محمد ایوب سپرا

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
محمد ایوب سپرا
    محمد ایوب سپرا

    دین اسلام‘ اللہ اور اس کے رسولﷺ کا ہے‘ جو کتاب وسنت کی تکمیل سے مکمل ہو چکا ہے۔دین اسلام کے تمام احکام مکمل‘ نمایاں اور واضح ہیں۔ اپنے تمام مسائل کا حل بھی انہی میں تلاش کرنا چاہیے۔اور اللہ عزوجل نے ہمیں یہ اصول بتلایا ہے کہ رسول اللہﷺ جس کام کو کرنے کا حکم دیں‘ اس پر عمل پیرا ہونا ہے اور جس کام سے روک دیں‘ اس سے باز رہنا ہے اور اسی عمل کا نام دین پر چلنا ہے۔بنا بریں صحابۂ کرامؓ اسی سنہری اصول کے مطابق زندگی بسر کرتے رہے۔خلفائے راشدین کے دور (632ء۔661ء) تک فتاویٰ کا کوئی ایسا مجموعہ تیار نہیں ہوا تھا جس کی پیروی کی جاتی۔ اسلامی ریاست کے پھیلاؤ کے بعد صحابہ بھی دور دراز علاقوں میں جا کر آباد ہوتے چلے گئے تاہم صحابہؓ کو تمام مسائل زندگی یاد تھے۔ اور اپنے مسائل کا حل قرآن وحدیث سے لیتے اور اگر وقتی طور پر قرآن وحدیث میں مسئلہ نہ ملتا تو حالات کے مطابق اجتہاد کرتے اور مسئلے کا حل نکالتے مگر وہ اصول نا ہوتا تھا۔پھر ائمہ دین قرآن وحدیث سے مسائل استنباط کرنے کی طرف راغب ہوئے اور انہوں نے مستقل اصول وضع کرتے ہوئے امت کی رہنمائی فرمائی۔ ان ائمہ دین میں سے چار ائمہ زیادہ معروف ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب انہی ائمہ کے حالات زندگی‘ تعلیم وتربیت‘ علمی‘ تصنیفی اور فقہی کاوشوں پر مشتمل ہے۔ ان ائمہ دین کے نام پر تعصب کی جو فضا قائم کی گئی ہے اس سے لوگوں کو آگاہ کیا گیا ہے ‘ نیزتقلید اور پھر تقلید جامد کے نقصانات سے بھی لوگوں کو آگاہ کیا گیا ہے۔ اور اس کتاب میں فقہ کی تعریف‘موضوع‘ فقہ کے مآخذ اور فقہ اسلامی کی تاریخ کاذکر ہےاور فقہاء کے اختلاف کےلغوی اسباب بھی مذکور ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب ’محمد ایوب سپرا‘‘ کی تحقیقی اور مختصر مگر جامع تصنیف ہے۔اورتحریرو تصنیف کے میدان میں اچھا نام رکھتے ہیں ‘کئی کتب کے مصنف بھی ہیں مثلا اسماء الحسنی‘ کتاب الصلاۃ‘ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘ اور یا ایہا الناس(اے بنی نوع انسان) وغیرہ۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)

    محمد ایوب سپرا

    محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کا نام نہ صرف تمام مسلمانوں کے ہاں نہایت عزت واحترام والا ہے بلکہ تمام مخلوقات میں اس اسم کونہایت افضل واکمل جانا اور توقیر کی نظر سے دیکھا گیا ہےاہل ایمان نے جس قدر اس اسم گرامی کی توقیر کی  وہ اظہر من الشمس ہے ،دوسرے مذاہب والوں نےبھی اس  نام کونہایت عزت واحترام کے ساتھ پکارا او رنظریاتی مخالفت کے باوجود اس میں کوئی بگاڑ پیدا نہ کیا اللہ تعالی نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید  میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی مقامات پر مخاطب فرمایا لیکن جب بھی آپ کا ذکر خیر آیا اکثر کسی صفاتی نام سے پکارے گئےجیسے اے رسول،اے نبی،اےاوڑھ لپیٹ کر سونے والےوغیرہ یہ اللہ تعالی کی خاص محبت وشفقت ہے اپنے اس بندے اور رسول کے ساتھ جس کا ذکر خیر اس کتاب میں ہوگا۔اور یہ مختصر کتابچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذاتی وصفاتی ناموں پرمشتمل  ہے ناموں کےساتھ  ساتھ ان کے معانی اور مفاہیم کو بھی اجاگر کیا ہے جس سے آگاہی ہر اس آدمی کے لیے ضروری ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعوی کرتاہے ۔

    محمد ایوب سپرا

    اسلام نے جہاں خواتین کوبے شمار حقوق عطا کیے ہیں وہاں نیک کام کرنے اور عبادات انجام دینے کے بھر پور مواقع بھی فراہم کیے ہیں ۔ بلاشبہ خواتین کےلیے پانچ وقت کی نمازوں کی ادائیگی گھر کی چاردیواری میں افضل ہے مگر اسے مسجد میں حاضر ہوکر نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور صحابیات کا مسجدِ نبوی ﷺمیں نماز پڑھنا ثابت ہے ۔مگر بعض لوگ خواتین کی مسجد میں حاضری اور نماز عیدین میں شرکت کوفتنہ سمجھتے ہیں   اور اپنے اختیار کردہ نظریئے کو صحیح ثابت کرنے کے لیے احادیثِ صحیحہ کی بے جا تاویلات کر کے انہیں ردکرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خواتین کامسجد میں نماز باجماعت پڑھنے کا مسئلہ ‘‘ محترم جناب محمد ایوب سپرا ﷾کی کاوش ہے۔ جس میں نہایت سنجیدگی کے ساتھ دلائل کی روشنی میں ثابت کیا ہےکہ شریعتِ اسلامیہ نے خواتین کو مسجد میں آکر نماز ادا کرنے اور نماز عیدین میں شرکت کی اجازت دی ہے۔ اس کتابچہ میں خواتین سے متعلق تین موضوعات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ خواتین کاطریقہ نماز،خواتین کے لیے نماز باجماعت کےلیے مسجد میں آنے کا حکم، خواتین کےلیےمسجد جانے کی آداب۔ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ کی کتاب ہذا پر نظر ثانی سے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیاہے۔ اللہ تعالیٰ مرتب وناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے۔ آمین( م۔ا)

    محمد ایوب سپرا
    اسلام میں داخل ہونے کےلیے سب سےپہلے کلمۂ شہادت پڑھا جاتا ہےیہ کلمۂ پڑھنےوالے کو کفر کی تمام تر نجاستوں سے پاک کر دیتاہےاس لیے اسے کلمۂ طیبہ کہاجاتا ہے چونکہ اس میں اللہ وحدۂ لاشریک کی توحید کااقرار بھی ہے اس لیے اسے کلمۂ توحید بھی کہا جاتا ہےکلمۂ طیبہ کو شعوری طور پر سمجھنا نہایت ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالی کی صفات کے بارے میں اکثر لوگوں نے کہیں نہ کہیں ٹھوکر کھائی اورایسی غلط راہ پر چل نکلے جوانہیں کفر کے راستے پر گامزن کر گئی۔کلمۂ میں دوسری شہادت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دینا ہے جن کے اسوۂ حسنہ اورسنت کو چھوڑ کرایمان کی سلامتی ممکن ہی نہیں۔کتاب میں انہی دو باتوں پر بحث کی گئی ہے ۔

    محمد ایوب سپرا

    اللہ رب العالمین کی لا تعداد انمول نعمتوں میں سے ایک عظیم ترین نعمت قرآن مجید کا نزول ہے۔ جس میں پوری انسانیت کی فلاح وبہودی کا سامان ہے۔ جو سراپا رحمت اور مینار رشد وہدایت ہے جو رب العالمین کی رسی ہے جسے مضبوطی سے پکڑنے والا دنیا وآخرت میں کامیابی وکامرانی سے ہم کنار ہوگا۔ جو سیدھی اور سچی راہ دکھاتا ہے۔ مکمل فطری دستور حیات مہیا کرتا ہے۔ اس کی ہدایات پر عمل کر نے والا سعادت دارین سے ہمکنار ہوتا ہے۔ اس کی مبارک آيات کی تلاوت کر نے والا عظیم اجر وثواب کے ساتھ ساتھ اطمینان وسکون، فرحت وانبساط اور زیادتی ایمان کی دولت سے مالا مال ہوتا ہے۔ جو کثرت تلاوت سے پرانا نہیں ہوتا نہ ہی پڑھنے والا اکتاہٹ کا شکار ہوتا ہے۔ بلکہ مزید اشتیاق وچاہت کے جذبات سے شادکام ہوتا ہے کیونکہ یہ رب العالمین کا کلام ہے۔جو قوم قرآن کریم کو اپنا دستور حیات بنا لیتی ہے،خدا اسے رفعت اور بلندی سے سرفراز فرماتا ہے اور جو گروہ اس سے اعراض کا رویہ اپناتا ہے وہ ذلیل و رسوا ہو جاتا ہے۔قرآن مجید چونکہ عربی زبان میں ہے لہذا اردو دان طبقے کے لئے اسے سمجھنا ایک مشکل کام ہے۔اہل علم نے اس مشکل کو حل کرتے ہوئے قرآن مجید کے متعدد تراجم کئے ہیں اور عامۃ الناس کو قرآن  اور اس کے احکامات سکھلانے کے لئے مختلف اندازاختیار کئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "یایھا الناس، اے بنی نوع انسان!" محترم محمد ایوب سپرا صاحب کی کاوش ہے، جس میں انہوں نے(یایھا الناس) سے شروع ہونے والی آیات کو جمع کر کے ان کا شان نزول، پس منظر، پیش منظر اور ان کی تفسیر وتشریح فرمادی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    یحیٰ بن شرف النووی
    امت میں سے امور دین کے متعلقہ چالیس احادیث کو حفظ کرنے والے کیلیے یہ خوشخبری ہے کہ وہ روز قیامت فقہاء اورعلماء میں سے اٹھایا جائےگا۔ اس فضیلت کے پیش نظرمختلف محدثین کی جانب سے چالیس احادیث کے بیشتر مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں ۔لیکن جو پذیرائی زیر مطالعہ مجموعے کو حاصل ہوئی کسی اور کو نہ ہوسکی ۔صحیح مسلم کے شارح امام نووی رحمہ اللہ نے اس مجموعے میں بیالیس احادیث کو ذکر کیاہے لیکن یہ کتاب الاربعین کے نام سے مشہور ہے امام صاحب نےاس کتاب میں  ایسی احادیث کا انتخاب کیا ہے جو دین  میں اساسی حیثیت کی حامل ہیں حس میں ارکان اسلام ،اسلامی آداب ،حیاء ،ظلم اور ایمان کی علامت کے متعلق احادیث شامل ہیں ان میں سے اکثر احادیث کا سلسلہ روایت صحیح ہے او رایک مسلمان کیلیے ان سے آگاہی از بس ضروری ہے

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1964 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :