہ کا اس انداز میں تقابلی  جائزہ پیش کیا کہ فقہ کی اصلیت اور اہل فقہ کا گھناؤنا کردار کھول کر پیش کیا کہ اس کی تردید کی کسی حنفی میں جرأت باقی نہ رہی ۔یہ کتاب سندھی زبان میں لکھی گئی ہے اور علامہ مرحوم نے کتاب کو چار اجزاء میں مرتب کیا ہے۔
    (ا) ہدایہ کے سو مسائل کا ذکر جو احادیث نبویہ کے صریح خلاف ہیں
    (ب) قہ حنفیہ کے چالیس اخلاق سوز مسائل کا بیان جو حیاء ،اخلاق اور تہذیب وشائستگی سے حددرجہ گرے ہوئے ہیں ۔
    (ج) دس ایسے مسائل جو ابو حنیفہ ،صاحبین (امام یوسف،امام محمد) اور امام کرخی کے درمیان مختلف ہیں۔
    (د) تیس ایسے مسائل جو کتاب  وسنت کی تعلیمات کے بالکل متصادم ہیں۔
    ان میں سے صرف پہلے جزء کا اردو ترجمہ ہوا ہے اور اس کتاب کی ترتیب یوں ہے کہ ایک صفحہ پر حدیث نبوی بیان ہوئی ہے اور اس سے اگلے صفحہ پر ہدایہ کی وہ عبارت مذکور جو حدیث کے صریح خلاف ہے بیان کی گئی ہے ۔نیز  احادیث کی تخریج اور ہدایہ کی عبارتوں کی تخریج بھی موجود ہے ۔یہ ایک انتہائی اہم اور نادر کتاب ہے جس کا مطالعہ انتہائی ضروری ہے بالخصوص سادہ لوح حنفی لوگ جنہیں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ فقہ کتاب وسنت کا خلاصہ اور ائمہ احناف کا کوئی قول کتاب وسنت کے خلاف نہیں ۔اس کتاب کے مطالعہ سے حقیقت واضح ہو جائے گی کہ حنفی فقہ کتاب وسنت سے بالکل الگ  دین ہے ۔حنفی فقہ کی ترویج دراصل ایک نئی دین سازی ہے ۔لہذا یہ کتاب تقلیدی بندھنوں میں بندھے لوگوں کے لیے روشنی کا مینارہ ہے  کہ فقہی معہ شگافیوں کی حقیقت سے با خبر ہو کر کتاب وسنت کے دلائل کو حرز جان بنائیں اور وہ دین جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا تھا۔اس کی اتباع کرکے خود کو کتاب و سنت کا صحیح متبع بنائیں۔

    title-pages-qadiyani-aur-jandhai-khandan-copy
    سید بدیع الدین شاہ راشدی

    اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کو آخری نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے۔آپ خاتم النبیین اور سلسلہ نبوت  کی بلند مقام عمارت کی سب سے آخری اینٹ ہیں،جن کی آمد سے سلسلہ نبوی کی عمارت مکمل ہو گئی ہے۔آپ کے بعد کوئی برحق نبی اور رسول نہیں آسکتا ہے ۔لیکن آپ نے فرمایا کہ میرے بعد متعدد جھوٹے اور کذاب آئیں گے جو اپنے آپ کو نبی کہلوائیں گے۔آپ کے بعد آنے والے متعدد کذابوں میں سے ایک  جھوٹا اور کذاب مرزا غلام احمد قادیانی ہے ،جس نے نبوت کا دعوی کیا اور شریعت کی روشنی میں کذاب اور مردود ٹھہرا۔لیکن اللہ رب العزت نے اس کےجھوٹ وفریب کوبے نقاب کرد یا اور وہ دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں ذلیل وخوار ہو کر رہ گیا۔ زیر نظر کتاب ’’ قادیانی اور جھنڈائی خاندان ‘‘  مرزا غلام احمد قادیانی کی حقیقت پر لکھی گئی ہے۔جو قادیانی فتنے کے خلاف لکھنے والے معروف قلمکار عبد الرحمن میمن نے  علامہ سید بدیع الدین  شاہ راشدی صاحب کی کتاب ’’بینھما برزخ لا یبغیان ‘‘  کا اردو ترجمہ کیاہے۔مولف موصوف کی  قادیانیوں کے حوالے سے اس سے پہلے بھی کئی کتب سائٹ پر اپلوڈ کی جا چکی ہیں ۔ان سے پہلے محترم محمد متین خالد بھی اس فتنے کے خلاف ایک موثر آواز اٹھا چکے ہیں۔مولف نے اس میں قادیانیوں کے حوالے سے   تہلکہ خیز انکشافات،ناقابل یقین حقائق اور چشم کشا واقعات سے پردہ اٹھایا گیا ہے،اور قادیانی کلچر سے متعلق ہوش ربا مشاہدات وتجربات  کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس محنت کو قبول ومنظور فرمائے اور تمام مسلمانوں کو اس فتنے سے محفوظ فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)

    qurankhowanikeesharihaisyat-copy
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    قرآن خوانی کی شرعی حیثیت کے موضوع پر علامہ بدیع الدین راشدی صاحب کی ایک بہترین اور جامع تحریر ہے-یہ کتابچہ اصل میں انہوں نے کسی سوال کے جواب میں تحریر فرمایا ہے جس میں انہوں نے مروجہ ایصال ثواب اور قرآنی خوانی کے ذریعے میت کے لیے ایصال ثواب کی شرعی حیثیت کو واضح کیا ہے-اس کتابچہ میں شاہ صاحب نے عقلی ونقلی دلائل سے اس چیز کو ثابت کیا ہے کہ کون سے ایسے امور ہیں جن کے کرنے سے مرنے کے بعد بھی انسان کے نامہ اعمال میں نیکیاں درج ہوتی رہتی ہیں اور کون سے ایسے خود ساختہ طریقے ہیں کہ جن کے کرنے سے میت کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے-مصنف نے اس چیز کو واضح کیا ہے کہ مروجہ قرآنی خوانی کا طریقہ اور ایصال ثواب کا طریقہ نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھا نہ کسی نے کیا اور نہ ہی صحابہ میں سے کسی نے کیا ہے اور نہ بعد میں تابعین سے اس کی کوئی گنجائش نکلتی ہے-اس لیے اگر اس کتاب کو معتدل مزاج کے ساتھ پڑھا جائے تو اصلاح کے لیے بہت سارے پہلو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے-

    title-page-qissi-haroot-aur-maroot-aur-jado-ki-haqiqat
    سید بدیع الدین شاہ راشدی

    ہاروت و ماروت نامی دو فرشتوں کے متعلق عوام الناس میں عجیب عجیب قصے مشہور ہیں۔ جن کے جھوٹا ہونے میں کچھ شک نہیں۔ زیر تبصرہ کتاب میں شیخ بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ نے کئی داخلی و خارجی قرائن کے ذریعے اس قصے کا موضوع و باطل ہونا ثابت کیا ہے۔ نیز اس باب میں پیش کی جانے والی احادیث کا ضعف بھی واضح کیا ہے۔ کتاب کے دوسرے حصے میں جادو کی حقیقت، اس کے نقصانات ، جادو پر یقین رکھنے والوں کی سزا، جادو کے متعلق اہلسنت کا مؤقف نیز سحر ، کرامت اور معجزہ میں فرق، دور حاضر میں مروج تعویزات کے چند نمونے اور عملی زندگی سے کئی مثالیں پیش کر کے جادو ٹونہ کرنے اور کرانے والوں کو کتاب و سنت کی روشنی میں راہنمائی مہیا کی گئی ہے۔

    murawwijafiqahkihaqeeqat-copy
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    یہ کتاب علامہ بدیع الدین شا ہ راشدی کی تصنیف ہے -اس میں موصوف نے فقہ حنفی کے نام سے موجود مسائل پر گفتگو کی ہے اور ان کے بارے میں قرآن وسنت سے دلائل پیش کر یہ ثابت کیا ہے کہ جس فقہ کے لیے اتنا جتن کرتے ہیں اس کی کیا حقیقت ہے- مثلاً فقہ حنفی کے نام سے موسوم مسائل میں سے چند ایک یوں بھی ہیں کہ ساس سے نکاح کی اجازت , بیوی کو افیون کھلانا , متعہ کے متعلق , مشت زنی کے بارے , دبر میں وطی کرنا بڑاگنا ہ نہیں , بیٹی سے نکاح کی حلت , شراب میں گوندہے ہوئے آٹے کی روٹی , مسئلہ رفع الیدین ,رکعات تراویح کے بارے میں علماء احناف کا موقف اور دوسرے آئمہ کا موقف، گمراہ فرقوں کی بنیاد , عقیدہ اہلحدیث , غلام احمد قادیانی کے بارے  میں, ان جیسے تمام مسائل کا احاطہ کرتے ہوئے علامہ وحید الزمان پر لگائے گئے الزامات کی حقیقت کو واضح بھی کیا گیا ہے

    untitled-1
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    بدیع الدین شاہ راشدی ایک عظیم مبلغ و مصلح تھے۔ ان کی دعوت و تبلیغ سے ہزاروں انسان توحید خالص سے شناسا ہوئے اور کتاب و سنت کےمتبع بنے۔ اپنی گوناگوں مصروفیات اور ہمہ جہتی مشاغل کے باوجود انہوں نے ایک سو سے زائد کتابیں یادگار چھوڑیں۔ حضرت صاحب کو بہت سے علوم پر دسترس حاصل تھی، مگر علوم القرآن اور علوم الحدیث پر تو مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔ اس وقت  ’مقالات راشدیہ‘ کی تیسری  جلد آپ کے سامنے ہے جس میں موصوف محترم کے علمی رسائل کو یکجا صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ اس سے قبل مقالات راشدیہ کی دو جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ پہلی جلد راشدی صاحب کے بھائی محب اللہ شاہ راشدی کے مقالات و مضامین پر مشتمل تھی اور دوسری جلد میں مولانا بدیع الدین شاہ راشدی کے 27 رسائل کو یکجا کیا گیا۔ جبکہ پیش نظرکتاب میں مولانا کے 11 رسائل کو کتابی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ جس میں کیا حنفی نماز کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے؟ ترک رفع الیدین کاعلمی محاسبہ۔ تصحیح آٹھ رکعت تراویح۔ فقہ حنفی کا دوسرا رخ وغیرہم شامل ہیں۔  (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں


    title-pages-maqalat-e-rashidiya-10-copy
    سید بدیع الدین شاہ راشدی

    شیخ العرب والعجم سید بدیع الدین شاہ راشدی ﷫ 16 مئی 1926ء کوگوٹھ فضل شاہ ( نیو سعیدآباد) ضلع حیدرآباد میں سندھ میں پیدا ہوئے۔دینی تعلیم کاآغاز پنےمدرسہ ’’دارالارشاد،،سےکیا یہ ان کاٖآبائی مدرسہ تھا۔3ماہ کی قلیل مدت میں حفظ القرآ ن کی تکمیل کی ۔اس کےبعد اپنےوالدمحترم سید احسان اللہ شاہ راشدی ﷫ سےتفسیرحدیث اورفقہ کی تحصیل کی ۔ سید بدیع الدین شاہ راشدی ایک عظیم مبلغ و مصلح تھے۔ ان کی دعوت و تبلیغ سے ہزاروں انسان توحید خالص سے شناسا ہوئے اور کتاب و سنت کےمتبع بنے۔ اپنی گوناگوں مصروفیات اور ہمہ جہتی مشاغل کے باوجود انہوں نے ایک سو سے زائد کتابیں یادگار چھوڑیں۔ حضرت صاحب کو بہت سے علوم پر دسترس حاصل تھی، مگر علوم القرآن اور علوم الحدیث پر تو مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے اور آپ نے مختلف مواقع پر بڑی علمی اور تاریخی خطبات ارشاد فرمائے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مقالات راشدیہ جلد ششم ‘‘ علامہ سید بدیع الدین شاہ راشد ی ﷫ کی ہے۔ جو کہ بدیع الدین شاہ راشدی صاحب ایک عظیم مبلغ و مصلح تھے۔ ان کی دعوت و تبلیغ سے ہزاروں انسان توحید خالص سے شناسا ہوئے اور کتاب و سنت کےمتبع بنے۔ اپنی گوناگوں مصروفیات اور ہمہ جہتی مشاغل کے باوجود انہوں نے ایک سو سے زائد کتابیں یادگار چھوڑیں۔ حضرت صاحب کو بہت سے علوم پر دسترس حاصل تھی، مگر علوم القرآن اور علوم الحدیث پر تو مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔ اس وقت ’مقالات راشدیہ‘ کی ششم جلد آپ کے سامنے ہے جس میں موصوف محترم کے علمی رسائل کو یکجا صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ اس سے قبل مقالات راشدیہ کی پانچ جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ جس میں فاتحہ خلف الامام اور مسئلہ رفع الیدین کو زیر بحث بایا گیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین۔ (رفیق الرحمن)

    title-pages-maqalat-e-rashidiya-4
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    بدیع الدین شاہ راشدی ایک عظیم مبلغ و مصلح تھے۔ ان کی دعوت و تبلیغ سے ہزاروں انسان توحید خالص سے شناسا ہوئے اور کتاب و سنت کےمتبع بنے۔ اپنی گوناگوں مصروفیات اور ہمہ جہتی مشاغل کے باوجود انہوں نے ایک سو سے زائد کتابیں یادگار چھوڑیں۔ حضرت صاحب کو بہت سے علوم پر دسترس حاصل تھی، مگر علوم القرآن اور علوم الحدیث پر تو مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔ اس وقت  ’مقالات راشدیہ‘ کی تیسری  جلد آپ کے سامنے ہے جس میں موصوف محترم کے علمی رسائل کو یکجا صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ اس سے قبل مقالات راشدیہ کی دو جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ پہلی جلد راشدی صاحب کے بھائی محب اللہ شاہ راشدی کے مقالات و مضامین پر مشتمل تھی اور دوسری جلد میں مولانا بدیع الدین شاہ راشدی کے 27 رسائل کو یکجا کیا گیا۔ جبکہ پیش نظرکتاب میں مولانا کے 11 رسائل کو کتابی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ جس میں کیا حنفی نماز کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے؟ ترک رفع الیدین کاعلمی محاسبہ۔ تصحیح آٹھ رکعت تراویح۔ فقہ حنفی کا دوسرا رخ وغیرہم شامل ہیں۔  (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    کتاب کو مکمل جلدوں میں پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-maqalat-e-rashidiya-5
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    بدیع الدین شاہ راشدی ایک عظیم مبلغ و مصلح تھے۔ ان کی دعوت و تبلیغ سے ہزاروں انسان توحید خالص سے شناسا ہوئے اور کتاب و سنت کےمتبع بنے۔ اپنی گوناگوں مصروفیات اور ہمہ جہتی مشاغل کے باوجود انہوں نے ایک سو سے زائد کتابیں یادگار چھوڑیں۔ حضرت صاحب کو بہت سے علوم پر دسترس حاصل تھی، مگر علوم القرآن اور علوم الحدیث پر تو مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔ اس وقت  ’مقالات راشدیہ‘ کی تیسری  جلد آپ کے سامنے ہے جس میں موصوف محترم کے علمی رسائل کو یکجا صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ اس سے قبل مقالات راشدیہ کی دو جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ پہلی جلد راشدی صاحب کے بھائی محب اللہ شاہ راشدی کے مقالات و مضامین پر مشتمل تھی اور دوسری جلد میں مولانا بدیع الدین شاہ راشدی کے 27 رسائل کو یکجا کیا گیا۔ جبکہ پیش نظرکتاب میں مولانا کے 11 رسائل کو کتابی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ جس میں کیا حنفی نماز کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے؟ ترک رفع الیدین کاعلمی محاسبہ۔ تصحیح آٹھ رکعت تراویح۔ فقہ حنفی کا دوسرا رخ وغیرہم شامل ہیں۔  (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    کتاب کو مکمل جلدوں میں پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-maqalat-e-rashidiya-6-copy
    سید بدیع الدین شاہ راشدی

    شیخ العرب والعجم سید بدیع الدین شاہ راشدی ﷫ 16 مئی 1926ء کوگوٹھ فضل شاہ ( نیو سعیدآباد) ضلع حیدرآباد میں سندھ میں پیدا ہوئے۔دینی تعلیم کاآغاز پنےمدرسہ ’’دارالارشاد،،سےکیا یہ ان کاٖآبائی مدرسہ تھا۔3ماہ کی قلیل مدت میں حفظ القرآ ن کی تکمیل کی ۔اس کےبعد اپنےوالدمحترم سید احسان اللہ شاہ راشدی ﷫ سےتفسیرحدیث اورفقہ کی تحصیل کی ۔ سید بدیع الدین شاہ راشدی ایک عظیم مبلغ و مصلح تھے۔ ان کی دعوت و تبلیغ سے ہزاروں انسان توحید خالص سے شناسا ہوئے اور کتاب و سنت کےمتبع بنے۔ اپنی گوناگوں مصروفیات اور ہمہ جہتی مشاغل کے باوجود انہوں نے ایک سو سے زائد کتابیں یادگار چھوڑیں۔ حضرت صاحب کو بہت سے علوم پر دسترس حاصل تھی، مگر علوم القرآن اور علوم الحدیث پر تو مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے اور آپ نے مختلف مواقع پر بڑی علمی اور تاریخی خطبات ارشاد فرمائے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مقالات راشدیہ جلد ششم ‘‘ علامہ سید بدیع الدین شاہ راشد ی ﷫ کی ہے۔ جو کہ بدیع الدین شاہ راشدی صاحب ایک عظیم مبلغ و مصلح تھے۔ ان کی دعوت و تبلیغ سے ہزاروں انسان توحید خالص سے شناسا ہوئے اور کتاب و سنت کےمتبع بنے۔ اپنی گوناگوں مصروفیات اور ہمہ جہتی مشاغل کے باوجود انہوں نے ایک سو سے زائد کتابیں یادگار چھوڑیں۔ حضرت صاحب کو بہت سے علوم پر دسترس حاصل تھی، مگر علوم القرآن اور علوم الحدیث پر تو مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔ اس وقت ’مقالات راشدیہ‘ کی ششم جلد آپ کے سامنے ہے جس میں موصوف محترم کے علمی رسائل کو یکجا صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ اس سے قبل مقالات راشدیہ کی پانچ جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ جس میں فاتحہ خلف الامام اور مسئلہ رفع الیدین کو زیر بحث بایا گیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین۔ (رفیق الرحمن)

    title-pages-maqalat-e-rashidiya-7-copy
    سید بدیع الدین شاہ راشدی

    شیخ العرب والعجم سید بدیع الدین شاہ راشدی ﷫ 16 مئی 1926ء کوگوٹھ فضل شاہ ( نیو سعیدآباد) ضلع حیدرآباد میں سندھ میں پیدا ہوئے۔دینی تعلیم کاآغاز پنےمدرسہ ’’دارالارشاد،،سےکیا یہ ان کاٖآبائی مدرسہ تھا۔3ماہ کی قلیل مدت میں حفظ القرآ ن کی تکمیل کی ۔اس کےبعد اپنےوالدمحترم سید احسان اللہ شاہ راشدی ﷫ سےتفسیرحدیث اورفقہ کی تحصیل کی ۔ سید بدیع الدین شاہ راشدی ایک عظیم مبلغ و مصلح تھے۔ ان کی دعوت و تبلیغ سے ہزاروں انسان توحید خالص سے شناسا ہوئے اور کتاب و سنت کےمتبع بنے۔ اپنی گوناگوں مصروفیات اور ہمہ جہتی مشاغل کے باوجود انہوں نے ایک سو سے زائد کتابیں یادگار چھوڑیں۔ حضرت صاحب کو بہت سے علوم پر دسترس حاصل تھی، مگر علوم القرآن اور علوم الحدیث پر تو مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے اور آپ نے مختلف مواقع پر بڑی علمی اور تاریخی خطبات ارشاد فرمائے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مقالات راشدیہ ‘‘ علامہ سید بدیع الدین شاہ راشد ی ﷫ کی ہے۔ جو کہ بدیع الدین شاہ راشدی صاحب ایک عظیم مبلغ و مصلح تھے۔ ان کی دعوت و تبلیغ سے ہزاروں انسان توحید خالص سے شناسا ہوئے اور کتاب و سنت کےمتبع بنے۔ اپنی گوناگوں مصروفیات اور ہمہ جہتی مشاغل کے باوجود انہوں نے ایک سو سے زائد کتابیں یادگار چھوڑیں۔ حضرت صاحب کو بہت سے علوم پر دسترس حاصل تھی، مگر علوم القرآن اور علوم الحدیث پر تو مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔ اس وقت ’مقالات راشدیہ‘  آپ کے سامنے ہے جس میں موصوف محترم کے علمی رسائل کو یکجا صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ اس سے قبل مقالات راشدیہ کی پانچ جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ جس میں فاتحہ خلف الامام اور مسئلہ رفع الیدین کو زیر بحث بایا گیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین۔ (رفیق الرحمن)

    title-pages-maqalat-e-rashidiya-8-copy
    سید بدیع الدین شاہ راشدی

    شیخ العرب والعجم سید بدیع الدین شاہ راشدی ﷫ 16 مئی 1926ء کوگوٹھ فضل شاہ ( نیو سعیدآباد) ضلع حیدرآباد میں سندھ میں پیدا ہوئے۔دینی تعلیم کاآغاز پنےمدرسہ ’’دارالارشاد،،سےکیا یہ ان کاٖآبائی مدرسہ تھا۔3ماہ کی قلیل مدت میں حفظ القرآ ن کی تکمیل کی ۔اس کےبعد اپنےوالدمحترم سید احسان اللہ شاہ راشدی ﷫ سےتفسیرحدیث اورفقہ کی تحصیل کی ۔ سید بدیع الدین شاہ راشدی ایک عظیم مبلغ و مصلح تھے۔ ان کی دعوت و تبلیغ سے ہزاروں انسان توحید خالص سے شناسا ہوئے اور کتاب و سنت کےمتبع بنے۔ اپنی گوناگوں مصروفیات اور ہمہ جہتی مشاغل کے باوجود انہوں نے ایک سو سے زائد کتابیں یادگار چھوڑیں۔ حضرت صاحب کو بہت سے علوم پر دسترس حاصل تھی، مگر علوم القرآن اور علوم الحدیث پر تو مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے اور آپ نے مختلف مواقع پر بڑی علمی اور تاریخی خطبات ارشاد فرمائے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مقالات راشدیہ جلد ششم ‘‘ علامہ سید بدیع الدین شاہ راشد ی ﷫ کی ہے۔ جو کہ بدیع الدین شاہ راشدی صاحب ایک عظیم مبلغ و مصلح تھے۔ ان کی دعوت و تبلیغ سے ہزاروں انسان توحید خالص سے شناسا ہوئے اور کتاب و سنت کےمتبع بنے۔ اپنی گوناگوں مصروفیات اور ہمہ جہتی مشاغل کے باوجود انہوں نے ایک سو سے زائد کتابیں یادگار چھوڑیں۔ حضرت صاحب کو بہت سے علوم پر دسترس حاصل تھی، مگر علوم القرآن اور علوم الحدیث پر تو مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔ اس وقت ’مقالات راشدیہ‘ کی ششم جلد آپ کے سامنے ہے جس میں موصوف محترم کے علمی رسائل کو یکجا صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ اس سے قبل مقالات راشدیہ کی پانچ جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ جس میں فاتحہ خلف الامام اور مسئلہ رفع الیدین کو زیر بحث بایا گیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین۔ (رفیق الرحمن)

    title-pages-maqalat-e-rashidiya-9-copy
    سید بدیع الدین شاہ راشدی

    شیخ العرب والعجم سید بدیع الدین شاہ راشدی ﷫ 16 مئی 1926ء کوگوٹھ فضل شاہ ( نیو سعیدآباد) ضلع حیدرآباد میں سندھ میں پیدا ہوئے۔دینی تعلیم کاآغاز پنےمدرسہ ’’دارالارشاد،،سےکیا یہ ان کاٖآبائی مدرسہ تھا۔3ماہ کی قلیل مدت میں حفظ القرآ ن کی تکمیل کی ۔اس کےبعد اپنےوالدمحترم سید احسان اللہ شاہ راشدی ﷫ سےتفسیرحدیث اورفقہ کی تحصیل کی ۔ سید بدیع الدین شاہ راشدی ایک عظیم مبلغ و مصلح تھے۔ ان کی دعوت و تبلیغ سے ہزاروں انسان توحید خالص سے شناسا ہوئے اور کتاب و سنت کےمتبع بنے۔ اپنی گوناگوں مصروفیات اور ہمہ جہتی مشاغل کے باوجود انہوں نے ایک سو سے زائد کتابیں یادگار چھوڑیں۔ حضرت صاحب کو بہت سے علوم پر دسترس حاصل تھی، مگر علوم القرآن اور علوم الحدیث پر تو مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے اور آپ نے مختلف مواقع پر بڑی علمی اور تاریخی خطبات ارشاد فرمائے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مقالات راشدیہ جلد ششم ‘‘ علامہ سید بدیع الدین شاہ راشد ی ﷫ کی ہے۔ جو کہ بدیع الدین شاہ راشدی صاحب ایک عظیم مبلغ و مصلح تھے۔ ان کی دعوت و تبلیغ سے ہزاروں انسان توحید خالص سے شناسا ہوئے اور کتاب و سنت کےمتبع بنے۔ اپنی گوناگوں مصروفیات اور ہمہ جہتی مشاغل کے باوجود انہوں نے ایک سو سے زائد کتابیں یادگار چھوڑیں۔ حضرت صاحب کو بہت سے علوم پر دسترس حاصل تھی، مگر علوم القرآن اور علوم الحدیث پر تو مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔ اس وقت ’مقالات راشدیہ‘ کی ششم جلد آپ کے سامنے ہے جس میں موصوف محترم کے علمی رسائل کو یکجا صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ اس سے قبل مقالات راشدیہ کی پانچ جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ جس میں فاتحہ خلف الامام اور مسئلہ رفع الیدین کو زیر بحث بایا گیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین۔ (رفیق الرحمن)

    untitled-1
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    بدیع الدین شاہ راشدی ایک عظیم مبلغ و مصلح تھے۔ ان کی دعوت و تبلیغ سے ہزاروں انسان توحید خالص سے شناسا ہوئے اور کتاب و سنت کےمتبع بنے۔ اپنی گوناگوں مصروفیات اور ہمہ جہتی مشاغل کے باوجود انھوں نے ایک سو سے زائد کتابیں یادگار چھوڑیں۔ حضرت صاحب کو بہت سے علوم پر دسترس حاصل تھی، مگر علوم القرآن اور علوم الحدیث پر تو مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔ حضرت صاحب کے بہت سے رسائل اور کتابچے زیور طبع سے آراستہ ہوئے لیکن ان میں سے بہت سے ایسے بھی ہیں جو ایک بار شائع ہوئے مگر نامساعد حالات کی بنا پر دوبارہ شائع نہ ہو سکے۔ زیر نظر کتاب میں اسی کمی کو پورا کرتے ہوئے حضرت صاحب کے 27 رسائل کو یکجا کر دیا گیا ہے۔ جن میں سے تین چار رسائل اعتقادی اور اصول پر مشتمل ہیں، چھ مسلک اہل حدیث پر ہیں۔ جن میں حقانیت اہل حدیث، شان اہل حدیث، صداقت اہل حدیث، تاریخ اہل حدیث وغیرہ جیسے عناوین پر سیر حاصل بحث ہے۔ نو رسائل مختلف فقہی مسائل پر ہیں اور باقی نماز کے مختلف احکام پر مشتمل ہیں۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-page-nishatulabdbijaharrabbanawalakalhamd-copy
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    اسلام میں نماز کی مسلمہ اہمیت کے پیش نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہا صحابہ کرام کے سامنے نماز ادا کی تاکہ وہ اس کے ارکان وشروط کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیں اور آپ کا ارشاد پاک بھی ہے کہ مجھ سے طریقہ نماز سیکھ لو لہذا اسوہ رسول کے مطابق نماز کا ادا کرنا انتہائی ضروری ہے-جیسا کہ نماز کے ہر جز پر مختلف علماء نے تفصیلی گفتگو کی ہے تاکہ وضاحت ہو سکے تو انہی موضوعات میں سے ایک موضوع رکوع سے کھڑے ہو کر پڑھی جانے والی مشہور دعا ربنا ولک الحمد کا مسئلہ ہے کہ اس کو جہری انداز سے پڑھا جائے یا آہستہ پڑھا جائے؟تو زیر نظر کتاب نماز میں رکوع کے بعد اٹھ کر ربنا ولک الحمد کو جہر پڑھنے سے متعلق ہے-مصنف کے نزدیک جہرا پڑھنا زیادہ بہترہے تو انہوں نے اسی اعتبار سے مختلف دلائل پیش کیے ہیں-شاہ صاحب نے اپنا مؤقف احادیث صحیحہ اور آثار سلف صالحین کی روشنی میں مدلل ومبرہن بیان کردیا ہے-

    title-page-namazmainkhushooaurajiziyaniseenayparhathbandhna-copy
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    ہمارے ہاں فقہی جمود اور تعصب کی وجہ سے یہ رجحان بہت تقویت اختیار کر گیاہے کہ نماز میں اسوہ رسول کو مدنظر رکھنے کی بجائے اسے اپنے آباؤ اجداد کے طریقہ کے مطابق ہی ادا کرنے کوشش کی جاتی ہے- حالانکہ نماز کی قبولیت کے لیے طریقہ نبوی ملحوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے-نماز کی دیگر جزئیات کی طرح اس مسئلے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے کہ نماز میں ہاتھ باندھنے کی جگہ کون سی ہے-کچھ لوگوں کا خیال ہے ہاتھ زیر ناف باندھے جائیں اور کچھ لوگ ہاتھوں کو سینے پر باندھنے کے قائل ہیں-زیر نظر کتاب میں سید بدیع الدین شاہ راشدی نے سینے پر ہاتھ باندھنے سے متعلق بالدلائل گفتگو کی ہے انہوں نے اس حوالے سے احادیث، آثار صحابہ اور اقوال تابعین کا تذکرہ کرتے ہوئے سینے پر ہاتھ نہ باندھنے والوں کے دلائل کا بھی رد پیش کیا ہے-

    NamaazeNabviBadiuddeen
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ تمام اعمال سنت نبوی کے مطابق بجا لائے- نماز ایک ایسا عمل ہے جودین اسلام کی اساس اور نبیاد ہے اگر اسی میں سنت رسول کو ملحوظ نہ رکھا جائے تو دیگر تمام اعمال رائیگاں ہیں- نماز کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے  اس کتاب میں مصنف نے مسنون نماز، تکبیر سے لے کر سلام تک کا مکمل طریقہ ترتیب کے ساتھ پیش کر دیا ہے- زیر نظر کتاب میں جہاں بہت سی خوبیاں پائی جاتی ہیں وہاں ایک دو خامیاں یہ ہیں کہ احادیث اور اقوال صحابہ کے حوالوں کا خاص اہتمام نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے بعض ضعیف احادیث بھی شامل ہو گئی ہیں اور بعض مسائل میں شدید مؤقف اختیار کیا گیا ہے جو کہ محل نظر ہیں-لیکن مجموعی اعتبار سے طریقہ نماز سنت نبوی کے مطابق پیش کیا گیا ہے اور اسی کی طرف ترغیب دلائی گئی ہے-اس لیے خامیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اچھی باتوں کو اختیار کرنے کی نیت سے قبول کرنا چاہیے-نماز کے تمام ارکان کو ترتیب سے بیان کرتے ہوئے ہر کی تسبیحات اور اذکار کا بھی تذکرہ کیا گیا۔

    title-page-namaz-ki-masnoon-doain-copy
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    اركان اسلام ميں سے نماز ایک بنیادی رکن ہے اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات کے وقت بھی نماز کی تاکیدفرمائی- لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ وہ نماز کو اس کی مکمل شروط کے ساتھ ادا کرے-زیر نظر کتاب میں مصنف نے نماز سے متعلقہ تمام دعاؤں کو کتاب وسنت کی روشنی میں جمع کردیا ہے-جن میں اذان وتکبیر اور سجدہ تلاوت وغیرہ کی دعائیں شامل ہیں-

    40-ahadeespage01-copy
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    حجیت حدیث، اہمیت حدیث اور حفاظت حدیث پر مشتمل مجموعہ اور ناصحانہ مقدمہ سمیت برصغیر میں فتنہ انکار حدیث کے آغاز کی تاریخ پر بحث ہے۔ اور اعمال صالحہ کا بیان ہے اسی طرح حقوق العباد , زکوة , روزے کے فضائل , قیام اللیل , حج کے احکامات کے بارے میں , ناحق مال پر قبضہ کرنا , کبیرہ گناہ کی تعریف مذمت اور حرام چیزوں کے بارے میں ناصحانہ چالیس احادیث کا ذخیرہ جمع کیا گیا ہے۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
title-pages-mukhtasir-kitab-ul-janaiz
حقوق المسلم میں سے میت کی تجہیز و تدفین اور اس  کی نماز جنازہ کا اہتمام بھی ہے۔ان حقوق سے آگاہی اور ان سے متعلقہ تعلیمات جاننا ہر مسلمان پر لاز م ہے،لیکن مسلمانو ں کی اکثریت ان حقو ق سے نابلد اور کوری ہے ،حتی کہ اکثر مسلمان  میت کی تجہیز و تدفین ، غسل میت کے احکام ،نمازجنازہ اور نماز جنازہ مین پڑھی جانے والی ادعیہ سے بے بہرہ ہے،جب کہ ان چیزوں کاعلم نہایت ضروری ہے۔ اس کے برعکس تجہیز و تدفین اور نماز جنازہ کی بے شمار بدعات ہیں جن کی مسنون احکام سے زیادہ پابندی کی جاتی ہے۔جنازہ کے احکام کے موضوع پر یہ معلوماتی کتاب ہے،جس کا مطالعہ قارئین کے لیے  نہایت مفیدہے۔(ف۔ر)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 223 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :