ڈاکٹر عبد الرحمن رافت پاشا

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
ڈاکٹر عبد الرحمن رافت پاشا
    title-pages-tazkra-e-tabien-copy
    ڈاکٹر عبد الرحمن رافت پاشا

    محسنِ  ا نسانیت  محمد رسول اللہ  ﷺ نے  مرکزِ زمین مکہ  مکرمہ میں  جب  اسلام کی صدائے جاں فزا  بلند کی تو سلیم فطرت اور شریف نفس انسان یکے  بعد دیگرے اس صدا پر لبیک کہنے لگے ۔ اس صدائے  توحید پر دورِ اول  میں لبیک کہنے والوں کی خوشی نصیبی اور بلند بختی کا  تذکرہ اللہ تعالیٰ نے  قرآن مجید میں  وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ.... کے الفاظ سے کیا ہے ۔اتبعوا کے زمرے میں وہ لوگ بھی آتے ہیں جو اس سبقت  واوّلیت کا شرف  تو حاصل نہ کرسکے البتہ صحبت رسول کے اعزاز سے سرفراز کیے گئے۔ اور وہ لوگ بھی اس زمرے میں شامل ہیں  جو نہ سبقت واوّلیت کا اعزاز پا سکے  ، نہ صحبت رسو ل ﷺ سے فیض یاب ہوسکے ۔ البتہ  سابقون الاولوں اور دوسرے صحابہ  کرام کی صحبت میں بیٹھے ، ا ن کے سامنے زانوے تلمذ تہ کئے۔ ان کی سیرت کو اپنایا اور ان کے علم قرآن وفہم سنت سےخوب سیراب ہوئے ۔ یہ لوگ اپنے اساتذہ کےنقش قدم پر یوں چلے کہ ان اساتذہ سے دادا پائی۔ان کی موجودگی میں افتاء وارشاد کی مسند پر جلوہ آرا ہوئے اور کتاب وسنت کی تشریح کی گراں بار ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوتے رہے ۔ تاریخ نےاس دوسرے طبقے کے ان ہدایت یافتگان کو تابعی کا نام دیا ہے۔مکہ ومدینہ اور بصرہ وشام کےعلاوہ دیگر کئی شہر علم وعرفان اور عبادت ا وریاضت کی ان بے مثال نشانیوں سے جگمگاتے رہے ۔ یہ  انہی لوگوں کی علمی محنتوں اور ریاضتوں کاثمر  ہے کہ دین توحید  کاعلم روئے زمین پر اس شرح وبسط کے ساتھ  موجود ہے کہ دنیا کے کسی اور دین کی تعلیمات اس قدر مستند اور بااعتماد حیثیت میں موجود نہیں جس  قدر اسلام کی تشریح وتعبیر اپنے پورے متن کےساتھ موجود  ہے۔ ائمہ محدثین جن کی شہرت چہاردانگ عالم میں پھیلی اسی طبقہ تابعین کے حلقہ درس  کے فیض یافتہ تھے ۔جس اصحاب  رسول ﷺ کی تعداد لاکھوں میں تھی  یقیناً صحابہ  کے شاگردوں اور زائرین کی تعداد بھی لاکھوں میں ہوگی۔ تاریخ ان سب کی زندگیوں کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے تاہم یہ شہادت موجود ہے کہ لاکھوں اصحاب وعلم وفضل کے تذکرے  تفصیل سے  تاریخ کےصفحات پر محفوظ ہیں ۔
    زیرتبصرہ کتاب’’تذکرہ تابعین‘‘ ڈاکٹر عبد الرحمن رأفت پاشا   کی  کتاب  ’’صور من  حیاۃ التابعین‘‘ کا ترجمہ ہے۔ مصنف نے  اس کتاب میں  29  جلیل القدر  تابعین  کرام کے   روح افزا اورایمان افروز  تذکرے  ایک منفرد اسلوب کے ساتھ بیان کیے ہیں ۔محترم جناب ارشاد الرحمن صاحب نے اس کتاب کا اردو دان طبقہ کے  لیے   سلیس اردو ترجمہ کرنے کی سعادت حاصل کی۔یہ ترجمہ  2001ء میں  ہفت روزہ ایشیاء میں   29 اقساط میں شائع ہوا   ۔ بعد ازاں  ادارہ منشورات  نے اسے کتابی صورت میں شائع کیا ۔ اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم او رناشرین کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے  اور امت مسلمہ  کو  صحابہ وتابعین جیسی زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین) (م۔ا)

    title-pages-hatat-e-tabien-k-dr-kahshan-pehlo
    ڈاکٹر عبد الرحمن رافت پاشا

    پیش نظر کتاب میں ان پاکباز ہستیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تبع تابعین رحمہم اللہ  کی درمیانی کڑی ہیں۔ جنھوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی علمی اور روحانی برکتوں کو پورے عالم میں پھیلایا۔ جنھیں امت کے بہترین افراد ہونے میں دوسرا درجہ حاصل ہے۔ اس سے قبل دکتور عبدالرحمٰن الباشا کی کتاب ’حیات صحابہ رضی اللہ عنہم کے درخشاں پہلو‘ منظر عام پر آ چکی ہے۔ جسے علمی و عوامی حلقوں میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کتاب میں ’حیات تابعین رحمہم اللہ  کے درخشاں پہلو‘ کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ جس میں جلیل القدر تابعین رحمہم اللہ کی قابل رشک زندکی کے حیرت انگیز واقعات کی دلنشیں جھلکیاں پیش کی گئی ہیں۔ ہر تابعی کے تذکرے کے بعد ان مستند کتابوں کے حوالہ جات بھی نقل کر دئیے گئے ہیں جن سے یہ واقعات اخذ کیے گئے ہیں۔(ع۔م)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-hayat-e-sahaba-k-dr-kahshan-pehlo
    ڈاکٹر عبد الرحمن رافت پاشا
    صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نےآغوش نبوت میں تربیت پائی، ان کے سینوں پر انوار رسالتﷺ براہِ راست پڑے اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان سے متعلق رضی اللہ عنہم ارشاد فرمایا۔ حضرات صحابہ کرام کی زندگیاں امت مسلمہ کے لیے مینارہ نور اور مشعل راہ ہیں اسی کے پیش نظر ان کی زندگی کے لمحات کو قرطاس میں محفوظ کیا گیااور اس حوالے سے الاصابہ اور اسد الغابہ جیسی ضخیم کتب سامنے آئیں۔ زیر مطالعہ کتاب میں بھی انھی ہستیوں کی زندگی کے حالات و واقعات نقل کیے گئے ہیں۔ ’حیات صحابہ کے درخشاں پہلو‘ دکتور عبدالرحمان رافت الباشا کی کتاب ’صور میں حیاۃ الصحابہ‘ کا اردو قالب ہے۔  اردو ترجمہ محمود احمد غضنفر نے کیا ہے۔ جو ترجمہ تصنیف میں ایک مقام رکھتے ہیں۔ یہ کتاب بلاشبہ اردو ادب میں ایک گراں مایہ اضافہ ہے اور پڑھنے والوں کے لیے ایسے مواد کی فراہمی ہے جو قلب و ذہن کے تزکیہ کا باعث ہو گی۔ کتاب کی افادیت کا اندازہ اس سے کیجئے کہ یہ متعدد مدارس کے نصاب میں شامل ہے اور اب تک اس کے کئی ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ (ع۔م)
    pages-from-zindgian-taabeen-ki
    ڈاکٹر عبد الرحمن رافت پاشا

    محسنِ ا نسانیت محمد رسول اللہﷺ نے مرکزِ زمین مکہ مکرمہ میں جب اسلام کی صدائے جاں فزا بلند کی تو سلیم فطرت اور شریف نفس انسان یکے بعد دیگرے اس صدا پر لبیک کہنے لگے۔ اس صدائے توحید پر دورِ اول میں لبیک کہنے والوں کی خوشی نصیبی اور بلند بختی کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ.... کے الفاظ سے کیا ہے۔ اتبعوا کے زمرے میں وہ لوگ بھی آتے ہیں جو اس سبقت واوّلیت کا شرف تو حاصل نہ کرسکے البتہ صحبت رسول کے اعزاز سے سرفراز کیے گئے۔ اور وہ لوگ بھی اس زمرے میں شامل ہیں جو نہ سبقت واوّلیت کا اعزاز پا سکے، نہ صحبت رسو لﷺ سے فیض یاب ہوسکے۔ البتہ سابقون الاولوں اور دوسرے صحابہ کرام کی صحبت میں بیٹھے، ا ن کے سامنے زانوے تلمذ تہ کئے۔ ان کی سیرت کو اپنایا اور ان کے علم قرآن و فہم سنت سے خوب سیراب ہوئے۔ یہ لوگ اپنے اساتذہ کےنقش قدم پر یوں چلے کہ ان اساتذہ سے دادا پائی ۔ان کی موجودگی میں افتاء وارشاد کی مسند پر جلوہ آرا ہوئے اور کتاب وسنت کی تشریح کی گراں بار ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوتے رہے۔ تاریخ نےاس دوسرے طبقے کے ان ہدایت یافتگان کو تابعی کا نام دیا ہے۔ مکہ ومدینہ اور بصرہ و شام کے علاوہ دیگر کئی شہر علم و عرفان اور عبادت ا وریاضت کی ان بے مثال نشانیوں سے جگمگاتے رہے۔ یہ انہی لوگوں کی علمی محنتوں اور ریاضتوں کاثمر ہے کہ دین توحید کاعلم روئے زمین پر اس شرح وبسط کے ساتھ موجود ہے کہ دنیا کے کسی اور دین کی تعلیمات اس قدر مستند اور بااعتماد حیثیت میں موجود نہیں جس قدر اسلام کی تشریح و تعبیر اپنے پورے متن کے ساتھ موجود ہے۔ ائمہ محدثین جن کی شہرت چہاردانگ عالم میں پھیلی اسی طبقہ تابعین کے حلقہ درس کے فیض یافتہ تھے۔ جس اصحاب رسولﷺ کی تعداد لاکھوں میں تھی یقیناً صحابہ﷢ کے شاگردوں اور زائرین کی تعداد بھی لاکھوں میں ہوگی۔ تاریخ ان سب کی زندگیوں کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے تاہم یہ شہادت موجود ہے کہ لاکھوں اصحاب و علم وفضل کے تذکرے تفصیل سے تاریخ کےصفحات پر محفوظ ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب ’’زندگیاں تابعین کی‘‘ ڈاکٹر عبد الرحمن رافت پاشا کی کتاب ’’صور من حیاۃ التابعین‘‘ کا ترجمہ ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں 29 جلیل القدر تابعین کرام کے روح افزا اورایمان افروز تذکرے ایک منفرد اسلوب کے ساتھ بیان کیے ہیں۔ محترم جناب مولانا افتخار الحسن ندوی صاحب نے اس کتاب کا اردو دان طبقہ کے لیے سلیس اردو ترجمہ کرنے کی سعادت حاصل کی۔ یہ کتاب تابعین کرام کی ذوات مقدسہ کے درخشاں پہلوؤں پر ایک مختصر اورمنفرد کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم او رناشرین کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور امت مسلمہ کو صحابہ و تابعین جیسی زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین( م۔ا)

    title-pages-nabi-kreempbuhk-sahabaraki-tabnak-zindagian-copy
    ڈاکٹر عبد الرحمن رافت پاشا

    صحابہ  نام  ہے  ان نفوس  قدسیہ  کا جنہوں  نے  محبوب  ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا  اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو  اپنے  ایمان  وعمل میں پوری طرح سمونے کی  کوشش کی ۔ صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی  سے مراد رسول  اکرم ﷺکا وہ  ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی  کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص  ہے  لہذاب  یہ لفظ کوئی دوسراا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے  استعمال نہیں کرسکتا۔  انبیاء  کرام﷩ کے  بعد  صحابہ کرام ﷢ کی  مقدس  جماعت تمام  مخلوق سے  افضل  اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام﷢ کو ہی  حاصل  ہے  کہ اللہ  نے  انہیں دنیا میں  ہی  مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے  بہت سی  قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام  سے محبت اور  نبی کریم  ﷺ نے  احادیث مبارکہ  میں جوان کی افضلیت  بیان کی ہے ان کو تسلیم  کرنا  ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ صحابہ کرام ﷢ کے ایمان  ووفا کا انداز اللہ کو اس قدر  پسند آیا کہ اسے  بعد میں آنے والے  ہر ایمان  لانے والے  کے لیے کسوٹی قرار  دے  دیا۔یو  ں تو حیطہ اسلام  میں آنے  کے بعد صحابہ  کرام  ﷢ کی زندگی کاہر گوشہ تاب ناک ہے  لیکن بعض  پہلو اس  قدر درخشاں ،منفرد اور ایمان افروز ہیں کہ  ان کو  پڑہنے  اور سننے والا دنیا کا  کوئی بھی  شخص  متاثر  ہوئے بغیر  نہیں رہ سکتا۔ صحابہ کرام ﷢ کےایمان  افروز  تذکرے سوانح حیا ت کے  حوالے  سے  ائمہ محدثین او راہل علم  کئی  کتب تصنیف کی  ہیں عربی زبان  میں  الاصابہ اور اسد الغابہ وغیرہ  قابل ذکر ہیں  ۔اور اسی طرح اردو زبان میں  کئی مو جو د کتب موحود ہیں ۔ زیر تبصرہ  کتاب ’’ نبی کریم ﷺ کے  صحابہ ﷢ کی  تابناک زندگیاں‘‘  مصر کے معروف  عالم دین  ڈاکٹر عبد الرحمن رافت پاشا  کی  کتاب ’’ صور من حیاۃ الصحابۃ‘‘ کا ترجمہ ہے ۔اس کتاب میں  فاضل مصنف نے  ا ٹھاون صحابہ کرام ﷢ کی زندگیوں  کے مختلف  گوشوں او را  ن کے بے  مثال کارناموں کو اس انداز اور ترتیب سے پیش کیا ہے  کہ  دورِ صحابہ کی اسلامی تاریخ  کا بہت  بڑا حصہ  سامنے آگیا ہے۔عربی کتاب کے ترجمہ کی سعادت  محترم اقبال عمد قاسمی نے  حاصل کی ہے ۔ صور من حیاۃ الصحابۃ  کا ایک  ترجمہ  ’’حیاۃ صحابہ کے درخشاں  پہلو‘‘ کے  نام  سے  مولانا  محمود احمد غضنفر کے  رواں قلم سے بھی موجود  ہے  ۔اللہ  تعالی فاضل مصنف  کی اس کاوش کو شرف قبولیت  سے  نوازے  اور  اسے  اہل اسلام کی اصلاح کا  ذریعہ بنائے  (آمین) (م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 399 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :