حکیم محمود احمد ظفر

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
حکیم محمود احمد ظفر
    حکیم محمود احمد ظفر

    اسلامی تعلیم کے مطابق نبوت ورسالت کا سلسلہ حضرت آدم﷤ سے شروع ہوا اور سید الانبیاء خاتم المرسلین حضرت محمدﷺ پر ختم ہوا۔ اس کے بعد جوبھی نبوت کادعویٰ کرے گا وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ نبوت کسبی نہیں وہبی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جس کو چاہا نبوت ورسالت سے نوازاکوئی شخص چاہے وہ کتنا ہی عبادت گزارمتقی اور پرہیزگار کیوں نہ وہ نبی نہیں بن سکتا ۔اور اسلام کی اساس دوشہاتوں پر ہے ایک لاالہ الا اللہ اور دوسری رسول اللہ۔ یہ دونوں گواہیاں جنت کی چابی اور ہر خیر وبھلائی کا دروازہ ہیں۔ یہ شہادتیں وہ روشن ضابطہ حیات ہیں جو مسلمان اپنے رب کے لیے اختیار کرتا ہے ۔ یہ وہ افضل ترین چیز ہے جسے وہ جہان والوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ارشاد نبوی ہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ، لَا يَلْقَى اللهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍّ فِيهِمَا، إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ» (صحیح مسلم :27) میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اورمیں (محمد) اللہ کا رسول ہوں۔ جوشخص بھی ان دو شہادتوں کے ساتھ اس حالت میں اللہ سےملاقات کرے کہ اس نے ان میں شک نہ کیا ہوتو وہ جنت میں داخل ہوگا‘‘۔ یعنی جو شہادتین پر شک وشبے کے بغیر ایمان رکھے گا وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام کا تصورنبوت‘‘ حکیم محمود احمد ظفر کی تصنیف ہے موصوف نے اس کتاب میں کئی نامور محدثین، متکلمین، فلاسفہ اور محققین کی کتب سے استفادہ کر کے نبوت کے بارہ میں پیچیدہ اور دقیق مسائل کو اس قد ر آسان زبان اور عام فہم انداز میں پیش کیا ہے کہ ایک کم تعلیم یافتہ آدمی بھی اسے بخوبی استفادہ کرسکتا ہے۔ (م۔ا)

    title-page-ameer-al-momineen-sayyadna-hazrit-ali--ra--shakhsiyat-w-kirdar-copy
    حکیم محمود احمد ظفر

    سیدناعلی آنحضرت ﷺ کے چچا ابو طالب کے بیٹے تھے اور بچپن سے ہی حضورﷺ کے زیر سایہ تربیت پائی تھی بعثت کے بعد جب حضور ﷺ نے اپنے قبیلہ بنی ہاشم کے سامنے اسلام پیش کیا تو سیدناعلی نے سب سے پہلے لبیک کہی اور ایمان لے آئے۔اس وقت آپ کی عمر آٹھ برس کی تھی ہجرت کی رات نبی کریم ﷺ آپ کو ہی اپنے بستر پر لٹا کر مدینہ روانہ ہوئے تھے۔ ماسوائے تبوک کے تمام غزوات حضور ﷺ کے ساتھ تھے۔لڑائی میں بے نظیر شجاعت اور کمال جو انمردی کا ثبوت دیا۔آحضرت ﷺ کی چہیتی بیٹی سیدہ فاطمۃ الزہرا کی شادی آپ ہی کے ساتھ ہوئی تھی۔حضور ﷺ کی طرف سے خطوط اور عہد نامے بھی بالعموم آپ ہی لکھا کرتے تھے۔پہلے تین خلفاء کے زمانے میں آپ کو مشیر خاص کا درجہ حاصل رہا اور ہر اہم کام آپ کی رائے سے انجام پاتا تھا۔سیدنا علی بڑے بہادر انسان تھے۔ سخت سے سخت معر کوں میں بھی آپ ثابت قدم رہے ۔بڑے بڑے جنگو آپ کے سامنے آنے کی جر ات نہ کرتے تھے۔آپ کی تلوار کی کاٹ ضرب المثل ہوچکی ہے۔شجاعت کے علاوہ علم وفضل میں بھی کمال حاصل تھا۔ایک فقیہ کی حیثیت سے آپ کا مرتبہ بہت بلند ہے۔آپ کے خطبات سے کمال کی خوش بیانی اور فصاحت ٹپکتی ہے۔خلیفۂ ثالث سید عثمان بن عفان کی شہادت کے بعد ذی الحجہ535میں آپ نے مسند خلافت کو سنبھالا۔آپ کا عہد خلافت سارے کاسارا خانہ جنگیوں میں گزرا۔اس لیے آپ کو نظام ِحکومت کی اصلاح کے لیے بہت کم وقت ملا۔تاہم آپ سے جہاں تک ممکن ہوا اسے بہتر بنانے کی پوری کوشش کی۔ فوجی چھاؤنیوں کی تعداد میں اضافہ کیا۔صیغہ مال میں بہت سی اصلاحات کیں ۔جس سے بیت المال کی آمدنی بڑھ گئی۔عمال کے اخلاق کی نگرانی خود کرتے اور احتساب فرماتے۔خراج کی آمدنی کا نہایت سختی سے حساب لیتے۔ذمیوں کے حقوق کا خاص خیال رکھتے۔ عدل وانصاف کارنگ فاروق اعظم کے عہد سے کسی طرح کم نہ تھا۔محکمہ پولیس جس کی بنیاد سیدنا عمر نے رکھی تھی۔اس کی تکمیل بھی سیدناعلی کے زمانے میں ہوئی۔ نماز فجر کے وقت ایک خارجی نے سیدنا علی پر زہر آلود خنجر سے حملہ کیا جس سے آپ شدید زخمی ہوگئے ۔اور حملہ کے تیسرے روز رحلت فرماگئے۔انتقال سے پہلے تاکید کی کہ میرے قصاص میں صرف قاتل ہی کو قتل کیا جائے کسی اور مسلمان کا خون نہ بھایا جائے۔خلفائے راشدین کی سیرت امت کےلیے ایک عظیم خزانہ ہے اس میں بڑے لوگو ں کےتجربات،مشاہدات ہیں خبریں ہیں امت کے عروج اور غلبے کی تاریخ ہے ۔ اس کےمطالعہ سے ہمیں دیکھنے کا موقع ملتا ہے کہ کن کن مواقع پر اہل حق کوعروج وترقی ملی ۔خلفاء راشدین کی سیرت شخصیت ،خلافت وحکومت کےتذکرہ پر مشتمل متعد د کتب موجود ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ امیر المؤمنین سیدنا حضرت عل شخصیت وکردار ‘‘ حکیم محمود احمد ظفر ﷾ کی تصنیف ہے جوکہ سیدنا علی کےحالات زندگی شخصیت، کردار اور کارناموں پر مشتمل ہے ۔جھوٹی اورمن گھڑت روایات ، قصوں اور کہانیوں کےنتیجے میں قارئین کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے اشکالات اور شکوک وشبہات کودور کیا ہے اور خیر القرون کی جماعت ِ صحابہ کے بارے میں کتاب وسنت پر مبنی صحیح موقف اور منہج سلف کی وضاحت کی ہے۔ یہ کتاب سیروتواریخ میں ایک منفرد اور شاندار اضافہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل میں اضافہ فرمائے اور ان کی دینی خدمات کو قبول فرمائے ۔ اور اس کتاب کوقارئین کےلیے خلیفۂ رابع سیدنا علی المرتضیٰ کی سیرت وکردار کو اپنانے کا ذریعہ بنائے ( آمین) (رفیق الرحمٰن)

    حکیم محمود احمد ظفر

    آج کا دور مصرفیتوں کا دور ہے۔ ہماری معاشرت کا انداز بڑی حد تک مشینی ہو گیا ہے۔ زندگی کی بدلتی ہوئی قدروں سے دلوں کی آبادیاں ویران ہو رہی ہیں۔ فکرونظر کا ذوق اور سوچ کا انداز بدل جانے سے ہمارے ہاں ہیرو شپ کا معیار بھی بہت پست سطح پر آگیا ہے۔ آج کھلاڑی‘ ٹی وی اور بڑی سکرین کے فن کار ہماری نسلوں کے آئیڈیل اور ہیرو قرار پائے ہیں جس کی وجہ سے ماضی کے وہ عظیم سپوت اور روشنی کی وہ برتر قندیلیں ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئی ہیں۔ اسلام کی تاریخ بڑی تابناک تاریخ ہے اور دنیا میں کسی قوم کی تاریخ ایسی نہیں ہے جیسی کہ مسلمانوں کی تاریخ ہے‘ خصوصی طور پر صحابہ کرامؓ کے زمانہ کی تاریخ کیونکہ حدیث میں اس کو بہترین زمانہ کہا گیا ہے اور اس زمانہ کے لوگوں کو بہترین لوگ کہا گیا ہے اور بارہ افراد ایسے ہیں جن کی خلافت کے حوالے سے کوئی شک وشبہ نہیں ہو سکتا ان میں سے ایک عمر بن عبد العزیز کی شخصیت ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب اسی موضوع پر ہے جس میں ان کے مجددانہ کارناموں اور ان کے حالات زندگی کو بیان کیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے خلافت میں پیدا ہونے والی بہت سی خرابیوں کی اصلاح فرمائی۔ اور ان کی شخصیت عدل پر حریص‘ وافر العلم‘ فقیہ النفی اور ظاہر الذکاء جیسے صفات کے حامل تھی۔حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ سیدنا عمر بن عبد العزیز تا ریخ کی رو شنی میں ‘‘ حکیم محمود احمد ظفر کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

    pages-from-saydena-muaviya-copy
    حکیم محمود احمد ظفر

    آج کا دور مصرفیتوں کا دور ہے۔ ہماری معاشرت کا انداز بڑی حد تک مشینی ہو گیا ہے۔ زندگی کی بدلتی ہوئی قدروں سے دلوں کی آبادیاں ویران ہو رہی ہیں۔ فکرونظر  کا ذوق اور سوچ کا انداز بدل جانے سے ہمارے ہاں ہیرو شپ کا معیار بھی بہت پست سطح پر آگیا ہے۔ آج کھلاڑی‘ ٹی وی اور بڑی سکرین کے فن کار ہماری نسلوں کے آئیڈیل اور ہیرو قرار پائے ہیں جس کی وجہ سے ماضی کے وہ عظیم سپوت اور روشنی کی وہ برتر قندیلیں ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئی ہیں۔ آج بڑی شدت سے اس بات کی ضرورت ہے کہ عہد ماضی کے ان نامور سپوتوں اور رجال عظیم کی پاکیزہ سیرتوں اور ان کے اُجلے اُجلے کردار کو منظر عام پر لایا جائے۔زیرِ تبصرہ کتاب میں  سیدنا معاویہؓ کے حالات زندگی‘تعارف‘ فتوحات‘عسکری نظام‘ نظم مملکت‘ معاشی اور اقتصادی اصلاحات‘ تدبیر وسیاست‘ شجاعت وبسالت‘ جودوسخاوت‘ ظرافت وخطابت اور نظام عدل  کو بیان کیا گیا ہے جس کے وجہ سے امت مسلمہ کو وہ قوت وہمت ملی کہ اس کے بازو قوی‘ حوصلے بلند اور ارادے مضبوط بن گئے یہ کتاب غلط روایات کا پوسٹ مارٹم ہے اور ایک ایسی کسوٹی ہے جس پر صحیح اور غلط واقعات کو جانچا اور پرکھا جا سکتا  ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ سیدنا معاویہ شخصیت وکردار ‘‘حکیم محمود احمد ظفر سالکوٹی کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا)

    حکیم محمود احمد ظفر

    اِسلام نے اشخاص کی انفرادی اصلاح کو کافی نہیں سمجھا ہے بلکہ معاشرے اور ریاست کی اصلاح کو کلیدی اہمیت دی ہے۔ اسی طرح اسلام کے نزدیک صرف باطن کی درستگی کااہتمام کافی نہیں بلکہ ظاہر کی طرف توجہ بھی ضروری ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انسانیت کی ہدایت وراہنمائی اور تربیت کے لیے جس سلسلۂ نبوت کا آغاز حضرت آدم سےکیاگیا تھا اس کااختتام حضرت محمد ﷺ پر کیا گیا۔۔اور نبوت کے ختم ہوجانے کےبعددعوت وتبلیغ وتربیت کاسلسلہ جاری وساری ہے ۔ اپنے اہل خانہ او رزیر کفالت افراد کی دینی اور اخلاقی تربیت ایک اہم دینی فریضہ او رذمہ داری ہے جس کے متعلق قیامت کےدن ہر شخص جواب دہ ہوگا ۔دعوت وتبلیع اور اصلاح امت کی ذمہ داری ہر امتی پرعموماً اور عالم دین پر خصوصا عائد ہوتی ہے ۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ سیرت خاتم النبینﷺ ‘‘ حکیم محمود احمد ظفر کی ہے ۔جس میں آپﷺ کی پیدائش سے قبل عرب کے حالات و واقعات ، ولادت با سعادت سے ما بعد وفات تک 63 سال کی زندگی کو موتیوں کی لڑی میں پرو کر رکھ دیا ہے۔ اسلوب میں ادبی چاشنی اور سطر سطر سے نبی کریم ﷺ سے محبت کے جھلکتے آثار اس کتاب کی نمایاں خوبیاں ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ مصنف کی اس عظیم خدمت کو قبول فرمائے اور آخرت میں بخشش کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔(رفیق الرحمن)

    حکیم محمود احمد ظفر

    اسلام کا دعوی کرنے والے کچھ لوگ اپنی تقریروں اور تحریروں سے یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ صحابہ کرام  اور اہل بیت نبوت کے مابین ایک قسم کی خصومت اور عداوت تھی اور اس عداوت کی بنیاد یہ تھی کہ اصحاب ثلاثہ(حضرت ابو بکرؓ‘ حضرت عمرؓ اور عثمانؓ) نے سیدنا علیؓ کو خلافت سے محروم کر دیا تھا حالانکہ نبی کریمﷺ نے ان کے حق میں وصیت فرمائی تھی۔ اس بارہ میں دو قسم کے لوگ ہیں ایک تو اہل بیت اور باقی صحابہ کی تعظیم کو یکساں گردانتے ہیں اور ایک گروہ اہل بیت کے علاوہ صحابہ کو اہل بیت کا دشمن گردانتے ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں   شیعہ سنی کتابوں سے دلائل کے ساتھ واضح کیا گیا ہے کہ صحابہ کرامؓ اور اہل بیت نبوت کا آپس میں کوئی اختلاف نہیں تھا‘ ان کی آپس میں رشتہ داریاں بھی تھیں اور ہر مشکل وقت میں وہ ایک دوسرے کی معاونت بھی کرتے تھے‘ ان میں اختلاف اور فرق ہم لوگوں نے ان کے بعد بنایا ہوا ہے۔اس کتاب میں حوالہ جات کا کوئی خاص اہتمام نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے اس میں نقص یا عیب ضرور ہے ۔ یہ کتاب’’ صحابہ کرام اور اھلحدیث نبوت کے تعلقات اور رشتہ دا ریاں ‘‘ حکیم محمود احمد ظفر کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

    حکیم محمود احمد ظفر

    اسلامی معاشیات ایک ایسا مضمون ہے جس میں معاشیات کے اصولوں اور نظریات کا اسلامی نقطہ نظر سے مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک اسلامی معاشرہ میں معیشت کس طرح چل سکتی ہے۔ موجودہ زمانے میں اس مضمون کے بنیادی موضوعات میں یہ بات شامل ہے کہ موجودہ معاشی قوتوں اور اداروں کو اسلامی اصولوں کے مطابق کس طرح چلایا جا سکتا ہے ۔ اسلامی معیشت کے بنیادی ستونوں میں زکوٰۃ، خمس، جزیہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس میں یہ تصور بھی موجود ہے کہ اگر صارف یا پیداکاراسلامی ذہن رکھتے ہوں تو ان کا بنیادی مقصد صرف اس دنیا میں منافع کمانا نہیں ہوگا بلکہ وہ اپنے فیصلوں اور رویوں میں آخرت کو بھی مدنظر رکھیں گے۔ اس سے صارف اور پیداکار کا رویہ ایک مادی مغربی معاشرہ کے رویوں سے مختلف ہوگا اور معاشی امکانات کے مختلف نتائج برآمد ہوں گے۔اسلامی نظامِ معیشت کے ڈھانچے کی تشکیل نو کا کام بیسویں صدی کے تقریبا نصف سے شروع ہوا ۔ چند دہائیوں کی علمی کاوش کے بعد 1970ءکی دہائی میں اس کے عملی اطلاق کی کوششوں کا آغاز ہوا نہ صرف نت نئے مالیاتی وثائق ،ادارے اور منڈیاں وجود میں آنا شروع ہوئیں بلکہ بڑے بڑے عالمی مالیاتی اداروں نے غیر سودی بنیادوں پرکاروبار شروع کیے۔بیسوی صدی کے اختتام تک اسلامی بینکاری ومالکاری نظام کا چرچا پورے عالم میں پھیل گیا ۔اسلامی مالیات اور کاروبار کے بنیادی اصول قرآن وسنت میں بیان کردیے گئے ہیں۔ اور قرآن وحدیث کی روشنی میں علمائے امت نے اجتماعی کاوشوں سے جو حل تجویز کیے ہیں وہ سب کے لیے قابل قبول ہونے چاہئیں۔کیونکہ قرآن کریم اور سنت رسول ﷺ کے بنیادی مآخذ کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملات میں اختلافی مسائل کےحوالے سے علماء وفقہاء کی اجتماعی سوچ ہی جدید دور کے نت نئے مسائل سے عہدہ برآہونے کے لیے ایک کامیاب کلید فراہم کرسکتی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’معیشت واقتصاد کا اسلامی تصور‘‘ حکیم محمود احمد ظفر صاحب کی تصنیف ہے۔ انہوں نے اسلامی اقتصادیات کو اپنی استطاعت کےمطابق ایک اچھے اورمدلل انداز میں پیش کرتے ہوئے اس بات کو واضح کیا ہے کہ جب اسلامی نظام معیشت دنیا میں رائج تھا تو ہر شخص خوشحال تھا پورے معاشرہ میں دولت کی گردش ہوتی تھی ۔ ہر غریب کی جیب تک پیسہ پہنچتا تھا۔اور جب سے یہ سرمایہ دارانہ نظام دنیا میں رائج ہوا تو وسائلِ معاش کو حاصل کرنے کےلیے شدید مسابقت شروع ہوگئی ،انسان کی ساری تگ وتازکا مرکز و محور اسکی مادی ضرروریات کی تسکین ہوگیا۔انسان اپنے سرمایہ اور صلاحیتوں کا رخ ان پیشوں کی طرف موڑ نے لگا جہاں انہیں زیادہ سے زیادہ منافع کی توقع ہوتی ہے۔ نتیجہ ہوا کہ سرمایہ داروں کےظالمانہ استحصال نے معاشرہ کوآجر اور اجیر ،مالک اور مزدور کےدومتحارب گروہوں میں تقسیم کردیا جس سے معاشرہ کی ہم آہنگی اورسکون پارہ پارہ ہوگیا ۔اللہ تعالی مصنف کتاب ہذا کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)

    حکیم محمود احمد ظفر

    سر کار دو عالمﷺ کی نظر کیمیا اثر نے صرف بڑے بڑے محدث‘ فقہاء‘ فلسفی اور سائنس دان ہی پیدا نہیں کیے بلکہ دنیا کے بڑے بڑے جرنیل بھی پیدا کیے جن کی فن سپہ گری کا لوہا پوری دنیا نے مانا ہے۔ وہ ایسے جرنیل تھآ کہ جس طرف بھی رخ کرتے کامیابی وکامرانی ان کی ہم رکاب ہوتی‘ اس وقت دنیا ان کے حیرت انگیز کارناموں کو دیکھ کر انگشت بدندان ہو جاتی‘ اور آج بھی ان کے کارنامے مشعل راہ ہیں۔ ان لوگوں نے صرف انسانوں کے خون سے زمین کو رنگین نہیں کیا بلکہ اللہ کے باغیوں کی سرکوبی کر کے انسانیت کو امن وسکون اور رشد وہدایت کی راہ دکھلائی‘ اور پوری دنیا امن وسلامتی کا گہوارہ بن گئی۔ان عظیم جرنیلوں میں سے ایک موسی بن نصیر بھی ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص موسی بن نصیر کے حالات زندگی‘ کارناموں اور ان کی خدمات کی عکاسی کرتی ہے۔ موسی بن نصیر اپنے زمانہ کے ایک بہت بڑے کمانڈر اور جرنیل تھے انہوں نے اپنی پوری زندگی جس طرف کا رخ کیا کامرانی حاصل کی اور ایک تاریخ رقم کی۔ اور موسی کو پہنچنے والی مختلف اذیتوں اور صعوبتوں کو کتاب میں بیان کیا گیا ہے اور اس کتاب کا بیشتر مواد عربی اور انگریزی کتابوں کے علاوہ تاریخ اندلس حصہ اول سے لیا گیا ہے۔ حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ مو سی بن نصیر ‘‘ حکیم محمود احمد ظفر کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

    حکیم محمود احمد ظفر

    سیرت نبوی ﷺ کامو ضوع  ہر دور میں مسلم علماء ومفکرین کی فکر وتوجہ کا مرکز رہا ہے،اور ہر ایک نے اپنی اپنی وسعت وتوفیق کے مطابق اس پر خامہ فرسائی کی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرنا ہمارے ایمان کا حصہ بھی ہے اور حکم ربانی بھی ہے۔قرآن مجید نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کو ہمارے لئے ایک کامل نمونہ قرار دیتا ہے۔اخلاق وآداب کا کونسا ایسا معیار ہے ،جو آپ ﷺ کی حیات مبارکہ سے نہ ملتا ہو۔اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کے ذریعہ دین اسلام کی تکمیل ہی نہیں ،بلکہ نبوت اور راہنمائی کے سلسلہ کو  آپ کی ذات اقدس پر ختم کر کےنبوت کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ سیرت انسانیت کی بھی تکمیل فرما دی کہ آج کے بعد اس سے بہتر ،ارفع واعلی اور اچھے وخوبصورت نمونہ وکردار کا تصور بھی ناممکن اور محال ہے۔آپ ﷺ کی سیرت طیبہ پر متعدد زبانوں میں بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں،اور لکھی جا رہی ہیں،جو ان مولفین کی طرف سے آپ کے ساتھ محبت کا ایک بہترین اظہار ہے۔سیرت نبوی ﷺ کے متعدد پہلو ہیں جن میں ایک پہلو آپ ﷺ کی خانگی زندگی کا بھی ہے۔آپ ﷺ نے گیارہ نکاح کئے تاکہ آپ ﷺ کی خانگی زندگی کو دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے اور اسلام میں عورت کو ایک بلند مقام حاصل ہو۔ جس قدر بیوی اپنے شوہر کے رازوں سے واقف وآشنا ہوتی ہے کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " پیغمبر اسلام ﷺاور اہل بیت "محترم حکیم محمود احمد ظفر صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے آپﷺ کی بیویوں امہات المؤمنین کے سوانح اور حالات زندگی کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنانے کی بھی توفیق دے۔آمین(راسخ)

    حکیم محمود احمد ظفر

    نبی کریمﷺ نے مختلف قدغنوں اور پابندیوں زنجیروں میں گرفتار دنیا کو انسانی حقوق سےآشنائی بخشی اور انہیں انسانیت کی قدر ور قیمت سے آگاہ کیا۔رسول اللہﷺ نے حقوق کی دوقسمیں بتائیں۔حقوق اللہ اور حقوق العباد حقوق اللہ سے مراد عبادات ہیں یعنی اللہ کے فرائض اورحقوق العباد باہم انسانوں کے معاملات اور تعلقات کا نام ہے۔اسلام میں حقوق العباد کی اہمیت حقوق اللہ سے بھی کئی لحاظ سے زیادہ ہے ۔اسلام نے ہرانسان پر دوسرے انسانوں بلکہ حیوانوں اور بے جان چیزوں تک کےحقوق رکھے گئے ہیں جنہیں ہر انسان کو اپنے امکان کے مطابق اداکرنا ازحد ضروری قرار دیا گیا ہے ۔اسلام نےحقوق کوبہت وسعت دی ہےکہ نہ صرف کائنات ارضی کے حقوق انسان کے ذمہ ہیں بلکہ خودانسان کے وجود کے ہر عضو کا حق بھی اس کے ذمہ رکھا گیا ہے۔ زیرتبصرہ کتاب ’’پیغمبر اسلام اور بنیادی انسانی حقوق‘‘ حکیم محمود احمد ظفر کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے قرآن وسنت میں بکھرے ہوئے جمادات سے انسان تک حقوق کو مختلف کتابوں سے اکٹھا کر کے جمع کردیا ہے۔اور اس میں مختلف ابواب بھی قائم قائم کیے ہیں ۔ موصوف نے قرآن وسنت اور آثار صحابہ کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ انسانی حقوق جن کے دعوے موجودہ دور میں مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے کیے جاتے ہیں وہ غلط ہیں بلکہ یہ حقوق موجودہ تنظیموں سےبھی زیادہ اسلام نےانسان کو چودہ وسوسال پہلے دے دئیے تھے۔یہ کتاب اپنی افادیت وجامعیت کے لحاظ سے حقوق وفرائض کی ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔(م۔ا)

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1996 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :