ابو مسعود عبد الجبار سلفی

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
ابو مسعود عبد الجبار سلفی
    title-pages-islami-tareekh-k-dilchasp-aur-iman-aafrein-waqiat
    ابو مسعود عبد الجبار سلفی
    اسلامی تعلیمات کا یہ اعجاز ہے کہ ان کے ذریعے زندگی کے ہر شعبے میں انتہائی اعلیٰ درجے کے افراد پیدا ہوئے۔چنانچہ اسلامی تاریخ اس امر پر شاہد ہے کہ مختلف ادوار میں بے مثال کردار اور خوبیاں رکھنے والے حکمران،علماء،سپہ سالار اور ماہرین فن موجود رہے،جن پر آج بھی انسانیت کا سر فخر سے بلند ہے۔لیکن افسوس کہ بعض غیر محتاط اور متعصب مؤرخین نے اسلامی تاریخ کو اس طرح بگاڑا ہے کہ آج کی نئی نسل اپنے اسلاف سے بد ظن ہو چکی ہے اور ان کی روشن تاریخ کو اپنے ہی منہ سے سیاہ قرار دینے لگی ہے ۔زیر نظر کتاب میں ہمارے اسلاف کی شجاعت و بسالت،رافت و رحمت فہم و فراست ،جو دوسخا،بدل وعطا،عفو و حلم،حق گوئی و بیباکی ،ہمدردی وغساری کے بے نظیر واقعات انتہائی دلچسپ انداز سے بیان کیا ہے ۔اس کتاب سے ہمیں اپنے روشن ماضی سے آگہی حاصل ہو گی جس سے حال کو سنوارنے میں مدد ملے گی اور درخشندہ مستقبل کی جانب پیش قدمی ممکن ہو سکے گی۔ان شاء اللہ۔(ط۔ا)
    title-pages-serwar-e-do-alam-pbuh-ki-nabowat-k-dalail
    ابو مسعود عبد الجبار سلفی
    اللہ تعالیٰ نے انسانوں  کی راہنمائی کے لیے جن جلیل القدر ہستیوں کو منتخب فرمایا،انہیں رسول و نبی کہا جاتاہے۔سلسلہ انبیاء ورسل علیہم السلام کی آخری کڑی آقائے دو جہاں حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن پر سلسلہ نبوت ورسالت مکمل ہوا اور اب رہتی دنیا تک انہی کی اتباع و اطاعت ہی فلاح و کامرانی کی ضامن ہے۔مسلمان اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو محبت وعقیدت رکھتے ہیں،اسی نے انہیں ایک امت واحدہ بنارکھا ہے۔یہی چیز کفار  کے لیے پریشانی کا باعث ہے اور وہ اس تعلق کو ختم یا کمزور کرنے کے لیے ناپاک جسارتیں کرتے رہتے ہیں۔کبھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے بناتے ہیں اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر لایعنی اعتراضات اور الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہیں۔جس  کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کو مشکوک کیا جائے۔لیکن مسلمان اہل علم نے ان کے اعتراضات کا جواب دے رکھا ہے اور اپنی کتابوں میں نبوت ورسالت محمدی کے ایسے مضبوط دلائل و براہین پیش کیے ہیں ،جنہیں جھٹلانا ممکن نہیں۔زیر نظر کتاب میں بھی اسی کو موضوع بحث بنایا گیا ہے جس سے ایمان بالرسالت میں مزید ایقان و استحکام پیدا ہو گا۔ان شاء اللہ
    pages-from-saaliheen-kiram-key-dilchasp-aur-iman-afroz-waqiyaat
    ابو مسعود عبد الجبار سلفی

    اسلامی تعلیمات کا یہ اعجاز ہے کہ ان کے ذریعے زندگی کے ہر شعبے میں انتہائی اعلیٰ درجے کے افراد پیدا ہوئے۔ چنانچہ اسلامی تاریخ اس امر پر شاہد ہے کہ مختلف ادوار میں بے مثال کردار اور خوبیاں رکھنے والے حکمران،علماء، سپہ سالار اور ماہرین فن موجود رہے،جن پر آج بھی انسانیت کا سر فخر سے بلند ہے۔ لیکن افسوس کہ بعض غیر محتاط اور متعصب مؤرخین نے اسلامی تاریخ کو اس طرح بگاڑا ہے کہ آج کی نئی نسل اپنے اسلاف سے بد ظن ہو چکی ہے اور ان کی روشن تاریخ کو اپنے ہی منہ سے سیاہ قرار دینے لگی ہے۔ زیر نظر کتاب ’’صالحین کرام کے دلچسپ اور ایمان افروز واقعات‘‘ مولانا ابومسعود عبدالجبارسلفی﷾ تاریخی معلومات پر مشتمل بڑی ہی دلچسپ کاوش ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں ہمارے اسلاف کی شجاعت وبسالت، رافت ورحمت، فہم وفراست، جودوسخا، بدل وعطا، عفووحلم، حق گوئی وبیباکی، ہمدردی و غمگساری کے دلچسپ بے نظیر واقعات کو ایسے دل کش ادبی اسلوب میں بیان کیا ہے کہ قارئین ان واقعات کو اطمینان سے پڑھے بغیرسونا پسند نہ کریں اور انہیں یقین ہوجائے گایقیناً ہمارے اسلاف کے اندر یہی وہ خوبیاں تھیں جنہیں سن کر قیصر و روم اوراس کا فوجی دربار جھوم اٹھا تھا اور مان گیا تھا کہ یقیناً ان کی فتوحات کا سبب ان کی یہی خوبیاں ہیں۔ (م۔ا)

    title-pages-sahabara-aur-ahle-baitra-me-yaghaghat-aur-muhabbatain-copy
    ابو مسعود عبد الجبار سلفی

    اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان عقائد واعمال کا اختلاف یقیناً دونوں فرقوں کے درمیان  بُعد کا سبب ہے  ۔تاہم اس کے علاوہ بعض تاریخی واقعات ایسے ہیں  جو بے بنیاد  ہیں لیکن انہیں پروپیگنڈے کے ذریعے سے عام کردیا گیا ہے۔ پروپیگنڈے کی ان دبیز تہوں کو البتہ صاف کیا  جاسکتا ہے او رکیا جانا چاہیے ، یہ یقیناً ایک  دینی خدمت ،وقت کی ضرورت او رحالات کاتقاضہ بھی ہے ۔ان پروپیگنڈوں میں ایک پروپیگنڈہ یہ ہےکہ  ہل سنت ،اہل بیتؓ کی عظمت وفضیلت کو نہیں مانتے اور ان کے اندر ناصبیت پائی جاتی ہے  یعنی وہ  حضرت علی اور حضرت حسین  رضی تعالیٰ عنہما کا قرار واقعی احترام نہیں کرتے  ۔ظاہر بات ہے کہ  یہ ایک ناروا الزام ہے ، بے بنیاد پروپیگنڈہ ہے  اور حقائق کےیکسرخلاف ہے۔زیر نظر کتابچہ  ’’صحابہ ؓ او اہل بیت کے درمیان یگانگت اور محبتیں ‘‘مولانا عبد الجبار سلفی ﷾نے  اسی بے بنیاد پروپیگنڈے کی وضاحت کےلیے لکھا ہے ۔ فاضل مؤلف نے  پہلے اس کوواضح کیا ہے کہ  صحابہ کرام اوراہل بیت کےدرمیان  خوشگوار تعلقات تھے اور اس کے  لیے انہوں نےناقابل تردید ثبوت پیش کرتے ہوئے  اہل بیت  کےمفہوم کو بھی واضح کیا ہے  جس  سے یہ بات  واضح ہو جاتی ہے کہ تمام اہل بیت کوپورے طور پرماننے والے  بھی صرف اہل سنت ہی ہیں۔اور اسی طرح ناصبیت کے حوالے سے  بھی فاضل مصنف نے  مدلل گفتگو کرتے ہوئے بتلایا ہے کہ اہل سنت دیگر صحابہ کرام ؓ کی طرح  حضرت علی  وحضرت حسین رضی اللہ  عنہما اور دیگر اہل  بیت عظام کی بھی  عزت کرتے ہیں اوران  میں سے  کسی کی  بھی تنقیص وتوہین کوجائز نہیں سمجھتے ، اس لیےناصبیت سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔اللہ تعالی فاضل مصنف کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور اسے  غلط فہمیوں کے ازالے اوردونوں فرقوں کے درمیان قربت وہم آہنگی کا ذریعہ بنائے (آمین)  (م۔ا)

     

    untitled-1
    ابو مسعود عبد الجبار سلفی
    عموماً شیعہ حضرات کی جانب سے اہل سنت پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ اہل بیت کی فضیلت و عظمت کونہیں مانتے۔ اس الزام میں کس حد تک صداقت ہے زیر نظر کتاب میں اس کو واضح کیا گیا ہے۔ مولانا عبدالجار شاکر نے سب سے پہلے اس بات کے ناقابل تردید ثبوت پیش کیے ہیں کہ صحابہ اور اہل بیت کے درمیان خوشگوار تعلقات تھے۔ اسی طرح ناصبیت کیا ہے؟ اور اہل سنت کو ناصبی قرار دینا کہاں تک درست ہے؟ فاضل مؤلف نے اس نکتے پر بھی مدلل گفتگو کی ہے اور بتلایا ہے کہ اہل سنت دیگر صحابہ کرام کی طرح حضرت علی اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما اور دیگر اہل بیت کی بھی عزت و تکریم کرتے ہیں اور ان میں سے کسی کی بھی تنقیص کو جائز نہیں سمجھتے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-arbi-zuban-w-adab-copy
    ابو مسعود عبد الجبار سلفی

    اللہ تعالی کاکلام اور  نبی کریم ﷺکی احادیث مبارکہ عربی زبان میں  ہیں اسی وجہ  سے اسلام اور مسلمانوں سے  عربی کا رشتہ مضبوط ومستحکم ہے  عربی اسلام کی سرکاری زبان ہے ۔شریعت اسلامی  کے بنیادی مآخد اسی زبان میں ہیں  لہذا قرآن وسنت اور  شریعتِ اسلامیہ پر عبور حاصل  کرنےکا واحد ذریعہ عربی زبان ہے۔  اس لحاظ سے عربی سیکھنا اور  سکھانا  امت مسلمہ  کا اولین فریضہ ہے ۔ لیکن مسلمانوں کی اکثریت  عربی زبان  سے  ناواقف ہے  جس کی  وجہ سے  وہ  فرمان الٰہی اور  فرمان نبوی ﷺ کو سمجھنے سے  قاصر ہے ۔ حتی کہ  تعلیم  حاصل کرنے  والے لوگوں کی  اکثریت سکول ،کالجز ،یونیورسٹیوں  کے  نصاب میں شامل  اسلامیات کے  اسباق کو  بھی  بذات خود  پڑھنے پڑھانے سے  قا صر ہے  ۔جس  کے لیے  مختلف اہل علم اورعربی زبان کے  ماہر اساتذہ  نے  نصابی کتب کی  تفہیم  وتشریح کے لیے  کتب  وگائیڈ تالیف کی ہیں۔زیر نظر  کتاب ’’ عربی  زبان وادب‘‘  محترم مولاناابو مسعود عبد الجبار سلفی  (فاضل جامعہ سلفیہ  ،فیصل آباد،ایم اے جامعہ پنجاب ) کے تصنیف ہے ۔جس میں انہو ں  نے پنجاب یوینورسٹی  ایم اے اسلامیات کے  نصاب کی مکمل  تفہیم  وتشریح کو  بڑے  عام فہم انداز میں  پیش کیا ہے ۔کتاب کے شروع  میں امتحان  میں  100 فیصد کامیابی  سے ہمکنار ہونے کے  دس راہنمال اصول بھی بیان کردیئے  ہیں۔ طلباء  اس  کتاب  سے  استفادہ کرکے  امتحان میں  نمایاں کامیابی حاصل کرسکتے  ہیں  ۔(م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-qabar-parasti-k-farogh-k-liye-shaitan-ki-tadberain-copy
    ابو مسعود عبد الجبار سلفی

    پیغمبرِ  اسلام  حضرت محمد ﷺ نے اپنی امت کو جتنی تاکید کے ساتھ  شرکیہ امور سے  بچنے کی  ہدایت فرمائی تھی ۔افسوس ہے کہ آپﷺ کی یہ نام لیوا امت  اسی  قدر  مشرکانہ  عقائد واعمال  میں  مبتلا ہے  اور اپنے  پیغمبر  کی تمام ہدایات کو فراموش کر چکی ہے  ۔۔آپ  ﷺ   نے واضح  الفاظ میں اعلان فرمادیا تھا :أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِك۔’’لوگو  کان کھول کر سن لو تم سے   پہلی امت کے لوگوں نے اپنے  انبیاء اور نیک لوگوں ،اولیاء  وصالحین کی قبروں کو عبادت گاہ (مساجد) بنالیا تھا ،خبر دار !تم  قبروں کو مساجد نہ  بنالینا۔میں تم کواس  روکتا ہوں۔اور آپ ﷺ اپنی مرض الموت میں  یہود ونصاریٰ کے اس مشرکانہ  عمل پر لعنت کرتےہوئے  فرما یا: لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَقبرپرستی شرک اورگناہ کبیرہ  ہے نبی کریم ﷺ نے   سختی سے   اس  سےمنع فرمایا اور اپنی  وفات کے وقت کے بھی اپنے صحابہ کرام کو اس سے  بچنے کی  تلقین  کی ۔ صحابہ کرام  نے اس پر عمل کیا  اور  پھر  ائمہ کرام  اور محدثین نے   لوگوں کو تقریر وتحریر کے  ذریعے  اس   فتنہ  عباد ت ِقبور سے  اگاہ کیا ۔زیر  نظر کتاب  ’’ قبر پرستی  کے فروغ کے لیے  شیطان کی  تدبیریں‘‘ علامہ ابن قیم ﷫ کی معروف کتاب   اغاثۃ اللھفان فی مقاید الشیطان ‘‘ کے ایک  معرکہ  آراء  باب کا ترجمہ ہے  جس کاتعلق فتنہ عبادۃ قبور  سے ۔ مولانا عبد الجبار  سلفی ﷾ ( مصنف ومترجم  کتب کثیرہ )  نے اپنے خاص میں اسے  اردو قالب میں  ڈھالا ہے ۔فاضل  مترجم   نے کتاب کےآخر میں  امام ابن  قیم ﷫ کی گرانقدر تحریر کی تائید وتشریح کی  غرض سے  شاہ  ولی  اللہ  دہلوی ، شاہ عبدالعزیز محدث  دہلوی اور  شیخ الاسلام محمد عبد الوہاب ﷭کی   مترجم تحریریں بھی اس میں شامل کردی  ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی  مترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے  عوام الناس  کےلیے  مفید بنائے (آمین) ایمان  عقائد۔ قبر پرستی ) ( م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title
    عثمان بن محمد الناصری آل خمیس

    ’آئینہ ایام تاریخ‘ ایک ایسی کتاب ہے جس میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے لے کر واقعہ کربلا تک کے تمام چیدہ چیدہ واقعات کو غیر جانبداری اور صحت و سند کے ساتھ بیان کر کے ان تمام لوگوں کا مسکت جواب پیش کیا گیا ہے جو حب اہل بیت کے جام شیریں میں نفرت صحابہ کرام کازہر گھولنے میں مصروف ہیں۔ کتاب کو چار فصلوں میں تقسیم کیا گیا ہے پہلی فصل مطالعہ تاریخ کی کیفیت، امام طبری کے منہج اور اسلامی تاریخ میں سند کی اہمیت پر مشتمل ہے۔ دوسری فصل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سانحہ ارتحال 11 ھ سے لے کر 61 ھ تک رونما ہونے والے تمام واقعات پر بے لاگ تحقیق کی گئی ہے اور من گھڑت اور باطل روایات کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ تیسری فصل میں عدالت صحابہ پر بحث کرتے ہوئے پھیلائے جانے والے تمام شبہات کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔ چوتھی اور آخری فصل میں قضیہ خلافت کو موضوع بحث بنایا گیا ہے اور امامت علی رضی اللہ علیہ  پر شیعی دلائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ یقیناً یہ کتاب اپنے موضوع کےاعتبار سے ایک جامع، منفرد اور علمی تصنیف ہے۔

     

     

    untitled-1
    ڈاکٹر سلیمان بن عبد الرحمن الحقیل
    دین اسلام میں اخلاقیات کا باب نہایت وسیع اور قابل رشک ہے۔ اس کے لیے اسلام کے عطا کردہ حقوق و فرائض کا سرسری جائزہ کافی ہے۔ اسلام نے نہ صرف والدین، اولاد، بیوی، شوہر اور ہمسایہ کے حقوق کا مستقل تذکرہ کیا بلکہ غیر مسلموں کے حقوق کی ادائیگی پر بھی شدو مد سے زور دیا۔ عام طور پر غیر مسلم مفکرین اور مستشرقین کی جانب سے اسلام کے نظام حدود و تعزیرات پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں اور اس کو غیر انسانی رویہ قرار دیا جاتا ہے اسی کے پیش نظر پروفیسر ڈاکٹر سلیمان بن عبدالرحمٰن الحیقل نے زیر مطالعہ کتاب میں انسانی حقوق سے متعلق پھیلائے گئے شبہات کاتحقیقی انداز میں تفصیلی جواب دیا ہے۔ کتاب کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ مصنف نے سیکولر قانونی دستاویزات میں انسانی حقوق کا تذکرہ کرتے ہوئے اسلام میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی اعلامیے کے درمیان موازنہ کیا ہے۔کتاب کے اخیر میں انسانی حقوق کی انٹرنیشنل کانفرنس میں سابقہ سعودی وزیر خارجہ امیر سعود الفیصل کا خطاب بھی شامل کیا گیا ہے۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-sahih-tarekh-al-islam-wal-muslimeen
    عثمان بن محمد الناصری آل خمیس
    مسلمان قوم کی تاریخ فرقوں کی بہتات کی وجہ سے بے پناہ تحریف کا شکار رہی، کیونکہ ہر فرقہ اس کوشش میں رہا کہ وہ اپنوں کی شان بڑھائے اور دوسروں کو گرائے۔ ان کے اس طرز عمل سے عظیم ترین ہستیوں کی تاریخ میں شگاف پیدا ہوگئے۔ مسلمان قوم میں سے چند لوگوں نے حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے اس قدر غلو آمیز محبت کی کہ آپ کی طرف ایسی باتیں منسوب کر دیں جو اصل واقعات اور تاریخ سے میل نہیں رکھتیں اور اسی دوران دوسرے صحابہ کرام کی شان گھٹانے کی ناکام کوششیں کیں اور انھیں حضرت علی کا حق غصب کرنے، ان پر ظلم کرنے نیز اپنے حق میں برا بیج بونے والوں کے روپ میں پیش کیا۔ اس ضمن میں اگرچہ اہل السنت والجماعۃ کی طرف سے اگرچہ کافی کام ہوا ہے لیکن ڈاکٹر عثمان بن محمد ناصری حفظہ اللہ نے زیر نظر کتاب کی صورت میں بعثت رسولﷺ سے سانحہ کربلا تک صحابہ کرام کے فضائل اور جس انداز میں ان کی عدالت پر اعتراضات کے جوابات دئیے ہیں اس طریق پر اس سے قبل کام سامنے نہیں آیا۔ کتاب کا سلیس اردو ترجمہ ابو مسعود عبدالجبار سلفی نے بہت ہی خوبصورت انداز میں کیا ہے۔ کتاب کو چار فصول میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلی فصل مطالعہ تاریخ کی کیفیت، امام طبری کے منہج اور اسلامی تاریخ میں سند کی اہمیت پر مشتمل ہے۔ دوسری فصل نبی کریمﷺ کے سانحہ ارتحال 11ھ سے61ھ تک رونما ہونے والے واقعات پر بے لاگ تحقیق ہے۔ تیسری فصل عدالت صحابہ پر مشتمل ہے۔ چوتھی فصل میں قضیہ خلافت پر بحث کی گئی ہے اور امامت علی بن طالب شیعی دلائل کو تفصیل کے ساتھ بیان کرنے کے بعد دقیق علمی بحث کے ذریعے اس کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ عدالت صحابہ پر ایسی لاجواب تحقیقی کتاب ہے جو جامعیت، اختصار اور دلکش اسلوب استدلال کے اعتبار سے ایک منفرد کتاب ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 464 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :